بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

 نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گھریلو زندگی

 نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گھریلو زندگی

مفتی محمد راشد ڈسکوی

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گھر سے باہر کی زندگی کا عمومی نقشہ
جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گھر سے باہر کی زندگی جو سو فیصد اعلائے کلمة اللہ کے لیے کاوشوں پر مشتمل تھی، اپنوں (یعنی: اسلام قبول کر لینے والوں) اور غیروں (یعنی: غیر مسلموں ) پر دین کی محنت ، اسلامی نظام خلافت کے قیام کی ترتیب ، اندرون عرب اور بیرون اشاعت اور غلبہ اسلام کی فکر وسوچ اور ترتیب ، مسلمانوں کے سماجی، معاشرتی اور معاشی مسائل کے حل کی فکر اور پھر اس سب کے نتیجے میں (23سال کی) نہایت ہی قلیل مدت میں ایک ایسے ماحول اور فضا کا قائم ہوناکہ جس میں ہر آنے والا اُسی رنگ میں رنگا جاتا تھا، یعنی: وہ جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور دین کی خاطر تن، من اور دھن ،الغرض سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کر کے چلنے والا بن جاتا تھا۔

اور پھر جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی یہ محنت صرف زبانی جمع و خرچ ہی نہ تھی، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا عملی کردار ایسا جامع ومکمل امت کے سامنے پیش کیا کہ اپنے تو اپنے، غیروں کو بھی اس پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں مل سکتا۔ وہ کردار ایسا مکمل اور نتیجہ خیز تھا کہ من جانب اللہ قرآن مجید میں بھی آپ علیہ السلام کی مبارک زندگی کو بطور ِ نمونہ سامنے رکھ کر اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالنے کا قانون بنا دیا گیا۔﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾۔ (الأحزاب:21)

ترجمہ: فی الحقیقت تمہارے لیے رسول الله( صلی الله علیہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہ (حیات)ہے ۔
الغرض کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی خارجی زندگی کی ذمہ داریاں اتنی متنوع اور وسیع تر تھیں کہ ان کے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور افرادِ خاندان کے لیے وقت نکالنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا، آج کے زمانہ کو دیکھتے ہوئے،ایک مشکل ترین بات تھی، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت ِمبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ازواج مطہرات ہوں یا اولاد، خدام ہوں یا اقربا، متعلقین ہوں یا احباب، آپ صلی الله علیہ وسلم ہر ایک کے حقوق کی اتنی رعایت فرماتے تھے اور اُسے اتنی محبت اور اہمیت دیتے تھے کہ وہ سمجھتا تھا کہ شاید آپ صلی الله علیہ وسلم سب سے زیادہ محبت اُسی سے کرتے ہیں اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ اس سے غافل نظر نہیں آتے تھے۔ ہر آن آپ صلی الله علیہ وسلم کو ان کے حقوق کی فکر دامن گیر رہتی تھی، اس کے نتیجے میں آپ صلی الله علیہ وسلم بیویوں کے حق میں ایک نہایت محبت کرنے والے شوہر، اولاد کے حق میں ایک شفیق ومہربان باپ ، خدام کے حق میں ایک وسیع الظرف اور حلیم و بردبار آقا ، دوست واحباب کے حق میں نہایت جانثار اور بے لوث ساتھی کی صورت میں نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔

گھر سے باہر کی زندگی میں آپ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں مصلے پر کھڑے نمازیوں کی امامت کرتے ہوئے نظر آتے تھے، تو کبھی راہ نمائی طلب کرنے والوں کے لیے بہترین رہبر اور مشیر نظر آتے تھے، میدان جنگ میں نہایت دلیر ودانا سپہ سالار ہوتے تھے توقتال کی صفِ اول کے نہایت بے جگری سے لڑنے والے مجاہد بھی ہوتے تھے، آپ انصاف پسند عادل حاکم بھی تھے اور امت کی تربیت میں مشغول صاحبِ بصیرت معلّم بھی تھے۔ ساری اُمت جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والی بن جائے اس کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم جہاں اُمت پر محنت فرماتے تھے وہاں اُن کے غم میں ہر ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی اور گڑگڑا کر دعا کرتے ہوئے بھی نظر آتے تھے۔اس زندگی میں آپ کی صفات میں ”دائمُ الفکرة“ اور ”متواصلُ الأَحزان“کا ذکر ملتا ہے۔

