بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجودہ معاشی پریشانی اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت

موجودہ معاشی پریشانی اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت

محترم امدادالحق بختیار

اس وقت تقریباً پوری دنیا معاشی بحران کا شکار ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے زندگی کی رفتار بے انتہا سست ہو چکی ہے، اسباب زندگی کو مہیا کرنا ہر شخص کے لیے ایک دشوار کن مسئلہ بن گیا ہے، ملازمت، کاروبار اور کسب معاش کے دیگر ذرائع کے حوالے سے لوگ بڑی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں، نیز اس حالت پر ایک لمبا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے بعض مسلمان مایوسی کا شکار ہیں۔
لیکن اگر ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلمکی حیات مبارکہ کا مطالعہ کریں تو موجودہ حالات میں بھی ہمارے لیے کافی تسلی کا سامان ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تنگ دستی ، آپ کے فقر و فاقہ اور اس سے پیدا ہونے والی تکلیفوں کا جو سامنا آپ صلی الله علیہ وسلم نے کیا ہے، محبوب رب کائنات صلی الله علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں جن دشواریوں کا مقابلہ کیا ہے، اگر ہم ان کا مطالعہ کریں تو ہماری پریشانیاں ہمیں بہت معمولی معلوم ہوں گی؛ چناں چہ حضرت ابن عباس  روایت کرتے ہیں:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبِیتُ اللَّیَالِی المُتَتَابِعَةَ طَاوِیًا، وَأَہْلُہُ لَا یَجِدُونَ عَشَاء ً وَکَانَ أَکْثَرُ خُبْزِہِمْ خُبْزَ الشَّعِیر:ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ (ترمذی شریف، باب ما جاء فی معیشة النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر2283)
ابن عباس  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم لگاتار کئی کئی راتیں فاقہ کی حالت میں گزارتے تھے، آپ کے گھر والوں کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور آپ اکثر جو کی روٹی تناول فرماتے تھے۔
نیز حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا، أَنَّہَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ: ابْنَ أُخْتِی، إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الہِلاَلِ، ثُمَّ الہِلاَلِ، ثَلاَثَةَ أَہِلَّةٍ فِی شَہْرَیْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِی أَبْیَاتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَارٌ، فَقُلْتُ یَا خَالَةُ: مَا کَانَ یُعِیشُکُمْ؟ قَالَتْ:”الأَسْوَدَان: التَّمْرُ وَالمَاء ُ، إِلَّا أَنَّہُ قَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جِیرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ، کَانَتْ لَہُمْ مَنَائِحُ، وَکَانُوا یَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِہِمْ، فَیَسْقِینَا“․ (بخاری شریف، کتاب الہبة وفضلہا والتحریض علیہا، حدیث نمبر:2567)
ہم اہل بیت نبوت اس طرح گذار ا کرتے تھے کہ کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے (یعنی کامل دو مہینے گذر جاتے )اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے گھر وں میں چولھاگرم نہ ہوتا،حضرت عائشہ کے بھانجے حضرت عروہ نے پوچھا کہ پھر آپ لوگوں کو کیا چیز زندہ رکھتی تھی؟حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ بس کھجور کے دانے اور پانی، البتہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے بعض انصاری پڑوسیوں کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے ،وہ آپ کے لیے بطور ہدیہ دودھ بھیجا کرتے تھے اور اس میں سے آپ ہم کو بھی دیتے تھے۔
خود حضور سرور عالم صلی الله علیہ وسلم اپنی زندگی کی فقر وتنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لَقَدْ أُخِفْتُ فِی اللَّہِ وَمَا یُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللَّہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ وَمَا لِی وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا شَیْء ٌ یُوَارِیہِ إِبْطُ بِلَالٍ: ” ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ.
اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ کسی اورکواتنا نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کے راستہ میں مجھے اتنا ستایا گیا کہ کسی اور کو اتنا نہیں ستا یا گیا اور ایک دفعہ تیس دن رات مجھ پر اس حا ل میں گذرے کہ میرے اور بلا ل کے لیے کھانے کی کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے۔بجز اس کے جو بلال نے اپنے بغل میں دبا رکھا تھا۔(ترمذی شریف، حدیث نمبر: 2472)
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہکے بارے میںآ تا ہے کہ ایک دن خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر آپ لیٹے ہوئے ہیں اور اس کے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے اور چٹائی کی بُناوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشانات ڈال دیے ہیں ، اور سرہانے چمڑے کا تکیہ ہے، جس میں کھجور کی چھال کوٹ کے بھری ہوئی ہے یہ حالت دیکھ کر حضرت عمر رضی الله عنہ کی آنکھیں بھر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کا سبب پوچھا، حضرت عمر رضی الله عنہ نے جواب دیا ”وَمَالِی لَا أَبْکِی وَہَذَا الْحَصِیرُ قَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِکَ وَہَذِہِ خِزَانَتُکَ لَا أَرَی فِیہَا، إِلَّا مَا أَرَی وَذَلِکَ قَیْصَرُ وَکِسْرَی فِی الثِّمَارِ وَالْأَنْہَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللہِ وَصَفْوَتُہُ“اے اللہ کے رسول!میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی آپ کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشان ڈال رہی ہے، اُدھر قیصرو کسریٰ دنیا کے ناز ونعم میں ہیں، آپ تو اللہ کے نبی اور برگزیدہ ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَہُمْ طَیِّبَاتُہُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا“ یہ سب تو وہ لوگ ہیں جن کو ان کی لذتیں اسی دنیا میں دے دی گئی ہیں (اور آخرت میں ان کا کچھ نہیں ہے۔)کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا کا عیش ہواور ہمارے لیے آخرت کا عیش۔
(السنن الکبری للبیہقی، بَابُ مَا أَمَرَہُ اللہُ تَعَالَی بِہِ مِنِ اخْتِیَارِ الْآخِرَةِ عَلَی الْأُولَی، حدیث نمبر: 13305)
غزوہ خندق کے موقعے پر سخت بھوک اور فاقہ مستی کا عالم تھا، ہر صحابی مضطرب تھے، ایک صحابی بے قرار ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!میں سخت بھوکا ہوں اور اپنے پیٹپر بندھا ہوا پتھر دکھادیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کی تسلی کے لیے اپنے پیرہن مبارک کو اٹھایا تو صحابی نے دیکھا کہ آپ کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے ۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہعلیہ وسلم خلافِ معمول بیٹھ کر نماز اداکررہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول !کیاآپ بیمار ہیں؟ فرمایا نہیں۔بھوک کی شدت ہے ،جس کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا ہے، اس لیے بیٹھکر نماز ادا کررہا ہوں۔
(حلیة الأولیاء وطبقات الأصفیاء ، ابو نعیم (ت 430) دار الکتاب العربی، بیروت:7/109)
حضرت عمر فاروق اپنے عہد خلافت میں شام تشریف لے جاتے ہیں، شہر حمص پہنچتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ یہاں سب سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اس کا نام لکھا جائے، تمام حاضرین جواب دیتے ہیں ، سعید بن عامر بن جذیم، حضرت عمر پوچھتے ہیں کہ کون سعید؟ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے گورنر، حضرت عمر کو بڑا تعجب ہوتا ہے، پوچھتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کیا ہوتی ہے؟ جواب ملتا ہے کہ سب فقراء میں تقسیم کردیتے ہیں ، کچھ باقی نہیں رکھتے، حضرت عمر کی آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں، وہ حضرت سعید کی خدمت میں ایک ہزار دینار بھجواتے ہیں، قاصد جاتا ہے اورکہتاہے کہ امیر المومنین نے آپ کی ضروریات کے لیییہ ہدیہ بھیجا ہے، حضرت سعید زور سے ”إنا للہ وإنا إلیہ راجعون “پڑھتے ہیں ، ان کی بیوی اندر سے باہر آتی ہیں اور کہتی ہیں کہکیابات ہے؟ کیا امیر المومنین کا انتقال ہوگیا ؟ حضرت سعید کہتے ہیں نہیں،اس سے بڑی مصیبت آئی ہے، اہلیہ پوچھتی ہیں:کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ جواب ملتا ہے نہیں، اس سے بڑا حادثہ ہوا ہے، اہلیہ، پوچھتی ہیں کہ کچھ تو بتائیے کیا بات ہے؟ حضرت سعید فرماتے ہیں”الدنیا أتتنی، الفتنة دخلت علیّ“دنیا کا فتنہ میرے پاس آگیا ہے، پھر وہ سب دینار مستحقین پر صرف کردیتے ہیں۔(اسد الغابة، سعید بن عامر (2083) دار الفکر، بیروت:2/242)
حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں:نبی صلی الله علیہ وسلم کبھی بھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتے تھے اور آپ نے کبھی کسی سے اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا؛ کیوں کہ آپ کو فقر، غنا سے اور بھوک، پیٹ بھر کھانے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ تھی، آپ بسا اوقات بھوک کی وجہ سے تمام رات بے چین رہتے تھے، مگر آپ کی یہ بھوک آپ کو اگلے روز روزہ رکھنے سے نہ روک سکتی ، رات کو کچھ کھائے پیے بغیر ہی آپ روزہ رکھ لیتے ، حالاں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اگر چاہتے تو اللہ رب العزت سے دنیا کے تمام خزانے اور ہر قسم کی نعمتیں اور فراوانیاں مانگ سکتے تھے ، مگر آپ نے فقر و فاقہ کو عیش سامانی پر ہمیشہ ترجیح دی، میں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگتی اور خود میری اپنی یہ حالت ہوتی کہ بھوک سے برا حال ہو تا اور میں پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگتی اور حضور صلی الله علیہ وسلم سے کہنے لگتی:کاش !ہمیں صرف گزر بسر کی ہی حد تک کھانے پینے کا سامان میسر ہوتا، فراخی اور عیش کا سامان نہ سہی، کم ازکم اتنا تو ہوتا کہ اطمینان سے ہمارا گزر بسر چلتا، میری یہ بات سن کر آپ صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا:اے عائشہ ہمیں دنیا سے کیا غرض … میں ڈرتا ہوں کہ مجھے دنیا میں فراخی دے دی جائے اور آخرت کی لازوال نعمتوں میں کمی ہو جائے ۔ (اسوہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم ، از:عارف باللہ ڈاکٹر محمد عبد الحی، ص72-73)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا، قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُہُ مَرْہُونَةٌ عِنْدَ یَہُودِیٍّ، بِثَلاَثِینَ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ․ (بخاری، کتاب الجھاد، حدیث نمبر:2916)
سیدہ عائشہ  فرماتی ہیں:آپ انے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ 30/صاع جو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔
آپ صلی الله علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے یہ چند گوشے پیش کیے گئے ہیں، جن سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کن دشواریوں اور فقر و فاقہ کے عالم میں زندگی بسر کی ہے، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارے اوپر جو معاشی پریشانی آئی ہے، وہ ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کی دشواریوں کے مقابلے میں ایک فیصد بھی نہیں ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں کو پڑھنا چاہیے، ان سے ہمیں تسلی اور حوصلہ ملتا ہے، نیز ہمیں مایوسی کا بالکل بھی شکار نہیں ہونا چاہیے اور ہر حال میں ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد کو پیش نظر رکھ کر آخرت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے، ان شاء اللہ العزیز یہ چند روزہ مصیبت بھی ٹل جائے گی اور آخرت کی لازوال نعمتوں سے بھی اللہ تعالی ہمیں نوازیں گے۔