بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبوت اور بد دعاء حدود وآداب

نبوت اور بد دعاء حدود وآداب

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

مشیت الہٰی میں مقرب ترین بندے کو بھی دخل نہیں
﴿لیس لک من الامر شيء﴾اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ اس میں سے کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتے ،یعنی کافروں کو عذاب مسلط کرانے یا ایمان سے نوازنے پر آپ کا اختیار نہیں چلتا، اس آیت سے واضح ہو گیا، مشیت الہٰی میں کسی بندے کو کوئی دخل نہیں، یہاں تک کہ مقرب ترین بندے” حضور صلی اللہ علیہ وسلم“ کو بھی نہیں، چہ جائے کہ کسی بزرگ یا ولی کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ مشیت الہٰی میں ”صاحب تصرف“ہیں۔

شانِ نزول میں تعارض و تطبیق
اس آیت کریمہ کے شانِ نزول میں دو طرح کی روایات ہیں:
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب مشرکین نے آپ کو زخمی کیا، صحیح بخاری میں حضرت انس سے منقول ہے، احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو زخم آیا، آپ نے فرمایا:”کیف یفلح قوم شجوا نبیھم؟“ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔(صحیح بخاری،رقم الحدیث:4068، جامع الترمذی،رقم الحدیث:3002، ابن حبان، رقم:2575)

اسی طرح حضر ت سالم بن عبداللہ بن عمر سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے لیے بددعا فرمائی:”اللھم العن الحارث بن ھشام، والعن سھیل بن عمرو، والعن صفوان بن امیة“ اے اللہ! حارث بن ہشام ، سھیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ پر لعنت فرما۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے اس آیت کا تعلق واقعہ بئر معونہ سے ہے۔

عامر بن طفیل ایک سردار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی آپ قراء کی جماعت میرے ساتھ بھیج دیں ،تاکہ وہ میری قوم کو دین سے آراستہ کریں۔ آپ علیہ السلام نے اس کی درخواست پر ستر قرائے کرام کی ایک جماعت اس کے ساتھ روانہ فرما دی، راستے میں ایک کنواں تھا، اس کا نام معونہ تھا ،اس مقام پر اس کی قوم کے چند لوگوں نے غداری کر کے ان قرائے کرام کو شہید کر دیا۔ ان کی مظلومانہ اور دردناک شہادت نے آپ کو بہت غم زدہ کردیا تھا،قتل کی واردات میں رِعل، ذکوان، عصیہ اور بنی لحیان نامی قبائل شریک تھے ،آپ فجر کی نماز میں ایک مہینہ یا چالیس دن تک ان کے لیے بددعا فرماتے رہے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔

بئر معونہ کا واقعہ غزوہ احد کے چار ماہ بعد پیش آیا۔(جامع الترمذی: رقم الحدیث:3004، مسند احمد:2/93)

تطبیق
علامہ رازی رحمہ اللہ نے آیت کریمہ کا بئر معونہ سے تعلق بعید قرار دیا ہے علامہ سیوطی نے لباب النقول میں شان نزول کی اس روایت کے الفاظ”حتی انزل الله “ کو مدرج اور منقطع قرار دیا اور شانِ نزول کو احد ہی کے ساتھ خاص کر دیا۔ (لباب النقول،ص:63)

دونوں واقعات میں چار ماہ کا فاصلہ ہے، ممکن ہے دونوں کے لیے ایک بار نازل ہوئی ہے۔

ممکن ہے کہ حقیقی شانِ نزول واقعہ احد ہی کے ساتھ خاص ہو، مگر بئر معونہ کے موقع پر دوبارہ یاد دلایا گیا ہو،اس صورت میں اشکال ہوتا ہے کہ جب ایک بار منع کر دیا گیا تو پھر دوبارہ اس کا صدور عصمت کے منافی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا صدور ناممکن ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ:
اولاً:بددعا آپ کا اجتہادی عمل تھا، وحی کے ذریعے اس کی اجازت تھی نہ ممانعت، غزوہ احد میں آپ کو منع کیا گیا، آپ نے اپنے اجتہاد سے اس ممانعت کو احد کے مشرکین کے لیے خاص سمجھا، ان میں قبول ایمان کا احتمال بھی تھا، کیوں کہ یتوب علیہم ضمیر کا مرجع اور لفظ یتوب ا ن کے مستقبل میں ایمانی زندگی پر دلالت بھی کر رہے تھے ، لیکن اس طرح کا ظاہری مانع جو بد دعا سے روکتا ہو بئر معونہ کے مرکزی کردار رعل وذکوان کے حق میں موجود نہیں تھا، اس لیے آپ نے بااختلاف روایت تیس دن یا چالیس دن نماز فجر میں بددعا فرمائی۔

