بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماہ محرم شریعت کی نظر میں

ماہ محرم شریعت کی نظر میں

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَہُ، وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَہُ﴾․(سورةالزلزلة:8-7) صدق الله مولٰنا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! آج محرم الحرام کی دس تاریخ ہے، جو ہمارے ہاں اور اصطلاح شرع میں عاشورہ سے معروف اور مشہور ہے، گزشتہ جمعے بھی یہ بات عرض کی گئی تھی کہ الله رب العزت اس پوری کائنات کے اکیلے تنہا خالق او رمالک ہیں، یہ سارے آسمان، یہ تمام زمینیں اوران آسمانوں میں ایک دوسرے کے درمیان کیا کچھ ہے اور اس سے اوپر کیا ہے؟ ان زمینوں میں کیا کچھ ہے اور اس کے نیچے کیا ہے؟

الغرض پوری کی پوری کائنات اکیلے او رتنہا الله نے بنائی ہے، الله تعالیٰ کا نہ کوئی وزیر ہے، نہ کوئی مشیر ہے، وہ اپنی ہر چیز میں یکتا اور تنہا ہیں: ﴿قل ھو الله أحد﴾ الله تعالیٰ یکتا ہیں، تنہا ہیں، اکیلے ہیں، بے مثل ہیں، بے مثال ہیں، ان کی کوئی نظیر ، ان کی کوئی مثال ،ان کا کوئی ساجھی اور ان کا کوئی شریک کسی چیز میں نہیں ہے، یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ چناں چہ جیسے الله تعالیٰ نے یہ ساری کائنات بنائی ہے، تو ظاہر ہے کہ اس کائنات کے لیے الله تعالیٰ نے ایک نظام بھی بنایا ہے، یہ تو ممکن نہیں کہ آپ ایک عمارت بنا دیں اور اس کو یوں ہی چھوڑ دیں، ایسا تو نہیں ہوتا، یہ تو معقول نہیں، آپ دس لاکھ روپے، پچاس لاکھ روپے، ایک کروڑ روپے خرچ کرکے کوئی چیز بنائیں او راس کے بعد اسے یوں ہی چھوڑ دیں، ایسا نہیں ہے، الله تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی ہے اورایک مقصد سے بنائی ہے اوراس میں جو نظام بنایا ہے وہ نظام بھی بامقصد ہے، معقول ہے، اس میں کوئی چیز بھی عقل کے خلاف نہیں، اگرچہ ہماری عقل بہت چھوٹی سی ہے، الله تعالیٰ کی عظمت ،ان کی کبریائی او ران کی بڑائی کے سامنے ، ہماری عقل… کی کوئی حیثیت نہیں ہے، لیکن الله تعالیٰ کی ہر تخلیق عقل کے بھی عین مطابق ہے، سوائے ان لوگوں کے جنہیں الله تعالیٰ ہی بے عقل کر دیں، جنہیں الله تعالیٰ ہی پاگل اور مجنون بنادیں،جنہیں الله تعالیٰ ہی گم راہ اور بربادی میں مبتلا کر دیں، یہ ایک الگ بات ہے، آپ دیکھیے! سورج ہے، اس کے بارے میں شاید آپ جانتے ہوں کہ دنیا میں جو بہت زیادہ قیمتی گھڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہیں، وہ اپنی قیمتی گھڑی کے ساتھ ایک جملہ لکھتی ہیں کہ ہماری گھڑی کا وقت، اس کی ایکوریسی اور اس کی صحت اور درستی سورج کے مطابق ہے، یعنی جیسے سورج میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک سیکنڈ طلوع یا غروب میں کوئی فرق آئے۔

تو سورج کے خالق کون ہیں؟ وہ سورج ہماری اس دنیا سے لاکھوں، کروڑوں ، اربوں گنا بڑا ہے، یہ جو ہماری دنیا ہے، چھوٹا سا کرہ ہے، سورج کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس سورج سے بھی بڑے بڑے سیارے الله تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں، سورج بھی بہت چھوٹا سا ہے ، ان سیاروں کے مقابلے میں… تو الله رب العزت اس سارے نظام کو، جو اس پوری کائنات کا ہے، نہایت مرتب ، نہایت منظم انداز میں چلا رہے ہیں، میں اور آپ الله کی مخلوق ہیں، ہاں! ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے، یہ شرف حاصل ہے کہ الله تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے، ہمیں انسان بنا دیا ، الله تعالیٰ چاہتے تو ہمیں بندر بنا دیتے، الله تعالیٰ چاہتے تو ہمیں بلی بنا دیتے، الله تعالیٰ چاہتے تو ایک مکھی، مچھر بنا دیتے، ہم نے تو کوئی درخواست نہیں پیش کی تھی، الله تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے، اپنے کرم سے مجھے، آپ کو یہ اعزاز بخشا کہ ہمیں الله نے انسان بنایا ، ہمیں شیر نہیں بنایا، گیدڑ نہیں بنایا، لومڑی نہیں بنایا، الله تعالیٰ نے ہمیں انسان بنایا، یہ جو انسان ہے اس پوری کائنات میں ، اس میں آسمان بھی ہیں ، زمین بھی ہے، سورج بھی ہے، ستارے بھی ہیں، سیارے بھی ہیں اور جو کچھ آپ کو نظر آرہا ہے، وہ سب ہے اور جو نظر نہیں آرہا، وہ بھی سب ہے تو یہ انسان اس پوری کائنات او رتمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف اور سب سے زیادہ اعلیٰ مرتبے کا ہے، سب سے اونچا مرتبہ اس انسان کا ہے، میں عرض کر رہا تھا کہ جیسے الله تعالیٰ نے ساری کائنات بنائی، نہایت مرتب، نہایت منظم، ہر ہر چیز، کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں تناسب نہ ہو، جس میں اعتدال نہ ہو، جس میں صنعت کا کمال نہ ہو، کوئی چیز ایسی نہیں ہے، ہر چیز اعلیٰ درجے کی، تو میرے دوستو! الله تعالیٰ نے اس اعلی ترین کائنات میں جو نظام بنایا ہے وہ بھی نہایت اعلیٰ ہے۔چناں چہ گزشتہ جمعے میں نے یہ عرض کیا تھا کہ حدیث میں آتا ہے، سرور کائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب الله نے یہ کائنات بنائی، یہ دنیا بنائی، تو اسی وقت الله تعالیٰ نے بارہ مہینے بھی بنائے، یہ جو بارہ مہینے ہیں جو محرم سے شروع ہوتے ہیں۔ محرم پہلا مہینہ ہے، محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاولیٰ، جمادی الثانیہ، رجب ، شعبان، رمضان، شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ۔

یہ بارہ مہینے ہیں ،یہ بارہ مہینے بھی الله تعالیٰ نے اسی وقت بنائے، یہ بعد میں کسی نے نہیں بنائے، کسی نبی اور رسول نے نہیں بنائے، کسی فرشتے نے نہیں بنائے، میں نے اور آپ نے نہیں بنائے، کس نے بنائے؟ الله تعالیٰ نے اور الله تعالیٰ ہی نے ان بارہ مہینوں میں چار مہینوں کو بہت زیادہ عزت اور احترام دیا ہے:”عن ابن عباس قال خطب رسول الله صلی الله علیہ وسلم فی حجة الوداع فقال: ان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق الله السموات والأرض، وإن السنة اثنا عشر شھراً، منھا أربعة حرم ثلاثة ولاء ذوالقعدة وذوالحجة والمحرم والآخر رجب بین جمادی وشعبان․ (شرح مشکل الآثار، باب بیان مشکل ماروی عن رسول الله صلی الله علیہ وسلم من قولہ: ان الزمان قد استدار:4/87)

وہ چار مہینے کون سے ہیں؟ وہ ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم یہ تین ایک ساتھ ہیں اور بعض علما فرماتے ہیں ، بلکہ حدیث میں بھی یہ اثر موجود ہے کہ یہ جو تین ساتھ ہیں اس میں بھی الله کی حکمت ہے، الله کی حکمت سے تو کوئی چیز خالی ہے ہی نہیں، ہر چیز میں حکمت ہے ، ہر چیز معقول ہے، آپ جانتے ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، تو ذوالحجہ کہاں ہے، ذوالقعدہ او رمحرم کے بیچ میں، تو اس میں ایک حکمت یہ ہے کہ ساری دنیا سے الله کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے حجاج الله کے گھر جاتے ہیں ذوالحجہ میں۔ تو ان کا سفر شروع ہوا، ذوالقعدہ میں اور وہ وہاں پہنچ جائیں، ذوالحجہ میں اور وہ حج کرکے فارغ ہوں اورپھر وہ واپس اپنے گھروں کو پہنچ جائیں، محرم میں، تو یہ تین مہینے۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم… اس کے بعد چوتھا مہینہ ہے رجب، رجب بھی انہیں چار مہینوں میں ہے جنہیں الله نے عزت دی۔

چناں چہ یہ جو رجب ہے اس کے بارے میں حدیث میں یہ اثر موجود ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ عمرے کا مہینہ ہے، لوگ رجب کے شروع میں عمرے کے لیے جاتے ہیں اور اس کے آخر تک گھروں کو واپس آجاتے ہیں۔ میں عرض کر رہاہوں کہ یہ جو چار مہینے ہیں، ان چار مہینوں میں محرم بھی وہ مہینہ ہے جسے الله تعالیٰ نے عزت دی ہے، احترام دیا ہے، ہمارے ہاں عام طور پر محرم کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ نعوذ بالله، نعوذ بالله یہ کوئی نحوست کا مہینہ ہے، ایسا نہیں ہے اور یہ جو عزت الله نے اس محرم کے مہینے کو دی ہے، یہ پانچ سال پہلے ، سو سال پہلے، پانچ سو سال پہلے، دو ہزار سال پہلے، نہیں، جب دنیا بنی، اس وقت دی ہے اور یہ صرف محرم کو نہیں دی ہے، ذوالقعدہ کو، ذوالحجہ کو، محرم کو اور بعد میں جو مہینہ ہے الگ، وہ رجب کا مہینہ ہے اس کو الله تعالیٰ نے عزت دی ہے، چناں چہ یہ ایک اصولی بات ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ یہ چار مہینے معزز ہیں، محترم ہیں، میں آج یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ ہمارے ہاں لاعلمی کی وجہ سے، لوگوں کو پتہ نہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت محرم میں ہوئی تو نعوذ بالله کہیں یہ مہینہ منحوس ہو گیا، اس میں چوڑیاں عورتیں نہ پہنیں، اس میں کالے کالے لباس پہنیں، اس کے اندر غم اور پریشانی کی کیفیت اپنے اوپر طاری کریں، یہ ایک عام ذہن ہے۔

میرے دوستو! خوب دیاد رکھیں کہ اگر حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت خدانخواستہ خدانخواستہ پھر خدا نخواستہ، کسی نحوست کا سبب بنتی تو بھائی! حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ سے تو بہت بڑے بڑے حضرات، خود آں حضرت صلی الله علیہ وسلم، آپ مجھے بتا ئیے کہ طائف میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ جو سلوک ہوا کہ آپ کا جسم مبارک زخمی ہو گیا، آپ کے اوپر پتھراؤ کیا گیا ، آپ کے جسم سے خون بہا، آپ کے جوتوں کے اندر خون جم گیا، آپ کی نعوذ بالله طائف والوں نے بے قدری کی:”فخرج رسول الله صلی الله علیہ وسلم إلی الطائف…… فقالوا: اخرج من بلدنا وأغروا بہ سفہاء ھم فوقفوالہ سماطین، وجعلوا یرمونہ بالحجارة حتی دمیت قدماہ․(زادالمعاد، فصل فی ھدیہ صلی الله علیہ وسلم فی الجہاد والمغازی:3/31) تو ہمیں تو پھر اس دن کو بھی غم کے طور پر منانا چاہیے۔ یانہیں منانا چاہیے؟ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ تو امام الانبیاء ہیں، وہ تو سید الرسل ہیں، وہ تو حضرت حسین رضی الله عنہ کے نانا ہیں، ان کو تکلیف پہنچائی ہے، پھر غزوہ احد میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہوا، آپ کے ماتھے پر زخم آیا، آپ کے رخسار پر زخم آیا، آپ صلی الله علیہ وسلم کے جسم مبارک سے خون بہا، حضرت فاطمہ رضی الله تعالی عنہا تشریف لائیں اور خون بہہ رہا ہے، خون رک نہیں رہا، وہ بار بار پانی لگاتی ہیں،جتنا پانی لگاتی ہیں، اتنا خون بہہ رہا ہے، وہاں کھجور کے پتوں کی چٹائی تھی، حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نے وہ چٹائی تھوڑی سی توڑی ، اس کو جلایا او رجلا کے اس کی راکھ آپ صلی الله علیہ وسلم کے زخم مبارک پررکھی، اس سے وہ خون رکا:”أنہ سمع سھل بن سعد رضی الله عنہ یُسأل عن جرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم یوم أحد فقال: جرح وجہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم وکسرت رباعتیہ وھشمت البیضة علی رأسہ فکانت فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم تغسل الدم وکان علی بن أبی طالب رضی الله عنہ یسکب الماء علیہ بالمجن، فلما رأت فاطمة رضی الله عنہا أن الماء لا یزید الدم إلاکثرة أخذت قطعة حصیر فأحرقتہ حتی إذا صار رماداً الصقتہ بالجرح فاستمک الدم․ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب السیر، باب شہود من لافرض علیہ القتال، رقم الحدیث:18313)

بھائی! ہمیں تو پھر غزوہ احد جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے اور کیسے شہید ہوئے، حضرت حمزہ رضی الله تعالیٰ عنہ جن کے بارے میں آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ سید الشہداء ہیں:”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: سید الشہداء حمزة بن عبدالمطلب․“ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث:2958)

آپ صلی الله علیہ وسلم کے سگے چچا ہیں، حضرت حمزہ کو کیسے شہید کیا گیا؟ ان کے کان کاٹ دیے گئے، ان کے ہونٹ کاٹ دیے گئے، ان کے سینے کو چیرا گیا، اس میں سے ان کا جگر نکالا گیا اور ہندہ نے حضرت حمزہ رضی الله عنہا کے جگر کو چبایا اور یہ سارا منظر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ سے برداشت نہیں ہوا تو آپ نے یہ قسم کھائی کہ اگر اگلی جنگ ہوئی تو میں کفار اور مشرکین کے ستر آدمیوں کے ساتھ یہ سلوک کروں گا، ان کے اسی طرح کان کاٹوں گا، ایسے ہی ان کی ناک کاٹوں گا، ان کے ہونٹ کاٹوں گا او ران کے سینے چیر کر اس میں سے دل، گردے او رجگر نکالوں گا، تو فوراً الله کا حکم نازل ہو گیا کہ نہیں آپ کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔”عن أبی ھریرة أن النبی صلی الله علیہ وسلم وقف علی حمزة بن عبدالمطلب حین استشھد فنظر إلی شیء لم ینظر الی شیء قط کان أوجع لقلبہ منة فنظر إلیہ قد مثل بہ، فقال… أما والله علی ذلک لأمثلن بسبعین منھم مکانک، قال فنزل جبرئیل علی النبی صلی الله علیہ وسلم وھو واقف بخوایتم سورة النحل: ﴿وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ …﴾ فصبر النبی وکفّر عن یمینہ وأمسک عما أراد․ ( شعب الإیمان، کتاب الجہاد باب فی الصبر علی المصائب، رقم:79253)

میرے دوستو! اگر غم منانا ہے ، تو غم تو پھر اس کا منایا جائے، اصل بات کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ محرم الحرام نحوست کا مہینہ نہیں ہے، وہ تو عزت کا مہینہ ہے؟ وہ تو احترام کا مہینہ ہے اس کا بہت بڑا مقام اور بہت بڑا مرتبہ ہے اور وہ کب سے محترم ہے، وہ اس وقت سے محترم ہے جب سے یہ دنیا بنی ہے۔

جب آپ صلی الله علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ آئے، تو یہاں مختلف قبائل آباد تھے، ایک قبیلہ تھا بہت بڑا، اس کا نام تھا قبیلہ اوس اور ایک قبیلہ تھا اس کا نام تھا خزرج، بڑے بڑے قبائل۔ ایسے ہی وہاں یہودیوں کے قبائل آباد تھے، بنو نضیر کا بڑا قبیلہ تھا بنو قریظہ ان کا بڑا قبیلہ تھا، بنو قنیقاع ان کا ایک قبیلہ تھا، بڑے بڑے قبائل تھے، یہودیوں کے، اوس اور خزرج یہودی نہیں تھے، لیکن جیسے یہودیوں کا طریقہ ہے، آج بھی ہے کہ وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کے دنیا کو آپس میں لڑاتے ہیں او راپنا اسلحہ بیچتے ہیں، یہ نیا طریقہ نہیں ہے ، پرانا طریقہ ہے، چناں چہ مدینہ میں وہ یہی کام کرتے تھے کہ پردے کے پیچھے رہتے اور اوس اور خزرج کو آپس میں لڑاتے، اب یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ رہے ہیں، جنگیں ہو رہی ہیں، جنگ کے اندر کیا چاہیے؟ تیر چاہیے، تلواریں چاہییں، نیزے چاہییں، یہ یہود بنا بنا کے دونوں کو بیچتے، وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ان میں صلح ہو، یہ لڑتے رہیں، ان کی لڑائی ہوگی، ہمارا اسلحہ بکے گا، جیسے آج ہو رہا ہے… جب آپ صلی الله علیہ وسلم جب تشریف لائے ، تو آپ نے آکر اوس اور خزرج میں صلح کروا دی، دونوں قبیلے مسلمان ہو گئے اور وہ جنگ ختم ہو گئی ، جنگ ختم ہو گئی تو یہودیوں کا کاروبار بھی ختم ہو گیا، آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں آپ نے ان کو بلایا کہ ! تم یہ دس محرم کو روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا جی اصل میں حضرت موسی علیہ السلام کو الله تعالیٰ نے دس محرم کے دن او ران کی قوم بنی اسرائیل کو دس محرم کے دن فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون او راس کے لشکر کو الله تعالیٰ نے دس محرم ہی کے دن دریا برد کیا تھا، غرق کیا تھا، تو حضرت موسی علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسی علیہ السلام سے تو ہمارا تعلق زیادہ ہے، ہم تمہارے مقابلے میں حضرت موسی علیہ السلام سے زیادہ قریب ہیں، چناں چہ آپ نیحکم فرمایا کہ دس محرم کو روزہ رکھو، اس وقت رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے، چنا ں چہ دس محرم کا روزہ فرض کر دیا گیا:”عن ابن عباس رضی الله عنہما قال قدم رسول الله صلی علیہ وسلم المدینة، فوجد الیہود یصومون یوم عاشوراء، فسئلو عن ذلک، فقالوا ھذا الیوم الذی اظہر الله فیہ موسی وبنی اسرائیل علی فرعون، فنحن نصومہ، فقال النبی صلی الله علیہ وسلم: نحن أولی بموسی منکم فأمر بصومہ․ ( مسند البزار، مسند ابن عباس رضی الله عنہما، رقم الحدیث:5133)

عن عائشة رضی الله عنہا قالت: کان عاشوراء… فلما افترض رمضان کان رمضان ھو الفریضة وترک عاشوراء، فمن شاء صامہ ومن شاء ترکہ․(سنن الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی الرخصة فی ترک صوم یوم عاشوراء:753)

اب جب آپ نے دس محرم کا روزہ رکھا تو یہ روزہ تو یہودی رکھتے تھے، صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا کہ اے الله کے رسول! دس محرم کا روزہ تو یہودی رکھتے تھے، اب آپ بھی اور ہم بھی رکھ رہے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری، اس عمل میں،یہودیوں کے ساتھ مشابہت ہو گئی، جب کہ دین اسلام تو مستقل دین ہے، پہلے تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر اگلے برس میں زندہ رہا تو اس دس محرم کے روزے کے ساتھ میں نو محرم کا بھی روزہ رکھوں گا، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے کہ ہم ان کے طریقے پر نہیں چل رہے، نو محرم کا بھی رکھوں گا اور دس محرم کا بھی رکھوں گا:”عن عبدالله بن عباس رضی الله عنہما یقول:حین صام رسول الله صلی الله علیہ وسلم یوم عاشوراء وأمر بصیامہ قالوا: یا رسول الله، إنہ یوم تعظمہ الیہود والنصاری، فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: فإذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا الیوم التاسع، قال فلم یأت العام المقبل حتی توفی رسول الله صلی الله علیہ وسلم․“ (الجامع الصحیح لمسلم، کتاب الصیام، باب أی یوم یصام فی عاشوراء، رقم:1134)

وأما القسم السادس وھو المکروہ، فھو قسمان: مکروہ تنزیہا ومکروہ تحریما، الأول الذی کرہ تنزیھا کصوم یوم عاشوراء منفرداً عن التاسع أو عن الحادی عشر․“ (مراقی الفلاح علی نور الإیضاح، فصل فی صفة الصوم:640)

اس طرح اب ہمارے لیے یہ روز رکھنا آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہے، چناں چہ محرم میں اور خاص طور پر دس محرم کو، کرنے کا کام ہے ، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی ہدایت ہے، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم ہے، اپنی امت کو، وہ دو باتوں کی ہے ۔

ایک بات یہ کہ دس محرم کا روزہ رکھو او راس سے پہلے ایک دن نو کا اور اگر نو کو نہ رکھ سکو، تو دس کے بعد گیارہ کا اس لیے رکھوتاکہ تمہارا یہ عمل یہود کی مشابہت سے پاک ہو جائے اور تم یہودیوں کی مخالفت کرکے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کرو، ایک کام تو یہ ہے ۔

دوسرا کام جو اس دن کرنے کا ہے ، وہ یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی اس دس محرم کو اپنے اہل وعیال پر نفقے اور خرچ میں وسعت کرے گا ، الله تعالیٰ پورے سال روزی اور اس کے رزق میں برکت اور وسعت عطا فرمائیں گے:”عن أبی ھریرة رضی الله عنہ أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: من و سع علی عیالہ وأھلہ یوم عاشوراء وسع الله علیہ سائر سنہ․“ (شعب الإیمان للبیہقی، کتاب الصیام، باب صوم التاسع مع العاشر، رقم الحدیث:3515)

باقی ان کے علاوہ کالے کپڑے پہننا، کالے جھنڈے لگانا،جلوس نکالنا، ماتم کرنا، کپڑے پھاڑنا، اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اس کا محمدرسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں، چناں چہ ہمیں اہتمام کرنا چاہیے کہ ہم اس دن روزہ رکھیں، لیکن یہ فرض نہیں، یہ واجب نہیں، یہ مستحب کے درجہ میں ہے۔

جو روزہ رکھے گا تو حدیث میں ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اس کے سال کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں:”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:… وصیام یوم عاشوراء أحتسب علی الله أن یکفر السنة التی قبلہ․“ (الجامع الصحیح لمسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام من کل شھر، رقم الحدیث:1162)

اور آخری بات یہ کہ محرم کا پورا مہینہ، شہر الله ہے، یہ الله کا مہینہ ہے، اس کی نسبت الله نے اپنی طرف فرمائی، چناں چہ علما نے فرمایا کہ اس پورے مہینے میں، یعنی دس محرم کے علاوہ بھی پورے مہینے میں روزہ رکھنا باعث اجر وثواب ہے اس میں رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں کے مقابلے میں اس شہر الله میں، اس محترم او رمعزز مہینے میں روزہ رکھنا دیگرمہینوں میں روزہ رکھنے کے مقابلے میں زیادہ اجر اور ثواب کا ذریعہ ہے، چناں چہ ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جو کچھ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ہمیں فرماگئے ہیں ہم اس پر عمل کریں۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾․