بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدارس اسلامیہ کے طلبہ کی خدمت میں

مدارس اسلامیہ کے طلبہ کی خدمت میں

مفتی محمد عزیز الرحمن قاسمی

عربی کا مشہور مقولہ ہے:” العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک“ یعنی جب تک آپ خود کو پورے طریقے سے علم کے حوالے نہ کر دیں علم اپنا ذرا برابر بھی آپ کے حوالہ نہیں کرے گا کسی متعلم اور طالب علم کے لیے اگر کوئی خصلت زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے تو وہ تحصیل علم سے استغنا اور بے پرواہی کے علاوہ کچھ نہیں، سلف صالحین کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں تحصیل علوم کے اندر بہت زیادہ محنت کرتے تھے، ایک حقیقی طالب علم کے پیش نظر یہ بات جزءِ لاینفک رہے کہ کبھی سبق کا ناغہ نہ کرے، کیوں کہ اس سے بے برکتی ہوتی ہے، بسا اوقات اس ناقدری کا نتیجہ علم سے محرومی کا سبب ہو جاتا ہے، الامام الھمام حضرت ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کی خدمت میں ان کے تلمیذ رشید حضرت امام ابویوسف علیہ الرحمہ کئی سال رہے، مگر اس طویل عرصے میں ایسا نہیں گزرا کہ وہ فجر کی نماز میں اپنے استاذ محترم کے ساتھ شریک نہ رہے ہوں، امام صاحب قدس سرہ فجر کی نمار کے بعد ہی درس شروع فرما دیا کرتے تھے، حضرت امام ابویوسف علیہ الرحمہ اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں برسوں امام صاحب کے ساتھ رہا،بجز بیماری کے، عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی ان سے جدا نہیں ہوتا تھا، حالاں کہ ان دنوں میں ہر شخص اپنے گھر میں اعزہ واقرباء کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن انہوں نے مجلس علم کی شرکت اور اپنے استاذ کی معیت اور رفاقت کو سب پر ترجیح دی۔

وقت کی قدر کرنا، فضول کاموں اور ملاقاتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرنا، حصول علم کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔

داؤد طائی علیہ الرحمہ حضرت امام ابوحنیفہ قدس سرہ کے خاص تلامذہ میں سے ہیں، ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ روٹی چبا کر نہ کھاتے تھے، بلکہ پانی میں گھول کر پی لیتے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ روٹی کو چبا کر کھانے میں جس قدر وقت خرچ ہوتا ہے اتنی دیر میں قرآن شریف کی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہوں، کیا ضرورت ہے کہ وقت کو ضائع کروں؟!

یہ تو ماضی بعید کے سلف کا حال تھا، ماضی قریب کی بعض ہستیاں ایسی گزری ہیں کہ ان کی نظروں میں و قت کی بڑی قدر تھی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی علیہ الرحمہ کے حالات میں لکھا ہے کہ صرف ایک وقت کھانا تناول فرمایا کر تے تھے، شام کا کھانا صرف اس لیے تناول نہیں فرماتے تھے کہ مطالعہ کا حرج ہو گا۔ اسی طرح حضرت قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی رحمہ الله کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ الله سے پڑھا کرتے تھے، پانی پت دہلی سے زیادہ دور نہیں، اکثر لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی، اگر ملاقاتی یا رشتہ دار مل گیا تو سلام اور اس کے جواب کے علاوہ کوئی بات نہ کرتے تھے اورفرماتے تھے مجھے فرصت نہیں، جب پانی پت آنا ہو گا تو وہاں بات کریں گے۔

اسی طرح محنتی طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ بسیار خوری سے پرہیز کرے اور کم خوری اور اکل حلال کی عادت ڈالے، اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں طالب علم کی بہترین معاون ہیں، نیز بسیار خوری سے پانی زیادہ پیا جاتا ہے او رپانی زیادہ پینے سے نیند زیادہ آتی ہے اور نیند کی زیادتی سے کند ذہنی اور قصور فہمی پیدا ہوتی ہے،حو اس میں فتور اور جسم میں کسل رونما ہوتا ہے، علاوہ ازیں بسیار خوری سے غیر معمولی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جو کہ تحصیل علم کے لیے سم قاتل بن جاتی ہیں۔