اس موقع پر اس آیت کی یاد دہانی کرا کر بتایا گیا کہ یہ حکم عام ہے، کسی ایک قوم یا قبیلے کے ساتھ خاص نہیں۔(تسہیل بیان القرآن علامہ تھانوی۔ اٰل عمران، ذیل آیت:128)

ثانیا: یہ ممانعت وجوب کے درجے کی نہیں تھی، بلکہ افضل اور غیر افضل کے قبیل سے تھی، اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ ممانعت وجوب کے درجے کی ہوتی تو پھر آپ کو پہلے دن یا د دہانی کرا کر منع کر دیا جاتا، ایک ماہ کے بعد یاد دلانا اس کے غیر افضل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

حافظ ابن حجر نے فرمایا:”یحتمل ان تکون نزلت فی الامرین جمیعاً، فانھا کان فی قصة واحدة“․

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بددعا سے روکنے کی حکمت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین بن کر آئے ہیں، اس کا تقاضا یہ تھا کہ آپ کفار کی شرارتوں کے باوجود ان کے حق میں خیر خواہی کا ذریعہ بنیں، اگر وہ آپ کی دعوت خیر کے مزاحم بنیں تو آپ ان سے قتا ل کریں، تا کہ آپ کی رحمت عالم کے لیے کوئی رکاوٹ نہ رہے اور اس کا فیض عام ہو،لیکن بددعا دینا آپ کی شان سے برتر ہے، چناں چہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اے اللہ کے رسول! مشرکوں کے خلاف بددعا فرمائیے۔آپ نے فرمایا:”إنی لم ابعث لعّاناً، اِنَّمابعثت رحمةً“․(صحیح مسلم، رقم الحدیث:6613) میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔

اس میں دوسری حکمت یہ بھی ہے کہ نزول وحی کا سلسلہ برقرار رہے، نہیں معلوم آپ جس کے بارے میں بددعا فرمائیں وہ مستقبل میں ایمان لانے والا ہو، جیسا کہ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ ہیں، ہاں! بذریعہ وحی جس کی اطلاع کفر پر مرنے کی ملے اس کے متعلق بددعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، خود قرآنی سورہ لہب اس پر دلالت کناں ہے۔

عام مسلمانوں کے لیے اور متعین کافروں کے خلاف بددعا کرنا جائز ہے۔ جس کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔

قادیانی مفسر کی چالاکی
چوں کہ مسلمان مرزا قادیانی پر لعنت بھیجنے کو ایمان کا تقاضا سمجھتا ہے، جس سے قادیانی بہت پریشان ہوتے ہیں، اسی پریشانی کے ازالے کے لیے ایک قادیانی مفسر اس آیت کے ذیل میں لکھتا ہے:
”اس میں ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو بات بات میں اپنے مسلمان بھائیوں پر لعنت کرتے اور ان کو بددعا ؤں کی دھمکیاں دیتے ہیں، بلکہ بددعائیں کرتے رہتے ہیں، یہ محمد رسول اللہ کے طریق کے خلاف ہے“۔

دیگر اں رانصیحت خود رافضیحت کے مصداق ان کے جھوٹے نبی ولی مرزا قادیانی نے پوری زندگی دوسروں کو بددعائیں اور لعنتیں کرتے ہوئے گزاری ہے۔

ایک رسالہ ”انوار الحق“محض لعنت کے لیے لکھا اور اس میں نصرانیوں کے خلاف، لفظ بہ لفظ، ایک ہزار لعنتیں لکھیں،اس کے علاوہ مسلمان عالم اور بزرگان دین پر لعن و طعن اور گالم گلوچ کی بھر مار کی ہے، اسے جمع کیا جائے تو ایک ڈکشنری وجود میں آجائے گی، مشتے نمونہ از خر وارے کے طورپر چند مثالیں پیش خدمت ہیں :
”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا، اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں “۔(انوار اسلام ص 30، مندرجہ روحانی خزائن ،جلد:9ص:31)

مگر رنڈیوں کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“۔(آئینہ کمالات اسلام ،ص:547/548،مندرجہ روحانی خزائن، جلد،ص:547)

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں“۔

مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ کے متعلق لکھا ”اندھا شیطان، گمرادیو، شقی، ملعون“۔(انجام اٰتھم ص:252،مندرجہ روحانی خزائن 11/252)اس کے علاوہ دیگر علماء واولیا کے متعلق توہین آمیز الفاظ بہ کثرت استعمال کیے ،اس کے باوجود لکھتاہے۔

”ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے“۔(ست بچن، ص:21، مندرجہ روحانی خزائن:10/133)

