بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معاشرتی بگاڑ او راس کا حل

معاشرتی بگاڑ او راس کا حل

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․
أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․
﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْ النَّاسِِ﴾․( سورة الروم، آیت:41)صدق الله مولانا العظیم․
وقال الله سبحانہ وتعالیٰ:﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَہ، وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَہ﴾․ (سورة الزلزلة، آیت:8-7)
”وقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ”الحیاء شعبة من الإیمان․“ ( سنن ابن ماجہ، باب في الإیمان، رقم:58، ومسند الإمام احمد بن حنبل، رقم:971) أوکما قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم․ وصدق الله مولانا العظیم، وصدق رسولہ النبي الکریم․
میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! ہم علم اور آگاہی کی حد تک یہ جانتے ہیں کہ اس پوری کائنات کے اکیلے خالق الله تعالیٰ ہیں، یہ ہمارا ایمان ہے، اس پوری کائنات کو ا لله تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، اس میں الله تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے، اس میں الله تعالیٰ کا کوئی مشیر نہیں ہے۔
اس میں الله تعالیٰ کا کوئی وزیر نہیں ہے، اکیلے تنہا،الله تعالیٰ نے محض اپنے ارادے سے اس پوری کائنات کو وجود عطا فرمایا، تو سوچیے، ساری زندگی سوچتے رہیے، لیکن ہماری وہ سوچ ختم ہو جائے گی، لیکن ہم الله تعالیٰ کی قدرت او راس کی عظمت تک نہیں پہنچ سکتے، وہ بہت بڑے ہیں، سب سے بڑے ہیں، الله اکبر، الله اجل․
جیسے انہوں نے آسمان بنائے ، زمین بنائی، سورج چاند بنائے اور اسی طرح اور مخلوق بنائی، ایسے ہی الله تعالیٰ نے ایک مخلوق جو ان تمام مخلوقات سے اشرف اور معزز ہے اور وہ انسان ہے، الله نیبنایا ہے ،الله کے علاوہ کوئی اس کو پیدا کرنے والا نہیں۔ میں نے کئی دفعہ یہ بات عرض کی ہے کہ ہم دُنیا میں الله کی دی ہوئی عقل سے، عقل بھی تو الله نے دی ہے، الله کی دی ہوئی عقل سے چھوٹی چھوٹی چیزیں بناتے ہیں، اور ہم اپنی مصنوعات اوراپنی بنائی ہوئی چیزوں کے ساتھ چھوٹا سا ایک کتابچہ بھی رکھ دیتے ہیں کہ آپ اس مشین کو اس کتابچے میں درج ہدایت کے مطابق استعمال کریں گے تو آپ کو فائدہ ہو گا او راگر آپ اس کے خلاف کریں گے تو نقصان ہو گا۔
ایسے ہی الله تعالیٰ نے جب یہ ساری کائنات بنائی او رانسان کو بھی الله تعالیٰ نے حضرت آدم او رحضرت حوا کی شکل میں پیدا فرمایا اور انہیں اس دنیا میں بھیجا، تو چوں کہ آدم، اشرف المخلوقات ہیں، ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ معزز او رمکرم اور الله تعالیٰ نے کسی مخلوق میں وہ صفات اور خوبیاں پیدا نہیں فرمائیں جو اس اشرف المخلوقات انسان میں پیدا فرمائیں، بیس سال پہلے آپ نے ایک خاص موقع پر کوئی خوش بو سونگھی تھی، بیس سال بعد اگر آپ کی ناک میں وہی خوش بو آجائے تو ایک لمحے میں وہ منظر بھی سامنے آجاتا ہے، کیا یہ خوبی کسی مخلوق میں ہے؟
میں آنکھیں بند کرکے اس کرسی کے ہتھے پر ہاتھ رکھتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ یہ لکڑی ہے اور ادھر ہاتھ رکھتا ہوں تو کہتا ہوں یہ لکڑی نہیں ہے، ہر چیز میں ، ایک لمحہ نہیں لگتا، دنیا کا جدید سے جدید ترین کمپیوٹر بھی یہ خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔
اس دھوکے میں کبھی نہ آئیں کہ یہ انسان کی ایجاد ہے، یقینا انسان کی ایجاد ہے، مگر یہ انسان کس کی ایجاد ہے؟ الله کی ایجاد ہے ، اس لیے کہ انسان کو الله نے پیدا فرمایا ہے، اس میں یہ خوبیاں او رصفات الله نے پیدا فرمائی ہیں، چناں چہ یہ آدم اور آدم کی اولاد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ ،سب سے افضل، سب سے اشرف ہے، بشرطیکہ وہ ان ہدایات پرعمل کرے، اس کتاب پر عمل کرے جو خالق نے، پیدا کرنے والے نے، اس مخلوق کے استعمال کے حوالے سے دی ہے۔
یہ جو مخلوق ہے اس کے صحیح رخ پر رہنے او راس کے الله تعالیٰ کی مرضی او رمنشا کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد کے طور پر الله تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے پیغمبروں کی شکل میں بھیجے اور ساتھ ساتھ الله تعالیٰ نے کتاب بھیجی۔
ہمارے ہاں ایک فتنہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ صاحب! قرآن تو بہت آسان ہے، قرآن میں ہے کہ قرآن آسان ہے، لہٰذا اس کو سمجھنے کے لیے کسی مدد گار کی ضرورت نہیں ہے ، ہم خود درس قرآن دے سکتے ہیں ، یہ ایک فتنہ ہے ہمارے ہاں، پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر قرآن بہت آسان ہے اور اس کے لیے کسی مدد گار او رمعاون کی عالم کی ضرورت نہیں تھی، تو الله تعالیٰ نے پھر نبیوں کو کیوں بھیجا اور بات سو فیصد غلط ہے کہ کوئی بھی قرآن کی تفسیر کرسکتا ہے، جب تک وہ ان تمام علوم پر پورا عبور نہ رکھے قرآن کی تفسیر نہیں کرسکتا او راگر کرے گا تو قدم قدم پر نقصان اٹھائے گا اور نقصان پہنچائے گا۔
میں ایک ملک میں تھا، وہاں مجھے کسی نے بتایا کہ فلاں صاحب کا ایک حلقہ ہوتا ہے تفسیر کا، درس قرآن کا، ان کا تعارف بھی کرایا، میں نے پوچھا کہ وہ عالم ہیں؟ کہا کہ نہیں عالم نہیں ہیں، انجینئر ہیں ۔میں نے پوچھا کہ کسی مدرسے میں تمام علوم پڑھے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، لیکنبڑی زبردست تفسیر کرتے ہیں، خیر میں نے ان کو سمجھایا کہ کوشش کریں کہ کسی عالم دین کے درس قرآن میں شریک ہوں، الله کا کرنا یہ ہوا کہ دوسرے ، تیسرے دن ایک تقریب تھی، اس میں وہ انجینئر صاحب بھی موجو دتھے، میرے یہ دوست کہنے لگے کہ وہ انجینئر صاحب بھی موجود ہیں جن کا درس قرآن ہوتا ہے، آپ کی ملاقات کرا دیں؟ میں نے کہا کرادیں۔ ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اپنے درس کا تذکرہ کیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کہیں قرآن پڑھا ہے، تفسیر سے متعلق جو علوم ہیں؟ وہ علوم آپ نے پڑھے ہیں؟ عربی زبان ، نحو اور صرف ، معانی او ربلاغت پر آپ کو عبور ہے؟ کہنے لگے اس کی کیا ضرورت ہے ؟ قرآن تو بہت آسان ہے، مجمع بہت تھا اور یہ بات جب ہو رہی تھی تو لوگ بھی کافی متوجہ ہو گئے ، میں نے کہا کہ اچھا قرآن کریم میں ایک آیت ہے، جس میں الله فرمارہے ہیں :﴿والنجم والشجر یسجدان﴾(سورة الرحمن، آیت:6) اس کا کیا ترجمہ ہے؟ کہنے لگے کہ والنجم قسم ہے ستارے کی، والشجر اور قسم ہے درخت کی، یہ دونوں الله کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
میں نے کہا دیکھیے آپ الله کے کلام کا ترجمہ کر رہے ہیں اور الله کے کلام سے زیادہ بلیغ کوئی کلام ہو ہی نہیں سکتا او ر آپ خوش قسمتی سے انجینئر بھی ہیں، آپ مجھے بتائیے کہ ستارے اور درخت ان دونوں میں کوئی مناسبت ہے؟ ستارہ آسمان پر، درخت زمین پر، کوئی مناسبت ہے اس میں؟ کہنیلگے نہیں، میں نے کہا الله کا کلام ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس میں ایک دم سے کوئی اشکال پیدا ہو، کہنے لگے کیا مطلب ہے اس کا؟ میں نے کہا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے علوم پڑھے ہوتے اور عربیت پر آپ کو عبور ہوتا تو آپ کو یہ معلوم ہوتا، کہنے لگے آپ بتائیے!