گھر کے اندر کی زندگی کا عمومی نقشہ
لیکن گھر کے اندر کی زندگی میں آپ صلی الله علیہ وسلم کسی سخت مزاج اور جھگڑالوشوہر ، باپ یا بھائی کے روپ میں نظر نہیں آتے ، بلکہ بیویوں کے ساتھ انتہائی ہنس مکھ ، اُن کی دل جوئی کرنے والے، اُن میں گھل مل کر رہنے والے، گھر کے کاموں میں اُن کا ہاتھ بٹانے والے، اُن کے دکھ درد میں شریک ہونے والے اور ہنسی مذاق، پیار ومحبت سے زندگی بسر کرنے والے اور تمام اَزواج میں عدل وبرابری کرنے والے تھے، بچوں کے ساتھ آپ بچے ہوتے تھے، اُن کو صرف کھلانے والے ہی نہیں، بلکہ اُن کے ساتھ بذاتِ خود کھیلنے والے ہوتے تھے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے گھر والوں سے نہایت شفقت سے پیش آتے، اُن کی دل جوئی فرماتے اور تمام اہل خانہ کے ساتھ یکساں سلوک فرماتے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی گھریلو زندگی؛ گھر سے باہر کی زندگی کی طرح تمام کیفیات سے معمور اور پُر کشش تھی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم سوتے بھی تھے، جاگتے بھی تھے، کھاتے بھی تھے اور بھوکے بھی رہتے تھے، غرض زندگی کے جتنے بھی پہلو ہوسکتے ہیں آپ صلی الله علیہ وسلم کی گھریلوزندگی میں بھی پائے جاتے تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی گھریلو زندگی میں بے اعتدالی نہیں تھی، بلکہ ہر چیز ایک نظام کے تحت مرتب ہوتی تھی۔

*…آپ صلی الله علیہ وسلم کے گھر ہر قسم کے تکلفات اور دنیوی جاہ وجلال ، رکھ رکھاوٴ والے ظاہری پُر تعیش اَسباب سے خالی، لیکن سادگی اور صفائی وستھرائی کا خوب صورت منظر پیش کرنے والے ہوتے تھے۔

گھر میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے اوقات کی تقسیم
*…آپ صلی الله علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے معمولات کی تشریح کرتے ہوئے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہٴ مجاز عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبد الحئی صاحب رحمہ اللہ اپنی تصنیف ”اسوہٴ رسول ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم “ میں بحوالہ شمائل ترمذی لکھتے ہیں کہ :
حضرت حسن اپنے والد ماجد حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کا اپنے گھر میں اپنے ذاتی حوائج ( طعام و منام)کے لیے تشریف لے جانا ظاہر ہے اور آپ اس بات کے لیے منجاب اللہ ماذون ومامور تھے ۔ سو آپ اپنے گھر میں تشریف لاتے تو اپنے گھر کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔
1..ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے۔
2..ایک حصہ اپنے گھر والوں کے معاشرتی حقوق ادا کرنے کے لیے ( جس میں ان سے ہنسنا بولنا شامل تھا)۔
3..اور ایک حصہ اپنے نفس کی راحت کے لیے ۔