مرزا کی یہ لعنتی زبان اور دشنام طرازی اور تضاد بیانی اس کے نبوت کے جھوٹے دعوے سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی ہے، اس کی تحریر پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ شیطان نے اپنے چیلے کو لعن و طعن ہی کے لیے مبعوث کیا تھا۔

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون، وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ، وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ﴾․(سورہٴ آل عمران، آیت:132-130)

ترجمہ:”اے ایمان والو! مت کھاؤ سود دونے پر دونا اور ڈرو اللہ سے، تاکہ تمہارا بھلا ہو اور بچو اس آگ سے، جو تیار ہوئی کافروں کے واسطے اور حکم مانو اللہ کا اور رسول کا، تاکہ تم پر رحم ہو“۔

ربط آیات…سود کی ممانعت
غزوہ احد کے واقعات کے درمیان سود کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ جہاد اطاعت الہی کا اعلیٰ مظہر ہے اور سودی معاملہ خدا سے جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے، لہٰذا سودی معاملات میں ملوث ہوتے ہوئے کافروں پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا، نیز سود سے بزدلی آتی ہے، طاعات کی توفیق چھن جاتی ہے، مادیت روحانیت پر غالب آکر بخیل بنا دیتی ہے، جو انسان مال کے معاملے میں بخل سے کام لینے لگے تو وہ جان کیسے قربان کرے گا؟ زمانہ جاہلیت کیا اب بھی عالم کفر سود سے حاصل کیے جانے والے مالی بجٹ کے ذریعے جنگوں کے اخراجات پورے کرتا ہے، اہل اسلام کو متنبہ کیا گیا ہے کہیں یہ بھی کافروں کی طرح جنگی اخراجات میں سودی رقم کا استعمال درست جاننے لگیں۔(تفسیر کبیر للرازی،اٰل عمران ،ذیل آیت:130)

تمام الہامی کتابوں میں سود کی حرمت برقرار ہے
ربو مفرد ہو یا مرکب ، ربوالنساء ہو یا بالفضل ، مہاجنی ہو یا تجارتی، حرام ہے ۔سود کی مکمل بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے، سود کی یہ حرمت تمام آسمانی کتابوں میں چلی آرہی ہے، عہد نامہ قدیم میں ہے :
”تو بھائی کو سود پر قرض نہ دینا، خواہ وہ روپے کا سود ہویا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے“۔(عہد نامہ قدیم:کتاب استثنیٰ،43/19)

”اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا“۔عہدنامہ قدیم ، کتاب استثناء33/20)

جہنم کی اصل وضع کافروں کے لیے ہے
﴿واتقواالنار التی اعدت للکفرین﴾:سودی معاملہ کرنا گناہ کبیرہ ہے، مگر اس کی وعید میں فرمایا گیا بچو اس آگ سے، جسے کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، کیا سودی معاملے سے انسان کافر ہو جاتا ہے؟اہل علم نے اس کے مختلف جوابات دیے ہیں۔

یہ آیت بطور تمہید مسلمانوں کے لیے نازل کی گئی ہے کہ جہنم کی اصل وضع کافروں کے لیے ہے، مگر سودی معاملات میں ملوث افرادکو بھی یہی سزا دی جا سکتی ہے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے، یہ آیت دوسری آیات کے مقابلے میں بہت زیادہ ڈرانے والی ہے، اس میں دوزخ جو حقیقتاًکافروں کی سزا ہے اس سے ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے۔(مدارک التنزیل، اٰل عمران، ذیل آیت:131)

﴿وَسَارِعُواْ إِلَی مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ، الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ فِیْ السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ، وَالَّذِیْنَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَہُمْ ذَکَرُواْ اللّہَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِہِمْ وَمَن یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّہُ وَلَمْ یُصِرُّواْ عَلَی مَا فَعَلُواْ وَہُمْ یَعْلَمُون، أُوْلَئِکَ جَزَآؤُہُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِیْنَ﴾․ (سورہ آل عمران:136-133)

”اور دوڑو بخشش کی طرف اپنے رب کی اور جنت کی طرف جس کا عرض ہے آسمان اور زمین، تیار ہوئی ہے واسطے پرہیز گاروں کے، جو خرچ کیے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں اور دبالیتے ہیں غصہ اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو اور الله چاہتا ہے نیکی کرنے والوں کو، اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ گناہ یا برا کام اپنے حق میں تویاد کریں الله کو اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی اور کون ہے گناہ بخشنے والا سوا الله کے اور اَڑتے نہیں اپنے کیے پر اور وہ جانتے ہیں، انہی کی جزا ہے بخشش ان کے رب کی اور باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ ان باغوں میں اور کیا خوب مزدوری ہے کام کرنے والوں کی“۔