میں نے کہا میں تو بتا دوں گا، لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ الله کے لیے، خلق خدا کو اس طرح سے، آپ درس نہ دیں، جس سے قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔
وہ پھر اصرار کرنے لگے آپ بتائیں، میں نے کہا دیکھو، بھائی! نجم کا ایک ہی معنی نہیں، عربی زبان میں بہت سارے الفاظ ایسے ہیں جن کے بے شمار معانی ہیں، جیسے أسد ہے، کتنے معانی ہیں۔
(علامہ دمیری رحمہ الله”حیوٰة الحیوان“ میں فرماتے ہیں کہ : کہ عربی زبان میں شیر کے چھ سو تیس630 نام ہیں۔ (حیوٰة الحیوان، الأسد:1/25-24)
اسی طریقے سے ”نجم ہے، اس کا ایک معنی ہے وہ پودا جو بغیر تنے کا ہو، بیل، کدو کی بیل، تربوز کی بیل، یہ سب بیلیں ہیں تو نجم کے ایک معنی بیل کے ہیں ۔ (فی التفسیر الکبیر، المسألة الثانیة: ”النجم“ ماذا؟ نقول فیہ وجھان: أحدھما: النبات الذی لا ساق لہ، والثانی: نجم السماء، والأول أظھر، لأنہ ذکرہ مع الشجر فی مقابلة الشمس والقمر، ذکر أرضین في مقابلة سماوین․(التفسیر الکبیر، سورة الرحمن، آیة:6،29/79،و تفسیر روح المعانی:27/142، وتفسیر ابن جریر:22/173،و تفسیر ابن کثیر:6/60)
الله تعالیٰ فرمار ہے ہیں، تنے دار درخت بھی او ربغیر تنے کے پودے بھی الله کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
مناسبت ہے یا نہیں؟ اور جاکے لغت میں دیکھ لو! نجم کے یہ معنی ہیں یا نہیں ہیں؟
میں عرض کر رہا ہوں کہ الله تعالیٰ نے جو کلام او رکتابیں نازل فرمائی ہیں اس کے ساتھ نبی بھیجا سمجھانے کے لیے ، احادیث الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی قرآن کریم کی سب سے عظیم الشان شرح ہے، جس سے قرآن واضح ہوتا ہے، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے قرآن کی ایک ایک آیت کو صحابہ رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کے سامنے واضح فرمایا، چناں چہ یہ آدمی جو اشرف المخلوقات ہے، جب الله تعالیٰ کے احکامات اور ا لله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو یہ اشرف ، اعظم ، اعلیٰ اور معزز ہوتا ہے، بدقسمتی سے ایک طویل دور اس خطے میں اس دنیا میں ایسا گزرا ہے جس میں اسلام سے دور کرنے اوراسلامی تہذیب اور اسلامی معاشرت کو بد نام کرنے کی کوشش کی گئی، او رجب ہم اسلامی تہذیب اور اسلامی معاشرت کہتے ہیں تو اس سے مراد ہے محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات اور آپ کی لائی ہوئی شریعت اس سے زیادہ مبارک کوئی تہذیب، کوئی معاشرہ قیامت تک آہی نہیں سکتا، لیکن باطل نے ایسی محنتیں کیں کہ اس محنت کے نتیجے میں اور گزشتہ بیس سال کہہ لیجیے ہمارے ملک میں باطل اور طاغوت نے محنت کی او رتمام ابلاغیات کو اس میں جھونک دیا، اس کے نتیجے میں کیا ہوا؟ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صحیح غلط ہو گیا اور غلط صحیح ۔ سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا ۔ اچھا برا او ربرا اچھا ،جو سچے لوگ ہیں وہ جھوٹے قرار دیے گئے او رجو جھوٹے ہیں انہیں سچا قرار دیا گیا۔ جو اچھے ہیں انہیں برا قرار دیا گیا اور جو برے ہیں انہیں اچھا قرار دیا گیا۔
ہمارے ہاں گزشتہ بیس سال میں بڑی طویل محنت ہوئی اوربہت بھرپور ہوئی ہے اور ہم سب اس سے متاثر ہیں۔
میرے دوستو! معاشرے کی جو آج حالت ہے وہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم اپنی معاشرت کے اعتبار سے کہاں جا کھڑے ہوئے ہیں، آج ہر گھر میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، بیٹے باپ سے نفرت کرتے ہیں، بھائی، بھائی سے نفرت کرتا ہے، میاں بیوی سے او ربیوی میاں سے نفرت کرتی ہے اور اولاد ماں باپ کی مطیع اور فرماں بردار نہیں، ماں باپ سے اونچی آواز میں بات کرنا، ماں باپ کو ڈانٹنا اور ڈپٹنا، ماں باپ کو بُرا بھلا کہنا …اب یہ عام بات ہے، یہ وہ معاشرت ہے۔
میرے دوستو! بے حیائی، عریانی، فحاشی… آج میں نے صبح بعض ساتھیوں سے سنا اور میں کانپ گیا کہ اب ہمارے شہر میں جو ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، اس میں ڈاکو صرف مال نہیں لوٹتے، بلکہ وہاں موجود عورتیں ہوتی ہیں ان عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر بھی کرتے ہیں، ہم اسلامی ملک میں رہتے ہیں؟ ! ہم مسلمان ہیں؟!
