بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناپ تول میں دیانت

ناپ تول میں دیانت

مولانا سحبان محمود صاحبؒ

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی… أما بعد

چوری کی ایک قسم تو وہ ہے جسے تمام دنیا میں بُرا سمجھا جاتا ہے اور ہر قانون میں اس کی سزا مقرر ہے، بالخصوص قرآن کریم نے تو ایسی سخت سزا اس پر مقررفرمائی ہے جس سے اس برائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، یعنی چوری کرنے والے کا دایاں ہاتھ کاٹ دینا۔ دوسری قسم چوری کی وہ ہے جس کو ناپ تول میں کمی کرنا یا ڈنڈی مارنا کہا جاتا ہے۔ یہ قسم بھی ایسی گھناؤنی بُرائی ہے جس کو شرافت انسانی اور تہذیب وتمدن کی دنیا میں بدترین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق لین دین، تجارت اور کاروبار سے ہے۔

قرآن کریم نے اس کے دونوں یعنی منفی او رمثبت پہلوؤں کو جابجا بیان فرمایا ہے، چناں چہ مثبت پہلو کو اولاً سورہٴ انعام کے رکوع نمبر19 میں تاکیدی حکم دیتے ہوئے بیان فرمایا:﴿وَأَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ﴾ یعنی ”ناپ تول کو حق وانصاف کے ساتھ پورا پورا دو “۔ پھر سورہٴ بنی اسرائیل رکوع نمبر 4 میں اس حکم کو اس کے دنیوی فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مکرر بیان فرمایا:﴿وَأَوْفُوا الْکَیْلَ إِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیمِ ذَٰلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیلًا﴾ یعنی ”جب تم ناپو تو ناپ پورا بھر دو اور سیدھی ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے او راس کا انجام اچھا ہے۔“ اس آیت کا آخری حصہ بتارہاہے کہ ”ناپ تول میں دیانت“ پر عمل کرنے سے خیر وبرکت او ربہتری حاصل ہوگی، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ایسے تاجر کی ساکھ قائم ہو جائے گی اور اس کے کاروبار کو فروغ اور ترقی حاصل ہوگی، تجارتی ساکھ قائم ہو جانا معمولی بات نہیں ہوتی، جو صرف دیانت داری، ایمان داری، ناپ تول میں برابری اور تول کی سچائی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر انجام کی بہتری کا بھی آیت کے بالکل آخر میں ذکر فرمایا گیا۔ اس میں دنیا کا انجام بھی آگیا اورآخرت کا بھی، دنیا کا انجام سب سے پہلے تجارتی عروج وترقی ہے، پھر نیک نامی اور ناموری وشہرت، چناں چہ ایسے تاجروں کا نام جس عزت واحترام سے لیا جاتا ہے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں اور آخرت کا انجام ایسے بلند مراتب اور عظیم نعمتوں کی صورت میں سامنے آئے گا جس کا تصور بھی اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ چناں چہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ”قیامت کے روز سچا اور دیانت دار تاجر انبیاء وصدیقین کے ساتھ ہو گا۔“

اس کے منفی پہلو کو قرآن کریم نے مختلف انداز سے اجاگر کیا ہے، کبھی ان قوموں کا مہلک انجام بیان فرما کر جو اس برائی میں مبتلا تھیں اورکبھی امت مسلمہ کو دونوں جہاں کے عذاب سے خوف دلاکر او رکبھی اس کی دنیوی نحوستوں کی طرف اشارہ فرماکر۔اس عیب میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم یعنی اہل مدین مبتلا تھے، مدین کا شہر چوں کہ تجارتی شاہراہ پر واقع تھا اورمشرق سے مغرب تک جانے والے تجارتی قافلوں کی گزر گاہ تھا، اس لیے اہل مدین کا مشغلہ بھی تجارت تھا، مگر ان میں ناپ تول میں کمی کرنے کی برائی بھی ایسی راسخ ہو گئی تھی کہ وہ اس کو بُرا سمجھنا تو درکنار، اپنا حق اور بالکل جائز گردانتے تھے، جب حضرت شعیب علیہ الصلوٰة والسلام نے ان کو اس برائی سے رکنے کی نصیحت فرمائی تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی سے اس کو اپنا حق ثابت کرتے ہوئے کہا :﴿یَا شُعَیْبُ أَصَلَاتُکَ تَأْمُرُکَ أَن نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِی أَمْوَالِنَا مَا نَشَاء ُ﴾؟(ھود، رکوع:8) یعنی”اے شعیب! کیا تمہارے تقدس نے تم کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ ہم ان بتوں کی عبادت چھوڑ دیں جو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں یا ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں“ قرآن کریم نے ان کے ان گناہوں پر آسمانی عذاب سے ان کو نیست ونابود کر دینے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا ایسا منحوس کام ہے جس پر الله تعالیٰ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

