بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبصر کے قلم سے

مبصر کے قلم سے

ادارہ

تبصرہ کے لیے کتاب کے دو نسخے ارسال کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب کی ترسیل پر ادارہ تبصرے سے قاصر ہے۔ تبصرے کے لیے کتابیں صرف مدیر الفاروق یا ناظم شعبہ الفاروق کو بھیجی جائیں (ادارہ)

معارف قدسیہ
تالیف: مفتی محمد ثمین اشرف قاسمی
صفحات: جلداوّل:632، جلد دوم:646، جلدسوم:580 سائز:23×36=16
ناشر: الامداد چیئرٹیبل ٹرسٹ، مادھوپور، سلطان پور، پوسٹ ٹھاہر، وایہ رونی، سیدپور، ضلع سیتامڑھی، بہار،انڈیا۔

مولانا ثمین اشرف قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں۔ عمر کا بڑا حصہ عمان ودبئی میں امامت وخطابت اور عوام کی صلاح وفلاح کے حوالے سے دینی خدمات کی انجام دہی میں گزارا۔ اسی دوران انہوں نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور دینی موضوعات پر مختلف مجموعے ان کے قلم سے منظر عام پر آئے۔ احادیث قدسیہ پر بھی انہوں نے مختلف انداز واسلوب میں کام کیا ہے اور ”احادیث قدسیہ“(حق جل مجدہ کی باتیں)، ”تجلیات قدسیہ“ اور” نفحات قدسیہ“ کے نام سے ان کی قابل قدر اور مفید عام کتابیں منظر عام پر آکراہل علم سے دادتحسین وصول کرچکی ہیں۔ زیر نظر مجموعہ بھی اسی سلسلے کی ایک حسین کڑی ہے، جس میں صرف صحیح او رحسن درجے کی احادیث قدسیہ کی علمی واصلاحی انداز میں تشریح وتوضیح کی گئی ہے، احادیث پر رقم مسلسل بھی لگا یا گیا ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ ان کی شرح وتوضیح بھی احادیث قدسیہ ہی کے ذریعہ سے ہو ۔ نیز شرح میں مذکور احادیث قدسیہ کے مقام ومرتبے کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے، تاکہ قاری علی وجہ البصیرت کتاب سے مستفید ہوسکے۔ کتاب کو تین جلدوں میں مرتب کیا گیا ہے۔ جلد اول میں 240، جلد دوم میں 143 اور جلدسوم183 صحیح او رحسن درجے کی احادیث قدسیہ کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے۔ اس طرح ان احادیث قدسیہ کی مجموعی تعداد566 بنتی ہے۔

یہ کتاب علمی، اصلاحی، تربیتی اور تزکیہٴ نفس کے لیے مفید ومؤثر مضامین پر مشتمل ہے۔ انداز بیان بھی دلچسپ ہے کہ مطالعہ سے مزید پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ الله تعالیٰ مؤلف کی دیگر تالیفات کی طرح اس کاوش کو بھی مقبول ونافع بنائے اور امت کو اس سے استفادے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

کتاب کے ٹائٹل پر دارالعلوم دیوبند کی خوب صورت تصویر ہے اور اس کی طباعت میں معیار کا خیال رکھا گیا ہے۔

نفاذ اسلام کی جدوجہد
مرتب: محمد اسرار مدنی
صفحات:579 سائز:23×36=16
ملنے کا پتہ:مؤتمر المصنفین، جامعہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک

صدر جنرل ضیاء الحق شہید نے1402ھ بمطابق1980ء میں وفاقی مجلس شوریٰ قائم کی، جس کا ظاہری مقصد ملک میں نفاذ شریعت کے عمل کو مستحکم اور تیز بنیادوں پر استوار کرنا تھا اور اس کے لیے ملک بھر سے اہم اور چنیدہ شخصیات کا انتخاب کیا گیا، علماء میں دیگر کئی حضرات کے علاوہ نمایاں اوراہم نام حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمة الله علیہ کا تھا، انہوں نے مجلس کے اجلاسوں میں بھرپور محنت کے ساتھ شرکت کی ، شریعت کے نفاذ اور اسلامی قوانین کی عمل داری کے لیے جان دار اور مدلل قرار دادیں پیش کیں۔ زیرنظر کتاب میں مجلس شوری میں نفاذ اسلام کے لیے کی جانے والی ان کاوشوں اور خدمات کو مرتب کیا گیا ہے۔ یہ کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے، باب اول: مجلس شوری میں شرکت، باب دوم نفاذ اسلام کو تیز کرنے کے لیے جدوجہد، باب سوم قانون شہادت، باب چہارم قانون شفعہ، باب پنجم قصاص ودیات، باب ششم عشر وزکوٰة، باب ہفتم اسلامی فوج داری قوانین، باب ہشتم آٹھویں ترمیم، باب نہم امتناع قادیانیت آرڈی نینس، باب دہم قانون توہین رسالت، باب یازدہم عدالتی نظام کی اصلاح، باب دواز دہم نظام تعلیم کی اصلاح، باب سیز دہم قومی وملکی اور ملی مسائل کی ترجمانی، باب چاردہم تحاریک التواء، باب پانزدہم ترامیم اورباب شانزدہم مباحث مجلس شوریٰ کے عنوان سے ہے۔

وفاقی مجلس شوری میں مولانا کی شرکت پر بعض سیاسی حلقوں کو حیرت وتعجب ہوا تو مولانا نے ماہنامہ”الحق“ کے اداریے میں اس کا جواب دیا، کتاب کی ابتداء میں اس اداریے اور اہل علم کے ان تاثرات وپیغامات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اس مجلس میں شرکت پر موصول ہوئے۔سینیٹر راجہ ظفر الحق صاحب نے اس کتاب پر تقریظ لکھی ہے، جو اس وقت وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور تھے۔و ہ لکھتے ہیں:

”وفاقی مجلس شوری کا بنیادی مقصد نفاذ شریعت کے عمل کو مستحکم اور تیز رو بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔ علما کرام میں مولانا سمیع الحق شہید اور قاضی عبدالطیف صاحب مرحوم کی مشترکہ کوششیں سر فہرست رہی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کا قیام اور دائرہ اختیار، قانون شہادت ، قانونِ شفعہ، قصاص ودیت کا قانون، نظام تعلیم ،قرار دادِ مقاصد کو مؤثر بنانے کے لیے آئینی ترامیم، آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت قانون سازی، نظام زکوٰة اور نظام صلوٰة کا استحکام، رجال کا ر یعنی عدلیہ اور پولیس کے حاضر سروس افسر ان کی شرعی قوانین میں تربیت کا نظام، یہ وہ چند موضوعات ہیں جن کے بارے میں مولانا شہید نے اپنے ساتھیوں سے مل کر نفاذ شریعت کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز فرمائے جن میں سے اکثر پر عمل درآمد بھی ہو گیا تھا۔

وفاقی مجلس شوری کے ارکان میں دو طبقات بڑے واضح تھے۔ ایک وہ جو شریعت کے احکامات پر مکمل نہ صرف ایمان رکھتے تھے بلکہ اس کے پیچھے حکمت ِ خداوندی او رتعلیم ِ نبوی صلی الله علیہ وسلم سے بخوبی واقف تھے اور دلائل کے ذریعے دنیا کے دیگر نظاموں کے مقابلہ میں ان کی برتری ثابت کرتے تھے۔ دوسرا وہ طبقہ تھا جو استعمار ی نظام سے متاثر تھا، لیکن کوئی کمیٹی ہو یا مکمل ایوان ان دو طبقوں میں دلائل کے انبار لگ جایا کرتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ استعماری نظام کے حامیوں کی تعداد کم ہوتی گئی اور سارا ایوان اسلامی قوانین اور فقہ کا حامی ہو تا گیا۔ دلائل کی اس کش مکش میں مولانا سمیع الحق شہید کا کردار قائدانہ معیار کا ہوتا تھا۔ یہ طریقہ کار ارشاد خدا وندی کے عین مطابق تھا، جس کی وجہ سے وہ بدمزگیاں جو عموماً اسمبلی کے اجلاسوں میں ہوا کرتی ہیں ان کا سامنا مجلس شوری کے اجلاسوں میں نہیں کرنا پڑا۔“

کتاب کے ٹائٹل، بیک ٹائٹل، اند ر باہر تصاویر شائع کی گئی ہیں، جو ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ تصویر کی حرمت پر کم از کم برصغیر پاک وہند کے علمی حلقوں کا اجماع و اتفاق ہے۔ ایک علمی ودینی شخصیت کی اسلام کے نفاذکی کاوشوں کے سلسلے میں مرتب کی جانے والی کتاب میں یہ امر اور ناپسندید ہ بن جاتا ہے، لہٰذا اس سے بہرحال اجتناب کرنا چاہیے۔

یہ کتاب اپنے موضوع پر لائق تحسین اور قابل قدر علمی کاوش ہے۔ علمی حلقوں خصوصاً نفاذ اسلام کی کاوشوں میں شریک حضرات کو اس استفادہ کرنا چاہیے کتاب کا کاغذ درمیانہ ہے اور طباعت واشاعت میں سلیقے کا خیال رکھا گیا ہے۔