جنوبی افریقا ایک زمانے میں گیا تھا ، وہاں مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہاں بھی امن وامان بہت خراب ہے، جو ڈاکو آتے ہیں وہ ڈاکہ بھی ڈالتے ہیں او رگھر والوں کو قتل بھی کرتے ہیں یا کسی کو اغوا برائے تاوان کرتے ہیں تو تاوان بھی وصول کر لیتے ہیں او رجس کو اغوا کیا گیا ہے اس کو قتل بھی کرتے ہیں۔
اور اب یہاں یہ سن رہے ہیں کہ ڈکیتی بھی ہے او را س کے ساتھ ساتھ عزتوں کو لوٹنا ،شوہر کے سامنے، بھائیوں کے سامنے۔
میرے دوستو! بہت خوف ناک صورت حال ہے، ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے…؟
آج ہمارے معاشرے میں مختلف چینل رائج ہیں ،ایک زمانہ تھا جب کسی کے ہاں اس طرح کی کوئی چیز ہوتی تو تھوڑی سی شرم وحیا بھی ہوتی تھی اور ماں باپ کے سامنے اولا دنہیں بیٹھتی تھی، اولا دکے سامنے ماں باپ نہیں بیٹھتے تھے ،اٹھ جاتے تھے، بند کروا دیتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ #
ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شد
سب کے سب اب اس کان کے اندر دفن ہو گئے ہیں، اور جو حس ، حیا اور شرم تھی، وہ سب ختم ہو گئی۔
کیسے کیسے خوف ناک واقعات ہیں، جن کا آج سے پہلے ہم تصور نہیں کرسکتے تھے ،وہ آج ہمارے ملک کے اندر ہو رہے ہیں اور مجھ سے زیادہ آپ حضرات واقف ہیں کہ ہمارا معاشرہ کہاں جارہا ہے؟ ہم نے اگر اس پر کوئی لگام نہیں لگائی، ہم نے اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور وہ لگام اورکوشش کیا ہے ؟ اسلام
ابھی ہم سب نے سنا کہ کابل ایئر پورٹ پر کیا کیا تماشے ہوئے ، وہاں اعلان کر دیا گیا کہ جو امریکا، یورپ جانا چاہتا ہے وہ ایئر پورٹ آجائے، لوگ بھاگ رہے ہیں اور کیسے کیسے خوف ناک مناظر سامنے آئے ہیں کہ وہ بے حس امریکی اوریورپین جن کی نظروں میں آپ کی اور آپ جیسے لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں، سوائے کیڑے مکوڑوں کے کہ جہاز ہے، ائیرپورٹ ہے، رن وے ہے، سول ایوی ایشن ہے ، سیکورٹی پر چھ ہزار امریکی موجود ہیں، لیکن اس جہاز کے پَروں پر سے ان کو کوئی اتارنے والا نہیں، لیکن چوں کہ انسانوں کی کوئی قیمت نہیں، مر جاتے ہیں مر جائیں، وہ جہازاڑ گیا، لوگ اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں، اس کے پَروں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کئی لوگ جو اس کے ساتھ اڑ گئے فضا میں ، وہ اوپر سے نیچے گرے اورنیچے گر کر ہلاک ہو گئے او رجہاز نے جہاں پہلا پڑاؤ کیا، ایئرپورٹ پر اترا، تو جہاز کے گئیر بکس سے انسانی باقیات نکلیں، وہ کچلے گئے، یہ کہاں جارہے تھے؟
عالمی میڈیا پر یہ سوال پیدا ہوا کہ جی یہ طالبان کے خوف سے جارہے تھے، طالبان نے کہا نہیں، ہمارے خوف سے کوئی نہیں جارہا، سوال کرنے والے سے انہوں نے کہا کہ آپ اپنے ملک کے ائیر پورٹ پر پانچ جہاز امریکا کے کھڑے کرد واور اعلان کر دو کہ دلی سے، کلکتہ سے، بمبئی سے، جس کو امریکا جانا ہے پانچ جہاز کھڑے ہوئے ہیں، جو جانا چاہے، تو ہمارے ہاں تو پندرہ ہزار جمع ہوئے، آپ کے ہاں پندرہ لاکھ جمع ہو جائیں گے۔
