بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کا اپنے ائمہ کے متعلق عقیدہ

فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کا اپنے ائمہ کے متعلق عقیدہ

 

اگر مشترکہ بنیاد پر متحد نہ ہوں
ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

فإن تولوا الخ:اگر یہود و نصاری توحید خالص، جو ہماری مشترکہ بنیاد ہے، اس پر لوٹ کر نہ آئیں اور قبولِ حق سے رو گردانی کرتے ہوئے شرک پر اڑے رہیں تو انہیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ ہم تو مسلم ہیں اور مسلم نام ہے سپردگی کا، جو اپنے جذبات و احساسات رضائے الہٰی پر قربان کر دے، اسی وجہ سے اس امت کا اصطلاحی نام مسلم ہے، یہ اعلان درحقیقت یہودو نصاری کے عقائد و افکار سے اعلان برأت ہے۔

شیعہ حضرات نے اپنے ائمہ کو رب بنا رکھا ہے
شیعہ افکار و نظریات کی اصل بنیاد ”عقیدہ امامت“ہے، اپنے ائمہ کے متعلق ، معصوم، مختارِ کل، کا عقیدہ رکھنا شیعہ ایمان کی پہلی اینٹ ہے، قرآن کریم اس عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی شخص کو دینی و دنیاوی امور میں با اختیار سمجھ کر اس کی اطاعت کی جائے۔شیعوں کے دو بڑے فرقے امامیہ اور اسماعیلہ کے حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔

فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کا اپنے ائمہ کے متعلق عقیدہ
امامیہ فرقہ اس فرقے کو کہتے ہیں جو بارہویں امام کے بعد کسی کو امام نہیں مانتے، ان کے بقول بارہواں امام پیدا ہونے کے بعد سینکڑوں سال سے کسی غار میں روپوشی کی زندگی گزار رہا ہے، اس لیے اسے امام غائب کہتے ہیں اور بارہ ہونے کی وجہ سے اثنا عشرہ کہلاتے ہیں۔ ان کے عقیدے کی کتاب اصول کافی میں ہے :

1..…سدیر کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر سے عرض کیا میں نے آپ کے شیعوں کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ و ہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر تبرا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:تجھے اس سے کیا واسطہ:لوگ صرف تین باتوں کے مکلف ہیں۔
1..اماموں کو پہچانیں۔
2..اماموں کی طرف سے جو حکم ہو اسے مانیں۔
3..اور جس بات میں ان کا اختلاف ہو اسے اماموں کی طرف لوٹایں۔(اصول کافی،1/390)

2….بحار الانوار میں ہے:
ثمالی کہتا ہے کہ میں نے امام باقر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کے لیے ہم نے حلال کر دی وہ چیز جو اس نے ظالموں کے مناصب میں حاصل کی وہ اسے حلال ہے، کیوں کہ یہ کام ہمارے ائمہ کے سپرد ہے، پس جس چیز کو وہ حلال قرار دیں وہ حلال ہے اور جس چیز کو وہ حرام قرار دیں وہ حرام ہے۔(بحار الانوار25/334)

فرقہ اسماعلیہ کا اپنے ائمہ کے متعلق عقیدہ
ان کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ امام حاضر جب چاہے احکام شریعت کو معطل کر سکتا ہے، شریعت ہمیشہ صامت رہے گی، اس کے لیے ناطق امام ہے ، چناں چہ اسماعیلہ کے تےئسویں امام شاہ حسن علی نے 27رمضان559ھ میں پورے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

”آج کے دن سے میں آپ کو ساری شریعت کی پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں، آج کے دن تم لوگوں کے لیے رحمت کے دروازے کھل گئے ہیں، آج کے دن ہم نے پوری دنیا کو شریعت اور قیامت کے مفہوم سے آگاہ کر دیا ہے۔“(نور مبین ص:254)

آغاخان سوم کے احکام اسماعیلیوں نے کلام امام مبین کے نام سے شائع کیے ہیں،اس میں درج ذیل فرمان مذکور ہے:

