بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ملکی صورت حال اور ہمارے کرنے کا کام

ملکی صورت حال اور ہمارے کرنے کا کام

عبید اللہ خالد

یہ دنیا الله تعالیٰ نے بنائی ہے ۔ سورج، چاند، ستارے اور زمین وآسمان اس قادر مطلق ذات نے پیدا فرمائے ہیں ، ہنگامہ شام وسحر اور موسموں کا تغیر وتبدل بھی اس پاک ذات کی قدرت سے وجود میں آتا ہے، بلکہ دنیا میں جو بھی تغیر وتبدل اور حرکت وسکون وجود پذیر ہو رہے ہیں تو وہ سب اسی خلاق عالم کے امر کن کے کرشمے ہیں او راسی کی حکمت بالغہ کے نمونے ہیں، دنیا کی چیزوں کو الله تعالیٰ نے اشرف المخلوقات انسان کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا اور انسان کو الله تعالیٰ نے اپنی عبادت وطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے، دنیا میں نہ تو انسان کا آنا اس کے اختیار میں ہے اور نہ اس کا اس کارگاہ عالم سے کوچ کرجانا اس کے اختیار میں ہے، یہاں رہنے کی مدت بھی اس کو معلوم نہیں ہے اور مصیبت وراحت کی گھڑی بھی اس کے کنٹرول میں نہیں ہے،کبھی راحت میں مصیبت وجود پذیر ہو جاتی ہے اور کبھی مصیبت کے بعد راحتیں وجود پذیر ہو جاتیں ہیں، لیکن دنیا میں آنا چوں کہ انسان کی آزمائش او رامتحان کے لیے ہے، اس لیے وہ اتنا کم زو رہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو طاقت ور اور بالاتر تصور کرنے کی بسا اوقات کوشش کرتا ہے، وہ اپنے اور اس پورے عالم کے خالق ومالک کی نافرمانی کرتا ہے، حالاں کہ وہ اپنے زوال کا خود شاہد ہے او راپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے درگور کرتا ہے، انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے الله تعالیٰ کی طرف سے مصائب وآلام کی صورت میں تنبیہات آتی ہیں۔

قرآن مجید میں الله تعالیٰ فرماتے ہیں:” تمہیں جو کچھ بھی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں (یعنی گناہوں کی وجہ) سے پہنچتی ہے اور الله تعالیٰ بہت سے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں ( اور ان پر سزا نہیں دیتے)۔“

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ان تنبیہات سے سبق حاصل کر لیتے ہیں ، اپنے اعمال وافعال کو عملاً درست کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں ، الله تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی وتلافی کرتے ہیں اور اس دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے اپنی آخرت کے لیے توشہ تیار کر لیتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا اور خصوصاً ہمارے ملک کی صورت حال مہنگائی اور بعض دیگر امور کے حوالے سے انتہائی مخدوش اور ناگفتہ بہ ہے، ظاہر ہے کہ اس کا ظاہری سبب حکم رانوں کی نااہلی اور ملک وملت کی خیر خواہی کا فُقدان ہے، لیکن اس کا حقیقی سبب ہمارے اعمال بد اور گناہ ہیں، لہٰذا ایسے مواقع پر ہمیں خود بھی الله تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہوں سے استغفار اور توبہ کا اہتمام کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی توبہ واستغفار کی طرف متوجہ کرنا چاہیے او راس کے لیے منبر ومحراب اور دیگر ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے، تاکہ اہل اسلام او راہل پاکستان اس گھمبیر صورت حال سے خیر وعافیت کے ساتھ نکل سکیں اور الله تعالیٰ کی رحمت وعافیت کے سائے میں آجائیں کہ حالات کا تغیر وتبدل اور دنیا وآخرت کے تمام امور اس پاک ذات کے قبضہٴ قدرت میں ہیں، جو قادر مطلق اور لم یزل ولا یزال ہے۔