بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مظلومین ِ غزہ اور ہماری ذمہ داریاں

مظلومین ِ غزہ اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف الله رحمانی

 

بیت المقدس وہ مقدس مقام ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اوریہودیوں کے لیے یکساں طور پر متبرک ہے، یہیں سے معراج کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو عالم بالا کا سفر کرایا گیا، پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم نے نبوت کے بعد سولہ ماہ سے زیادہ عرصہ تک اسی طرف رخ کرکے نماز ادا فرمائی، اس لیے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت الله شریف کی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے بیت المقدس کی بھی تعمیر فرمائی تھی، حضرت صالح علیہ السلام،حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام،حضرت موسی علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت مسیح علیہ السلام اور کتنے ہی انبیائے کرام علیہم السلام کی حیات طیبہ اس مبارک مقام سے متعلق رہی ہے۔ شہربیت المقدس کے قرب وجوار میں بھی مختلف علاقے ہیں، جو مختلف پیغمبروں سے منسوب ہیں، اسی لیے اسلام کی نگاہ میں اس شہر اور اس مسجد کی خاص اہمیت ہے۔

ایک صحابی نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بیت المقدس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: یہ حشر ونشر کی سر زمین ہے، یہاں آؤ اور نماز ادا کرو کہ اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نماز ادا کرنے کے برابر ہے۔ ان صحابی نے استفسار کیا: اگر میرے اندر وہاں تک جانے کی استطاعت نہ ہو؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کم سے کم تیل کا ہدیہ ہی بھیج دو، جو وہاں چراغ میں کام آئے۔ (ابن ماجہ) حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو الله تعالی سے دعا فرمائی، اس میں ایک دعا ایسی حکومت کی تھی جو آپ کے بعد کسی کو میسر نہ آئے اور اس میں ایک دعا یہ بھی تھی کہ جو اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے، تو اس کے گناہ اس طرح معاف ہوجائیں کہ گویا وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تین دعاؤں میں سے دو تو قبول ہوہی گئیں اور مجھے امید ہے کہ یہ تیسری دعا جو مغفرت سے متعلق تھی، وہ بھی قبول ہو گئی ہوگی۔ (ابن ماجہ)

اور یہ روایت تو حدیث کی متعدد کتابوں میں وارد ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خاص طور پر تین ہی مسجدوں کے لیے سفر کرنا درست ہے، مسجد حرام، مسجد نبوی او رمسجد اقصی ۔( ابن ماجہ) اس لیے مسلمانوں کو اس مقدس او رمتبرک مقام سے ہمیشہ قلبی اور جذباتی تعلق رہا ہے۔

اسلام سے پہلے یہ شہر با ربار تخت وتاراج کیا جاتا رہا۔ خاص کر چھٹی صدی قبل مسیح بابل کے حکم راں بخت نصر نے اس شہر او راس کے مقدس مقامات کی جس طرح اینٹ سے اینٹ بجائی او رایک لاکھ یہودیوں کو قید کرکے بابل لے گیا، وہ تاریخ کے اہم واقعات میں سے ایک ہے۔ یہودی جو اپنے آپ کو اس شہر کا اصل وارث سمجھتے ہیں، صرف تہتر سال ہی اس شہر پر برسر اقتدار رہے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ کے عہد میں 636 ھ میں بیت المقدس کا علاقہ حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی الله عنہ نے فتح کیا۔ مسلمان چاہتے تھے کہ شہر میں خوں ریزی نہ ہو اور صلح کی صورت نکل آئے، عیسائیوں نے یہ شرط لگائی کہ خلیفة المسلمین خود آکر دستاویز پرد ستخط کریں، حضرت عمر رضی الله عنہ نے اسے قبول فرما لیا اور مدینہ میں حضرت علی رضی الله عنہ کو اپنا قائم مقام بنا کر رجب 16ھ میں بیت المقدس تشریف لائے، بیت المقدس سے پہلے ہی ”جابیہ “نامی مقام پر اسلامی لشکر نے حضرت عمر رضی الله عنہ کا استقبال کیا، وہیں عیسائی راہ نما بھی آگئے اورمعاہدہٴ صلح کی تحریر عمل میں آئی۔ اس معاہدہ کے تحت عیسائی باشندوں کی جان ومال، مذہبی مقامات،حضرت مسیح کی مورتیوں وغیرہ کی حفاظت کی ضمانت دی گئی، بلکہ عیسائی یہودیوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے تھے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے ان کی اس خواہش کو بھی قبول فرمایا اور یہودیوں کی الگ آبادی بنائی گئی۔