پھر اپنے حصہ کواپنے اور لوگوں کے درمیان میں تقسیم فرما دیتے (یعنی اس میں سے بھی بہت سا وقت اُمت کے کام میں صرف فرماتے اور اِس حصہ وقت کو خاص احباب کے واسطہ سے عام لوگوں کے کام میں لگا دیتے ،یعنی: اس حصہ ٴ وقت میں عام لوگ تو نہ آ سکتے تھے، مگر خواص حاضر ہوتے اور دین کی باتیں سن کر عوام کو پہنچاتے، اِس طرح عام لوگ بھی اُن منافع میں شریک ہو جاتے )۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، الرقم:414)

*… حضرت انس نے بیان کیا :
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی خفیہ عبادت کا حال پوچھا، یعنی: جو عبادت آپ صلی الله علیہ وسلم گھر میں کرتے تھے (جب گھر میں آپ کی زندگی عام معمول کے مطابق سامنے آئی تو )ایک نے ان میں سے کہا کہ میں کبھی عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا:میں کبھی گوشت نہ کھاؤں گا۔ کسی نے کہا:میں کبھی بچھونے پر نہ سوؤں گا۔(یہ بات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں بُلایا) اور پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، یعنی: خطبہ پڑھا اور فرمایا:کیا حال ہے اُن لوگوں کا جو ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا تو یہ حال ہے کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، یعنی: رات کو اور سو بھی جاتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جو میرے طریقہ سے بے رغبتی کرے وہ میری امت میں سے نہیں ہے“ ۔ (صحیح مسلم، الرقم: 3403)

*…گھر میں عبادات کے درمیان اعتدال کے اعتبار سے مزید وضاحت ایک حدیث میں سامنے آتی ہے، جو حضرت انس بن مالک  سے مروی ہے، اُنہوں نے بیان کیا :

تین حضرات (حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا اور آپس میں کہا کہ ہمارا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کیا مقابلہ؟ آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو، اللہ تعالیٰ کی قسم!اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ، لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں، (رات میں)نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، ”فَمِنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ“، میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔(صحیح البخاری، الرقم: 5063)

گھر میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت
*…آپ صلی الله علیہ وسلم گھر میں نفل نماز بھی ادا کیا کرتے تھے، رات کے وقت میں تہجد کی نماز ادا فرماتے، وتر بھی تہجد کے وقت میں گھر میں ہی ادا فرماتے تھے، فجر کی سنتیں بھی اکثر گھر میں ہی ادا کر کے مسجد تشریف لے جاتے تھے۔ (صحیح البخاری، الرقم: 626)

گھر میں قرآن مجید پڑھنے کی کیفیت
*…رات کے وقت میں نماز کے اندر اور نماز کے علاوہ ”قرآن مجید کی تلاوت“ بھی کرتے تھے۔ (صحیح مسلم، الرقم:770)کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ آواز سے، حضرت عضیف بن حارث  کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم قرآن کو بآواز بلند پڑھتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کبھی بآواز بلند پڑھتے اور کبھی دھیمی آواز سے، میں نے کہا اللہ اکبر ، الحمدللہ، اللہ نے اس کام میں وسعت رکھی۔(سنن ابن ماجہ، الرقم : 1354)

*…آپ صلی الله علیہ وسلم بسا اوقات ٹیک لگا کر بھی قرآن پڑھتے تھے،حضرت عائشہ سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہم (اَزواج مطہرات) میں سے کسی کے گود میں سر رکھتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے، جب کہ وہ حیض سے ہوتی تھیں۔(صحیح البخاری، الرقم:297)

گھر میں اللہ سے دعا کرنا
*…رات کے وقت اکثر نماز تہجد میں دیر تک دعائیں کرتے تھے، اپنے لیے بھی اور اُمت کے لیے بھی، دورانِ قراء ت آیات رحمت پر رحمت کی دعائیں اور آیاتِ عذاب پر عذاب سے پناہ کی دعائیں کیا کرتے تھے اور دعاوٴں میں اتنا روتے تھے کہ داڑھی مبارک آنسووٴں سے تر ہو جاتی۔ (صحیح مسلم، الرقم: 772)

