بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

مجلة الحمد(سیرت نمبر)
مدیر: ڈاکٹر محمد اظہر سعید
صفحات:344 سائز:23×36=16
ناشر: الحمد اکیڈمی، E-165، پی ای سی ایچ ایس، خالد بن ولید روڈ، کراچی

یہ” مجلة الحمد“ کراچی کا تیسرا سیرت نمبر ہے، جس میں سیرت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم کے ایسے مضامین ومقالات شامل اشاعت کیے گئے ہیں، جو دور حاضر اور آج کے معاشرے کے لیے اپنے اندر ہدایت وراہ نمائی کا سامان رکھتے ہیں۔ مجلے کی ابتداء حمد ونعت سے ہے اور مضامین کے عنوانات یہ ہیں: عظیم ترین محسن انسانیت، خطبہ حجة الوداع کی عالم گیر اہمیت موجودہ عالمی تناظر میں، اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا، معاملہ فہمی اور سیرت طیبہ، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی حکمت وتدبیر، منصوبہ بندی، اسوہٴ حسنہ سے ماخوذ ایک اصول کا جائزہ، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم میں تدبیر وتنظیم کے عناصر، رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم اور شہری منصوبہ بندی، اسوہٴ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور اولیاء الله، رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سماجی زندگی، سیرت نبوی صلی الله علیہ وسلم کے تمدنی اثرات، ہماری موجودہ مشکلات اور سیرت طیبہ، طبقاتی عصبیتیں اور ان کا حل تعلیمات نبوی کی روشنی میں، مذہبی روا داری اور اسوہٴ حسنہ صلی الله علیہ وسلم، خود کشی اور اس کے اسباب، سیرت طیبہ کی روشنی میں۔ ہر مضمون سے متعلق حوالہ جات اس کے آخر میں دیے گئے ہیں۔

مضامین کی اہمیت وافادیت عنوانات سے واضح ہے۔ انداز بیان، سلیس، رواں، شستہ اور شائستہ ہے۔سیرت طیبہ کے حوالے سے” مجلة الحمد“ کی یہ خصوصی اشاعت لائق تحسین کاوش ہے۔

اس خاص شمارے کاٹائٹل کارڈ کا ہے ۔ کمپوزنگ اور طباعت میں معیار وسلیقے کا خیال رکھا گیا ہے۔ الله تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں سیرت طیبہ کے سنہری نقوش پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔

حسن انتخاب
تالیف:مولانا عماد الدین محمود
صفحات:183 سائز:23×36=16
ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ، خیبر پختونخواہ

القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ کے رکن مولانا حافظ عماد الدین محمود نے زیر نظر کتاب میں اپنے مطالعے کا حسن انتخاب پیش کیا ہے۔ ٹائٹل پر کتاب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے:

”ماضی کی حسین یادیں، حق گوئی وبے باکی کی داستانیں، عشق رسول صلی الله علیہ وسلم کے ایمان پرور واقعات، صحابہ، تابعین، بزرگان دین اور علمائے حق کے ایمان افروز حالات، زہد وتقوی کی حکایات، صدقات وخیرات کی برکات ، آیات قرآنی کی تلاوت کے نقد ثمرات اور سخاوت وفیاضی کے قصص پر مشتمل ایک ایسی راہ نما کتاب جو آپ کو آبدیدہ بھی کرے اور مسرور بھی۔“

اس رسالے میں واقعی حسین عنوانات ومضامین کا انتخاب کیا گیا ہے، جن سے ایمان کو جلا ملتی ہے، اعمال صالحہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور علمی ودینی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔

کتاب کا ورق درمیانہ ہے اور طباعت میں سلیقے کا خیال رکھا گیا ہے۔

خطبہ حجة الوداع تکمیل انسانیت  کا عالمی پروگرام اور امن چارٹر
افادات: حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی
صفحات:112 سائز:23×36=16
ناشر: ادارہ نشرواشاعت، جامعہ نصرة العلوم، فاروق گنج، گوجرانوالہ

