بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم کے ملفوظات

مولانا عبیدالله خالد صاحب دامت برکاتہم کے ملفوظات

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

13/جمادی الاولیٰ بروز ہفتہ حضرت اقدس دامت برکاتہم کی اساتذہ کے ساتھ اصلاحی مجلس ہوئی۔
فرمایا: سال کا اختتام ہے اور طلباء کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے جو کوششیں ہو رہی ہیں ان میں مزید اضافہ کیا جائے، مزید اہتمام کیا جائے۔

تدریس ایک عظیم الشان شعبہ ہے، ہمارے ملک میں عصری اداروں میں یہ شعبہ تنزلی کا شکار ہے، سرکاری اسکولوں میں جو پڑھنے پڑھانے کا طریقہ ہے دیوالیہ پن کا شکار ہے، میٹرک پڑھنے والے طلباء اردو کی سطر لکھنے پر قادر نہیں ہوتے، بڑے بڑے پرائیویٹ اسکول جن کی ماہانہ فیس20،20 ہزار ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود سب مضامین کے لیے ٹیوٹر مقرر کیے جاتے ہیں، ٹیوشن پڑھتے ہیں ،لیکن الحمدلله ہمارے مدارس میں ایسی کوئی ترتیب نہیں کہ اساتذہ کے پڑھانے کے بعد پھر ٹیوشن پڑھتے ہوں۔

ہم الله تعالیٰ کا شکرادا کریں او راس کی بھرپور کوشش کریں کہ ہمارا سبق پڑھانا سرسری انداز میں نہ ہو ، بھر پور طریقے سے ہوں، ہم ایک ایک طالب علم کے حوالے سے اس کی تعلیمی اور تربیتی حوالے سے فکر مند ہوں۔

ہم اپنے وقت کا خیال رکھیں۔
فرمایا: ایک ساتھی نے جن کا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ الله سے تعلق تھا، انہوں نے بتایا کہ مفتی صاحب کے کمرے میں چار گھڑیاں ہوتی تھیں، ایک سامنے، ایک پیچھے، ایک دائیں دیوار پراور ایک بائیں طرف او ر ان کے علاوہ ایک گھڑی پاس بھی ہوتی تھی۔

حضرت نے فرمایا کہ بعینہ یہی حالت ہمارے حضرت نوّرالله مرقدہ کی تھی کہ وقت کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، پھر حضرت اقدس دامت برکاتہم نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا سلیم الله خان صاحب نوّرالله مرقدہ کا واقعہ بیان فرمایا:
جب میرے بھتیجے مفتی انس صاحب اور صاحب زادے مفتی معاذ صاحب چھوٹے تھے اور حفظ کر رہے تھے تو حضرت نے وعدہ کیا تھا کہ جب حفظ مکمل کرلو گے تو عمرہ پہ لے کر جاؤ ں گا۔ جب انہوں نے حفظ مکمل کر لیا تو عمرے پر گئے، بہت اچھا موسم تھا اور رش بھی نہیں تھا، میں نے ان بچوں سے کہا کہ ریاض الجنة میں مجھے دو دو پارے سنا دیا کرو، چناں چہ ہم فجر سے پہلے جاتے اور فجر کے بعد وہیں ریاض الجنة میں بیٹھ کر بچے پارے سناتے اور اشراق پڑھ کر پیدل گھر آجاتے، جب ہم پہنچتے تو ناشتے کے لیے دسترخوان لگتا اور عصر میں آتے تو عشاء پڑھ کر واپس جاتے، ایک دن عشاء کے بعد حضرت کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی او ربہت زیادہ خراب ہوگئی، سب ساتھی گھبراگئے، فوراً ایمبولینس کو بلایا گیا، ہسپتال لے کر گئے، ہسپتال میں ایک ڈاکٹر ملے، جو پاکستانی تھے، فیصل آباد کے تھے اور وہ حضرت کو جانتے تھے، چناں چہ وہ لے کر گئے، کسی اور کو ساتھ جانے کی اجازت نہیں تھی، ایک گھنٹے بعد مجھے اندر بلایا، ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت کو بلڈپریشر ہے؟ میں نے کہا نہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ جب حضرت کو لایا گیا تھا اس وقت بلڈپریشر بہت بڑھا ہوا تھا، تو مجھ سے بار بار پوچھ رہے تھے کہ کوئی حادثہ واقعہ پیش آیا ہے ، کوئی ایسی بات جس سے حضرت کو بہت تکلیف ہوئی ہو؟ میں نے کہا بالکل نہیں، عبدالخالق صاحب جن کے گھر میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے ان سے پوچھا، انہوں نے بھی کہا ایسی کوئی بات نہیں۔

آخر میں حضرت نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میں ساڑھے سات بجے ناشتہ کرتا ہوں او راب ساڑھے نو بجے ناشتہ ہوتا ہے، (یعنی معمول میں بے ترتیبی کی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی) اور میری طرف اشارہ کیا کہ اس کا سبب یہ ہے ۔میں اتنا نادم اور پریشان کہ یہ کیا ہو گیا…، عبدالخالق صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آپ تو اگر فجر سے بھی پہلے ناشتہ کا فرماتے ہم اس وقت بھی انتظام کر لیتے، بہرحال حضرت کو وقت کا بہت زیادہ خیال تھا، ہر چیز کا ایک وقت مقرر تھا اور ہر چیز اپنے وقت کے اندر سرانجام دیتے تھے۔