بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدارس اور وفاق المدارس

مدارس اور وفاق المدارس

عبید اللہ خالد

دین اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری الله تعالیٰ نے خودلی ہے اور اس کی حفاظت کے ذرائع اور اسباب بھی پیدا فرما دیے ہیں، مختلف ادوار میں ان کی صورتیں بدلتی رہی ہیں، لیکن مسجد ومدرسہ کادین کی حفاظت واشاعت میں ہمیشہ اہم کردار رہا ہے۔ مسجد نبوی اور صفہ سے اس کی ابتداء ہوئی اورتقریباً ہر دور میں مساجد ومدارس یہ فریضہ سر انجام دیتے رہے ہیں۔ جب سے دنیا میں کفار کا تسلط قائم ہوا ہے تو ان کی مسلسل یہ کوشش رہی ہے مسجد ومدرسے کے کردار کو محدود بلکہ ختم کردیا جائے اور ان کے ذریعے دین اسلام کی حفاظت اور نشر واشاعت کا جو کام ہو رہا ہے اس کا سدباب ہو جائے، دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اس کو شش میں وہ کام یاب بھی ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں الله تعالیٰ نے دین کی حفاظت ونشر واشاعت کا عظیم کام برصغیر پاک وہند کے مدارس اور یہاں کے اہل الله اور اکابر سے لیا ہے جو بلاشبہ اس وقت دنیا میں دین کی حفاظت ونشرواشاعت کا ایک بڑا ذریعہ ہیں،جب کہ کفار کی پوری کوشش رہی ہے اور ہے کہ دین کے ان سرچشموں کو بند کردیا جائے اور اس کے لیے انہوں نے بڑے جتن کیے ہیں اور بڑے بڑے منصوبے بھی بنائے ہیں، لیکن الله تعالیٰ کی مدد ونصرت سے ان کے یہ منصوبے تار عنکبوت ثابت ہوئے اورمدارس دینیہ پوری آب وتاب سے اپنی خدمات میں مصروف ہیں اورامت مسلمہ کی دینی راہ نمائی کے لیے رجال کا ر تیار کر رہے ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں یہاں سے تیار ہونے والے رجال دین اپنی دینی خدمات بڑے احسن اور نمایاں انداز واسلوب میں انجام دے رہے ہیں۔ الله تعالیٰ ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور مدارس دینیہ کو شرورفتن سے محفوظ فرمائے۔

مدارس کی حفاظت کے اسباب میں اس وقت خصوصاً پاکستان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا وجود بھی ہے، جو اہل حق کے اتحاد واتفاق کی علامت ونشانی اور مدارس کی طرف اٹھنے والی ہر غلط نظر کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے، جن اکابر علماء نے اس کی بنیاد رکھی اور جو حضرات اکابر مختلف ادوار میں اس کی سرپرستی فرماتے رہے وہ الله تعالیٰ کے نیک، مقرب اور مخلص بندے تھے، ان کے اخلاص و للہیت کی برکت سے الله تعالیٰ نے اس تعلیمی بورڈ کو ترقی عطاکی، اس کے ذریعے مدارس کا تعلیمی نظام بھی مرتب ومضبوط ہوا او ران کی حفاظت وترقی کا انتظام وانصرام بھی اس کے ذریعے سے ہوا۔ لہٰذا جن لوگوں کو مدارس دینیہ کی تعمیروترقی ہضم نہیں ہور ہی وہ وفاق المدارس کے بھی مخالف نظر آتے ہیں اور اس کے کردار کو محدود کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں، حکومت کا نئے تعلیمی بورڈوں کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، تاکہ وفاق المدارس کی چھتری تلے محفوظ ومستحکم مدارس کا نظام ٹوٹ پھوٹ اور انتشارکا شکار ہو جائے، اس طرح مدارس دینیہ کم زور پڑ جائیں گے او ران کے نظم میں دخیل ہونا او ران سے اپنی بات منوانا آسان ہو جائے گا۔ الله تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ ایسے لوگوں کی کاوشیں بار آور ثابت نہیں ہوں گی اور وہ ان شا ء الله ناکام ونامراد ہوں گے۔

وما توفیقي إلا بالله علیہ توکلت وإلیہ أنیب