بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاشرتی فتنوں کے خلاف جہاد

معاشرتی فتنوں کے خلاف جہاد

مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ

یہ فطری اصول ہے کہ کسی قوم کے عروج وترقی کی رفتار تو دھیمی اور سست ہوتی ہے ،مگر اس کے زوال او رگراوٹ کی رفتار بڑی تیز ہوتی ہے، کسی بلند وبالا عمارت پر چڑھنا کتنا مشکل ہے؟ لیکن اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر خود کشی کے ارادے سے ایسی عمارت کے اوپر سے چھلانگ لگا دے تو دیکھیے کتنی تیزی سے گرے گا؟ یہی مثال قوموں کی ہے، ان کا عروج اور ترقی کی بلندیوں کو چھونا بڑی جفاکشی، محنت اور بڑے حوصلے اور صبر وتحمل کو چاہتا ہے، لیکن جب کوئی قوم اخلاقی خود کش کی نیت سے اپنے اعلیٰ وارفع مقام سے نیچے کو چھلانگ لگاتی ہے تو بغیر کسی کوشش ومحنت کے، دھڑام سے نیچے آگرتی ہے۔

اگر کبھی بپھرے ہوئے سیلاب کا بند ٹوٹ جائے او راس کا رخ کسی نشیبی علاقے کی طرف مڑ جائے تو وہ پلک جھپکنے کی مہلت بھی نہیں دیتا اور بستیوں کی بستیاں بہالے جاتا ہے، اسی طرح جب کسی قوم کی اخلاقیات کا بند ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی نفسیاتی خواہشات کا طوفان دین ودانش اور شرافت اورانسانیت کی تمام قدروں کو بہا کر لے جاتا ہے، پورے معاشرہ کو تلپٹ کر دیتا ہے، ہر طرف تباہی وبربادی مچا دیتا ہے، معاشرے کا امن وسکون چھن جاتا ہے او رخود غرضی وہوس نا کی اور ظلم وستم کی کالی گٹھائیں ہر چار سو چھا جاتی ہیں اورپھر وہ معاشرہ متمدن انسانوں کے بجائے وحشی درندوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ہماری مسلم قوم صدیوں کی محنت ومجاہدہ کے بعد عروج وترقی کی بلندیوں کو پہنچی اور ایسی پہنچی کہ آسمان کی رفعتیں اس کے سامنے ہیچ رہ گئیں، انسان ہی نہیں، بلکہ ملائکہ بھی اس پر رشک کرتے تھے، اس کے نظم وضبط ، اتحاد واتفاق اور الفت و محبت پر دنیا کی قومیں عش عش کرتی تھیں، مگر کچھ عرصے سے اس پر تقلید اغیار کا جنونی دورہ پڑا ہے اور خود کشی کے ارادے سے اس نے بلندیوں سے نیچے کی طر ف چھلانگ لگانا شروع کر دی ہے، اس کی اخلاقیات کا بند ٹوٹ رہا ہے، ہمارے معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا سیلاب جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس کے انجام کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کل تک جو چیزیں ایک مسلمان کے لیے قابل شرم اور موجب ننگ وعار تھیں ، آج ان پر فخر ہو رہا ہے۔

باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے نالاں ہے، بھائی بھائی سے شاکی ہے، دوست کو دوست پر اعتماد نہیں، استاد کو شاگردوں سے شکایت ہے، مزدور کو مالک سے رنج ہے، عوام کو افسر شاہی سے گلہ ہے، راعی اور رعایا کے درمیان سر پھٹول ہے، پورا معاشرہ گویا ایسا آتش کدہ ہے جس میں بڑا چھوٹا، امیر غریب، راعی رعایا، مالک اورمزدور سب جل رہے ہیں۔ چوری، ڈکیتی، فحاشی، بدکاری، رشوت، سفارش، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، زر طلبی ایسے سینکڑوں جن سڑکوں پر عریاں ناچ رہے ہیں، معاشرتی ناسور کے تعفن سے قوم کی ناک میں دم ہے، نہ جان کی امان، نہ عزت وآبرو کی حفاظت، نہ عدل، نہ انصاف ، نہ عمل، دین تباہ، دنیا تباہ، عقلیں مسخ، شکلیں مسخ․ انا الله وانا إلیہ راجعون․

