بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

معجم علوم الحدیث النبوی
تالیف: مولانا امدادالله انور
صفحات: 1048 سائز:20×30=8
ناشر: دارالمعارف، ملتان

ڈاکٹر عبدالرحمن الخمیسی نے ”المعجم في علوم الحدیث“ کے نام سے عربی زبان میں علم حدیث کی اصطلاحات کو جمع او رمرتب کیا تھا۔ زیر نظر کتاب میں جامعہ قاسم العلوم ملتان کے استاذ حدیث مولانا امدادالله انور نے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے اور علم حدیث کی مزید اصطلاحات اور الفاظ کو اس میں شامل کرکے اس موضوع پر ایک جامع علمی کاوش پیش کی ہے جو اس موضوع کے بہت سے عنوانات اور مباحث کااحاطہ کیے ہوئے ہے اور اسے حروف تہجی کی ترتیب پرمرتب کیا گیا ہے۔ کتاب کی ابتدا میں علم حدیث کی فضیلت واہمیت، اور اصول حدیث کے خلاصے کے طور پر حدیث، خبر، اثر کی تعریف، حدیث کی انواع واقسام، کتب صحاح ستہ اور اقسام کتب حدیث کا تذکرہ شامل ہے، اس کے بعد علوم حدیث کی اصطلاحات کا تعارف مرتب ومدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے اور حوالہ دینے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

کتاب کے صفحہ نمبر554 پر صحابہ کرام رضی الله عنہم کی مرویات کی تعداد میں بعض جگہ تسامح نظر آتا ہے، جو بہ ظاہر کمپوزنگ کی غلطی معلوم ہوتی ہے، لہٰذا اس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔

چناں چہ حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی مرویات کی تعداد1170 ہے، زیر نظر کتاب میں 11670 مذکور ہے، حضرت عبدالله بن عمروبن عاص رضی الله عنہما کی مرویات کی تعداد700 ہے، جب کہ زیر نظر کتاب میں 770 منقول ہے،حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی مرویات کی تعداد586 ہے، جب کہ زیر نظر کتاب میں 536 منقول ہے، حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ کی مرویات کی تعداد360 ہے جب کہ زیر نظرکتاب میں 307 مذکور ہے، اسی طرح حضرت ابو مسعود انصاری رضی الله عنہ کی مرویات102 ہیں، جب کہ زیر نظر کتاب میں202 مذکور ہے۔(دیکھیے، شذرات الذھب لابن العماد الحنبلي، تہذیب الاسماء واللغات للنووي)

کتاب کے صفحہ نمبر884 میں علامہ توربشتی رحمة الله علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے مشکاة کا حاشیہ لکھا ہے، جب کہ علامہ توربشتی رحمة الله علیہ نے مشکاة شریف کا حاشیہ نہیں بلکہ”مصابیح السنة“ کی شرح لکھی ہے، جو” کتاب المیسر في شرح مصابیح السنة“ کے نام سے ہے اور یہ شرح مکتبہ نزار مصطفی الباز مکة المکرمہ سے دکتور عبدالحمید ہنداوی کی تحقیق کے ساتھ تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔ علامہ توربشتی رحمة الله علیہ کی وفات661 ہجری میں مشکاة شریف کی ترتیب وتالیف سے کافی پہلے ہوئی ہے۔

یہ چند باتیں قابل توجہ نظر آئیں، باقی مجموعی اعتبار سے کتاب اپنے موضوع پر جامع، منفرد، عمدہ اور لائق ستائش کاوش ہے۔ اہل علم خصوصاً علم حدیث سے وابستہ حضرات کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

کتاب کا ٹائٹل خوب صورت اور طباعت درمیانے درجے کی ہے۔

شرح مقدمہ شامی
تالیف: مفتی توفیق شاہ
صفحات:144 سائز:20×30=8
ناشر: مکتبة الخیر، گلستان جوہر، کراچی

فقہ حنفی کی مشہور کتاب ”رد المحتار“ المعروف ”فتاوی شامی“ کا مقدمہ عموماً تخصص فی الفقہ الاسلامی کے طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے، جامعہ دارالخیر گلستان جوہر کراچی کے رئیس دارالافتاء مفتی توفیق شاہ نے اردو زبان میں اس کی شرح لکھی ہے۔ اس میں عبارت کا ترجمہ، تشریح، مشکل مباحث کا حل اور موضوع سے متعلق دیگر مفید وضروری معلومات کو جمع کیا گیا ہے۔

ا س شرح سے مقدمہٴ شامی کو سمجھنے میں سہولت وآسانی ہو گی، لہٰذا تخصص فی الفقہ الاسلامی سے وابستہ حضرات کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

کتاب کا ٹائٹل کارڈ کا ہے او رمعیاری طباعت کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔

مصعاد الصرف علی إرشاد الصرف
تالیف: مفتی معراج احمد مارتونگی
صفحات:244 سائز:23×36=16
ناشر: مکتبہ صدیقیہ، محلہ عیسی خیل، نیوروڈ، مینگورہ، سوات

ارشاد الصرف علم الصرف کی مشہور ومعروف اور مقبول ونافع کتاب ہے۔ برصغیر پاک وہند کے بہت سے مدارس میں درجہ اولیٰ میں پڑھائی جاتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں ارشاد الصرف کی تعریب کے ساتھ ساتھ اس کے قواعد وقوانین کی تشریح وتوضیح، تمارین، امثلہ اور دیگر ضروری واہم امور کو بیان کیا گیا ہے، جن کی کتاب کے فہم میں ضرورت پڑ سکتی تھی۔ اس طرح ارشاد الصرف اور اس کی شرح دونوں اکھٹے عربی زبان میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ اس سے علماء، طلبہ اور علم الصرف کا شوق وشغف رکھنے والے حضرات کو فائدہ ہو گا۔

کتاب کا ورق درمیانہ ہے اور اس کی طباعت میں سلیقے کا خیال رکھا گیا ہے۔

ذکر اجتماعی وجہری شریعت کے آئینے میں
تالیف: مولانا مفتی رضاء الحق
صفحات:408 سائز:23×36=16
ناشر: زمزم پبلشرز، اردو بازار، کراچی

یہ کتاب حضرت مولانا مفتی رضاء الحق صاحب شیخ الحدیث ورئیس دارالافتاء دارالعلوم زکریا جنوبی افریقا کی تالیف ہے اور اس میں بنیادی طور پر ذکر اجتماعی وجہری کے اثبات پر دلائل بیان کیے گئے ہیں،۔ یہ اس کتاب کا چھٹا ایڈیشن ہے۔ اس کتاب پر اس کالم میں اس سے پہلے جمادی الثانیہ1432ھ کے شمارے میں تبصرہ آچکا ہے۔

کتاب کا ورق اعلیٰ، جلد بندی مضبوط اور طباعت معیاری ہے۔