اُمّت مسلمہ کے حق میں قرآن کریم کی ایک سورت کا ابتدائی حصہ اسی سے متعلق نازل ہوا، فرمایا:﴿وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ،الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْن، وَ اِذَا کَالُوْہُمْ اَوْ وَّ زَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ﴾ یعنی ”بڑی خرابی اور ہلاکت ہے اُن ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی، جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا پورا لیں او راُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گٹھا دیں “۔ اس آیت میں ”ویل“ کا لفظ ہے، جس کے لفظی معنی ہلاکت او رخرابی کے آتے ہیں، اب مطلب یہ ہو گا کہ ایسا کرنے والے دنیا میں بھی ہلاکت اورخرابی میں مبتلا ہوں گے اور آخرت میں بھی، مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ویل“جہنم میں ایک وادی کا نام ہے، جس میں اتنی شدید گرمی اور حرارت ہے کہ خود جہنم بھی اس کی حرارت سے روزانہ ستر مرتبہ پناہ مانگتی ہے، اس کا حاصل یہ ہو گا کہ آخرت میں ایسا کرنے والوں کو اس وادی میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ الله تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھیں۔ مؤطا امام مالک میں حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں تو الله تعالیٰ ان پر قحط مسلط فرما دیتا ہے“۔ یعنی قحط خواہ حقیقی ہو کہ پیداوار ہی نہ ہو یا مصنوعی ہو کہ پیداوار بھی خوب ہے او ربازار میں ملتا بھی ہے، لیکن گرانی کی وجہ سے قوت خرید نہیں ہے، یا قوت خرید بھی ہے، لیکن اس کو استعمال نہیں کرسکتا، یہ سب صورتیں قحط کی ہیں۔ اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایسا کرنے سے خیر وبرکت اٹھ جاتی ہے۔

قرآن کریم کے اندر سورہٴ رحمن کے پہلے رکوع میں بھی چند آیات اسی سے متعلق ہیں، فرمایا:﴿ وَالسَّمَاء َ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ ،أَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیزَانِ، وَأَقِیمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیزَانَ﴾ یعنی”الله تعالیٰ نے آسمان کوبلند کیا اور ترازو رکھی کہ زیادتی نہ کرو تراز ومیں او رانصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وزن کرو او رتول میں کمی نہ کرو“ اس سے اس طرف اشارہ کیا کہ اس عالم میں نظام عدل او رقیام انصاف اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ناپ تول میں دیانت داری سے کام لیا جائے۔

چوں کہ قرآن کریم کی تعلیمات حکیمانہ ہیں، اس لیے جب وہ کسی چیز کی برائی ظاہر فرماتا ہے تو اس سے بچنے کا علاج بھی ذکر کرتا ہے، اسی بنیاد پر سورہٴ تطفیف میں اس حرکت کی مذمت کرنے کے بعد فرمایا﴿أَلَا یَظُنُّ أُولَٰئِکَ أَنَّہُم مَّبْعُوثُونَ﴾ یعنی کیا ”ان کو اس کا خیال نہیں آتا کہ انہیں ایک عظیم دن، یعنی یوم الحساب میں، اٹھایا جائے گا، جس روز تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“ اس سے علاج معلوم ہو گیا کہ اگر انسان الله تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور پیشی کا تصو رکرتا رہے تو اس برائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

﴿وآخردعوانا ان الحمدلله رب العلمین ﴾