بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ملاقات کے آداب

ملاقات کے آداب

محترم امتیاز احمد

ہر مسلمان کے لیے میل جول کے دوران ملاقات کے آداب کا احترام کرنا بے حد ضروری ہے۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ اسلام انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف کا کس قدر علم بردار ہے۔ اسلامی اصولوں کوچھوڑ کر یا تو ڑ کر ہم دوسروں کی انفرادی زندگی کو متاثر کر دیتے ہیں۔ یہ بے اصولی بعض اوقات دوسروں کو خوف میں مبتلا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اسلام کا اہم مقصد یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں امن ہو۔اسی وجہ سے الله تعالیٰ کی ہدایات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ معاشرے میں امن وامان کی فضا پیدا ہو سکے۔ سور ة النور میں ارشاد باری تعالی ہے:

( ترجمہ) اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا( دوسرے) گھروں میں نہ جاؤ، جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ یہی بات تمہارے لیے پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو، الله تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ ہاں! غیر آباد گھروں میں،جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا چیز ہو، جانے پر تمہیں کوئی گناہ نہیں۔ تم جو کچھ بھی ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو، الله تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ (آیات:29-27)

اس آیت کی رو سے ہمیں کسی بھی گھر میں بغیر اجازت داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ ہم رہائشی گھروں کو چار اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں، ہر قسم کے لیے الگ الگ ہدایت دی گئی ہے۔

پہلی قسم خود اپنے ذاتی گھروں کی ہے ،جن میں ہم اکیلے رہتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کو اس آیت کریمہ میں بیان ہی نہیں کیا گیا۔

دوسری قسم ان گھروں کی ہے جو دوسروں کی ملکیت ہیں ، ایسے گھروں میں د اخل ہونے کے لیے پہلے سلام کرنا ہو گا۔ پھر داخلے کی اجازت مانگنی چاہیے۔ ایسے گھروں میں ہم اسی وقت داخل ہوسکتے ہیں جب ہمیں اجازت ملے ،ورنہ واپس لوٹ جانا چاہیے۔

تیسری قسم ان گھروں کی ہے جو خالی پڑے ہوں یا جس وقت ہم وہاں پہنچیں تو ایسا معلوم ہو کہ اندر کوئی موجود نہیں ہے۔ ایسے گھروں میں گھسنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کو کسی دوسرے کی جائیداد میں دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چاہے وہ خالی کیوں نہ پڑی ہو، سوچیے! اسلام کتنی بلند اور عظیم تعلیمات دیتا ہے اور دوسروں کی جائیداد کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ ہاں! اگر اس غیر آباد گھر میں آپ کی کوئی چیز ہو تواس گھر میں داخل ہوا جاسکتا ہے۔

چوتھی قسم ان گھروں کی ہے جو عوام کے استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ جیسے ریلوے اسٹیشن ،اسکول، ہوٹل، ریسٹورنٹ، سرائے وغیرہ… ان تمام گھروں میں ہم بغیر اجازت داخل ہوسکتے ہیں۔ قانونی طور پر ان کا کرایہ یا ٹکٹ یا پاس وغیرہ بنوانا ضروری ہے۔ مندرجہ بالا تعلیمات میں بہت بڑی حکمت مخفی ہے اور سکون بھی۔ ترجمہ:” الله تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ہے“۔ (سورة النحل:80) پس الله تعالیٰ نے گھروں کو ہمارے لیے باعث سکون بنایا ہے۔ اس آیت کریمہ میں جس سکون کا ذکر ہے، وہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب ایک آدمی کو اس کے اپنے گھر میں مکمل آزادی اورپرائی ویسی (Privacy) یا خلوت میسر ہو۔ باہر سے کسی قسم کی دخل اندازی اس آزادی کو ملیامیٹ کرسکتی ہے۔ اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت کریں کیوں کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر ہم کسی کی اجازت کے ساتھ کسی سے ملنے جائیں تو وہ ہم سے اچھی طرح ملے گا اور ہمارا احترام کرے گا۔ وہ احترام کے علاوہ ہماری ہر ممکن مدد کرے گا۔ اس کے برعکس اگر ہم کسی کے ہاں بلااجازت یوں ہی گھس جائیں تو گویا کہ ہم نے اس پردہشت گردی کی۔ ظاہر ہے ایسے وقت ہمارا میزبان ہم سے نجات حاصل کرنا چاہے گا اور وہ ہماری کسی طرح کی مدد بھی نہیں کرے گا۔

