بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجودہ عالمی حالات اور غزوہٴ خندق کا پیغام

موجودہ عالمی حالات اور غزوہٴ خندق کا پیغام

مفتی تنظیم عالم قاسمی

آگے بڑھنے کا حوصلہ
ابوسفیان نے جب گہری خندق کھودی ہوئی دیکھی تو حیرت سے کہنے لگا خدا کی قسم!یہ ایک ایسی تدبیر ہے جیسی تدبیر کرنا، ابھی تک عرب نہ جانتے تھے۔ گویا اس زمانہ کے مسلمان تدبیر اور طریقِ عمل میں اتنا زیادہ آگے تھے کہ ان کے مخالفین ان کی تدبیروں کو دیکھ کر پکاراٹھتے تھے، ہم تو ابھی تک ایسی تدبیروں سے واقف نہ تھے، آگے بڑھنے کا یہی حوصلہ تھا جس نے انھیں چمکایا، بڑھایا اور وقت کا امام بنایا۔ آج سستی، غفلت اور لاپرواہی نے ہمارے حوصلوں پر ایسی دبیز چادر ڈال دی ہے کہ ہم دوسروں کے غلام ہوگئے اور ہم نے اس پر قناعت بھی کرلی۔

جنگی کاموں میں نظم وضبط
یوں تو زندگی کے ہر موڑ پر نظم وضبط کی ضرورت ہے؛ مگر جنگی کاموں میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، پلاننگ اور نظم وضبط کے بغیر نہ کام میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا نتیجہ مسرت انگیز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولین معرکہ ہی سے جنگی نظم کی تربیت دی تھی، غزوہ ٴ خندق میں کھدائی کا کام انتہائی نظم وضبط کے ساتھ کیا گیا تھا۔ پھر اس کی نگرانی کے لیے اور محاذ پر قابو رکھنے کے لیے جابجا چوکیاں قائم کی گئیں اور پہرے کی باریاں مقرر تھیں۔ اس کے علاوہ مسلم سپاہیوں کے درمیان باہمی شناخت کے لیے خفیہ کوڈ مقرر تھے۔ بنو قریظہ کی غداری کی اطلاع وفد نے عضل وقارة کہہ کر اشارہ میں دی؛ تاکہ عام مسلمان اضطراب کے شکار نہ ہوں، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسلم قائدین اور مذہبی رہ نماؤں کو دشمنوں کے بارے میں کوئی ایسی بات معلوم ہو، جس سے لوگوں کی ہمتیں پست ہوتی ہیں تو اس کا اِفشا نہیں کرنا چاہیے ، آج مسلمانوں میں نظم وضبط اور ڈسپلن کی حد درجہ کمی محسوس کی جارہی ہے، احتجاج وجلوس یا مظاہرے کا کوئی بھی طریقہ ہو، اس میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت نہیں ہوتی ہے، خدمت دین سے زیادہ اپنے ادارہ کی شناخت کرانے کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ نتیجتاً ہمارے مظاہرے اور جلوس کا کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔

اسلام میں مشورہ کی اہمیت
جب رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دشمنوں کی نقل وحرکت کا علم ہوا تو آپ صلی الله علیہ وسلمنے صحابہٴ کرام سے مشورہ کیا کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے…۔ ا س سے شورائی نظام کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کی تاکید کی تھی؛ اس لیے اس موقع پر صحابہٴ کرام رضوان الله علیہم اجمعینسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ کیا کرتے تھے۔ میدانِ جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خود فیصلہ کا بڑا قدم نہیں اٹھایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم قائدین اورذمہ دار حضرات کو اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کرنا چاہیے، اس میں اجتماعی قوت کے ساتھ اتحاد وہم آہنگی کی راہ ہم وار ہوتی ہے۔