مزید افسوس یہ ہے کہ ہمارے دانش وروں کو گراوٹ کا احساس نہیں، جنہیں احساس ہے انہیں اصلاح کی فکر نہیں، جنہیں فکر ہے انہیں سلیقہ نہیں، جنہیں سلیقہ ہے انہیں قدرت نہیں، جنہیں قدرت ہے انہیں فرصت نہیں، جنہیں فرصت ہے انہیں توفیق نہیں، طوفان خطرے کے نشان سے اوپر گزر رہا ہے، مگرہر کوئی حال مست، کوئی قال مست کا مصداق ہیں، روم جل رہا ہے اور نیروبانسری بجارہا ہے، ہمارے سامنے ہمارا گھر لٹ رہا ہے، مگر ہم بڑے اطمینان سے اس کے لٹنے کا تماشا دیکھ رہے ہیں، ہم میں سے ہر شخص اس خیال میں مگن ہے کہ یہ بستی اجڑتی ہے تو اجڑے، میرا گھر محفوظ ہے، قوم ڈوبتی ہے تو ڈوبے، میں جودی پہاڑ پر کھڑا ہوں، ملک وملت کی چولیں ہلتی ہیں تو ہلیں، میرا دھندا چل رہا ہے :
        کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

میری گزارش یہ ہے کہ اے درد مند انِ قوم! اے اہل عقل ودانش! خدا کے لیے اٹھو! اور اس ڈوبتی ہوئی قوم کی ناؤ کوبچاؤ، اپنے گھر میں لگی ہوئی یہ آگ بجھاؤ، یہ قوم جنون کے دورہ میں اخلاقی خود کشی کر رہی ہے، اس کا ہاتھ پکڑو، قوم کی اخلاقیات کا بند ٹوٹ رہا ہے ، آؤ! سب مل جل کر اس کی حفاظت کرو، اس مقصد کے لیے کوئی بڑی سے بڑی قربانی دینا پڑے تو قوم کو بچانے کے لیے دے ڈالو، اس سلسلے میں ہمیں جن میدانوں میں جہاد کرنا ہے اپنی ناقص فہم کے مطابق ان کا نقشہ پیش کرتا ہوں۔

معاشی ناہم واری کے خلاف جہاد
بد قسمتی سے ہمارے یہاں یہودیوں کا سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے جس کی بنیادیں سودی بینکاری، جوا، سٹہ اور ناجائز کاروبار پر استوار ہیں۔ اس نے معاشرے میں ناہم واری کی بھیانک شکل پیدا کر دی ہے، جس سے غریب ونادار اور پساندہ طبقے میں متمول اور کھاتے پیتے لوگوں کے خلاف نفرت وبیزاری کی لہر اٹھ رہی ہے، غیظ وغضب اور حسد ورقابت کے جذبات ابھر رہے ہیں اور غریب طبقہ کے فقر وافلاس سے بیسیوں معاشرتی برائیوں کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال کی اصلاح نہ کی گئی تو ان خرابیوں میں روز افزوں اضافہ ہوتا جائے گا، بے چینی بڑھتے بڑھتے لاقانونیت میں ڈھلتی جائے گی، بالآخر خستہ حال جھونپڑیوں سے اٹھنے والے نفرت وبیزاری کے شعلے فلک بوس عمارتوں ، وسیع وعریض بنگلوں اور اونچے اونچے شیش محلوں کو جلا کر خاکستر کردیں گے۔ (خدا اس قوم کو یہ دن نہ دکھائے، آمین)

یہ معاشی ناہم واری ہمارے معاشرے میں ”ام الامراض“ کی حیثیت رکھتی ہے اور شیطانی لشکر اسی راستے سے گزر کر ہمارے معاشرے پر شب خون مار رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اسی راستہ کو بند کیا جائے اور سب سے اول اسی مرض کا علاج کیا جائے، اس کا کافی وشافی نسخہ حکیم انسانیت صلی الله علیہ وسلم پہلے سے تجویز فرما چکے ہیں، ہمیں صرف استعمال کرنے کی زحمت اٹھانا ہو گی۔

ہونا یہ چاہیے کہ محلہ محلہ اور بستی بستی میں کچھ مخلص، بے لوث اور درد مند حضرات آگے بڑھیں اور ضرورت مند لوگوں کی کفالت اور خبر گیری کی تحریک چلائیں۔ ان کے پاس اپنے اپنے محلہ اور اپنی اپنی بستی بستی کے پسماندہ افراد اور گھرانوں کی فہرستیں ہوں، محلہ کے کھاتے پیتے حضرات سے عطیات حاصل کرکے ضرورت مندوں تک پہنچائیں (اور اگر کوئی صاحب ان کے پاس عطیہ جمع کرانے میں تامل کرے تو اسے مستحقین کی نشان دہی کر دی جائے، تاکہ وہ خود ان تک پہنچا دے ) کسی خاندان کومعاشی سہارا دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہو تو اس میں اس کی مدد کی جائے، محلہ میں کوئی نوجوان بے کار ہو تو اس کے لیے روز گار مہیا کرنے میں مدد دی جائے، کسی گھر میں جوان بیٹی ماں باپ کی ناداری کی وجہ سے بیٹھی ہو تو اس کے ہاتھ پیلے کرنے کا انتظام کیا جائے، کسی کو سرچھپانے کے لیے مکان کی ضرورت ہو تو مل جل کر مکان بنوا دیا جائے، کوئی علاج سے محروم ہو تو اس کے علاج معالجہ کا بندوبست کیا جائے، کسی کے بچے تعلیم سے محروم ہوں تو ان کے لیے تعلیمی مصارف مہیا کیے جائیں۔

