بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدارس کی حفاظت اور آخرت کی فکر کیجئے

مدارس کی حفاظت اور آخرت کی فکر کیجئے

حضرت مولانا عاشق الٰہی مدنی

پاکستان کی تاریخ کا یہ بڑا اند وہ ناک المیہ ہے کہ جو بھی کوئی شخص اقتدار پر آتا ہے دینی مدارس پر قبضہ کرنے اور ان کو ختم کرنے کے لیے فکر مند ہوجاتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ملک مسلمانوں کا،اصحاب اقتدار اسلام کے دعوے دار اور قرآن وحدیث کے مدارس مٹانے کی فکر سوارہے؟!لوگ کہتے ہیں کہ یہ اصحاب اقتدار یہود ونصاریٰ کے اشاروں پر چلتے ہیں اور ان کے کہنے پر دینی مدارس کے ختم کرنے کی فکر میں پڑجاتے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اپنا اقتدار صرف نام کا رہا، ملک ہمارا اور حکم چلے دشمنوں کا۔ یہ امر بھی تو قابل تعجب ہے۔ لوگوں کا یہ کہنا بھی ہے کہ دشمنان اسلام یہ سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس میں مجاہدین اسلام تیار ہوتے ہیں، اس لیے ان کو بند کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دشمن اگر اس فکر میں ہے تو یہ کون سی تعجب کی بات ہے؟! عہد اول سے ایمان وکفر کی جنگ چلی آرہی ہے۔ لیکن مسلم اصحاب اقتدار کو دشمنوں کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے؟!

آج کل ایک نئے عنوان سے بات آئی ہے اور وہ یہ کہ مدارس میں حکومت کی طرف سے دنیاوی علوم پڑھائے جائیں گے اور عربی ودینی نصاب میں مہتممین کو آزادی ہوگی۔ اسے ہمدردی کے طور پر اچھالا جارہا ہے کہ جو لوگ عالم بن جاتے ہیں ان کے لیے نوکریوں اور ملازمتوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ انگریزی اسکولوں کے مضامین پڑھیں گے تو اچھی نوکریاں ملیں گی اور ملازمتوں کا انتظام ہو جائے گا اور ساتھ ہی علوم دینیہ ودنیویہ کے جامع ہوجائیں گے۔ بظاہر یہ بات اچھی لگتی ہے۔ لیکن اس کے نتائج پر لوگوں کی نظر نہیں،پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان دنیا میں دنیا کمانے اور مال دار بننے کے لیے نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے:﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ ﴾اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”ما أوحي الي أن أجمع المال وأکون من التاجرین ولکن أوحي الي أن سبح بحمد ربک وکن من ساجدین واعبد ربک حتی یأتیک الیقین“․”مجھے یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کروں اور اپنا شمار تاجروں میں کرواؤں بلکہ مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ“ اپنے رب کی تسبیح بیان کرو، جو اس کے حمد کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ اور اپنے رب کی عبادت کرو،یہاں تک کہ یقین والی چیز یعنی موت آجائے“۔

قرآن وحدیث کا علم اس لیے پڑھا جاتا ہے کہ دین دار علماء پیدا ہوں، آخرت کی فکر کریں، اللہ کی رضا کو مقصود بنائیں، اسی پر مریں، اسی کے لیے جئیں۔ سورہ انعام(آیة:162) میں فرمایا:” آپ فرمادیجیے کہ بے شک میری نماز اور میری سب عبادتیں اور میرا مرنا وجینا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جو رب العالمین ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں اس امت میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“۔

دینی مدارس میں جو طلباء پڑھتے ہیں، علماء بن کر امت کے سامنے آتے ہیں۔ وہ اسی کے داعی ہوتے ہیں کہ ہر مسلمان اپنی آخرت کے لیے فکر مندہو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کاکام کرے اور اسی کی دعوت دے۔ ہر مسلمان اپنا مرنا جینا اسی کی رضا کے لیے خاص کرے، جئے اللہ کے لیے اور مرے اللہ کے لیے۔

جو لوگ قرآن وحدیث نہیں پڑھتے، اسکولوں اور کالجوں کی زینت بنتے ہیں اور جو لوگ بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں ،دنیا کے لالچی ہیں، پیسے کمانے کو مقصد زندگی بنائے ہوئے ہیں، ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ مولوی لوگ بھی ہماری طرح دنیادار ہوجائیں، خالص دینی باتیں کرنا چھوڑ دیں اور دنیا کے طالب بن جائیں اور امت کو بھی طالب دنیا بننے کی ترغیب دیا کریں اور یہ ظاہر ہے کہ مولوی دنیا دار جب ہی بنیں گے جب دنیاوی علوم پڑھیں گے۔ قرآن وحدیث کی تعلیم میں کچے رہیں گے اور جو اساتذہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں، ان کے علاوہ ان لوگوں کے شاگرد بنیں گے جو دنیاوی علوم پڑھائیں گے، جو پتلونوں سے آراستہ ہوں، داڑھیاں کٹی ہوئی ہوں اور محض دنیا کے لیے پڑھانا جانتے ہوں، اخلاص اور رضا الٰہی کے طالب نہ ہوں، ایک توان لوگوں کی مصاحبت سے پیدا ہونے والے علماء میں علم کی پختگی نہ آئے گی، کیوں کہ دو ہر انصاب نمٹانا پڑے گا۔ دوسرے ان کے اذہان اور قلوب دنیا دار اساتذہ سے متاثر ہو کر اخلاص اور فکر آخرت سے خالی ہوجائیں گے۔ اللہ کی رضا مطلوب نہ ہو تو نہ قرآن وحدیث پر عمل ہوتا ہے اور نہ اس کے پڑھنے پڑھانے پر ثواب ملتا ہے۔

