بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مؤمن کی زندگی

مؤمن کی زندگی

عبید اللہ خالد

یہ دنیا عارضی اور فانی ہے ، لیکن الله تعالیٰ نے اس میں کشش اور جاذبیت رکھی ہے او رانسان اس کرہٴ ارض میں آکر اس کی رنگینیوں میں مسحور ہو کر اپنی اصل اور اپنے حقیقی مرجع کو بھول جاتا ہے اور غرور وتکبر میں مبتلا ہو کر سر کشی پر اتر آتا ہے، ایک مؤمن کی یہ شان ہے کہ وہ اپنی چوبیس گھنٹے کی زندگی میں پوری کوشش کرے کہ اس کا دل الله تعالیٰ کی یاد سے وابستہ ہو، اس کی صبح شام، دن رات یاد الہی سے معمور ہو، تاکہ وہ دنیا میں رہ کر دنیا کے سحر سے محفوظ رہے، سر کشی اور غرور وتکبر میں مبتلا نہ ہو، خوشی ہو، یا غم دونوں حالتوں میں الله تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو اور الله تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے والا ہو، مؤمن کو خوشی وغم دونوں حالتوں میں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور نفس وشیطان کے شر سے اپنے آپ کو حتی الوسع بچانا چاہیے، تاکہ وہ انسان کو راہ راست سے نہ ہٹائیں اور ان کے فریب میں آکر ایک مسلمان اس دنیا کو آخری ، حقیقی اور لازوال ٹھکانہ سمجھ کر اپنے تن من دھن کی بازی اس کے حصول میں نہ لگائے اور اس کے فریب میں مبتلا ہو کرزندگی کے قیمتی لمحات ضائع نہ کرے، اس لیے حدیث میں آتا ہے کہ ”الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر“ لہٰذا ایک مسلمان کو ہر وقت تیقظ اور بیدارمغزی کا مظاہر کرنا چاہیے، دنیا کی خوشی او راس کا حصول چاہے کتنا ہی اعلیٰ پیمانے کا کیوں نہ ہو، اس پر غرور وتکبر او رگھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، وہ الله تعالیٰ کی نعمت ہے، ہاں! اس پر الله تعالیٰ کا شکر ضرور ادا کرنا چاہیے اور اس کے جو شرعی تقاضے او رحقوق ہیں ان کوبہرحال بجا لاناچاہیے۔

اسی طرح حصول معاش او رکمانے کے ذرائع اختیارکرنا شریعت میں ممنوع نہیں ہے، لیکن ان میں اس طرح کی مشغولیت او رانہماک ممنوع ہے، جس سے عبادت الہی اور آخرت کی طرف توجہ متاثر ہو، دنیا طلبی کی حرص میں مبتلا ہو کر انسان اپنے خالق اورمسبب حقیقی کی یاد سے غافل ہو جائے اور حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب ہو۔ الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی تعریف وتحسین فرمائی ہے جن کو دنیا کی مشغولیت الله تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کرتی، وہ اپنی تجارت وغیرہ میں مشغول رہنے کے باوجود امور آخرت سے غافل نہیں ہوتے بلکہ دنیا کے ساتھ آخرت کی صلاح وفلاح کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے الله کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے کہ میں جب اس کو اختیار کروں تو الله تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کریں اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، دنیا سے زہد اختیار کرو (یعنی اس کی محبت میں گرفتار نہ ہو، اس کی فضولیات سے اعراض کرو اور امور آخرت کی طرف متوجہ رہو) الله تعالیٰ تم سے محبت رکھے گا او راس چیز کی طرف رغبت نہ کرو جو لوگوں کے پاس ہے(یعنی جاہ ودولت) لوگ تم سے محبت کریں گے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

الله تعالیٰ ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے والا بنائے اور مسنون زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!