بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قواعد و ضوابط برائے دارالاقامہ

قواعد و ضوابط برائے دارالاقامہ

  • دارالاقامہ میں کمروں کی تقسیم کے وقت عمر کالحاظ رکھا جائے گا۔ تاکہ چھوٹوں او ربڑوں کا اختلاط نہ ہو۔
  • ہر دارالاقامہ میں بیت الخلاء اور غسل خانوں کا الگ انتظام ہو گا اور انہیں کمروں کے حساب سے متعین کرکے ان پر تالے لگائے جائیں گے۔
    تعلیم کے دوران دارالاقامہ بند ہو گا۔ اور اس کی چابی صرف ناظم دارالاقامہ کے پاس ہو گی ۔
  • ہر دارالاقامہ کے لیے مستقل ناظم ہو گا اور کوشش کی جائے گی کہ وہ ناظم اسی دارالاقامہ میں رہے ۔ تاکہ اپنے طلبا کی صحیح نگرانی اور تربیت کرسکے۔
  • ہر کمرے میں صرف اتنے طلبا ہوں گے، جتنے طلباء آسانی سے اس میں آجائیں۔
  • پورے دارالاقامہ اور تمام کمروں کی صفائی ہفتہ میں ایک مرتبہ ناظم دارالاقامہ کی نگرانی میں لازمی ہو گی۔
  • جن کمروں میں کلاسیں بھی لگتی ہوں اور طلبہ بھی رہائش پذیر ہوں ان کمروں کو عشا کی نماز کے بعد گرمیوں میں ساڑھے دس بجے اور سردیوں میں دس بجے لازماً تعلیم سے فارغ کر دیا جائے گا۔
  • بیمار طلبہ کی دیکھ بھال ناظم دارالاقامہ کے ذمے ہو گی۔
  • دارالاقامہ میں ناظم دارالاقامہ کی اجازت کے بغیر کوئی طالب علم اپنا کمرہ تبدیل کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔
  • دارالاقامہ میں ناظم کی اجازت کے بغیر کسی مہمان کو ٹھہرانے کی اجازت نہ ہو گی۔
  • دارالاقامہ میں بچی ہوئی روٹی یا بچا ہوا سالن ڈالنے اور کوڑے کرکٹ ہر ایک کے لیے الگ الگ جگہ مقرر ہے اور طلبہ پر لازم ہو گا کہ وہ ہر چیز کو اپنی جگہ پر رکھیں اور ڈالیں۔
  • طلباء پر اپنے اپنے کمروں کی صفائی روزانہ لازمی ہو گی اور ہر چیز کو سلیقہ اور قرینہ سے رکھنا ہو گا۔
  • تکرار ومطالعہ کے اوقات میں بھی دارالاقامہ بند ہو گا۔ او رتکرار ومطالعہ کے لیے مسجد میں یا جو جگہ بھی متعین کی گئی ہو بیٹھنا لازم ہو گا۔
  • دارالاقامہ میں ہر جمعہ کو بعد نماز مغرب لازماً حاضری ہو گی اور ہفتہ کے دوران کسی بھی دن کسی بھی وقت حاضر ہو سکتی ہے ۔ ایک ہفتہ میں تین یا چار مرتبہ او رایک ہی دن میں ایک سے زائد مرتبہ بھی حاضری ہو سکتی ہے ۔