زیر نظر کتابچے میں حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب رحمةالله علیہ کے خطبات سے حجة الوداع سے متعلق مواد یکجا کرکے مرتب کیا گیا ہے۔ جس میں حجة الوداع کی عالم گیر اہمیت وافادیت اور ماحول ومعاشرے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے خاص خاص عنوانات کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے۔ یہ کتاب حضرت کے صاحب زادے مولانا محمد فیاض خان سواتی نے مرتب کی ہے۔ پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں:

”حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس خطبہ میں تکمیل ِ انسانیت کے عالمی پروگرام، عقائد، عبادات، اخلاق، رسم ورواج، اور دین ِ اسلام کا لب لباب اور خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے، پُراَمن زندگی گزارنے کے لیے یہ ایک اَمن چارٹر بھی ہے، اس میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری بنی نوع انسان کے لیے کام یابی کے راہ نما اصول ہیں، حضرت والد ماجد رحمة الله علیہ نے ان ہی اصولوں کے تحت زیادہ تر اہل ِ ایمان اور عالم ِ اسلام کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مخاطب کرتے ہوئے انہیں دعوتِ عمل دی ہے، معاشرے میں پائی جانے والی رسومات کے انسداد او ربین الاقوامی سپر طاقتوں اور اغیار کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں اپنے اصل دشمن سے خبردار رہنے کی تلقین بھی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا خطبہ ہے جوہر اعلیٰ وادنیٰ، حاکم وزیردست، مسلمان وکافر، عالم وجاہل، مرد وعورت اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے ایک لائحہ اور دستور العمل ہے۔ ابدی فوز وفلاح کا زینہ اور جنت میں داخلے کا راستہ ہے، اگر اقوام ِ عالم او راہل ِ اسلام اس خطبہ کو اپنالیں تو نہ صرف انہیں دنیا کی عزت وکام یابی بلکہ اُخروی نجات بھی حاصل ہوسکتی ہے اور یہ ذِلت وپستی کی دلدل سے نکل کر عزت وعروج کے اعلی مقام سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔“

یہ کتابچہ خوب صورت کارڈ ٹائٹل کے ساتھ عمدہ ورق پر شائع کیا گیا ہے۔

علمائے جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور ان کی تصنیفی وتالیفی خدمات
تالیف: مولانا سید محمد زین العابدین
صفحات:792 سائز:23×36=16
ناشر: المناھل پبلشرز، بلاک1-A، گلستان جوہر، یونی ورسٹی روڈ، کراچی

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے واضح ہے کہ اس میں ملک کے ممتاز اور معروف دینی ادارے جامعة العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء کی تصنیفی وتالیفی خدمات کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس میں جامعة العلوم الاسلامیہ کے اساتذہ او رفضلاء دونوں کی تالیفی کاوشیں شامل ہیں۔ پہلے مؤلف کا مختصر تعارف اور پھر اس کی تالیفات کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ اس طرح اس کتاب میں تقریباً چالیس ایسے حضرات کی تالیفات کا تعارف آگیا ہے جو جامعة العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کے ساتھ تعلیم وتدریس کے لحاظ سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے اس ادارے سے استفادہ کیا ہے۔ آخر میں جامعہ کے اساتذہ کی مشترکہ تالیفی کاوشوں کا تعارف بھی شامل کیا گیا ہے۔

کتاب کی ابتداء میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی رفیق احمد بالاکوٹی او رمولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب کی تقاریظ بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب ایک اچھی علمی کاوش ہے کہ اس سے ملک کے ایک بڑے علمی ادارے کی تالیفی خدمات اجاگر اور نمایاں ہونگی اور ان حضرات کے لیے استفادہ آسان ہو گا جو اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں اور اس سلسلے میں معلومات کے خواہاں ہوں۔ الله تعالیٰ مؤلف کی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔

کتاب کی طباعت واشاعت خوب صورت ومعیاری ہے۔