بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماحول کا اثر

ماحول کا اثر

مولانا شمس الحق ندویؒ

بخاری شریف کی روایت ہے: حضرت ابو موسعی اشعری نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک اور بد ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے، مشک بیچنے والا تمہیں مشک دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا ( کم از کم) یہ کہ جب تک اس کے پاس رہوگے، اچھی خوش بو ملے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا بدبو ملے گی۔“

علامہ حکیم راغب اصفہانی اپنی کتاب ”الذریعة الی مکارم الشریعة“ میں صفحہ 255/ 256 پر لکھتے ہیں:
”انسان کے لیے ضروری ہے کہ نیکوں کا ساتھ اختیار کرنے کی بھرپور کوشش کرے کہ نیکوں کا ساتھ بروں کو اچھا بنا دیتا ہے، ایسے ہی جیسے بروں کا ساتھ اچھوں کو برا بنا دیتا ہے۔ بعض اہل علم اور دانش مندوں کا کہنا ہے کہ جو بھلے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا اس کو ان کی برکت حاصل ہو گی، اس لیے کہ الله تعالیٰ کے نیک بندوں کے ساتھ بیٹھنے والا محروم وبدنصیب نہیں ہوتا، چاہے کتا ہی کیوں نہ ہو، جیسے اصحاب کہف کا کتا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا:”اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے ہے۔“

اسی لیے اہل علم وتجربہ کہتے ہیں کہ نو عمروں کو بے وقوفوں کے ساتھ بیٹھنے نہ دو۔

امیر المومنین حضرت علی کرم الله وجہہ نے فرمایا کہ برے آدمی کے ساتھ نہ رہو کہ وہ اپنے برے عمل کو تمہاری نظروں میں اچھا دکھائے گا اور چاہے گا کہ تم بھی اس جیسے بن جاؤ۔ یہ وہ کھلی ہوئی بات ہے جو برابر تجربہ میں آتی رہتیہے کہ بُروں کا ساتھ اختیار کرنے والے برائی ہی کی راہ پر چل پڑتے ہیں، اسی لیے یہ حکم ہے کہ اس کے ساتھ رہو جس کا دیکھنا تم کو الله کی یاد دلائے او را س کی باتیں تمہارے اچھے عمل کو بڑھاتی رہیں۔ بُروں کے ساتھ بیٹھنے سے اس لیے بھی روکا جاتا ہے کہ اس کی بُری عادت غیر محسوس طریقہ پر تمہارے اندر پیدا ہوتی جائے گی اور تمہیں اس کاپتہ بھی نہ چلے گا۔

ساتھی کا اثر اس کی باتوں او رعمل ہی سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کو دیکھنے کا بھی اثر پڑتا ہے، اس کی اچھی یا بُری عادتیں انسان پر اثر ڈالتی رہتی ہیں ، جیسے کسی خوش دل اور ہنس مکھ آدمی کو دیکھ کر دل پر اثر پڑتا ہے کہ بجھا ہوا اور رنجیدہ آدمی بھی اس کے پاس بیٹھ کر خوش ہو جاتا ہے اور اپنا غم بھول جاتا ہے، لیکن جب غمگین آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ بھی رنجیدہ ہو جاتا ہے، اس کے غم کا اثر اس کے دل پر بھی پڑتا ہے۔

یہ بات صرف انسانوں ہی میں نہیں پائی جاتی،بلکہ دوسرے جانوروں، حتی کہ نباتات، پیڑ، پودوں میں بھی پائی جاتی ہے، قوی اور مضبوط اونٹ کم زور پست ہمت اونٹوں کے ساتھ رہ کر پست ہمت ہو جاتا ہے، خوش بو کا تر وتازہ پودہ مر جھائے ہوئے پودوں کے پاس ہونے کے سبب مرجھا جاتا ہے ،جیسا کہ ماہرین نباتات کاتجربہ ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ پانی اور ہوا بھی قریب میں پڑے ہوئے مردار سے متاثر ہو جاتے ہیں، ان میں بھی بدبو اور جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس شخص کو ذرا بھی تجربہ ہواس کو تسلیم کر لے گا، جب یہ چیزیں قربت کا اتنا اثر قبول کرتی ہیں تو پھر جوان سب میں ممتاز، باشعور اور ماحول کا زیادہ اثر قبول کرنے والا ہے وہ کیسے صحبت کے اثر سے محفوظ رہ سکتا ہے؟ لہٰذا صالحین کی صحبت اختیار کرنا اور برے لوگوں سے دور رہنا اپنی سیرت کو سنوارنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا بہتر اور تازہ غذا جسم کے لیے ۔

اس وقت ہم جس ماحول میں سانس لے رہے ہیں وہ بے حیائی کا حیا سوز اور انسانیت سوز ماحول ہے، اس ماحول میں نو خیز نسل، حتی کہ معصوم بچوں تک پر کتنا غیر معمولی اثر پڑ رہا ہے، ہم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے، اس لیے اس کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت او راس گندے ماحول سے بچانے کی اتنی ہی فکر کریں، بلکہ اس سے بڑھ کر جتنا وبائی امراض کے زمانہ میں بیماریوں کے جراثیم سے بچانے کی فکر کرتے ہیں، حد یہ کہ اب جدید ترین موبائل تک میں یہ برائیاں سرایت کر گئی ہیں اور نوجوانوں کے لیے ایک خطرہ بن گئی ہیں۔ یہی چیزیں جو آج ہمیں اچھی اور سہولت کی معلوم ہو رہی ہیں، اگر ان کا استعمال فکر وہوش مندی کے ساتھ نہ کیا گیا تو ہماری نئی نسل کا مستقبل دہریت ولادینیت کے خطرہ میں پڑ جائے گا، لہٰذا ان چیزوں سے حفاظت وبچاؤ کی جو بھی ممکنہ کوششیں ہوں وہ کرنا ضروری ہیں۔

یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے، لہٰذا الله تعالیٰ کے نیک بندوں کی مجالس میں حاضری تعمیر سیرت کے لیے ضروری ہے۔ یہ ممکن نہ ہو تو ایسے خاصان خدا کے حالات وملفوظات اور تذکروں کا پڑھنا ضروری ہے۔