کراچی ایئر پورٹ پر پانچ جہاز کھڑے کردیں اور اعلان کردیں کہ یہ لندن جارہے ہیں، جس کو جانا ہے بغیر ویزے کے ایئرپورٹ چلا جائے، پہنچ جائے گا، تو یہاں تو شاید تیس لاکھ سے بھی زیادہ جمع ہو جائیں، بات کو سمجھیں، ہم کہاں جارہے ہیں؟ یہ ہمارے اندر کے معاملات ہیں کہ ہم نے آئیڈیل، ہم نے نمونہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نہیں بنایا، ہم نے اس گندگی، نجس اور حرام معاشرت کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے، جواب ختم ہوچکی ہے۔ بہت شور ہے دنیا کے اندر حقوق نسواں کا، بہت شور ہے دنیا کے اندر حقوق انسانیت کا۔
میرے دوستو! حقوق نسواں سوائے اسلام کے کوئی نہیں دیتا، میں نے آپ کو سنایا تھا کہ میں ایمسٹرڈم گیا، وہاں ایک بازار سے گزر رہاتھا، ایک صاحب پیچھے سے دوڑتے ہوئے آئے او رقریب آکر سلام کیا، ہاتھ ملایا، میری وضع قطع سے وہ سمجھ گئے کہ میں پاکستانی ہوں، انہوں نے کہا آپ پاکستان سے ہیں؟ میں نے کہا جی۔ کہنے لگا پاکستان میں کہاں سے ہیں؟ میں نے کہا کراچی سے، تو بہت خوش ہوئے کہ میں بھی پاکستانی ہوں، میں بھی کراچی کا ہوں، مسلمان ہوں ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ آج رات کا کھانا میرے ہاں کھائیں، میں نے کہا بھائی میں تو آپ کو جانتا نہیں ، آپ کون ہیں؟ اور پھر یہ کہ میں تو کہیں ٹھہرا ہوا ہوں ۔میرے کھانے کا، رہائش کا انتظام ہے، میں توایسے نہیں آسکتا، پھر میرے دل میں یہ بات بھی آئی کہ یہ بیچارہ لڑکا ہے، یہ محبت میں کھانے کا کہہ رہا ہے، کہیں یہ مشکل میں نہ پڑ جائے، میرے پاس تو انتظام موجود ہے، میں نے کہا کہ اگر آپ کو ملنے کا ملاقات کا شوق ہے تو آپ شام کو فلاں جگہ آجائیں وہاں کھانے کا بھی انتظام ہے،ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جائیں، اس نے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں کھانے کا انتظام نہیں کرسکتا، میں نے کہا ہاں! میں یہ ہی سمجھ رہا ہوں تو اس نے کہا ایسا نہیں، میں شادی شدہ ہوں، میری بیوی ہے میرااپنا بڑا مکان ہے، میرے بچے ہیں، میں تو ابھی گھر پہ فون کر دوں گا کھانے کا، انتظام شروع ہو جائے گا، کوئی مسئلہ نہیں۔
اور پھر اس نے مجھے مختصر سی بات بتائی کہ میری بیوی یہاں کی مقامی ہے، نومسلمہ ہے اور میرے بچے قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں تو مجھے کچھ رغبت ہوئی کہ اس سے ملنا چاہیے، میں نے ان کو وقت دے دیا، شام کو ان کے ہاں چلا گیا ،بڑا اچھا مناسب گھر، کچھ اور دوستوں کو بھی انہوں نے بلایا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ تم نے صبح بتایا تھا کہ تمہاری بیوی یہاں کی ہے تو تم نے یہ شادی کیسے کی؟ وہ ہنسنے لگا، اس نے کہا حضرت! یہاں سب سے آسان ترین کام یہی ہے، آپ کے پاس اگر اس زمانے میں جس کی میں بات کررہا ہوں اگر چھ ، سات گلڈر، وہاں کی کرنسی گلڈر ہے، اگر چھ سات گلڈر ہوں تو آپ کی شادی ہوسکتی ہے، کسی بھی کیفے یا ریسٹورنٹ میں آپ چلے جائیں او رکوئی خالی میز کرسی دیکھ کر آپ بیٹھ جائیں، پانچ منٹ بھی نہیں گزریں گے کہ چار پانچ لڑکیاں آپ کے پاس آجائیں گی، ان میں سے جو آپ کو اچھی لگے، آپ اس کو آفر کریں کہ میرے ساتھ کافی ، چائے یا جوس پی لیں، یہ دو افراد کا پانچ چھ گلڈر سے کم میں ہوجائے گا، اورابھی آپ کی کافی،چائے یا جوس ختم نہیں ہو گا کہ آپ کی شادی کے معاملات طے ہو جائیں گے۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے؟ اس نے کہا ایسا اس لیے ہے کہ یہاں ہالینڈ، ایمسٹرڈم ، میں ہر عورت اور لڑکی یہ سمجھتی ہے کہ میر ے مغربی معاشرے میں مجھے تحفظ نہیں ہے۔