گھر میں داخل ہونے کا نبوی طریقہ
*…نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اچانک گھر میں کبھی تشریف نہ لاتے تھے کہ گھر والوں کو پریشان کر دیں، بلکہ اس طرح تشریف لاتے کہ گھر والوں کو پہلے سے آپ کی تشریف آوری کا علم ہوتا۔ (صحیح البخاری، الرقم: 1501)
حضرت جابر بن عبداللہ  سے روایت ہے : ”نَہَی رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیہ وسلم أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَہْلَہُ لَیْلًا یَتَخَوَّنُہُمْ أَوْ یَلْتَمِسُ عَثَرَاتِہِمْ“․

ترجمہ: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان رات کو (اچانک)گھر والوں کے پاس جا پہنچے اور ان کو خیانت (جس طرح خاوند نے کہا ہوا ہے، اس طرح نہ رہنے)کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں ڈھونڈے ۔ (صحیح مسلم، الرقم:4969)

کیوں کہ اس میں ایک تو گمان بد ہے ،جو شریعت میں منع ہے۔ دوسرے عورت کی دل شکنی کا باعث ہے اور اس میں صد ہا قباحتیں ہیں۔

بالخصوص جب کوئی شخص سفر سے واپس آئے تو اس کے لیے اور زیادہ اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اچانک نہ آئے بلکہ اطلاع دے کر آئے، چناں چہ حضرت جابر بن عبداللہ  سے روایت ہے، ایک جہاد میں ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب ہم اس جہاد سے واپس مدینہ آئے تو ہم اپنے گھروں کو جانے لگے۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَمْہِلُوا حَتَّی نَدْخُلَ لَیْلًا، أَيْ عِشَاءً کَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِیبَةُ“․ (صحیح مسلم، الرقم: 4964)

ترجمہ: ”ٹھہرو ،ہم رات کو جائیں گے، تاکہ جس عورت کے سر کے بال پریشان حال ہیں تو وہ کنگھی کرلے اور جس کا خاوند غائب تھا وہ پاکی کرے (یعنی بال وغیرہ صاف کر لے)۔

*…گھر میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم سلام کرتے ۔ (سنن أبو داوٴد، الرقم: 596) جب آپ اندر تشریف لاتے توکچھ نہ کچھ دریافت فرمایا کرتے۔ بسا اوقات پوچھتے کہ کیا کچھ کھانے کو ہے … (سنن الترمذي، الرقم :2470) اور بسا اوقات خاموش رہتے، یہاں تک کہ ما حضر پیش کر دیا جاتا ۔ نیز منقول ہے کہ جب آپ گھر میں تشریف لاتے یہ دعا پڑھتے:”اَلْحمَدُ للّٰہ الَّذِيْ کَفَانِيْ وَاٰوَانِيْ وَالْحَمُدُ للِّٰہ الَّذيْ اَطْعَمَنِيْ وَ سَقَانِيْ وَ الْحَمْدُ للِّٰہ الَّذِيْ مَنَّ عَلَيَّ، اَسْالُکَ أَنْ تُجِیْرَنِيْ مِنَ النَّارِ“․

ترجمہ: ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جس نے میری (تمام ضروریات کی )کفایت فرمائی اور مجھے ٹھکانا بخشا اورتمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے کھلایا اور پلایا اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھ پر احسان فرمایا، (اے اللہ!) میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے (عذابِ)نار سے بچا لیجیے۔
گھر میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے کام

*… حضرت اسود  سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ  سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے گھر والوں میں آکرکیا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت، یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے ۔ (مخدوم اور ممتاز بن کر نہ رہتے تھے، بلکہ گھر کا کام بھی کر لیتے تھے ، مثلاً: بکری کا دودھ دوھ لینا۔ اپنی نعلین مبارک سی لینا ) اور جب نماز کا وقت آتا تو مسجد چلے جاتے۔ (سنن الترمذی، الرقم: 2489)

گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ برتاوٴ
*…حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے گھر والوں اور خادموں کے ساتھ بہت خوش اَخلاقی کا سلوک فرماتے اور کبھی کسی سے سر زنش اور سختی سے پیش نہ آتے۔ (مسلم:2309)حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم گھر والوں کے لیے اس کا بڑا اہتمام فرماتے کہ کسی کو کسی بات کی نا گواری نہ ہو ۔(مسلم: 2055)

*… حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اَزواج مطہرات کے پاس ہوتے تو بہت نرمی ، خاطر داری کرتے اور بہت اچھی طرح ہنستے بولتے تھے۔(سنن الترمذی، الرقم: 1162)

بیوی بچوں کی عبادات کی فکر
بہت ساری احادیث میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا یہ پہلو بھی موجود ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے گھر کے افراد کو بھی اپنے ساتھ عبادت میں شریک کرتے تھے اور گاہے گاہے انہیں بھی اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی نیند کی مقدار
*…آپ صلی الله علیہ وسلم ابتدائے شب میں سوتے (صحیح البخاري، الرقم:586)اور نصف شب کی ابتدا میں بیدار ہو جاتے، اُٹھ کر مسواک فرماتے اور وضو کر کے جس قدر اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھی ہوتی نماز پڑھتے ، گویا بدن کے جملہ اعضا ء اور تمام قویٰ کو نیند اور استراحت سے حصہ مل جاتا۔(المعجم الکبیر للطبراني،13598)

*…آپ صلی الله علیہ وسلم ضرورت سے زیادہ نہیں سوتے تھے اور ضرورت سے زیادہ جاگتے بھی نہ تھے، چناں چہ جب ضرورت لاحق ہوتی تو آپ دائیں طرف اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آرام فرماتے، حتیٰ کہ آپ کی آنکھوں پر نیند غالب آجاتی (صحیح البخاري، الرقم:247)۔ اس وقت آپ شکم سیرنہ ہوتے۔ نہ آپ سطح زمین پر لیٹ جاتے اور نہ زمین سے بچھونا زیادہ اونچا ہوتا، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا ہوتا۔ جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوتی ۔ آپ تکیہ پر ٹیک لگاتے اور کبھی رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ لیتے اور سب سے بہتر نیند دائیں جانب کی ہے۔

*…حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نیند بقدر اعتدال تھی ۔ قدر ضرورت سے زیادہ نہ سویا کرتے تھے اور نہ قدر ضرورت سے زیادہ اپنے آپ کو سونے سے باز رکھا کرتے تھے ۔ یعنی حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نیند بھی فرماتے اور قیام بھی فرماتے، جیسا کہ نوافل و عبادت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی ، کبھی رات میں سو جاتے، پھر اٹھ کرنماز پڑھتے، اس کے بعد پھر سو جاتے ۔ اس طرح چند بار سوتے اور اٹھتے تھے۔ اس صورت میں یہ بات درست ہے کہ جو نیند میں دیکھنا چاہتا وہ بھی دیکھ لیتا اور جو بیدار دیکھنا چاہتا وہ بھی دیکھ لیتا ۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کا بستر استراحت
*…حضرت امام باقر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ حضرت حفصہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا؟ آپ نے فرمایا ایک ٹاٹ تھا جس کو دوہرا کرکے ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کے نیچے بچھایا کرتے تھے تو ایک روز مجھے خیال ہوا کہ اگر اس کو چوہرا کرکے بچھادیا جائے تو زیادہ نرم ہوجائے گا۔ میں نے اسی طرح بچھا دیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے صبح کو دریافت فرمایا کہ میرے نیچے رات کو کیا چیز بچھائی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ وہی روزمرہ کا بستر تھا، رات کو اس کو چوہرا کردیا تھا، تاکہ زیادہ نرم ہوجائے۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پہلے ہی حال پر رہنے دو، اس کی نرمی رات کو مجھے تہجد سے مانع ہوئی۔ (الشمائل المحمدیة للترمذی، الرقم:330)
ؤ…حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری عورت نے حضور صلی الله علیہ وسلم کا بستر دیکھا کہ عبا بچھا رکھی ہے، انہوں نے ایک بستر جس میں اون بھری ہوئی تھی تیار کرکے حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے میرے پاس بھیج دیا۔ جب حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو اس کو رکھا ہوا دیکھا تو دریافت فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ فلاں انصاری عورت نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے بنوا کر بھیجا ہے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو واپس کردواور یہ ارشاد فرمایا کہ ا للہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو اللہ تعالی سونے اور چاندی کے پہاڑ میرے ساتھ کردیں۔(شعب الإیمان للبیھقي، الرقم: 1468)۔