”انسان کی زندگی اور دنیا ہر وقت بدلتی رہتی ہے، ہر چیز بدلتی ہے، جس میں صحیح ہدایت امام حاضر دے سکتا ہے، اسماعیلیوں کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتا ب نہیں، مگر زندہ امام ہے۔“(کلام امام مبین، ص:530)

شیعوں نے قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنے ائمہ کو رب بنا لیاہے۔

ائمہ مجتہدین کی تقلید کی حیثیت
اس موقع پر بعض لوگ ائمہ مجتہدین کے مقلدین پر یہی الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کو چھوڑ کر اپنے ائمہ کو خدا کا درجہ دے رکھا ہے۔(نعوذ باللہ)

جان لیجیے دین اسلام فکرو عمل کے مجموعے کا نام ہے، امور شریعت ثبوت کے اعتبار سے تین خانوں میں منقسم ہیں۔

و ہ امور جو قرآن وحدیث میں قطعیت کے ساتھ مذکور ہیں، ان میں کسی کی تقلید درست نہیں، قطعیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مدلول پر بالکل واضح ہو اور اس کے برخلاف کوئی نص نہ ہو، جیسے توحید باری تعالیٰ، ملائکہ، رسل علیہم السلام، آسمانی کتب، جنت، جہنم، قیامت، نمازوروزہ، حج وزکوة، پر ایمان رکھنا، زنا، سود، شراب خنزیر کو حرام سمجھنا، یہ سب قطعیات میں سے ہیں۔

وہ امور منصوصہ جو اپنے مدلول میں صریح اور صحیح نہ ہوں یا ان کے متعلق نصوص میں اختلاف پایا جاتا ہو، جیسے تکبیر تحریمہ میں ہاتھ کہاں تک اٹھانا ہے؟ ہاتھ کہاں باندھنے ہیں؟ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں ؟اس طرح کے مسائل میں امام کی تحقیق پر اعتماد کر کے اس پر عمل کیا جاتا ہے،کیوں کہ ائمہ مجتہدین اپنے علم و تقویٰ، فہم و فراست اور خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے معروف ہیں، ان کی تحقیقات پر اعتماد کر کے عمل پیرا ہونے کو شرک یا اسے اللہ اور رسول کو چھوڑ کر امام کو معبود بنانے کا نام دینا جہالت اور عناد ہے۔

وہ امور جن کے بارے میں کوئی صریح نص نہ ہو، جیسے بھنگ، چرس، ہیروئین کا کام حرام ہونا، بیع تعاطی کا جائز ہوناوغیرہ، ایسے مسائل میں بھی ائمہ مجتہدین کی تحقیقات پر اعتماد کر کے ان کی تقلید کی جاتی ہے، ائمہ مجتہدین قرآن و حدیث سے استخراج کر کے ان کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں۔

لہٰذا آیت کریمہ:﴿ولا یتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللہ﴾ (اور نہ بناوے کوئی کسی کو رب سوائے اللہ کے) کا ائمہ مجتہدین کی تقلید سے دور کا بھی واسطہ نہیں،نیز روافض (شیعہ افراد) کی تقلید اور اہل سنت کی تقلید میں کئی وجوہ سے فرق ہے۔

روافض کی تقلید اور اہل سنت کی تقلید میں فرق
شیعہ حضرات کے عقیدے کے مطابق ان کا امام معصوم ہوتا ہے، اس پر وحی اترتی ہے وہ قرآن و سنت کے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے۔

اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق امام صرف مقتدا اور پیشوا ہوتا ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے امت کو آگاہ کرتا ہے، اس پر وحی نہیں اترتی، وہ معصوم نہیں ہوتا، اسے قرآن و سنت کی تعلیمات میں رد وبدل یا نسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ اہل سنت کے نزدیک آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی کے بارے میں وحی آنے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

روافض (شیعہ حضرات) اپنے امام کے قول پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں، اس سے خروج کو کفر سمجھتے ہیں، اہل سنت صرف مختلف فیہ میں ائمہ کے علم پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے ترجیحی اقوال کو اختیار کرتے ہیں اور اس سے خروج کو کفر نہیں کہتے۔

شیعہ حضرات کی ائمہ کی بنیاد خاندان، حسب و نسب پر ہے، اہل سنت کے ائمہ کی بنیاد علم، تقویٰ، فہم و فراست، خداداد صلاحیتوں پر ہے۔

شیعہ حضرات کے عقیدے کے مطابق ان کے ائمہ منصوص ہیں، ان پر ایمان لانا شرعاً مطلوب ہے، اہل سنت کے نزدیک ائمہ مجتہدین منصوص نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر ایمان لانا مطلوب شرعی ہے۔

﴿یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِی إِبْرَاہِیمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِیلُ إِلَّا مِن بَعْدِہِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ، ہَا أَنتُمْ ہَٰؤُلَاء ِ حَاجَجْتُمْ فِیمَا لَکُم بِہِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِیمَا لَیْسَ لَکُم بِہِ عِلْمٌ وَاللَّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ، مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَٰکِن کَانَ حَنِیفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ،إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ وَہَٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَاللَّہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِینَ ﴾․ (سورہ آل عمران:68-65)
اے اہل کتاب! کیو ں جھگڑتے ہو ابراہیم کی بابت اور توریت اور انجیل تو اتریں اس کے بعد، کیا تم کو عقل نہیں؟ سنتے ہو تم لوگ جھگڑ چکے جس بات میں تم کو کچھ خبر تھی، اب کیوں جھگڑتے ہوجس بات میں تم کو کچھ خبر نہیں؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور نہ تھا ابراہیم یہودی اور نہ تھا نصرانی، لیکن تھا حنیف یعنی سب جھوٹے مذہبوں سے بیزار اور حکم بردار اور نہ تھا مشرک، لوگوں میں زیاد ہ مناسبت ابراہیم سے ان کو تھی جو ساتھ اس کے تھے اور اس نبی کو اور جو ایمان لائے اس نبی پر اور اللہ ولی ہے مسلمانوں کا۔

ربط:نصاری کا جو وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا انہیں دیکھ کر مدینہ منورہ کے یہودی مذہبی پیشوا بھی آگئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں دونوں ایک دوسرے پر حجت بازی کرنے لگے، ہر فریق کا دعوی تھا کہ حضرت ابراہیم ہمارے مذہب کے پیروکار تھے، ان آیات میں انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندے تھے۔

تفسیر:حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مذہب
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر ہیں، آپ کے دو فرزند تھے ،حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نسبی تعلق حضرت اسحاق علیہ السلام سے جڑتا ہے، اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا نسبی تعلق حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جڑتا ہے۔

یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام ان تینوں جلیل القدر انبیاء علیہم السلام حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جدامجد ہیں، اس لیے یہود انہیں یہودی اور نصاری انہیں نصرانی جتلا کر، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے موقف کی تردید فرمائی کہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ مشرکانہ راہوں سے جدا ہو کر صراط مستقیم پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہودی اور نصرانی ہونے کا دعوی عقل و نقل دونوں طریق سے غلط ہے۔

عقلاً:اس لیے کہ تورات و انجیل تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صدیوں بعد نازل ہوئی تو وہ یہودی نصرانی کیسے بن گئے؟ ایسا بے ڈھنگا اور بے بنیاد دعوی کرتے ہوئے کچھ تو سو چنا چاہیے۔