میرے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، میری بے عزتی کی جارہی ہے، آج ایک لڑکا مجھے پکڑ کر لے جاتا ہے، دو تین دن تک میرے ساتھ کھیلتا ہے اوراس کے بعد وہ ٹشو پیپر کی طرح مجھے پھینک دیتا ہے۔ پھر کسی دوسری لڑکی کے ساتھ، پھر کسی تیسری کے ساتھ، لڑکی کی بھی زندگی یونہی گزر رہی ہے، لڑکے کی بھی زندگی یونہی گزر رہی ہے، یہاں کی عورتوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر ہماری کسی مسلمان سے اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان سے شادی ہو جائے تو وہ ہمیں پورا تحفظ دے گا، وہ ہمیں اپنے گھر کی ملکہ بنائے گا اور ہم بالکل محفوظباعزت زندگی گزاریں گی، چناں چہ وہ ڈھونڈتی پھرتی ہیں کہ کوئی پاکستانی لڑکا مل جائے اور اس سے ہماری شادی ہو جائے ۔ چناں چہ کہتا ہے کہ میر ی بھی اس طرح شادی ہوئی اور الحمدلله میں نے اس سے صرف ایک شرط رکھی کہ اگر تم اسلام قبول کرلو گی تو میں شادی کرلوں گا، اس نے کہا میں تیار ہوں ، اس نے اسلام قبول کر لیا اور پھر میں نے اس کے لیے انتظام کیا کہ اسلام کی بنیادی چیزیں سیکھیں، قرآن کریم اس نے ناظرہ پڑھا او ر پھر خود اپنی محنت سے قرآن حفظ کر لیا اور اب میرے پانچ بچے ہیں اسی عورت سے، جس میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،ایک بڑا بیٹا حافظ قرآن بن چکا ہے اور دو بیٹے حفظ کے مختلف مراحل میں ہیں۔
کہنے لگا الحمد الله بیوی بھی خوش ہے او رمیں بھی اور پورے یورپ اور امریکا کا اس سے زیادہ بدترین حال ہے، حالاں کہ حقوق نسواں کے نعرے وہ لگاتے ہیں، حقوق نسواں کا نعرہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، اسلام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کو جومقام دیا ہے کوئی دے سکتا ہے؟ حضرت فاطمة الزہراء رضی الله عنہا کو جو مقام دیا ہے کوئی دے سکتا ہے؟ ازواج مطہرات ، بنات مطہرات کو جو مقام اور تمام عورتوں کو جو مقام اسلام دیتا ہے؟ وہ کوئی مذہب دے سکتا ہے؟
آج ہم دھوکے میں ہیں، آج ہماری بچیاں ہمارے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں، ہم مجبور ہیں، ہم نے اپنے آپ کو مجبور بنا لیا ہے۔
میرے دوستو! یہ حجاب اور یہ پردہ ،یہ تو تحفظ ہے، یہ اگر نہ ہو تو اس کا مطلب کیا ہے؟ ہمارے بزرگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بازار سے جب سودا لاؤ، سبزی، پھل وغیرہ تو وہ بھی چھپا کر لاؤ ،راستے میں کتنے لوگ ہیں، اگر آپ دکھاتے ہوئے لائیں گے، سب کی اچھی نظریں نہیں ہوتیں، کسی کی اچھی نظر، کسی کی بری نظر تو آپ کے اس سودے پر بھی جو بری نظریں پڑیں گی، اس سے وہ سودا تباہ ہو جائے گا۔
آپ مجھے بتائے کہ میری بیٹی ، آپ کی بیٹی، ہم سب کی بیٹیاں جب بے پردہ ہو کر باہر نکلیں گی تو کیا ان کو دیکھنے والے سب اچھی نظروں والے ہیں؟ آپ مجھے بتائیں؟ اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟ اس کا نقصان کیا ہوگا؟ اس سے تباہی کیسے آئے گی؟ چناں چہ آج ہم سب پریشان ہیں، بچیوں کے حوالے سے پریشان ہیں، بچوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔
ہر آدمی آکے یہ کہتا ہے کہ جی وہ بات نہیں مانتے، وہ مطیع وفرماں بردار نہیں، تو بھائی مطیع وفرماں بردار کیسے ہوں گے؟ ہم نے کوئی کام ہی نہیں کیا، ہم اگر ان کی تربیت اسلام کے مطابق کرتے، ہم اگر گھر کا ماحول صحیح رکھتے، آج گھروں میں قرآن پڑھنے کا رواج نہیں، نماز پڑھنے کا رواج نہیں ہے، بیوی نے کب نماز پڑھی تھی ہمیں پتہ ہی نہیں، بچیوں نے کب نماز پڑھی تھی ہمیں پتہ ہی نہیں، ہمارے گھر میں شیطان ناچ رہے ہیں اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں کہ میرے گھر میں اتنے انچ والا ٹی وی ہے او راب تو ٹی وی بہت پرانی چیز ہو گئی ، اب تو ہر ایک کے ہاتھ میں، دن ہو، رات ہو، بچے ہیں، بچیاں ہیں، بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے بیٹے کو ،بیٹی کو فلاں قسم کا موبائل لے کر دیا ہے۔
میرے دوستو! ہم نے موبائل نہیں دیا، ہم نے اپنی بیٹی کو، بیٹے کو ذبح کر دیا، کیا آپ24 گھنٹے اس کی نگرانی کرسکتے ہیں؟ نہیں کرسکتے۔ اس کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص تباہی کاشکار ہے۔
میرے دوستو! ہمیں توبہ کرنی چاہیے، ہمیں استغفار کرنا چاہیے، محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شریعت اور آپ کے لائے ہوئے دین سے بہتر قیامت تک کوئی شریعت اور دین آہی نہیں سکتا ،اسی میں ہم سب کا تحفظ ہے ، اسی میں ہم سب کی عزت ہے، اسی میں ہم سب کے لیے باہمی محبتیں ہیں، ورنہ جو تباہی ہمارے ہاں آچکی ہے وہ بڑھے گی، اگر ہم نے روک نہیں لگائی او راگر ہم نے اس کی فکر نہیں کی، اس کے لیے آپ کو کردار ادا کرنا پڑے گا، اس میں یقینا بہت سے امور ایسے ہیں جو حکومتوں سے اور اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔
لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے :” الا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ“․( الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الأحکام، باب قول الله تعالیٰ: وأطیعواالله، رقم:7138، والجامع الصحیح لمسلم، کتاب الإمارة، باب فضیلة الأمیر العادل، رقم:4724، وسنن أبی داود، کتاب الخراج، باب مایلزم الإمام من حق الرعیة، رقم الحدیث:2930، وسنن الترمذي، کتاب الجہاد، رقم:1705)
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے او راس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں، یعنی باپ سے اس کی اولاد کے بارے میں، شوہر سے اس کی بیوی کے بارے میں، اوپر والے سے نیچے والے کے بارے میں سوال کیا جائے گا، پوچھا جائے گا، جہاں تک آپ کا کردار ہے، وہ آپ کو ادا کرنا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾․