بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مبالغہ آرائی اور رنگ آمیزی

مبالغہ آرائی اور رنگ آمیزی

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی

بے اصل اور لایعنی باتوں کو اکثر لوگ خرافات سے تعبیر کرتے ہیں، اس لفظ کا قصہ یوں بتایا جاتا ہے کہ عرب میں قبیلہٴ جبینہ کے ایک شخص کا نام ”خرافہ“ تھا، جس کو جنوں کی ایک جماعت اچک لے گئی تھی اور وہ ان کے پاس ایک عرصہ تک مقیم رہا، پھر جب اس کو رہائی حاصل ہوئی اور اپنی قوم میں واپس آیا تو وہ بے شمار ایسی ایسی باتیں اور قصے بیان کرنے لگا کہ بالآخر لوگ اس کی صداقت پرشبہ کرنے لگے اور کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنی دروغ بیانی اور مبالغہ آمیزی میں ایسا مشہور ہوا کہ خرافات ہر بے اصل اور لایعنی بات کا نام پڑ گیا اور اسی وقت سے خرافات کی اصطلاح چل پڑی۔

یہ قصہ تاریخی حیثیت سے چاہے جیسا کچھ بھی ہو، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کذب بیانی اور مبالغہ آمیزی میں بڑی لذت ہے، مثلاً ایک باتونی شخص کو آپ لے لیجیے، اس کو جتنی لچسپی مجلس آرائی او رمبالغہ آمیز گفت گو سے ہوگی، اتنی شاید کسی اور چیز سے نہ ہو، چناں چہ وہ اپنی اس ہوس کو پوری کرنے کے لیے بے حقیقت واقعات کو اصل بنا کر پیش کرنے اور اس میں رنگ آمیزی کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتا ہے، وہ لوگوں کو ہنساتا ہے او ران کو متاثر ہوتے ہوئے دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہے،جن کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ ہر بات میں رنگ بھر کر اور اس کو مبالغہ کے ساتھ بیان کریں، اس طرح کے لوگ اکثر دوسروں سے سنی ہوئی بات یا کسی واقعہ کو ایسے زاویے سے نقل کرتے ہیں کہ اگر وہ معمولی اور ناقابل اعتنا ہو تب بھی بہت زیادہ ہیبت ناک اور قابل توجہ بن جائے، وہ ایک بات میں کئی بات اور ایک پہلو میں متعدد پہلو ملا کر کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سامعین پر اثر پڑنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ ایک عادت یا معمول ہے، جس میں علم وجہل، افراد وجماعت اور چھوٹے بڑے کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ ایک واقعہ پیش آتا ہے، جو اپنی عمومیت کے لحاظ سے سب پر عیاں ہے، مجالس ومحافل میں اس کا چرچا ہے، اخبارات میں اس کی خبریں شائع ہو رہی ہیں، لیکن آپ دیکھیں گے کہ جتنی مختلف مجالس ہیں اتنی ہی مختلف باتیں ہو رہی ہیں، وجہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر شخص اس خبر یا واقعہ کو زیادہ سے زیادہ… اہم بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے، تاکہ اسی کے مطابق اس کی اہمیت کا اظہار ہو سکے اور کسی نہ کسی پہلو سے وہ لوگوں کی نگاہوں میں ممتاز نظر آئے۔

کسی بات کو پھیلا کر اس کو اہم بنانے میں لاشعور کا وہ جذبہ کام کرتا ہے، جس میں انسان کو اپنی شخصیت کا احساس ہوتا ہے، یہی احساس بعض وقت بہت زیادہ مبالغہ آمیزی پر مجبور کرتا ہے، جہاں سے ایک معمولی حیثیت کا انسان تھوڑی دیر کے لیے بڑی شخصیت کی شکل میں اپنے آئینے میں دکھائی دیتا ہے۔

