بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مزاح اور خوش طبعی اسلام کی نظر میں

مزاح اور خوش طبعی اسلام کی نظر میں

ابوعفیرہ خان

اسلام ایک کامل ومکمل دین ہے۔ جو دنیائے انسانیت کے لیے خالق کائنات کاایک حسین تحفہ اور بے مثال نذرانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس اس کے احکام و قوانین وضع فرمائے ہیں اور یہ احکام و قوانین عین انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور موافق ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ خالق انسانیت ہے، اسی نے انسانی فطرت اور مزاج تخلیق فرمایا ہے، لہٰذا اس سے زیادہ انسان کا مزاج شناس اور فطرت شناس اور کون ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلامی احکام اور قوانین میں جو انسانی مزاج اور فطرت کی رعایت نظر آتی ہے، بلاشک و شبہ اس کی نظیر اور مثال دنیائے انسانیت کے کسی قانون اور دستور میں دست یاب نہیں، یہی وجہ ہے کہ خود ساختہ انسانی قوانین کا ردوبدل اور ترمیم و تنسیخ کے بھینٹ چڑھنا ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ بنا ہوا ہے، مگر قوانین اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، بلکہ وہ ہر ملک کے باسی اور ہر صدی کے پیدائشی انسان کے مزاج اور فطرت کے موافق و مطابق ہیں۔

فطرت سلیمہ نے کسی قانونِ شرعی میں ردوبدل کا نہ کبھی مطالبہ کیا ہے اور نہ کرے گی (انشاء اللہ) ہاں فطرتِ خبیثہ رذیلہ اس کا مطالبہ کرتی رہتی ہے، مگر اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کسی حکم شرعی میں کوئی نقص یا خامی ہے بلکہ اس کی وجہ خود مطالبہ کرنے والی فطرت کا نقص اور کجی ہے۔ الغرض اسلام نے وضع قانون میں انسانی مزاج اور فطرت کی بدرجہء اتم رعایت برتی ہے۔ خوشی ہو یا غمی، صحت ہو یا مرض، بچپن ہو یا جوانی یا بڑھاپا۔ شریعت نے ہرحال، ہر آن اور ہر مرحلہ پر انسانی مزاج کے موافق احکام وقوانین مقرر کیے ہیں۔

مزاح اور خوش طبعی
مزاح اور خوش طبعی یا مذاق اور دل لگی ایک ایسی پُرکیف اور سرور آگیں کیفیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تقریباً ہر انسان میں ودیعت فرمائی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مادہ کسی میں کم تو کسی میں کوٹ کوٹ کر رکھا ہے۔ سرور انبساط کے موقع پر انسان سے بکثرت اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم نعمت ِ خداوندی ہے۔ جو دلوں کی پژمردگی کو دور کرکے ان کو سرور وانبساط کی کیفیت سے ہم کنار کرتا ہے۔ عقل وفہم کے تکان وتھکاوٹ کو زائل کرکے نشاط اور چستی سے معمور کرتا ہے۔ جسمانی اضمحلال کو ختم کرکے فرحت وراحت سے آشنا کرتا ہے۔ روحانی تکدر اورآلودگی کو مٹاکر آسودگی کی نعمت سے روشناس کراتا ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ غم زدہ اور مصیبت کے مارے انسان کے سرسے غم واندوہ کے بادلوں کو ہٹانے اور چھٹانے کے لیے اسی نعمت سے کام لیاجاتا ہے۔الغرض مزاح اور دل لگی انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے، جو خود خالق ومالک نے اس میں ودیعت فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فردِ بشر میں یہ مادہ معتد بہ مقدار میں پایاجاتا ہے، جو شخص اس عطائے الٰہی کو منجمد نہیں رہنے دیتا، اس کو بروئے کار لاتا ہے، وہ صحیح معنی میں فوائدِ کثیرہ اور منافعِ عظیمہ حاصل کرتا ہے، چناں چہ تجربہ شاہد ہے کہ جو شخص اس ودیعت الٰہی سے استفادہ نہیں کرتا، بلکہ بہ تکلف اس کو دباتا ہے۔اس کے لیے افادہ اور استفادہ امرمحال بن جاتے ہیں، وہ چاہے کثیر و عظیم علوم کا امین ہو اور دیگر بہت سے خواص کا حامل ہو، مگر اس کے ان خواص سے اہل عالم کما حقہ استفادہ نہیں کرپاتے، اس کے برخلاف جو انسان اس نعمت خداوندی کو بروئے کارلاتا ہے۔ اسے منجمد نہیں رہنے دیتا، اہل دنیا سے تواضع، منکسر المزاجی سے پیش آتا ہے، لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں، نتیجتاً اس کی صلاحیتوں اور استعداد کو جلاء ملتی جاتی ہے اوراس کی قابلیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔

مزاح کا شرعی حکم
ہماری شریعت تمام امور میں اعتدال پسند واقع ہوئی ہے، لہٰذا مزاح اور خوش طبعی میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھا ہے۔ چناں چہ موقع اورمحل کی مناسبت سے کبھی مزاح مباح ،بلکہ مستحب ہے۔ تواس کی کثرت اور اس پر مداومت مذموم قرار دی گئی ہے۔

”مارأیت احداً اکثر مزاحاً من رسول الله صلی الله علیہ وسلم“․(مظاھر حق:5/485)
ترجمہ:” میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ کثیر المزاح کسی کو نہیں پایا“۔

پھر مزاح میں یہ امر بھی ملحوظ رہنا ضروری ہے کہ اس سے کسی کو ایذا نہ پہنچے۔ کسی کی دل شکنی نہ ہو، کیوں کہ مزاح کہتے ہی ہیں ایسی دل لگی کو جس میں ایذا رسانی اور دل شکنی نہ ہو:

”ثم المزاح انبساط مع الغیر من غیر ایذاءٍ فان بلغ الایذاء یکون سخریة“․ (مرقاة:8/617)
ترجمہ:”پھر مزاح کسی کے ساتھ بغیر ایذا پہنچائے دل لگی کرنا ہے، اگر یہ ایذا کی حد کو پہنچ جائے تو وہ سخریہ اور ٹھٹھا ہے“۔ اور سخریہ اور ٹھٹھا منہی عنہ ہے، چناں چہ ارشاد باری ہے:”اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے( لہٰذا اس چیز کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے)“۔(الحجرات)

پھر مزاح کا مبنی برصدق و حق ہونا بھی ضروری ہے۔چناں چہ حدیث میں ہے:”صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیایا رسول اللہ! آپ بھی ہمارے ساتھ دل لگی فرماتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” میں صرف حق بات کہتا ہوں“۔

یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ مزاحی واقعات نقل کیے جاتے ہیں، تاکہ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاح کا سنت طریقہ معلوم ہوجائے اور متبعین سنت کے لیے یہ فطری جذبہ بھی دیگر متعدد فطری جذبات کی طرح عبادت بن جائے۔

”حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا تو سائل نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچے کا کیاکروں گا؟ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اونٹنی اونٹ کے علاوہ بھی کسی کو جنتی ہے؟“(مشکوٰة،ص:416)

ملاحظہ فرمائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سائل سے مزاح بھی فرمایا اور اس میں حق اور سچائی کی رعایت بھی فرمائی، سواری طلب کرنے پر آپ نے جب اونٹنی کا بچہ مرحمت فرمانے کا وعدہ فرمایاتو سائل کو تعجب ہوا کہ مجھے سواری کی ضرورت ہے اوراونٹنی کا بچہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس پر سواری کی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تعجب کو دور کرتے ہوئے اور اپنے مزاح کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بھائی! میں تجھے سواری کے قابل اونٹ ہی دے رہا ہوں، مگر وہ بھی تو اونٹنی ہی کا بچہ ہے۔

”حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے دوکان والے“۔ (مشکوٰة،ص:416)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت انس رضی الله عنہ سے اے دو کان والے کہنا بھی ظرافت اور خوش طبعی کے طورپر تھا۔ اور ظرافت کا یہ انداز تو ہمارے عرف میں بھی رائج ہے، مثلاً کبھی اپنے بے تکلف دوست سے یا ذہین طالب علم سے ناراضگی کا اظہار اس انداز میں کیاجاتا ہے کہ ایک چپت رسید کروں گا تو تمہارا سر دوکانوں کے درمیان ہو گا۔ حالاں کہ وہ پہلے سے وہیں پر ہوتا ہے۔

”حضرت انس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایاکہ بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ وہ عورت قرآن پڑھی ہوئی تھی، اس نے عرض کیا بوڑھی کے لیے کیا چیز دخولِ جنت سے مانع ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے قرآن میں نہیں پڑھا ہم جنتی عورتوں کو پیدا کریں گے، پس ہم ان کو کنواریاں بنادیں گے“۔(مشکوٰة،ص:416)

خلاصہ کلام یہ کہ مزاح ایک فطری جذبہ ہے، انسان سے اس کا صدور مذموم اور قبیح نہیں، بلکہ ممدوح ہے، اس کا صدورانبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام سے بھی ہوا ہے، صحابہ کرام سے بھی اور اولیائے کرام سے بھی۔ حضرت غوثِ اعظم پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی کی جلالتِ شان سے کون ناواقف ہے؟ کسی نے آپ کو ایک بہت ہی قیمتی چینی آئینہ ہدیتہ دیا تھا، حضرت کبھی کبھی اس میں اپنا چہرہ دیکھ لیا کرتے تھے، اتفاقاً وہ آئینہ خادم کے ہاتھ سے گرکر ٹوٹ گیا، اس کو بڑا ہی ڈر ہوا کہ حضرت عتاب فرمائیں گے، اس نے ڈرتے ڈرتے حضرت سے عرض کیا از قضاء آئینہ چینی شکست (قضاء وقدر کی وجہ سے وہ چینی آئینہ ٹوٹ گیا) تو حضرت نے یہ سن کر فی البدیہہ فرمایا خوب شد ،اسبابِ خود بینی شکست (اچھاہوا کہ خود بینی کا ذریعہ اور سبب ٹوٹ گیا)۔ (حضرت تھانوی کے پسندیدہ واقعات ،ص:50)

الغرض مزاح ایک سنتِ مستحبہ ہے، جولوگ اسے اپنے وقار اور شان کے خلاف سمجھتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں ،جب کہ یہ شان نبوت کے خلاف نہیں۔ شانِ صحابیت کے خلاف نہیں۔ شانِ ولایت کے خلاف نہیں۔ تو ہماشما کی شان کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں جملہ امور میں اتباعِ سنت کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)