اللہ تعالی کے احکام کی بجا آوری کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہے اور حصول مغفرت اس لیے فرمایا:بجا لانے میں جلدی کرو، علامہ رازی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرمایا ہے اس کا مطلب ہے اسلام کی طرف جلدی کرو۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، ذیل آیت:133)کیوں کہ اسلام ہی حصولِ جنت کا ذریعہ ہے، جنت کی وسعت کو آسمانوں اور زمینوں کی وسعت سے تشبیہ انسان کے وسیع خیال کو پیشِ نظر رکھ کر دی گئی ہے، گویا یہ کنایہ ہے حد درجہ کی فراخی سے۔ (روح المعانی، اٰل عمران، ذیل آیت:133)قیصر روم ہرقل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا تھاآپ مجھے اس جنت کی طرف بلاتے ہیں جس کا پھیلاؤ آسمان و زمین کے پھیلاؤ کے بقد رہے تو پھر دوزخ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سبحان اللہ:جب رات آتی ہے تو دن کہاں ہوتا ہے؟ (مسند احمد 3/144 ، ومسند ابو یعلیٰ:1597) اس حدیث سے معلوم ہوا معترض کے بے ڈھنگے اعتراض پر عقلی جواب کی مہر لگا دینی چاہیے۔

جنت کن کے لیے تیار کی گئی ہے؟
یہ جنت اہل تقوی کے لیے تیار کی گئی ہے، پھر اہل تقوی کی دو قسمیں ہیں۔

اعلی درجے کے اہل تقویٰ ادنیٰ درجے کے اہل تقویٰ

اعلی درجے کے اہل تقوی کی صفات یہ ہیں۔

انفاق:آسودگی اور تنگی دونوں حالتوں میں بقدرِ توفیق راہ الہی میں خرچ کرتے رہتے ہیں ۔

غصہ پینے والے: غصے کا آنا ایک فطری عمل ہے اور غصے کو دبا لینا ایک کسبی عمل ہے ،انسان کو نفس پر اتنی قدرت ہو کہ وہ اشتعال دلائے جانے کے باوجود اپنے اوپر ضبط قائم رکھے، غیض و غضب کے اظہار اور انتقام پر آمادہ نہ ہو، غصہ پی جانے اور دبانے پر احادیث میں کئی فضائل وارد ہوئے ہیں ، حضرت عبداللہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے نزدیک پہلوانی کا کیا معیار ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا:جو لوگوں کو پچھاڑ دے اور لوگ اسے پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا:نہیں ،بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھ سکے۔(سنن ابی داؤد)اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، جوشخص اپنے غصے کو روک لے، حالاں کہ وہ غصے کے نفاذ پر مکمل قدرت رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو امن وایمان سے بھر دیتا ہے۔(جامع الترمذی ،رقم الحدیث:2021)

لوگوں سے در گزر کرنے والے،یہ حقیقت میں غیض وغضب کو دبانے والے سے بڑھ کر ہے۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہاں ہیں وہ لوگ جن کے اجر اللہ تعالی پر ہیں؟ تو صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جو لوگوں سے درگزر کرتے تھے۔(شعب الایمان، بیہقی:6/44)

غزوہ احد میں جس جماعت کو آپ نے پہاڑی درے پر متعین فرمایا تھا، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے قبل وہ درہ چھوڑ دیا، جس سے پوری جنگ کی کایا پلٹ گئی ،فتح، شکست میں بدل گئی، ستر صحابہ کرام شہید ہوئے، لیکن!آپ نے اتنے بڑے نقصان کے باوجود کمالِ ضبط کا مظاہرہ فرمایا۔اس آیت کے ذریعے دیگر مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ ضبط ِفیض اور عفو و درگزر کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

احسان کرنے والے:یہ صفت سابقہ دونوں صفات سے بھی بڑھ کر ہے۔

اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیا علیہم السلام محفوظ و معصوم ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین مغفور ہیں، ان کے علاوہ جتنے انسان ہیں ان سے گناہ کا صدور ہوتا رہتا ہے اور انہیں مغفرت کی بشارت خاصہ بھی نہیں دی گئی، اس لیے مؤمن صالح وہ نہیں جس سے گناہ صادر نہ ہو، بلکہ مؤمن صالح وہ ہے جو اپنے گناہوں پر ندامت و استغفار کر لے اور اس پر اصرار نہ کرے ،اصرار کا معنی ہے گناہ کو پختہ اور مضبوط کرنا، ترکِ گناہ سے باز رہنا۔ (سنن ابی داؤد) حضرت ابو بکر صدیق  سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے استغفار کر لیا، اس نے اصرار نہیں کیا ،خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ اس گناہ کو دہرائے۔(مفردات القرآن للراغب)
(جاری)