جامعہ ملیہ نظروں کے سامنے ہے، اس کی بنیاد اسی پر رکھی گئی تھی کہ علوم دنیا اور علوم دین ملا کر پڑھائے جائیں اور ایسے آدمی تیار ہو کرنکلیں ،جو دونوں لائن کے علوم کے جامع ہوں، لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہ دوسری دنیوی یونیورسٹیز کی جگہ ایک ادارہ بن کر رہ گیا، وہاں سے نکلنے والے سب گریجویٹ نکلے۔ قرآن وحدیث کا جامع وہاں کے فارغ ہونے والوں میں ایک بھی نظر نہیں آیا۔

ہمارے مدارس کا جو نصاب ونظام ہے اس میں حکومت کا یا کسی بھی جماعت کا دخل دینا ان کی بربادی کا سبب بن جائے گا،عمارتیں بھی اونچی اونچی ہوں گی، تنخواہیں خوب زیادہ ہوں گی، پڑھنے والے بھی یوں سمجھیں گے کہ ہم دین ودنیا کے علوم میں مہارت حاصل کررہے ہیں، لیکن اخلاص ورضائے الٰہی کی طلب اور علوم میں پختگی جاتی رہے گی، یہ عجیب بات ہے کہ دینی مدارس میں علوم دنیا کا اضافہ کرنے کی رائے تو دی جاتی ہے، لیکن اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ذمہ داروں سے نہیں کہا جاتا ہے کہ تم تفسیر وحدیث ،تحفیظ وتجوید وقرأت کے شعبے قائم کرلو۔

یونیورسٹیوں میں جو اسلامیات پڑھائے جاتے ہیں اس کے پڑھانے والے وہ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو یہود ونصاریٰ سے اسلامیات کی ڈگری لے کر آتے ہیں۔ نہ انہیں قرآن وحدیث کا علم ہوتا ہے، نہ علماء سے ملتے ہیں ،نہ اہل حق کی تفسیر پڑھتے ہیں۔ دشمنان دین نے جوان کے قلوب میں اتارا ہے اسی کو طلباء کے سامنے اگل دیتے ہیں۔ کیسے افسوس کی بات ہے کہ دشمن تو چاہتے ہی ہیں کہ مسلمان میں اسلام نہ رہے، مسلمان نام کے لوگ بھی عربی مدارس کو ختم کر کے بے دینی کے سیلاب میں بہہ جانے کو پسند کررہے ہیں؟!!

کہا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث پڑھنے والے علماء اسکولوں اور کالجوں کا نصاب پڑھ لیں گے تو ان کے روٹی رزق کا انتظام ہوجائے گا۔ آج تک کوئی مولوی بھوکا مرا نہیں، جو ان کی روزی کے لیے فکرمند ہورہے ہیں انہیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ اپنی اپنی زندگیوں کو دیکھیں کہ کیا کیا گناہ ہورہے ہیں، نمازوں کی پابندی کا کیا حال ہے، زکوٰ ة کی ادائیگی کا انتظام ہے یا نہیں، مال حلال ذریعے سے آرہا ہے یا حرام ذریعے سے؟ روزانہ کتنی غیبتیں کرتے ہیں ا ور کتنے لوگوں کے حقوق مارتے ہیں؟! اپنی تو آخرت کی فکر نہیں اورمولوی کی روٹی کی فکر ہے۔اس ساری تحریر کا مطلب یہ نہیں کہ حلال نہ کمائیں اور بھکڑ اورپھٹیچر ہو کر پھرا کریں اور ترک اسباب کردیں۔ کہنا یہ ہے مال بھی کماؤ، مگر حلال ہوا ور اس کے حقوق بھی ادا کرو اور زیادہ مال دار بننے کے لیے فکر مند نہ بنو۔ مال کو گناہوں میں خرچ نہ کرو، زیادہ مال مل جائے تو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ۔اللہ تعالیٰ کے فرمان :﴿ولا تسرفوا ان اللہ لا یحب المسرفین﴾ کو سامنے رکھو، دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دو، اپنی اولاد کو قرآن وحدیث پڑھاؤ، علماء اور صلحاء سے جوڑ رکھو، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”کونوا من ابناء الآخرة ولا تکونوا من ابناء الدنیا“․ (مشکوٰہ المصابیح:445) یعنی ”تم آخرت کے بیٹے بنو ،دنیا کے بیٹے نہ بنو“۔

اب ایک حدیث سنا کر اپنا مضمون ختم کرتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” جس نے حلال دنیا اس لیے طلب کی کہ سوال کرنے سے پرہیز کرسکے اور اپنے اہل وعیال کی ضرورتوں پر خرچ کرسکے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرسکے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں رات کی طرح چمکتا ہوگا اور جس نے حلال دنیا اس لیے طلب کی کہ لوگوں سے مال کی کثرت میں مقابلہ کرے، فخر کرے اور دکھلاوا کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوگا۔“(مشکوٰة المصابیح ص:444)

دیکھو! حلال مال کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ حلال مال اس لیے طلب کرنا کہ دوسروں کے مقابلہ میں فخر کرے اپنے مال کی کثرت میں مقابلہ کرے، ریاکاریوں میں خرچ کرے، تو اللہ تعالیٰ کا اس پر غصہ ہوگا۔ اب سوچ لیا جائے کہ اگر ان مقاصد کے لیے حرام مال کمایا جائے تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟!