بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم کے ملفوظات

مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم کے ملفوظات

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

8/جمادی الاولیٰ بروز پیر کو حضرت اقدس دامت برکاتہم نے دارالاقامہ کے کمروں کے تمام امراء کا اجلاس طلب فرمایا، جس میں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے مختلف انتظامی امور سے متعلق اور طلباء کی تربیت کے حوالے سے گفت گو فرمائی۔

فرمایا: علماء نے بڑی قربانیوں کے ساتھ دین کی خدمت کی ہے، سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے وہاں کے مسلمان ایک خول میں بند تھے، دنیا کو ان مسلمانوں کی حالت کے بارے میں معلوم نہیں تھا، بڑے سخت حالات تھے، لیکن ان حالات میں بھی انہوں نے دین کی خدمت کی، بظاہر درزی کی دکان ہے، او راس میں بچے سلائی سیکھ رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ مدرسہ ہوتاتھا، استادان کو قرآن سکھاتا تھا، جب ایجنسی والے آتے، فوج آتی تو بتاتے کہ یہ تو درزی کی دکان ہے۔

لیکن جب سویت یونین ٹوٹا، خول ٹوٹا، توپتا چلا کہ یہ ازبکستان ہے، یہ کرغیزستان، یہ قازقستان ہے، سمر قند، بخارا، جہاں کے امام بخاری ہیں۔

فرمایا : کہ جب سویت یونین ٹوٹا تو رابطہ عالم اسلامی نے یہ فیصلہ کیا کہ ان ملکوں کے جو حفاظ ہیں ان کو عمرہ کرایا جائے۔ چناں چہ رابطہ اسلامی کا وفد اور پاکستان کے اس وقت کے وزیر مذہبی امور ڈکٹر محمود احمد غازی مرحوم بھی ان کے ساتھ تھے، ان سے یہ واقعہ میں نے خود سنا، کہا کہ ہم یہاں سے گئے، افغانستان میں مزار شریف سے آگے دریائے آمو ہے اور اس پر حیرتان نام کی بندرگاہ ہے، یہ جو دریا ہے اس کے اُس طرف کے علاقے کو ماوراء النہر کہتے ہیں، فقہ میں جو ماوراء النہر کی اصطلاح آتی ہے، وہ نہر یہ دریا ہے،اس بندرگاہ کے سامنے ترمذ شہر ہے اور ترمذ میں بہت عالیشان بڑی بڑی قدیم مساجد ہیں، کہا کہ ہم رمضان شریف میں وہاں کی ایک جامع مسجد میں گئے، چوں کہ اعلان پہلے سے ہوچکا تھا اس لیے جب رابطہ کا وفد پہنچا تو مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور ہم بڑی مشکل سے محراب تک پہنچے، بہرحال عشاء کی نماز اورتراویح پڑھی اس کے بعد وفد میں موجود حضرات نے بیانات فرمائے اور اس کے بعد جو حفاظ کی لسٹیں وفد کو دی گئیں تو وہ ستر ہزار حفاظ کے نام تھے۔

پھر فرمایا: کہ چین میں بھی مسلمانوں کے حالات اب تک اچھے نہیں ہیں، وہاں کے مسلمان بھی خول میں بند ہیں، باہر کے لوگوں کو ان کے حالات کا علم نہیں ،حالاں کہ چین میں مسلمانوں کی تعداد تیس کروڑ ہے۔

جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اپنے دور میں چین کے مسلمانوں کو یہ سہولت دی کہ وہ چین سے راولپنڈی پہنچتے اور پھر راولپنڈی سے بذریعہ ہوائی جہاز جدہ پہنچتے اور حج ادا کرتے تو یہ جو چین سے مسلمان آتے ایئرپورٹ پر تو وہاں تبلیغی جماعتیں موجود ہوتیں جو ان کی مختلف امور میں راہ نمائی کرتیں۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ جدہ سے واپسی پر جہاز میں کچھ فنی خرابی پیدا ہوگئی اوراس کو کراچی ایئرپورٹ پر اترنا پڑا، او ریہاں بتایا گیا کہ چوبیس گھنٹے بعد پرواز ہوگی، ایئرپورٹ پر تبلیغی جماعت موجود تھی، انہوں نے ان چینی حجاج کو جو 40 افراد تھے، لیا اور مرکز لے گئے اور مرکز والوں نے فیصلہ کیا کہ ان کو کراچی کے بڑے مدارس میں لے جاکر حضرات سے ملاقاتیں کروائی جائیں، چناں چہ وہ چالیس افراد کا وفد یہاں جامعہ فاروقیہ آیا، ان میں چند علماء بھی تھے جن کو کچھ عربی آتی تھی، چناں چہ ہم نے ان سے معلوم کرنا چاہا کہ ہم ان کی کیا خدمت کرسکتے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ اگر ”اصول الشاشی“ کتاب کے کچھ نسخے میسر ہو جائیں، کیوں کہ وہاں چین میں جو ہمارے پاس اصول الشاشی کی کتابیں ہیں، وہ بہت بوسیدہ ہو گئی ہیں، اورانہوں نے بتایا کہ ہم طلباء کو کنوؤں میں پڑھاتے ہیں۔ چناں چہ ہم نے اس وقت مکتبوں میں جو اصول الشاشی کے نسخے میسر تھے تین سو کے قریب، وہ خرید کر ان کے حوالے کیے۔