جب ہم کسی کو سلام کرتے ہیں تو یہ اس کے اور ہمارے درمیان محبت بڑھانے والی ایک چیز ہو گی۔ سلام کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارا مخاطب ہمارے ہاتھ اور زبان کے شر سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔سلام زبانی طور پر ادب واحترام کا پروانہ ہے۔ عزت واکرام کو بڑھانے کا پیغام ہے۔ سوچیے کسی سے ملاقات اس طریقہ سے شروع کرنا کتنی بہترین بات ہے۔ اسلام اس سماجی اصلاح سے ہر طرح کی دہشت گردی اور پریشانیوں کو ختم کر دیتا ہے۔

اسلام کے یہ اصول اخلاقی بگاڑ اور انتشار کو بھی ختم کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہو جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ گھر والے کی بیوی یا بیٹی پر اس کی نظر پڑجائے اور شیطان کو اس کے ذہن میں غلط خیالات ڈالنے کا موقع مل جائے گا۔ پس اخلاقی اور معاشرتی بگاڑ سے اسی صورت میں بچا جاسکتا ہے جب واقعی الله کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

اسلام میں یہ بھی بہت اہم ہے کہ گھر والے میزبان کی خلوت (Privacy) میں مداخلت نہ ہو، مثلاً اگر ہم کسی کے گھر جائیں او رگھر والا اپنے کسی ذاتی کام میں مصروف ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ میرے اس کام کو جان سکیں، یہ اس کی ذاتی معاملات میں دخل اندازی ہو گی۔ پس اسلام نے دوسروں کے ذاتی اور خفیہ معاملات کو جاننے ے منع کیا ہے۔

ترجمہ:”دوسروں کے پوشیدہ معاملات کی چھان بین نہ کرو“۔(سورة الحجرات:12)

ہم ملاقات اور ملاقاتی کے لیے مندرجہ بالا زریں اصولوں کو اختیار کرکے بہت ساری سماجی برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ اصول صرف کاغذ او رکتابوں میں لکھنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی زبان گوہر بار سے نکلتے ہی صحابہ کرام اس کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے ایک بہترین مسلم معاشرہ بنا کر دکھایا۔

اجازت لینے کا بہترین اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام کیا جائے، پھر دروازہ کھٹکھٹایا جائے یا دروازے پر لگی ہوئی گھنٹی کا بٹن دبا دیا جائے۔ اگر اندر سے آپ کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ اپنا مکمل نام بتائیں۔ یہ نہ کہیں کہ ” میں ہوں“ کیوں کہ اس جواب سے مکمل معلومات نہیں مل پاتیں، بلکہ گھر والا گھبرا بھی سکتاہے اور اس کے ذہن میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے کہ ”میں“ سے مراد کون ہے۔

اگر سلام کرنے کے بعد اندر سے کوئی جواب نہ ملے تو دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد مزید دو مرتبہ دروازے پر دستک دیں، اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو ہمیں ہر گز اندر داخل نہ ہونا چاہیے۔اسی طرح کی اور بہت سی حالتوں سے ہم دو چار ہو سکتے ہیں جن کو ہمیں یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی گھر والا یہ درخواست کرے کہ ہم واپس چلے جائیں او رپھر کسی وقت آئیں تو ہمیں اس کی بات مان لینا چاہیے اور اس کی درخواست کو ہمیں ناپسند نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ کسی کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر جاگھسیں۔

اسلام ایک انصاف پسند او رمعقول مذہب ہے۔ یہ ملاقات کرنے والوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے۔ رسول اکرم نے فرمایا: ان لزورک علیک خقا“ یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے۔ اس لیے گھر والے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ باہر آکر گھر آنے والے کا پر جوش استقبال کرے۔ بغیر کسی ناگہانی یا اہم وجہ کے مہمان کو واپس نہ کرے۔

اسلامی تعلیم کے ماہرین نے اس موضوع پر بہت اہم ہدایات دے رکھی ہیں۔ ان میں سے چند یہاں بیان کر رہا ہوں۔

کسی کو سوتے وقت فون کرنا مناسب نہیں ہے۔ ہاں! ناگہانی ضرورت ہو تو کرسکتے ہیں۔ اسی طرح فرض عبادات کے وقت ہم کسی کو فون نہ کریں۔ اس سے اس کی آزادی متاثر ہوگی۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے ہم کسی کے گھر بلا اجازت داخل ہو جائیں۔

اگر آپ کے لیے کسی شخص کو بار بار فون کرنا ضروری ہو تو آپ اس شخص سے مناسب وقت دریافت کر لیں، تاکہ آپ اس کے نظام الاوقات کا احترام کرسکیں۔

اگر آپ کو کسی شخص سے فون پر دیر تک بات کرنی ہے تو اس شخص سے پوچھ لینا ضروری ہے کہ آیا وہ اس وقت مصروف تو نہیں ہے۔

اگر آپ کو کوئی فون کرے تو آپ اس وقت تک فون پکڑے رہیں جب تک فون کرنے والے کی بات ختم نہ ہو۔کیوں کہ فون کرنے والے کا آپ پر حق ہے۔

اگر آپ کسی کے ہاں جائیں تو دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہوں۔ درروازہ کھلتے وقت دروازے کے سامنے کھڑے رہنے کا یہ مطلب ہو گا کہ ہمارے باہر ہوتے ہوئے، ہماری نظر گھر میں گھس جائے گی، جو گھر میں جانے کے برابر ہو گا اور میزبان کی خلوت(Privacty) میں دخل ہو گا ،اسی طرح دروازے میں کسی سوراخ یا چیز میں سے گھر میں نہ جھانکیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی الله تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کسی کے یہاں جاتے تھے تو آپ اس کے دروازے کے سامنے ہر گز کھڑے نہ ہوتے، بلکہ آپ ہمیشہ دروازے کے سیدھے یا الٹے ہاتھ رکتے تھے۔ پھر سلام کرکے اجازت مانگتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

اگر کوئی حادثہ ہو جائے یا کوئی ناگہانی ضرورت ہو تو کسی کے گھر میں بلا اجازت گھسنا درست ہے ،بلکہ اس کے لیے جتنا جلد ممکن ہو اندر گھسنا چاہیے، تاکہ مصیبت زدہ لوگوں کو فوری مدد مل سکے۔

اگر آپ نے اپنے کسی آدمی کو اس غرض سے بھیجا ہے کہ وہ کسی کو لے کر آئے تو وہ شخص بغیر اجازت اندر آسکتا ہے۔ آپ کے آدمی کا اس کے ساتھ ہونا ہی اجازت کے برابر ہے۔ ( ابوداؤد)

آج کل جو تکالیف اور پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں ، وہ ان سماجی اصولوں کی خلاف ورزی سے ہوتی ہیں۔ جن اصولوں کے بارے میں خالق کائنات نے ارشاد فرمایا اور آج نہیں، بلکہ صدیوں پہلے بتایا تھا، ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ بہت سارے لوگ انتہائی تکلیف دہ اور اجیرن زندگی گزارتے ہیں ،باوجوداس کے کہ ان کے پاس جدید وسائل او رجدید سہولتیں موجود ہوتی ہیں، ایسا صرف ا س وجہ سے ہے کہ یہ لوگ الله تعالیٰ کے بتائے ہوئے قوانین سے روگردانی کر رہے ہیں۔

اسلام ان تمام سماجی اصولوں پر عمل کرنے کے لیے زور دیتا ہے، چاہے مسلمان کے گھر پر جائیں یا غیر مسلموں کے گھر پر۔ یہ اصول صرف فقیروں اور مفلسوں کے لیے نہیں ہیں۔ اسلام تویہ سکھاتا ہے کہ انتہائی مال دار اور بڑے بڑے ادارے اور دفتر چلانے والے بھی ان اصولوں کی پابندی کریں۔اسلام ہر ایک کے ساتھ برابر کا سلوک کرتا ہے۔ یہ اسلام کے حقیقی اور سچا دین ہونے کا بین ثبوت ہے۔

اب تک باہر سے آنے والے ملاقاتیوں کے آداب بیان کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے لیے بھی آنے جانے او راجازت لینے کے اصول قرآن کریم بیان کرتاہے۔

ترجمہ:” ایمان والو!تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جوتم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں ( اپنے آنے کی ) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو او رعشاء کی نماز کے بعد، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت اور) پردہ کے ہیں۔ ان وقتوں کے ماسوانہ تو تم پر کوئی گناہ ہے، نہ ان پر۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو (ہی) اور اس طرح الله تعالیٰ کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرمارہا ہے۔ الله تعالیٰ پورے علم اورکامل حکمت والا ہے۔ اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیے، الله تعالیٰ تم سے اس طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔ الله تعالیٰ بہت زیادہ علم والا اور بہت زیادہ حکمت والا ہے۔“ (سورةالنور آیت:59-58)

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو مندرجہ بالا حسن اخلاق کی تربیت دیں۔ پس جو لوگ اپنے گھروں میں ان ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے، وہ دوسروں سے ملاقات کے دوران بھی ان پر ضرور کار بند ہوں گے۔ ان اصولوں پر چل کر انسان ایک معزز اور قابل احترام شخص بن جاتا ہے۔ گھر میں بھی عزت ہوگی اور باہر بھی ہمارا احترام کیا جائے گا۔ ایسا سماج حقیقت میں امن وامان کا گہوارہ ہو گا۔ پردہ اور حیا داری کا پیکر ہو گا۔