*…حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی الله علیہ وسلم ایک بوریے پر آرام فرمارہے تھے، جس کے نشانات حضوراقدس صلی الله علیہ وسلم کے بدن اطہر پر ظاہر ہو رہے تھے، میں یہ دیکھ کر رونے لگا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ قیصر و کسرٰی تو ریشم و مخمل کے گدوں پر سوئیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس بوریے پر۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا رونے کی بات نہیں ہے، ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے، میری مثال تو اس راہ گیر کی سی ہے جو چلتے چلتے راستے میں ذرا آرام لینے کے لیے کسی درخت کے سایہ کے نیچے بیٹھ گیا ہو اور تھوڑی دیر بیٹھ کر آگے چل دیا ہو(المعجم الکبیر للطبرانی، الرقم: 10327)۔

*…حضرت میمونہ بنت حارث سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے(صحیح البخاری، الرقم: 379)۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کا انداز استراحت
حضرت براء  فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم جس وقت آرام فرماتے اپنا دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: ”رَبِّ قِنِيْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ“۔ (سنن ابو داوٴد، الرقم: 5045)

ترجمہ:اے رب! تو مجھے اپنے عذاب سے بچائیو جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

*…حضرت حذیفہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوْتُ وَأَحْیَا“۔ (صحیح البخاري، الرقم: 6325)ترجمہ:اے اللہ!میں تیرا نام لے کر مرتا ہوں اور جیتا ہو۔

*…اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ“۔ (صحیح البخاری، الرقم: 6325) ترجمہ: سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں مار کر زندگی بخشی اور ہم کو اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔

*…حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم ہر رات میں جب بستر پر لیٹتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر ان پر دم فرماتے، پھر تمام بدن پر سر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا، ہاتھ پھیرلیا کرتے۔ تین مرتبہ ایسا ہی کرتے، سر سے ابتدا کرتے اور پھرمنھ اور بدن کا اگلا حصہ، پھر بدن کا پچھلا حصہ ۔ (صحیح البخاري، الرقم:5718)

*…نبی کرم صلی الله علیہ وسلم سے سونے کے وقت مختلف دعائیں اور کلام اللہ کی مختلف سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہے، مثلا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں، سورہ ملک، سورہ الم سجدہ، سورہ کافرون وغیرہ۔(صحیح البخاری، الرقم: 4008)

*…منقول ہے کہ جو شخص آیت الکرسی سوتے وقت پڑھے اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ محافظ اس کے لیے مقرر ہوجاتا ہے، جو جاگنے کے وقت تک اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔(صحیح البخاری، الرقم: 2311 )

*…حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا، فَکَمْ مِّمَّنْ لَا کَافِيَ لَہ وَلَا مُوٴْوِيَ“․ (صحیح مسلم، الرقم: 6894)

ترجمہ:تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اورہماری (تمام ضروریات کی)کفالت فرمائی اور ہمیں ٹھکانا بخشا۔ چناں چہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفالت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانہ دینے والا ہے۔

*…نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اوندھے منھ سونے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (سنن الترمذی، الرقم 2768)