اسی طرح طالب علم کے لیے کثرت نوم بھی انتہائی مضر ہے، اسے کم سونے کی عادت ڈالنی چاہیے، لیکن اس قدر کم بھی نہیں کہ بدن اور ذہن متاثر ہو، اس لیے چوبیس گھنٹوں میں چھ سے آٹھ گھنٹے تک نیند لینا مناسب ہے، اس لیے آٹھ گھنٹے سے زائد ہر گز سونا نہیں چاہیے، ورنہ اس کی تعلیم کی تحصیل میں رکاوٹ یقینی ہے، اگر دوران محنت تھک جانے او راُکتا جانے کا احساس ہو تو اپنے نفس، قلب وذہن اور آنکھوں کو مباح تفریحات سے راحت پہنچا کر فرحت حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،جسمانی ورزش اور بدنی ریاضت کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطے کہ زیادہ تھکا دینے والی نہ ہو۔

بعض اکابر علماء سے منقول ہے کہ وہ قدرتی تفریح گاہوں میں اپنے شاگردوں کو اکٹھا کرکے ظرافت اور خوش طبعی کا موقع فراہم کرتے، لیکن دین وآبرو کو ضرر پہنچانے والے مشاغل کے پاس بھی نہ پھٹکنے دیتے تھے۔

ذی استعداد طالب علم کس طرح ہو؟ اپنے استاذ سے پڑھنے سے پہلے وہ مطالعہ کرے، اس لیے کہ مطالعہ سے استعداد بڑھتی ہے، مطالعہ کے بغیر کسی طرح استعداد نہیں حاصل ہو سکتی، کوئی بھی اس کے بغیر ترقی نہیں کرسکا۔

امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ایک دفعہ ساری رات امام محمد علیہ الرحمہ کے پاس رہا، آپ کی رات اس طرح گزری کہ کچھ دیر مطالعہ کرتے ،پھر لیٹ جاتے، پھر اٹھ جاتے او رمطالعہ کرنے لگتے، صبح ہوئی تو آپ نے بغیر وضو کیے ہوئے فجر کی نماز پڑھی،جس سے معلوم ہوا کہ ساری رات باوضو اور جاگتے رہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ علمی رتبہ ومقام مطالعہ ہی سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے مطالعہ کو طالب علم اپنے حصول علم میں جز لازمی بنالے، مطالعہ کا حاصل مجہول سے معلوم کا متمیز ہونا، یعنی اگر سب سمجھ میں نہ آئے تو ہر گز نہ گھبرائے، کم از کم اتنا تو نفع ہو گا کہ معلوم ہو ہی جاے گا کہ اتنا حصہ سبق کا سمجھ میں آگیا او راتنا حصہ سمجھ میں نہیں آیا، مطالعہ میں الله تعالیٰ نے بڑی برکت رکھی ہے۔

اسی طرح طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ استاذ کے سبق کو غور سے سنے اور اس کے بعد تکرار کرے، اس کے بغیر استعداد پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی علم باقی رہ سکتا ہے، تعلیم المتعلم میں لکھا ہے کہ طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ جب تک گزشتہ سبق کا تکرار نہ کر ے او راچھی طرح یا دنہ کر لے ہر گز دوسرا سبق نہ پڑھے، عربی کا مقولہ ہے:”اذا تکرر تقرر فی القلب“ تکرار با ربار کرنے سے قلب میں راسخ ہو جاتا ہے اور یہ عمل طلبہ کے لیے بے حد نافع ہے، امام زہری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں مذاکرہ نہ کرنے سے نسیان ہو جاتا ہے اور علم ضائع ہو جاتا ہے،حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حدیث کا مذاکرہ کرو، کیوں کہ علم مذاکرہ سے جوش مارتا ہے۔

علم خواہ کتنا ہی زیادہ حاصل ہوجائے، لیکن ہمیشہ اس کو تھوڑا خیال کرنا چاہیے، ہمہ دانی کا دعویٰ چھوڑنا اور ہیچ مدانی کی عاجزی اختیار کرنا ضروری ہے۔

ایک حقیقی طالب علم اگر دس اچھی کتابیں پڑھے گا تب کہیں جا کر ایک سیڑھی اوپر چڑھ سکے گا، اس کے برعکس صرف ایک گندی کتاب پڑھے گا تو وہ دس سیڑھیاں نیچے اتر جائے گا، اس لیے گندی اور فحش کتابوں کے پڑھنے سے ہمیشہ احتراز کرنا چاہیے۔

استاذ کی تقریر کے وقت بالکل خاموش اور متوجہ رہو، دوران درس کپڑوں سے کھیلنا یا کسی اور چیز سے کھیلنا طالب علم کی بے پروائی کا ثبوت اور عدم توجہی کی کھلی شہادت ہے۔ جمائی او رانگڑائی کو بھی حتی الوسع درس کے دوران اپنے پاس نہ پھٹکنے دے۔

حضرت امام بخاری رحمہ الله نے حضرت جریر بن عبدالله بَجلی رضی الله عنہ سے روایت نقل کی ہے، جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حجة الوادع میں خطبہ کے وقت جریر سے فرمایا:”استنصت الناس“ لوگوں کو خاموش کراؤ۔(بخاری) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استاذ کی تقریر کے وقت بالکل خاموش اور متوجہ رہنا چاہیے، نہ کسی سے بات اور نہ ہی کسی کی طرف التفات کرنا چاہیے، استاذ تو طالب علم کی طرف متوجہ ہو اور طالب علم دوسری طرف متوجہ ہو، اس سے استاذ کو بہت تکلیف ہوتی ہے، خصوصاً ایسی حالت میں جب کوئی ایسا سوال بھی کرے کہ اگر توجہ سے تقریر سنتا تو پھر وہ سوال ہی نہ کرتا۔

ایک حکیم نے اپنے لڑکے کو نصیحت کی کہ حسن کلام کی طرح حسن سماعت بھی سیکھنے کی ضرورت ہے اور حسن استماع یہ ہے کہ متکلم کو اپنی بات پوری کرنے کی مہلت دو اور اپنا منھ اور اپنی نگاہ اس کی طرف متوجہ رکھو اور کوئی بات اگر تمہیں معلوم بھی ہو تو دخل مت دو اور خاموشی سے سنو۔

کسی بھی علم وفن کے آغاز میں اس علم وفن کے اختلافی مسائل سے دل چسپی ہر گز نہ لو، بلکہ اصل مسئلہ کو سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کی فکرکرو، اختلاف بین العلماء سے پرہیز او راختلافی کتب کے مطالعہ سے گریز ضروری ہے، ورنہ اختلاف کے پیچھے پڑ کر اصل مسئلہ ہی نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گا اور اس سے وقت وزندگی کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

ہر علم وفن کے اصول وکلیات اور اصل مسائل میں دست رس کے بعد مزید وسعت نظر اور مہارت فن پیدا کرنے کے لیے ماہرین کے علمی مباحث اور اصول اختلافیات کے مطالعہ میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ اس سطح پر اختلافیات کامطالعہ ایک حد تک ضروری ہے۔

استاذ اگر علم کے متعلق باتیں کرے یا اور کوئی بات عمدہ بیان کرے تو اسے کسی کاغذ پر نوٹ کرو او راسے خوب یاد کرو، اس بھروسہ پر نہ رہو کہ وہ تومیرے پاس رکھی ہوئی موجود ہے، کیوں کہ نہ معلوم تمہیں کب او رکہاں اس بات کی ضرورت پڑے تو اس کاغذ کو کہاں لیے پھرو گے ؟اور اگر گم ہو گیا تو تمہارا علم ہی گیا، اسی لیے کہا ہے کہ علم ِ کوسینہ چاہیے، سفینہ نہیں، علم کی شان تو یہ ہے کہ نہ چور چراسکے اور نہ وراثت میں تقسیم ہو سکے۔