اس کے بعد سے یہاں برابر مسلمان حکم راں رہے، یہاں تک کہ گیارہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں شروع ہوئیں اور شعبان492ھ کو عیسائی دوبارہ فاتحانہ بیت المقدس میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہرمیں ایسا قتل عام مچایا کہ بچے، بوڑھے،جوان اور مرد وعورت کو بلا امتیاز تہہ تیغ کیا گیا۔ شہر میں لاشوں کے انبار الگ گئے، خود مغربی مؤرخین نے اس خوں آشامی کا اعتراف کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف ایک دن میں شہر اور اس کے مضافات میں ستر ہزار افراد شہید کیے گئے۔ یہ سفاکانہ رویہ ٹھیک اس کے برعکس تھا، جو حضرت عمر رضی الله عنہ اور مسلمان فاتحین نے عیسائیوں کے ساتھ روار کھا تھا۔

سقوط بیت المقدس کے اس موقعہ نے پورے عالم اسلام کو بے چین اور بے سکون کرکے رکھ دیا، یہاں تک کہ 1169ء میں سلطان نور الدین زنگی جیسے خدا ترس بادشاہ کے ایک کمانڈر مجاہد اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی مصر کے تخت اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے اور شام کے علاقے فتح کرتے ہوئے 1187ء میں بیت المقدس کو فتح کیا، صلاح الدین ایوبی نے احسان فراموش عیسائیوں کے ساتھ ایسی رحم دلی کا سلوک کیا کہ تاریخ میں اس کی مثال کم ملے گی۔

چناں چہ خود عیسائی دنیا ( جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا تھی) پر اس کا گہرا اثر پڑا، آخراکیانوے (91) سال کے بعد قبة الصخرہ پر لگائی گئی سنہری صلیب اتاری گئی اور اس کی جگہ ہلال نصب کیا گیا،جب ہی سے ہلال، مسلم ملکوں کا شعار سمجھاجانے لگا۔ یہ اکیانوے سال مسلمانوں کے لیے ایسا تکلیف دہ اور غم انگیز عرصہ تھا کہ پورے عالم اسلام کی آنکھیں بے سکون اور دل بے قرار تھے۔

خلافت عثمانیہ (ترکی)کے دور میں ہی یہودیوں نے سازشیں بننی شروع کر دی تھیں، لیکن خلیفہ نے کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں دی، بالآخر مغربی سازشوں سے خلافت عثمانیہ کا سقوط ہوا اور 1948ء میں عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گھونپ دیا گیا، یہ زخم بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 1967ء میں مسلمانوں کا قبلہ اول ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ میرے خیال میں پہلی صلیبی جنگ کی شکست اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مسلمانوں کے لیے یہ سب سے بڑا حادثہ اور سب سے اندوہ ناک سانحہ تھا کہ اگر اس واقعہ پر آسمان خون کے آنسو بہاتا اور زمین کا سینہ شق ہو جاتا تو بھی باعث تعجب نہ تھا ، لیکن آہ! ہم مسلمانوں کی بے حسی اور بے شعوری کہ ہماری نسلوں نے تو اس واقعہ کو بھی اپنے صفحہ ٴ دل سے مٹا دیا ہے او رمسلمان حکومتوں، بالخصوص عرب حکم رانوں نے اس مقدس امانت کو سونے کے طشت میں سجا کر صہیونیوں کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر مسلمان عوام کی دینی حمیت آڑے نہ آتی اور حماس کے مجاہدین نہ اٹھ کھڑے ہوتے تو شاید فلسطین صفحہٴ ہستی سے مٹ چکا ہوتا۔