فرقہ وارانہ باتوں سے اجتناب
حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہچوں کہ دوسروں سے دس گُنا زیادہ کام کر تے تھے اور وہ انصا رمیں شامل تھے اور نہ مہا جرین میں، ان کے متعلق انصار و مہا جرین میں ایک مسابقت کی فضا پیدا ہوگئی، انصار اور مہاجرین میں سے ہر ایک ان کو اپنے گروہ میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ اس کشمکش کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر ما یا سَلْمَانُ مِنَّا أھْلَ الْبَیْت یعنی سلمان ہما رے اہلِ بیت کی ٹو لیوں میں ہیں، گو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی کہ دورانِ جنگ اس طرح کی فرقہ وارانہ باتوں میں پڑ کر اجتماعی قوت میں توڑ پیدا نہیں کرنا چاہیے، آج مسلمان مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں، خاندانی، مسلکی، علاقائی، لسانی، ادارتی اور نہ جانے کیسی کیسی باتوں میں الجھ کر مسلمانوں نے اپنی اجتماعی قوت کھو دی ہے۔ اسلام دشمن تمام تنظیمیں اسلام کو مٹانے میں متحد ہیں؛ مگر امتِ مسلمہ میں اتحاد کا تصور بھی ناممکن معلوم ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ متفرق جماعتوں اور ٹولیوں میں وہ قوت نہیں پائی جاسکتی جو اتحاد میں ہوتی ہے۔ ہر ادارہ اور تنظیم کو دوسرے کے لیے رفیق بننا چاہیے، نہ کہ فریق، خاص طور پر موجودہ حالات میں اس کی سخت ضرورت ہے۔

اللہ پر یقین اور اعتماد
جب رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کو بنو قریظہ کی غداری کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسبنا اللہ ونعم الوکیل:اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اس جملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سبق دیا کہ تمام مصائب ومشکلات اللہ کی طرف سے آتے ہیں، لہٰذا فتح وشکست میں اللہ پر یقین واعتماد کرنا چاہیے، ایٹم بم، میزائیل، گولہ بارود اور تلوار وبندوق پر اعتماد جاہلانہ مذہب ہے، یہ ساری چیزیں اپنا اثرپہنچانے میں اللہ کی محتاج ہیں؛ مگر اللہ تعالیٰ کو کسی کی حاجت نہیں، وہ وسائل کی کمی کے باوجود بھاری جمعیت پر غالب کرسکتا ہے ، جیسا کہ جنگ بدر کی واضح مثال موجود ہے۔

جنگ کی تیاری اور اسلام
جب ابوسفیان اور دیگر قبائل میدانِ کارزار سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہم پر حملہ آور نہ ہوسکیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اقدامی جہاد درست ہے۔یعنی حالات اگر اسلام کے مخالف ہوجائیں مسلمانوں کے لیے جینا مشکل ہوجائے تو اپنی جان ومال اور دین ومذہب کے تحفظ کے لیے ضرورتاً جنگ کی ابتداکی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَأَعِدُّواْ لَھُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ﴾ ( الانفال:60)

اور ان سے مقابلہ کے لیے جس قدر بھی تم سے ہوسکے سامان مہیا رکھو، قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، جس کے ذریعہ سے تم اپنا رعب رکھتے ہو۔ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پرموجودہ عالمی حالات میں مسلمانوں کو جسمانی اور مادی دونوں اعتبار سے دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ نہ جانے کس وقت غیر مسلم مسلمانوں کی جان ومان اور عزت وآبرو پر حملہ کردیں۔