الفرض ملک بھر میں کوئی بستی ، محلہ اور کوئی کوچہ ایسا نہ رہے، جس میں ایک متنفس کو بھی خوراک، پوشاک، مکان، تعلیم اور علاج جیسی بنیادی ضرریات میسر نہ ہوں، ہر بستی کے لوگوں کا یہ عہد ہو کہ بھوکے رہیں گے تو اکٹھے، سیرہوں گے تو اکٹھے، مریں گے تو اکٹھے، جئیں گے تو اکٹھے۔

کھاتے پیتے متمول حضرات اس میں دل کھول کر حصہ لیں، خواہ انہیں اپنی ضروریات او رمصارف کو کم کرنا پڑے، یہ صحیح اسلامی معاشرہ کا نقش ہے، جس کا سنگ بنیاد حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں رکھا تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد تھا کہ : ” وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھرکر سوجائے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔“ اس سے غریب لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہوں گی ، ان کو معاشی میدان میں خود کفیل ہونے کا موقع بھی میسر آئے گا،امیرو غریب کے درمیان نفرت وبیزاری کی جو دیوار حائل ہے، وہ بھی ٹوٹ جائے گی، آپس میں ہم دردی وغم خواری، انس ومحبت اور عزت واحترام کے جذبات ابھریں گے اور معاشرہ ایک بہت بڑے طوفان فساد سے محفوظ ہو جائے گا۔

اس تجویز پر عمل کیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد معاشرہ میں ایسا انقلاب آجائے گا کہ کوئی شخصمشکل ہی سے زکوٰة کا مستحق رہے گا، یہ کام حکومت کو کرنا چاہیے تھا، لیکن اگر وہ اس میں کوتاہی کرتی ہے تو (جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں) مخلص مسلمانوں کو خود آگے بڑھ کر یہ کام کرنا چاہیے، ان کا مقصد نہ شہرت ونمود ہو، نہ عزت ووجاہت، نہ ووٹ اور سیاست، نہ مال وزر کی منفعت، محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور قوم کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے اپنی ساری بدنی وذہنی صلاحیتیں داؤ پر لگادیں۔

مقدمہ بازی کے خلاف جہاد
جب خواہشیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو نتیجہ لڑائی جھگڑے اور نگاہ فساد کی شکل میں نکلتا ہے اور پھر معمولی معمولی باتوں پر تھانوں اور عدالتوں کے چکر کاٹنا ہمارے معاشرے کا روز مرہ معمول بن گیا ہے، اس مقدمہ بازی سے آپس میں مستقل عداوتیں جنم لیتی ہیں، رشوت کا بازار گرم ہوتا ہے، جھوٹی شہادتوں اور غلط بیانوں کا سکہ چلتا ہے، جس سے روپیہ اور وقت بھی برباد ہوتا ہے، دین اور اخلاق بھی بگڑتا ہے اور عدل وانصاف کی قدریں پامال ہوتی ہیں، الغرض مقدمہ بازی میں نہ دین کا فائدہ ہے اور نہ دنیا کا۔ اگر بستی ، محلہ کے چند ذوفہم ،انصاف پسند اور دیانت دار حضرات مل کر فریقین کو سمجھا بجھا کر صلح صفائی کرا دیا کریں تو شاذ ونادر ہی عدالت تک جانے کی نوبت آئے گی اور مقدمہ بازی کی جس لعنت اور درد ناک عذاب میں آج ہمارا معاشرہ پس رہا ہے اس سے ہمیں نجات مل جائے گی۔

سنا ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے تھے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے مدینہ طیبہ کا قاضی (جج) مقرر کر دیا، میں ہر صبح مسجد نبوی ( علی صاحبہ صلی الله علیہ وسلم) کے دروازے پر جابیٹھتا ( اس وقت مسجد ہی مسلمانوں کا ہائی کورٹ تھی) چھ مہینے اسی حالت میں گزر گئے، اس عرصے میں کوئی دو آدمی میرے پاس ایک درہم کا مقدمہ لے کر بھی نہیں آئے۔

یہ ہے صحیح اسلامی معاشرہ کی تصویر، جس معاشرہ میں ہر انسان دوسرے کے حقوق ادا کرنے والا او رانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو، اس میں مقدمہ بازی کی نوبت کیوں آئے گی؟! اور اگر بشریت کی بنا پر دو بھائیوں کے درمیان کوئی جھگڑا یا تلخی پیدا ہوجائے تو ان کے درمیان صلح صفائی کرادینا ضروری ہے، یہ کام بھی بستی بستی اور محلے محلے ہونا چاہیے، درد مندان قوم کو اس سے ہر گز غفلت نہیں برتنی چاہیے۔