اگر مسلمان اپنی صفوں میں وحدت کا ثبوت دیتے اور عالم اسلام ٹکڑیوں میں بٹ نہ گیا ہوتا ، قومی تعصب اور علاقائیت کے غیر اسلامی نعروں نے عرب دنیا کو چھوٹی چھوٹی مملکتوں کی صورت میں بانٹ نہ دیا ہوتا توآج مسلمان اس رسوا کن صورت حال سے دو چار نہ ہوتے، بلکہ وہی اس سر زمین کی قسمت کے مالک ہوتے، انسان کی طلب اور اس کی تڑپ کے اعتبار سے نصرت الہٰی متوجہ ہوتی ہے،جب انسان کا دل سچی طلب سے خالی ہو اور خدا کے بجائے ظاہری وفانی سہاروں پر انسان نے انحصار کر رکھا ہو، تو ان کے ساتھ کیوں کر خدا کی مدد ہوسکتی ہے؟ پہلے تو عرب ممالک پر قومیت کا ایسا نشہ مسلط ہوا کہ عرب زعماء الله کے نام کے بجائے عرب قومیت کے نام سے اپنے خطبے کا آغاز کرتے تھے اور مذہب کے بجائے خالص قومی مسئلہ کی حیثیت سے اس مسئلہ کو پیش کرتے تھے او راب معاشی ترقی کے بت نے ان کو اپنا اسیر بنا لیا ہے اور وہ مذہبی غیرت پر معاشی مفادات اور سیاسی فوائد کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس وقت غزہ کے نہتے او رمحصور لوگوں پر ظلم کے جو پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں، وہ درندوں کو بھی شرمندہ کرنے والا ہے، اگرچہ اس میں معصوم بچوں، عورتوں او ربہت سے نہتے لوگوں کی جانیں جارہی ہیں اور اسلام دشمن طاقتیں شادیانے بجارہی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ فلسطین کے مظلوموں کی فتح ہے۔ اس جنگ نے اسرائیل کی درنگی اور لاقانونیت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اس جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے، کسی کو باندھ کر اس کو ظلم کا نشانہ بنانا بہادری نہیں، بزدلی ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں فلسطینی مسلمانوں کے اندر جو جذبہٴ قربانی پیدا ہوا ہے او رجس شوق کے ساتھ مسکراہتے ہوئے وہ جام ِ شہادت نوش کر رہے ہیں، وہ عہد ِ صحابہ کی یاد تازہ کر رہا ہے اور یہ فلسطینیوں کی اخلاقی فتح ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں پر استطاعت کے مطابق ان مظلوم بھائیوں کی مدد کرنا واجب ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جو مسلمان اپنے ان مظلوم او رنہتے بھائیوں کی اخلاقی مدد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں کرسکتے، انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک اصول بیان فرما دیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی برائی کو دیکھے تو اول اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس پر قادر نہ ہو تو زبان سے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے روکے، یعنی دل سے برا سمجھے اور دل میں یہ ارادہ رکھے کہ الله تعالیٰ جب بھی قدرت دیں گے، وہ اسے روکنے کی کوشش کرے گا۔ (ابوداؤد شریف) ظلم وجور سے بڑھ کر کوئی برائی نہیں، یہ تو دنیا میں شرک سے بھی بڑھ کر ہے، کیوں کہ دنیوی احکام کی حد تک شرک کوگوارا کیا جاسکتا ہے، لیکن ظلم ایسی برائی ہے کہ وہ کسی طور پر قابل قبول نہیں، کفر ایسا جرم نہیں کہ جو شخص پہلے سے اس عقیدہ پر ہو، اسے قتل کرنا جائز ہو، لیکن اگر کوئی شخص کسی کا مال لے لے، کسی کی عزت وآبرو پر حملہ آور ہو یا کسی کو قتل کردے تو وہ ضرور لائق سزا ہے۔ پس ظلم سب سے بڑی برائی ہے اور اپنی طاقت وصلاحیت بھر اس کی مخالفت واجب ہے!

مخالفت او رناراضی کے اظہار کا ایک طریقہ ترک تعلق بھی ہے اور ظالموں کے ساتھ ترک تعلق کی تعلیم خود قرآن مجید نے دی ہے، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں او رتم میں سے جو ان کو دوست رکھے گا، وہ ان ہی میں سے ہو گا، بے شک الله ظلم شعار لوگوں کوہدایت نہیں دیتے ۔(المائدة:51)

اس آیت میں ایک جامع لفظ ”دوست نہ بنانے“ کا استعما ل کیا گیا ہے، یہ ایک معنی خیز تعبیر ہے،جس میں قلب ونگاہ کی محبت، فکر ونظر کا تاثر ، سماجی زندگی کی مماثلث او رمالی معاملات وتعلقات سب شامل ہیں، یہ کوئی شدت پر مبنی حکم نہیں ہے، بلکہ ظلم کے خلاف ناراضگی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، اس آیت کے اخیر میں ظالموں کا تذکرہ کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ جو یہود ونصاری یا کوئی اور غیر مسلم ظلم وجورپر کمر بستہ ہوں، مسلمانوں کے لیے اپنی طاقت وقدرت کے مطابق ان سے بے تعلق برتنا واجب ہے، الله تعالیٰ نے ایک اور موقع پر اس حکم کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے : بے شک الله تم لوگوں کو ان لوگوں سے تعلق رکھنے سے منع کرتے ہیں،جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی، تم کو تمہارے گھروں سے نکالا او رتمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے تعلق رکھیں، وہ بھی ظالم ہیں۔ (المتحنة:9)

گھروں سے نکالنا ، محض دین کی بنا پر آمادہٴ قتل وقتال ہونا اور جو لوگ مسلمانوں کے شہروں اور آبادیوں کو ویران کرنے پر تلے ہوے ہوں، ان کو مدد پہنچانا، یہ وہ اوصاف ہیں جن کے حامل بدطینت یہودیوں سے بے تعلقی برتنے کا حکم دیا گیا ہے، غور کیجیے کہ کیا آج اسرائیل سے بڑھ کر کوئی اس کا مصداق ہے؟ جو آئے دن بے قصور فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتا ہے اور جس نے لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے مادر وطن میں رہنے کے حق سے بھی محروم کر دیا ہے۔ جو غیر مسلم انصاف کی روش پر قائم ہوں، وہ ہمارے انسانی بھائی ہیں اور ہمارے برادرانہ سلوک اور حسن اخلاق کے مستحق ہیں، ان کے ساتھ زیادتی کسی طور پر جائز نہیں ہے، بے تعلقی کا حکم ان لوگوں سے ہے،جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جارحانہ اور نامنصفانہ روش اختیار کر رکھی ہو، اسرائیل کے اس ظلم کا نشانہ صرف فلسطینی نہیں ہیں، بلکہ ان کا اصل نشانہ اسلام ہے، قرآن نے یہود ونصاری کی نفسیات او ران کی اندرونی جذبات کی خوب تر جمانی کی ہے اور یہ بات جس قدر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عہد میں مبنی برواقعہ تھی، اسی قدر آج بھی ہے کہ : یہود ونصاری آپ سے اس وقت تک راضی ہو ہی نہیں سکتے،جب تک آپ ان کے دین کے پیرو نہ ہو جائیں، آپ کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہ ہے جو الله کی ہے، اگر آپ علم حاصل ہونے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگیں تو آپ کے لیے الله کے مقابلہ کوئی حامی ومدد گار نہ ہو گا۔ (البقرة:120)

قرآن نے اس میں یہودو نصاری کے اندرونی جذبات کو کھول کر رکھ دیا ہے اور خلافت عثمانیہ کے سقوط سے اب تک عالم اسلام میں جو جنگیں ہوئی ہیں وہ سب اس کے واضح شواہد ہیں، اس لیے جب تک مسلمان اپنے مذہبی تشخصات او راپنے ثقافتی امتیازات کو خیر باد نہ کہہ دیں اور پوری طرح مغربی فکر او رمغربی ثقافت کے سامنے جبین تسلیم خم نہ کر دیں، ان کی تشفی نہیں ہوسکتی او ران شا الله مسلمان کبھی اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے، اس لیے کہ وہ دین کے لیے سب کچھ کھونے کو ” پانا“ اور الله کی راہ میں رگ ِ گلوکٹانے کو ”جینا“ تصور کرتے ہیں اور یہ ان کے ایمان وعقیدہ کا حصہ ہے!

اس پس منظر میں ہم مسلمانان ِ ہند قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اور انہیں حقیقی صورت ِ حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں، منصف مزاج ہندوؤں کو ساتھ لے کر حکومت ہند سے خواہش کریں کہ وہ اپنی ناوابستہ پالیسی پر قائم رہے اور اسرائیل کی حمایت سے باز رہے، وہ ظالم اور مظلوم کو ایک پلڑے میں نہ رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اسرائیلی کمپنیوں کی تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ کریں کہ یہ بھی منکر پر ناراضگی کے اظہار اور ظالم سے بے تعلقی برتنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے اور شرعاً بہ حیثیت مسلمان ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اس سلسلہ میں جو طریقہ اختیار کرنا ہمارے لیے ممکن ہو، ہم اس سے دریغ نہ کریں، یہ انسانی فریضہ ہے، یہ شرعی ذمہ داری ہے اور حمیت ایمانی اور غیرت اسلامی للکار کر ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم اس کے لیے بھی تیار نہیں ہیں؟