بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قوم کی سربلندی نئی نسل کو سنوارنے میں ہے

قوم کی سربلندی نئی نسل کو سنوارنے میں ہے

مولانا نثار احمد حصیر قاسمی

بچے ماں باپ کے دلوں کے ٹکڑے، جگر گوشے اورمرنے کے بعد یاد کیے جانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، وہ مستقبل کو بنانے سنوارنے یابگاڑنے والے ہوتے ہیں، امت کی ترقی وخوش حالی اورقوم کی رفعت وبلندی کے بارے میں ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں، وہ اگر امت کی ترقی وبھلائی اوررفعت وبلندی کی خواہش رکھتے ہیں اوراس امانت وذمہ داری کو نبھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کام یابی وکام رانی اورعزت وسربلندی کے اسباب ووسائل اختیار کریں، ان اسباب ووسائل میں سب سے اہم جو مستقبل کی تعمیر اوراسے سنوارنے میں ممد ومعاون بن سکتے ہیں یہ ہے کہ وہ حسن اخلاق اورعمدہ صفات کے زیورسے آراستہ ہوں اورایسے اقدار کو اپنائیں جسے اختیار کرنے پر ہمارے دین حنیف نے ابھارا اوراس کی ترغیب دی ہے، انسان کو عطا کردہ جوہروں میں یہی سب سے قیمتی وحسین جوہر اورعمدہ زیور ہے جس سے انسان اپنے آپ کو آراستہ کرسکتا اورصاحب ایمان اسے اپنی متاع زندگی مشعل راہ بناسکتاہے۔

انسانی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری اورسب سے اہم فریضہ آنے والی نسل کی تعمیر ہے، یہی وجہ ہے کہ تہذیب وثقافت کے علم بردارمذہب اسلام نے تہذیبی پہلووں کو پروان چڑھانے پر زور دیا اورصحت کی بنیادوں پر اسے ترقی دینے کی ترغیب دی ہے اوراس کے ساتھ ہی اس نے مادی وروحانی پہلووں پر نہ صرف توجہ دینے کی تاکید کی، بلکہ اسے اولیت دینے اورزندگی کی تعمیر وترقی کے لیے اس کو اساس بنانے کو لازم قرار دیاہے، اسلام نے تعمیرشخصیت پر خاص توجہ دی اورتعلیم وتعلم، معرفت عقلیہ ونقلیہ پر اپنی توجہ مرکوز کی اوراکیڈمک پہلووں کو اپنی توجہ کا مرکز بنایاہے، جس کے سہارے ایسی نسل تیار ہوسکے جو اپنی تعلیمی قابلیتوں ومہارتوں کے ذریعہ سماج کا مفید وکارآمد عنصر ثابت ہو اورکوئی بھی انسان اورکوئی بھی نسل نافع اسی وقت ہوسکتی یا کارآمد عنصر اسی وقت بن سکتی ہے جب کہ اسے اسلامی اقدار اوردینی زیور سے آراستہ کیا جائے، نسل انسانی کی تعمیر اورتعلیم وتربیت کا بنیادی مقصد سلف صالح کے طریقہ پر چلنے والی نسل تیار کرنا ہے، جو اپنے دین ومذہب اوراونچے اقدار واخلاق کی پابندہو، ان کی تعمیر اسلامی اصول وضوابط کی روشنی میں ہو اورانہیں اس طرح تیار کیا جائے کہ انہیں دین میں بصیرت حاصل ہو اوران کی یہ بصیرت انہیں تہذیبی یلغاروں سے محفوظ رکھے۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمنان اسلام نے ہماری نئی نسل کو بگاڑنے، انہیں اپنے عقیدے سے دور کرنے، ان میں بے راہ روی ورذائل پھیلانے اوران میں فکری واخلاقی گراوٹ پیدا کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کردی ہے، ہمارے تعلیمی ادارے مغربی تہذیب کو پھیلانے اوران کی یلغار کا شکار بنانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں، ہمارے برصغیر پاک وہند کے دینی مدارس ہی ہیں جو انہیں اس یلغار سے بچانے کی فکر کررہے ہیں اورنئی نسل میں اسلامی اخلاق واقدار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مگریہ طوفان اتنا طاقت ور ہے کہ اس کے سامنے یہ بھی بے بس نظر آرہے ہیں، آج مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی درس گاہیں اورمراکز قائم کریں جو اس یلغار کا پورے وسائل کے ساتھ مقابلہ کرسکیں، اسلام کے اقدار وآداب کو اس کے نصاب کا حصہ بنایاجائے، اوراسے مسلمانوں کی زندگی کا جز بنانے کی کوشش کی جائے کہ اسی طرح مسلمانوں کو ترقی وبلندی کی راہ پر لگایاجاسکتاہے۔ سائنس وٹیکنالوجی، اخلاق وآداب اورنظم وانتظام کے میدانوں میں ان کے اندر مہارت پیدا کی جائے، آج ان عصری علوم کے بغیر نہ اسلام کی حفاظت ممکن ہے، نہ اسلامی تہذیب کی، اس لیے ایسی درس گاہوں کی اشد ضرورت ہے جہاں مسلمان بچے اپنے دین وایمان، اورعقیدہ واخلاق کی حفاظت کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کرسکیں اوراس میں مہارت پیدا کرسکیں،انہیں اس قابل بنایاجائے کہ وہ دوسروں کے سامنے اسلام کو صحیح وسچی صورت میں پیش کرسکیں اورامت مسلمہ اپنے اصل کی طرف واپس آسکے، جس میں ہی ہماری سربلندی اورعظمت وشرف پنہاں ہے۔

غرض مسلم نوجوانوں کے اندر اخلاق واقدار کی تعمیر وترقی کے لیے ضروری ہے کہ ان میں اندرونی وانفرادی طور پر برائیوں سے روکنے والا ملکہ پیدا کیاجائے، انہیں اپنے نفس پر کنٹرول کا طریقہ سکھایاجائے اورانہیں خوگر بنایاجائے کہ ان کا طرز عمل ایسا ہو جو ہرایک کے لیے پسندیدہ ہو، ان میں اشتعال کی کیفیت کبھی پیدا نہ ہو اورنہ دوسرے کے ورغلانے پر وہ اسلام کی راہ اوراس کے بتائے ہوئے راستہ سے ہٹیں۔

اس میں شبہ نہیں کہ خاندان اورفیملی سماجی نقل وحرکت وسرگرمیوں میں اہم رول ادا کرتی ہے، بے مقصد زندگی کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی اورمقصد بھی اگر اونچا اوربلند نہ ہو تو انسان بے فیض ہوتاہے، تعلیم وتربیت کا بنیادی مقصد ہی صالح انسان تیار کرنا ہے، جو اپنے پیغام اوراپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے سکے، وہ اپنے نفس پر کنٹرول رکھتاہو اوراس کا طرہ امتیاز اصلاح واخلاص اورصداقت وامانت ہو، آج نئی وپرانی نسل کے درمیان فاصلہ طویل ہوگیاہے اوراس فاصلے میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ،جس کی وجہ رابطے کے وسائل کی تیز رفتار ترقی اورمعلومات کے خزانے کی فراہمی ہے، اس صورت حال میں پرانے لوگوں کی باتیں ان کی نگاہوں میں دقیانوسی نظر آتی ہیں جو عصرحاضر کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتی ہیں اورنہ ہی نوجوانوں کی امنگوں پر پورا اترتی ہیں، جب کہ ان کی امنگیں دین وایمان اورآداب واخلاق سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ہیں۔

آج ذرائع ابلاغ اورسماجی رابطے کے وسائل کے ذریعہ جو آلودہ جھونکے چل رہے ہیں اس نے نوجوان نسل کے عقلوں پر دبیز پردہ ڈال دیاہے جس نے ہرمفید وکارآمد چیز کو چھپادیااوربے فیض ومہلک کو مفید ونافع بناکر عقلوں کو مسحور کردیاہے، اس زمانہ میں انسان بڑی پیچیدہ صورت حال سے دوچارہے، انسانی زندگی میں بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، ہمیں چیلنجیز بھرے مستقبل کی فکر لاحق ہے، مستقبل سے متعلق ہمیں چیلنجوں کے طوفان اورسیل رواں کا سامنا ہے، جس نے خاندان کو فعال طریقہ پر راہ نمائی کرنے والے رول سے دور کردیا اوراس کی اتھارٹی وحاکمیت کو کم زور کردیاہے، دوسری طرف گلوبلائزیشن، میڈیا، ثقافتی انقلاب اورانفارمیشن ترقی کا رول چھاتاجارہاہے، اس تبدیلی نے خاندانی نظام کو بے حد متاثر کردیاہے اوراب یہ نظام مایوسی کا شکار نظر آرہا ہے اور اس میں وسیع شگاف پیدا ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر ہے، اس کے بس میں نہیں رہاہے کہ وہ نئی نسل کو سنوارسکے، اس کی بہتر تربیت کرسکے اورقوم کی تعمیر اسلام کے تہذیبی اقدار واخلاق کے مطابق کرسکے، اس کا نتیجہ ہے کہ ہماری نئی نسل بڑی تیزی سے اپنے محفوظ ومامون راستے سے ہٹتی جارہی ہے، ان میں فساد وبگاڑ پیدا ہورہا ہے اوروہ لاپرواہی جلدبازی اورغیر متوازن نقل وحرکت کے عادی بن رہے ہیں، بہت سے سرپرست اپنے منفی سلوک کی وجہ سے بھی نئی نسل کو اخلاقیات سے دانستہ یانادانستہ طریقہ پر صحیح تعلیمات اوراخلاقیات سے دور کررہے ہیں کہ وہ خود ثقافتی یلغاروں کاشکار ہوچکے ہیں، انہیں اپنی نسل اوران کی اصلاح کی کوئی فکر نہیں، وہ ان کے صلاح وفلاح کی جانب سے منھ موڑے ہوئے ہیں، ان کے پاس وقت نہیں کہ ان کی نگرانی کرسکیں، وہ رات رات بھر گھروں سے باہر ہوتے ہیں، غلط محفلوں ومجلسوں کو رونق بخشتے ہیں اوردین وایمان اوراخلاق واقدار کے منافی تقریبات اورمخرب اخلاق اورتباہ کن گلیاروں میں موج مستی کرتے ہیں اوراس پر نکیر کرنے والا کوئی نہیں، بلکہ ان نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ جہاں رہیں، جو کریں ان کی گرفت کرنے والا کوئی نہیں، ان سے باز پرس نہیں ہوگی اورنہ کوئی انہیں ان حرکتوں پرسرزنش کرے گا، وہ جس طرح کے بھی وسائل استعمال کریں اوراس میں جتنا بھی وقت لگائیں کوئی ان سے اس کا حساب نہیں لے گااورنہ جواب طلب کرے گا، اس صورت حال نے ہمارے اندر مشکلات پیدا کردی ہیں، ہمیں مستقبل سے متعلق مایوسی کا شکار بنادیاہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے لیے ایسی درس گاہیں قائم کریں جہاں عصری تعلیم اسلامی نہج پر دی جائے، ان نوجوانوں کو اسلام کا سپاہی بنایا اورتیار کیاجائے، عالم اسلام اورمسلم حکومتوں سے اس کی امید نہیں کہ وہ خوداپنی بقا کے لیے مغرب کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں ڈال چکے ہیں، وہ ان اعدائے اسلام کے منصوبوں کو نافذ کرنے کا آلہ بنے ہوئے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ہماری بقا اورہماری عزت وسربلندی اسی میں ہے جب کہ یہ سراسر ذلت وغلامی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿أَیَبْتَغُونَ عِندَہُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّہِ جَمِیعًا﴾․ (سورة النساء:139)
اس لیے یہ کام امت مسلمہ کی ہم درد وبہی خواہ جماعت اورعوام ہی اپنے طور پر کرسکتے ہیں اورآج یہی مطلوب ہے، ساتھ ساتھ خاندان کی بھی ذمہ داری ہے کہ پہلے وہ خود اغیار کی ذہنی وفکری غلامی سے آزادی حاصل کرے، پھر اپنی نئی نسل کو صحیح خطوط پر لگانے کی سنجیدہ کوشش کرے اوراپنے ماتحت کو اسلامی خطوط پر اس طرح استوار کرے کہ عصری علوم کی کشش، اورجدید دور کے تقاضے انہیں اسلام کے راستے سے نہ ہٹاسکیں اوروہ جدید علوم وفنون اورترقی یافتہ ٹیکنالوجی میں مہارت کے باوجود اسلام کے سچے سپاہی ثابت ہوں اوروہ جس میدان میں بھی رہیں اسلام کے نقیب بن کر رہیں۔