بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرآن کریم میں نہ تبدیلی ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے

قرآن کریم میں نہ تبدیلی ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے

مولانا محمد نجیب قاسمی

قرآن
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم الشان کلام ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے، خالق کائنات نے، اپنے آخری رسول حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پر، نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت خود اپنے ذمہ لی ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قرآن کریم میں موجود ہے: ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحَافِظُوْنَ﴾ (سورة الحجر آیت:9) یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے، جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی، برخلاف پہلی آسمانی کتابوں کے کہ وہ خاص قوموں اور خاص زمانوں کے لیے تھیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔

وحی
قرآن کریم چوں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے اس لیے سب سے پہلے مختصراً وحی کو سمجھیں۔ وحی وہ کلام ہے جو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطہ یا بلا واسطہ اپنے انبیاء پر القاء فرماتا ہے، جس کے ذریعہ خالق کائنات انسان کو دنیاوی زندگی گزارنے کا طریقہ بتلاتا ہے، تاکہ لوگ اس کے بتلائے ہوئے طریقہ پر دنیاوی زندگی گزارکر جہنم سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہوجائیں۔ انسان تین ذرائع میں سے کسی ایک ذریعہ سے علم حاصل کرتا ہے۔ ایک انسان کے حواس یعنی آنکھ، کان، منھ اور ہاتھ پاوٴں، دوسرا ذریعہ عقل اور تیسرا ذریعہ وحی ہے۔ انسان کو بہت سی باتیں اپنے حواس کے ذریعہ معلوم ہوجاتی ہیں، جب کہ بہت سی عقل کے ذریعہ اور جو باتیں ان دونوں ذرائع سے معلوم نہیں ہوسکتیں ان کا علم وحی کے ذریعہ عطا کیا جاتا ہے۔حواس اور عقل کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان ہوتے ہیں،لیکن وحی کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان بالکل نہیں ہوتے،کیوں کہ یہ علم خالق کائنات کی جانب سے انبیاء کے ذریعہ انسانوں کو پہنچتا ہے۔ غرض وحی انسان کے لیے وہ اعلیٰ ترین ذریعہ علم ہے جو اسے اس کی زندگی سے متعلق ان سوالات کا جواب مہیا کرتا ہے جو عقل وحواس کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتے۔ یعنی صرف عقل اور مشاہدہ انسان کی راہ نمائی کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے وحی ٴ الہی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ چوں کہ وحی عقل اور مشاہدہ سے بڑھ کر علم ہے، لہٰذا ضروری نہیں کہ وحی کی ہر بات کا ادراک عقل سے ہوسکے۔

نزول وحی کے چند طریقے
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پر مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔
1..گھنٹی کی سی آواز سنائی دیتی اور آواز نے جو کچھ کہا ہوتا وہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو یاد ہوجاتا۔ جب اس طریقہ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی الله علیہ وسلم پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا تھا۔
2..فرشتہ کسی انسانی شکل میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچادیتا۔ ایسے مواقع پر عموماً حضرت جبرئیل علیہ السلام مشہور صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لایا کرتے تھے۔
3..حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل صورت میں تشریف لاتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی عمر میں صرف تین مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ ایک نبوت کے بالکل ابتدائی دور میں، دوسری بار خود حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی اور تیسری مرتبہ معراج کے موقع پر۔
4..بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ہم کلامی ہوئی۔ یہ صرف ایک بار معراج کے موقع پر ہوا۔ نماز کی فرضیت اسی موقع پر ہوئی۔
5..حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے آئے بغیر آپ صلی الله علیہ وسلم کے قلب مبارک پر کوئی بات القاء فرمادیتے تھے۔

تاریخ نزول قرآن
ماہ رمضان کی ایک بابرکت رات لیلة القدر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوح محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً 23 سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کا تدریجی نزول اُس وقت شروع ہوا جب آپ صلی الله علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں غارِ حرا میں اتریں وہ سورہٴ علق کی ابتدائی آیات ہیں:﴿ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمْ﴾ پڑھو اپنے اس پروردگار کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو منجمد خون سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کریم ہے۔ اس پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا۔ تین سال کے بعد وہی فرشتہ جو غار حرا میں آیا تھا آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور سورة المدثر کی ابتدائی چند آیات آپ صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرمائیں:﴿ یَا اَیُّہَا الْمُدَثِّرْ، قُمْ فَاَنْذِرْ، وَرَبَّکَ فَکِبِّرْ، وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ، والرُّجْزَ فَاہْجُر﴾اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔ اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ اور گندگی سے کنارہ کرلو۔

اس کے بعد حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وفات تک وحی کے نزول کا تدریجی سلسلہ جاری رہا۔ قرآن کریم کا سب سے چھوٹا حصہ جو مستقلاً نازل ہوا ہے وہ ﴿غَیْرِ اُولِی الضَّرَرِ﴾(النساء :95) ہے، جو ایک طویل آیت کا ٹکڑا ہے۔ دوسری طرف پوری سورة الانعام ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہے۔ غرض تقریباً 23 سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔

تاریخ حفاظت قرآن
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ قرآن کریم ایک ہی دفعہ میں نازل نہیں ہوا، بلکہ ضرورت اورحالات کے اعتبار سے مختلف آیات نازل ہوتی رہیں۔ قرآن کریم کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے حفظ قرآن پر زور دیا گیا۔ چناں چہ خود حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم الفاظ کو اسی وقت دہرانے لگتے تھے تاکہ وہ اچھی طرح یاد ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی نازل ہوئی کہ عین نزول وحی کے وقت جلدی جلدی الفاظ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ خود آپ میں ایسا حافظہ پیدا فرمادے گا کہ ایک مرتبہ نزول وحی کے بعد آپ اسے بھول نہیں سکیں گے۔ اس طرح حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم پہلے حافظ قرآن ہیں۔ چناں چہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلی الله علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور فرمایا کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی الله علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم صحابہٴ کرام کو قرآن کے معانی کی تعلیم ہی نہیں دیتے تھے، بلکہ انہیں اس کے الفاظ بھی یاد کراتے تھے۔ خود صحابہٴ کرام کو قرآن کریم یاد کرنے کا اتنا شوق تھا کہ ہر شخص ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا تھا۔ چناں چہ ہمیشہ صحابہٴ کرام میں ایک اچھی خاصی جماعت ایسی رہتی جو نازل شدہ قرآن کی آیات کو یاد کرلیتی اور راتوں کو نماز میں اسے دہراتی تھی۔ غرضیکہ قرآن کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے حفظ قرآ ن پر زور دیا گیا اور اُس وقت کے لحاظ سے یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد تھا۔

قرآن کریم کی حفاظت کے لیے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قرآن کریم کو لکھوانے کا بھی خاص اہتمام فرمایا، چناں چہ نزول وحی کے بعد آپ کاتبین وحی کو لکھوادیا کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتب وحی کو یہ ہدایت بھی فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورة میں فلاں فلاں آیات کے بعد لکھا جائے۔ اس زمانہ میں کاغذ دستیاب نہیں تھا، اس لیے یہ قرآنی آیات زیادہ تر پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانور کی ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں۔ کاتبین وحی میں حضرت زید بن ثابت، خلفائے راشدین، حضرت ابی بن کعب، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت معاویہ کے نام خاص طور پر ذکر کیے جاتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق  کے عہد خلافت میں حفاظت قرآن
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے قرآن کریم کے نسخے لکھے گئے تھے وہ عموماً متفرق اشیاء پر لکھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں جب جنگ یمامہ کے دوران حفاظ قرآن کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی تو حضرت عمر فاروق  نے حضرت ابوبکر صدیق  کو قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کروانے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق  ابتدا میں اس کام کے لیے تیار نہیں تھے لیکن شرح صدر کے بعد وہ بھی اس عظیم کام کے لیے تیار ہوگئے اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس اہم وعظیم عمل کا ذمہ دار بنایا۔ اس طرح قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کا اہم کام شروع ہوگیا۔

حضرت زید بن ثابت  خود کاتب وحی ہونے کے ساتھ پورے قرآن کریم کے حافظ تھے۔وہ اپنی یادداشت سے بھی پورا قرآن لکھ سکتے تھے، اُن کے علاوہ اُس وقت سینکڑوں حفاظ قرآن موجود تھے ،مگر انہوں نے احتیاط کے پیش نظر صرف ایک طریقہ پر بس نہیں کیا، بلکہ ان تمام ذرائع سے بیک وقت کام لے کر اُس وقت تک کوئی آیت اپنے صحیفے میں درج نہیں کی جب تک اس کے متواتر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں مل گئیں۔ اس کے علاوہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قرآن کی جو آیات اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں، وہ مختلف صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھیں، حضرت زید بن ثابت نے انہیں یکجا فرمایا،تاکہ نیا نسخہ ان ہی سے نقل کیا جائے۔ اس طرح خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق  کے عہد خلافت میں قرآن کریم ایک جگہ جمع کردیا گیا۔

حضرت عثمان غنی  کے عہد خلافت میں حفاظت قرآن
جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر دو دراز عجمی علاقوں تک پھیل گیا تھا۔ ہر نئے علاقہ کے لوگ ان صحابہ وتابعین سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوئی تھی۔ صحابہٴ کرام نے قرآن کریم حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مختلف قرأتوں کے مطابق سیکھا تھا۔ اس لیے ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراء ت کے مطابق قرآن پڑھایا جس کے مطابق خود انہوں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پڑھا تھا۔ اس طرح قرأتوں کا یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا۔ لوگوں نے اپنی قراء ت کو حق اور دوسری قرأتوں کو غلط سمجھنا شروع کردیا ،حالاں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اجازت ہے کہ مختلف قرأتوں میں قرآن کریم پڑھا جائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ اُن کے پاس (حضرت ابوبکر صدیق کے تیار کرائے ہوئے) جوصحیفے موجود ہیں ، وہ ہمارے پاس بھیج دیں۔ چناں چہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر ان کو مکلف کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق  کے صحیفہ سے نقل کرکے قرآن کریم کے چند ایسے نسخے تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں۔ چناں چہ قرآن کریم کے چند نسخے تیار ہوئے اور ان کو مختلف جگہوں پر ارسال کردیا گیا، تاکہ اسی کے مطابق نسخے تیار کرکے تقسیم کردیے جائیں۔ اس طرح امت مسلمہ میں اختلاف باقی نہ رہا اور پوری اُمّت مسلمہ اسی نسخہ کے مطابق قرآن کریم پڑھنے لگی۔ بعد میں لوگوں کی سہولت کے لیے قرآن کریم پر نقطے وحرکات (یعنی زبر، زیر اور پیش) بھی لگائے گئے، نیز بچوں کو پڑھانے کی سہولت کے مدنظر قرآن کریم کو تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا۔ نماز میں تلاوت قرآن کی سہولت کے لیے رکوع کی ترتیب بھی رکھی گئی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہتمام سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا بنائے،اس کو سمجھ کر پڑھنے والا بنائے، اس کے احکام ومسائل پر عمل کرنے والا بنائے اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