مبالغہ آمیزی یا کذب بیانی ایک ہی جنس کی دو چیزیں ہیں، اس جنس میں چوں کہنفس کو بے حد لذت اور خوشی محسوس ہوتی ہے، اس لیے اس کی طرف میلان ہونا ایک فطری بات ہے، نفس کے اس میلان کو اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ صرف دینی بیداری یا خدا کا خوف ہی ہوسکتا ہے، سچ بولنے میں بعض اوقات بظاہر خسارہ اور جھوٹ میں نفع نظر آتا ہے، لیکن اس کے باوجود جھوٹ کا باطنی خسارہ اس قدر بھیانک ہے کہ اس کی مثال معاشرہ میں قدم قدم پر ملتی ہے،چور اپنی چوری میں ماخوذ ہو جاتا ہے تو وہ مختلف طریقوں او رجھوٹ کے ذریعہ اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جوں ہی کوئی فوری اور تکلیف دہ سزا اس کو ملی، وہ فورا اپنی غلطی کا اقرار کر لیتا ہے، حالاں کہ اگر وہ صحیح بولتا او راپنی چوری پر ندامت کا اظہار کر لیتا تو شاید اس کو یہ سزا بھی نہ بھگتنی پڑتی، نفس کے اس رحجان کو بدلنے کے لیے شریعت نے بار بار معاشرہ کی اس خطرناک بیماری کی طرف توجہ دلائی ہے او راس سے باز رہنے کی ترغیب دی ہے۔

اس کے برعکس دنیا کے کسی بھی معاشرہ کو آپ لے لیجیے، کہیں بھی جھوٹ، مبالغہ آمیزی اور دردغ بیانی سے روکنے کے لیے کسی قانون یا جھوٹ بولنے پر کسی خاص قانونی سزا کا وجود نہیں ہے ، اگر ہم غور کریں تو یہ بات بالکل صاف طور سے نظر آتی ہے کہ جس معاشرہ کے افراد آپس میں کذب بیانی روا رکھتے ہوں، وہ ہر گز کام یاب اور مؤثر سوسائٹی قائم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور نہ وہ دنیا میں کوئی ذہنی یا فکری انقلاب برپا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

اسلامی معاشرہ اپنے پہلے دور میں جن خصوصیات کا حامل تھا، ان میں حق گوئی اور بے باکی کو بڑی اہمیت حاصل ہے، تاریخ میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں، بڑے بڑے بادشاہوں کے سامنے حق گوئی وراست بازی کا وہ معیار اس معاشرہ کے افراد نے قائم کیا جس کی مثال اب مفقود ہے، یہی وجہ تھی کہ وہ سوسائٹی نہایت پاک وصاف اور اخلاقی اقدار کاایک اعلیٰ نمونہ تھی، وہاں کذب وافترا اور ریا کاری ومصلحت بینی کا کہیں وجود نہ تھا۔

لیکن زمانہ جوں جوں گذرتا گیا، اخلاقی انحطاط بھی رونما ہوتا گیا اوراب اسلامی معاشرہ میں وہ ساری خرابیاں اور وہ تمام خطرناک بیماریاں داخل ہوچکی ہیں جو نہ صرف چند افراد یا کسی جماعت کے لیے خسارہ وہلاکت کا باعث ہیں، بلکہ پوری سوسائٹی اس خطرہ سے دو چارہے، قدم قدم پر ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں سرا سر اخلاقی انحطاط اور ذہنی گراوٹ کی کار فرمائی ہوتی ہے۔

معاشرہ کا ایک شخص کبھی اپنے دوسرے ساتھی کے لیے کسی عزت، بڑائی اور بلندی کو نہ صرف یہ کہ گوارا نہیں کرسکتا، بلکہ اس کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ عزت وبڑائی اس شخص سے منتقل ہو کر اس کی طرف آجائے، اگر صرف اتنا ہی ہوتا کہ کسی کی عزت وبلندی کو دیکھ کر یہ تمنا ابھرتی کہ وہ اس کے اندر باقی رہتے ہوئے اپنے اندر بھی پیدا ہوجائے تو زیادہ نقصان دہ نہ تھا، لیکن نفس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ:
        دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرنا۔
        دوسرے کو ذلیل کرکے خود عزت ووقار پانا۔
        دوسرے کو محتاج بنا کر خود صاحب دولت ہونا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان خرابیوں کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کذب کے ساتھ حسد بھی پوری طرح اپنا کام کرتا ہے، ذہن کے اس رحجان کو بدلنے کے لیے پہلے انہیں چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور اس کے لیے اجتماعی کوشش سے پہلے انفرادی کوشش کی ضرورت ہے، اس کے بغیر ساری کوششیں بے سود اور تمام تگ ودو بے کار ہے۔