جنگ میں خواتین کا کردار
اگرچہ اطمینان قلب کے لیے تمام خواتین اور بچوں کو قلعوں میں محفوظ کردیا گیا تھا؛ تاہم وہاں رہتے ہوئے بھی خواتین نے اونچے کردار کا ثبوت دیا۔ خواتین کے ایک کیمپ کے گرد ایک یہود ی کو چکر لگاتا ہوا دیکھاگیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا (حضور صلی الله علیہ وسلم کی پھوپھی) نے لکڑی سے اسے ہلاک کردیا۔ جس کے بعد کسی دشمن نے ادھر آنے کی ہمت نہ کی، ایک خاتون رفیدہ رضی الله عنہاکچھ دوائیں اور مرہم پٹی کا سامان لے کر محاذ پر پہنچیں اور انھوں نے زخمیوں کی خدمت کی، حضرت سعد بن معاذکی والدہ نے بیٹے سے کہا:بیٹا!لپک کے جاؤ، تم نے تو دیر کردی۔ (محسنِ انسانیت صفحہ:484) غزوئہ خندق کے علاوہ جنگ اُحد اور دوسری جنگوں میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مردوں کے ساتھ بہ قدر ضرورت عورتوں کو بھی جنگی تدابیر میں حصہ لینا چاہیے اور انہیں بھی اس کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک
حالات جیسے بھی ہوں غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ اخلاق باقی رکھنا چاہیے۔ باشعور اور اہلِ فہم کے قلوب پر اس کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ غزوہٴ خندق میں حضرت علی رضی الله عنہنے جب نوفل بن عبداللہ کو قتل کیا تو مشرکین نے دس ہزار درہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے کہ اس کی لاش ہمارے حوالہ کردی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ش مفت لے جاؤ، مجھے اس مال کی ضرورت نہیں۔یقینا اس سے دشمنوں کے دلوں پر اچھا اثر پڑا ہوگا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی تھی، عین اس وقت جب کہ صحابہٴ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو مال کی سخت ضرورت ہے، دشمنوں کی ٹولیاں اسلام کی بنیاد اکھاڑ پھینکنے پر مصر ہیں؛ مگر آپ نے ان بھیانک اور پر خطرحالات میں بھی اخلاق اور احسان کا سلسلہ جا ری رکھا۔ ایک مر تبہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحا بہٴ کرام رضوان الله علیہم اجمعینکے سا تھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک یہودی کا جنازہ گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ صحابہٴ کرام رضوان الله علیہم اجمعین نے سوال کیا:یا رسول اللہ!یہ تو یہودی غیر مسلم کا جنازہ ہے، اس کے احترام کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا اِنَّ فِیْہِ لَنَفْسًا آخر وہ بھی تو انسان تھا۔ (مشکوٰة:741) یہ اور اس طرح کی سیکڑوں مثالیں ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ رواداری برقرار رکھی اور تعلقات کبھی منقطع نہیں کیے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ ہمیشہ اچھا برتاؤ رکھنا چاہیے، ممکن ہے وہ مسلمانوں کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام کے قریب ہوجائیں، شکوک وشبہات سے دل پاک ہوجائے؛ اس لیے کہ آپسی ملاقات سے بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ور ہوجاتی ہیں۔ اسلام کے پھیلنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق کا بڑا دخل ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کا برتاؤ نہ کرتے تو بیچ میں نفرت کی دیوار حائل ہوجاتی اور اسلام کی تعلیمات انھیں سمجھنے کا موقع نہ ملتا۔ دورِ حاضر کے مشہور محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدرآبادی نے خطباتِ بھاولپور صفحہ279 تا 281 میں اس موضوع پر لطیف بحث کی ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں بطورِ خاص اس کے مطالعہ اورسیرت نبوی کے اس پہلو پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

سیرتِ نبوی تمام امراض کا علاج
غزوہٴ خندق سے ملنے والے یہ چند نقوش اور پیغام ہیں، جن کی روشنی میں موجودہ عالمی حالات کے مسائل ومشکلات حل کیے جاسکتے ہیں۔ ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ حالات کا کوئی بھی رخ ہو۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل ہی تمام امراض کا علاج اور امن وسکون کا ذریعہ ہے۔ آج کے موجودہ حالات میں عالمِ اسلام جن پریشانیوں سے دور چارہے، ان سے نجات پانے کے لیے ایک ہی دروازہ ہے اور وہ ہے سیرتِ نبوی، اگر ایمان مستحکم ہوجائے اور ہم نبوتِ محمدی کے سچے غلام ہوجائیں تو کائنات کی تمام چیزیں ہماری عظمت پر سجدہ ریز ہوسکتی ہیں #
        کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
        یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں