بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

نشر الطیب في ذکر النبي الحبیب صلی الله علیہ وسلم
تالیف: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی
صفحات:638 سائز:23×36=16
ناشر: معہد المدینہ، مری لینڈ، امریکا

یہ حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمة الله علیہ کی سیرت سے متعلق معروف تالیف ہے، جس میں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کی ذات سے متعلق احوال، واقعات اور امور کو مدلل ومرتب انداز میں پیش کیا گیا ہے، آپ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کی ذات سے متعلق جو باتیں او رامور پیش آئے ان سے لے کر آخر میں صحابہ کرام رضی الله عنہم کے فضائل، اہل بیت عظام رضی الله عنہم کے مناقب اور علماء ورثة الانبیاء کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، جب کہ کتاب کے بالکل آخر میں صلاة وسلام پر مشتمل چہل حدیث شامل کی گئی ہیں۔ یہ کتاب اکتالیس فصول پر مشتمل ہے او را س میں آپ کی سیرت طیبہ اور احوال زندگی کے ہر پہلو پر گفت گو کی گئی ہے۔

کتاب کی اس نئی اشاعت کی وجوہ بیان کرتے ہوئے”عرض ناشر“ میں لکھا گیا ہے کہ:

”دوسری وجہ اس کتاب کی تحقیق وتخریج کی یہ بنی کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے اپنی اس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ دوران تالیف کتا ب تھانہ بھون میں طاعون کا مرض پھیلا ہوا تھا اور روز چند افراد لقمہٴ اجل بن رہے تھے، مگر جس دن اس کتاب کو لکھا جاتا، علاقے میں اس مرض کی وجہ سے کسی کا انتقال نہ ہوتا۔ اور جس دین لکھنے کا ناغہ ہو جاتا، اس دن کئی لوگ انتقال کر جاتے۔ یہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے ذکر کی برکت تھی، چناں چہ حضرت تھانوی قدس سرہ نے ہر روز کتاب لکھنی شروع کر دی۔ الله نے فضل فرمایا اور اموات بند ہو گئیں۔

احقر نے سوچا کہ آج کل پوری امت مسلمہ او رانسانیت کرونا کے وبائی مرض میں مبتلا ہے۔ الله کے فضل وکرم سے کیا بعید ہے کہ حضور اقدس رحمة للعالمین صلی الله علیہ وسلم کی برکت سے اور اس کتاب کی از سر نو اشاعت سے پوری امت مسلمہ سے اس وبائی مرض کاخاتمہ ہو جائے۔“

کتاب کا یہ ایڈیشن تحقیق وتخریج کے ساتھ شائع کیا گیا ہے اور یہ ذمہ داری مولانا مشاہد الاسلام امروہوی نے انجام دی ہے۔ اس میں دارالعلوم دیوبند کی لائبریری میں موجود” نشرالطیب“ کا تقریباً نصف صدی پرانا نسخہ پیش نظر رکھا گیا ہے۔کتاب کا ورق عمدہ اور طباعت واشاعت معیاری ہے۔

امام بخاری کا عادلانہ دفاع
تالیف: حافظ عبدالقدوس خان قارن
صفحات:147 سائز:23×36=16
ناشر: عمرا کادمی ،نزد مدرسہ نصرة العلوم گھنٹہ گھر ، گوجرانوالہ

کچھ عرصہ قبل احمد سعید ملتانی نامی ایک خطیب نے ”قرآن مقدس اور بخاری محدث“ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی، جس میں امام بخاری رحمة الله علیہ کی کتاب ”الجامع الصحیح…“ ،جس کو علمائے امت کے ہاں اصح الکتب بعد کتاب الله کا درجہ حاصل ہے، پر کیچڑ اچھالنے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اس میں 54 روایات ایسی ہیں جو کتاب الله کے خلاف ہیں، اس ضمن میں اس نے کئی ثقہ اور معتمدراویوں او رامام بخاری رحمة الله علیہ پر طعن وتشنیع اور طنز کے نشتر چلائے او رانتہائی سوقیانہ اور گٹھیا زبان استعمال کی۔ کئی علماء نے اس کے ان اعتراضات کا کتابی شکل میں جواب دیا ہے، زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے او راس میں امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمة الله علیہ کے فرزند حضرت مولانا عبدالقدوس خان قارن نے امام بخاری اور صحیح بخاری پر کیے گئے ان اعتراضات کا نہایت جامع، مفصل ،مدلل اور مرتب اندازواسلوب میں جواب دیا ہے، مؤلف چوں کہ جید عالم دین اور احادیث کی کتابوں کے مدرس ہیں، لہٰذا ان کے جوابات نہایت جاندار، مضبوط اور اطمینان بخش ہیں، جن کو پڑھنے سے قاری کو پوری تسلی ہو جاتی ہے اور مذکورہ خطیب کی کم فہمی، کم عملی،جہالت، بدمزاجی اور بدنیتی کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ الله تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے راہ راست سے ہٹے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔

کتاب کی طباعت واشاعت درمیانے درجے کی ہے۔

درس سراجی حنیفی
افادات: مولانا محمد حنیف صاحب
صفحات:117 سائز:23×36=16
ناشر: کتب خانہ مظہری، گلشن اقبال، کراچی

زیر نظر کتاب مظاہر علوم سہارن پور کے فاضل اور جامعہ اشرف المدارس کے قدیم استاد مولانا محمد حنیف صاحب رحمة الله علیہ کے درسی افادات کا مجموعہ ہے۔ موصوف نے ”سراجی“ مظاہر علوم سہارن پور میں مولانا سید وقار علی بجنوری رحمة الله علیہ سے دو مرتبہ پڑھی تھی اور جامعہ اشرف المدارس میں تقریباً تیس سال تک ”سراجی“ کا درس دیا ہے، سراجی پڑھانے کا ان کا اپنا منفرد انداز تھا، ان کے شاگرد محمد معاویہ نے ان کے درسی افادات کو محفوظ کرکے کتابی صورت میں شائع کیا ہے، کتاب پر مظاہر العلوم سہارن پور کے رئیس دارالافتاء مفتی مجد القدوس خبیب رومی اور جامعہ اشرف المدارس کے مہتمم مولانا حکیم محمد مظہر صاحب زید مجدھم کی تقاریظ بھی شامل کی گئی ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب علماء اور طلبہ کے لیے مفید اور درس نظامی کے نصاب میں شامل علم الفرائض کی معروف کتاب” سراجی“ کے حل میں معاون ثابت ہو گی۔

کتاب کا ٹائٹل کارڈ کا ہے او رعمدہ ورق پر چھاپی گئی ہے۔

خطبات عرفان
افادات: مولانا عرفان الحق حقانی
صفحات:463 سائز:23×36=16
ناشر: مؤتمر المصنفین جامعہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک

اس مجموعے میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاذ مولانا عرفان الحق حقانی کے خطبات مرتب کیے گئے ہیں ۔ کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیاہے، باب اول حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ، باب دوم فضائل ومناقب خلفائے اربعہ رضی الله عنہم، باب سوم عبادت وعبدیت، باب چہارم فضیلت علم واہل علم، باب پنجم احیائے اسلام اور ہماری ذمہ داری، باب ششم صنف نازک پر اسلام کے احسانات، باب ہفتم ایمانی غیرت اور اس کے تقاضے او رباب ہشتم تزکیہٴ نفس کی اہمیتکے عنوان سے ہے۔ ان میں سے کئی ابواب کے تحت متعدد خطبات شامل کیے گئے ہیں۔ خطبات کا اسلوب علمی، نصیحت آموز، سہل اورآسان ہے۔ علماء ، خطبا، طلبہ اور عوام الناس سب کے لیے یہ مجموعہ مفیدثابت ہو گا۔

کتاب کا ورق درمیانہ اور جلد بندی مضبوط ہے۔