نقلاً:اس لیے کہ کیا انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کا مشاہدہ کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر انہیں اللہ تعالیٰ کے علم اور خبر پر ایمان لانا چاہیے۔واللہ یعلم وانتم لا تعلمون․(اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے)اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی اور نصرانی بتلانے کا مقصد یہ جتلانا ہو کہ ہمارے دین کی اصول و فروع دین ابراہیمی کی اصول و فروع سے موافقت رکھتی ہیں، تو یہ دعوی بھی درست نہیں ،کیوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خالص توحید کے علم بردار تھے اور یہودیت و نصرانیت مشرکانہ عقائد کا شکار ہو چکی ہے، نیز فروعات پر موافقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام مسلم تھے ایک شبہ کا جواب
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:﴿ولکن کان حنیفاً مسلماً﴾ وہ معبود ان باطلہ سے اعراض کر کے معبود حق کی طرف لپکنے والے مسلم تھے، ان کا مذہب یہودیت تھا نہ نصرانیت، بلکہ اسلام تھا، یہاں پر بھی وہ شبہ ہو گا کہ اسلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے وجود میں آیا ،پھر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مذہب کیسے بن گیا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اطاعت حق کا نام ہے، یعنی انسان اپنے عقائد و اعمال جذبات واحساسات منشأ خداوندی کے سپرد کر دے، اسی لحاظ سے تمام انبیاء علیہم السلام کا مذہب اسلام ہی ہے، برخلاف یہودونصاری کے، ان کا مذہب اطاعت حق نہیں،بلکہ اطاعتِ نفس ہے، اگر یہ اطاعت حق کے پیرو ہوتے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آتے۔

﴿إن اولی الناس… إلخ ﴾
ملت ابراہیمی کہلانے کا حق کس کو ہے؟ نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے ہیں اور اپنے اصول وفروع میں دین ابراہیمی کے ساتھ سب سے زیادہ موافقت رکھتی ہے، اصول میں دعوت توحید، فروع میں بیت اللہ کا طواف، اعتکاف، ختنہ، دین کے لیے ہجرت کرنا ، زیر ناف بال صاف کرناوغیرہ، لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نسبت جوڑنے اور ملتِ ابراہیمی کہلانے کا حق آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی امت کو ہے۔

﴿وَدَّت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یُضِلُّونَکُمْ وَمَا یُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ﴾․(آل عمران:69)
آرزو ہے بعضے اہل کتاب کو کہ کس طرح گم راہ کریں تم کو اور گم راہ نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے۔

ربط:گذشتہ آیت میں اہل کتاب کی گم راہی کا تذکرہ تھا کہ ان کی گم راہی اس درجے بڑھ گئی ہے کہ دلائل و برہان، حجت و الزام کے باوجود دین ِحق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ الٹا دوسروں کو گم راہ کرنے کی فکر پڑی رہتی ہے۔

تفسیر:اہل کتاب کی دلی آرزو
اہل کتاب (یہودو نصاری) کی ہمیشہ سے یہی دلی آرزو رہی ہے کہ اہل ایمان ہمارا دین قبول کریں یا نہ کریں لیکن کسی بھی طریقے سے اپنے دین سے برگشتہ ہو جائیں،اس لیے وہ ہر زمانے میں مختلف طریقوں سے اہل اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں، مسلمان جب دین سے دور ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی نصرت ختم ہو جاتی ہے،مسلمان با آسانی دشمنوں کے نرغے میں آجاتا ہے۔

آیت کریمہ میں یضلونکم میں مخاطب کے صیغے سے اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مراد ہیں تو پھر اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کوئی یہودو نصاری کی دعوت گم راہی کا شکار نہیں ہوا، اگر مخاطب کے صیغے سے اہل اسلام مراد ہیں، تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو گم راہ کرنا یہودو نصاری کی قدرت سے باہر ہے، البتہ اگر کوئی شخص ازخود گم راہی اختیار کر لے تو اور بات ہے۔(ملخض ازبیان القرآن، اٰل عمران، تحت آیة رقم:69)

﴿وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ﴾علامہ رازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر میں دو احتمال بیان فرمائے۔ دوسروں کی گم راہی کا سبب بن کر ان کی گم راہی کا وبال بھی اپنے سر لے رہے ہیں۔ جب اہل ایمان کو دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے تو اہل ایمان ان سے اعراض کر لیں گے، جس کا نتیجہ محرومی ایمان کی صورت میں نکلے گا، یوں غیر شعوری طور پر اہل ایمان کو گم راہ کرنے کی کوشش میں اپنی ہی ذات پر ہدایت کے دروازے بند کر لیں گے۔(تفسیرکبیر، اٰل عمران تحت آیة رقم:69)

﴿یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللَّہِ وَأَنتُمْ تَشْہَدُونَ،یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾․(سورہ آل عمران:71-70)
اے اہل کتاب! کیاں انکار کرتے ہو اللہ کے کلام کا اور تم قائل ہو، اے اہل کتاب! کیوں ملاتے ہو سچ میں جھوٹ اور چھپاتے ہو سچی بات جان کر؟

ربط:اہل کتاب کو ان کے عمل پر ملامت کی جا رہی ہے۔

یہودو نصاری کو ملامت
﴿یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللَّہِ… إلخ﴾
اہل کتاب کو حق چھپانے پر ملامت کی جا رہی ہے کہ تم تورات وانجیل میں مذکور ان نشانیوں کو بخوبی جانتے ہوجو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وارد ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہ لا کر تم درحقیقت تورات و انجیل کی ان آیتوں سے انکار کر رہے ہو۔

﴿وَأَنتُمْ تَشْہَدُون﴾ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم اپنی خلوت کی نجی محفلوں میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے ہو، مگر ایمان لانے سے کتراتے ہو اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی حقانیت معجزات سے واضح ہو چکی ہے، لہذا ان کی نبوت کے متعلق تمہارا علم مشاہدے کی حیثیت رکھتا ہے، اس مشاہدے کے بعد بھی تم ایمان نہ لاؤ تو تعجب ہے۔(روح المعانی،اٰل عمران، تحت آیةرقم:71)

اہل باطل ہمیشہ حق کو باطل کے ساتھ خلط کر کے مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں

﴿یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِل…﴾اہل باطل کا یہ ہمیشہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کر کے مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،تا کہ حق کا پیغام اپنی تاثیر کھو بیٹھے،علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اہل کتاب کے اس طریقہ واردات کی چند صورتیں یہ لکھیں ہیں:

تورات و انجیل میں تحریف کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ بشارتوں کو بدل دینا۔

نفاق اختیار کرنا، یعنی زبان سے اسلام کا اظہار اور دل میں کفر پر اطمینان۔

حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام پر تو ایمان لے آنا، لیکن آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت سے انکار کرنا۔ (روح المعانی، اٰل عمران، تحت آیة رقم:71)

(اس عمل سے عوام کو یہ بتلانا مقصود ہوتا تھا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واقعی نبی ہوئے تو ہم جس طرح حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لائے ہیں اسی طرح ان پر بھی ایمان لے آتے ،لیکن چوں کہ یہ صاحبِ رسالت نہیں، اس لیے ان پر ایمان لانے سے معذور ہیں)

اہل کتاب بہر صورت آپ صلی الله علیہ وسلم  پر ایمان لانے کے مکلف ہیں
﴿وَأَنتُمْ تَشْہَدُونَ،َ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ کے الفاظ سے یہ مفہوم اخذ کرنا کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے کے مکلف صرف وہی حضرات ہیں جنہیں تورات و انجیل میں آپ علیہ السلام کے متعلق صفات اور بشارتوں کا علم ہے، کسی طرح بھی درست نہیں، کیوں کہ یہ الفاظ تو فقط اہل کتاب کی مجرمانہ شناعت سے پردہ اٹھانے کے لیے بیان کیے گئے ہیں، حق جاننے کے بعد اسے مستردکرنا دُہرا جرم ہے، جو ابدی شقاوت کی دلیل ہے، لیکن ایمان لانے کا مکلف اہل کتاب کا ہر فرد ہے، اگرچہ وہ تورا ت و انجیل میں مذکور آپ علیہ السلام کی صفات او ر بشارتوں سے واقف نہ ہو۔

﴿وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِی أُنزِلَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوا آخِرَہُ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُون، وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِینَکُمْ قُلْ إِنَّ الْہُدَیٰ ہُدَی اللَّہِ أَن یُؤْتَیٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِیتُمْ أَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِندَ رَبِّکُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَن یَشَاء ُ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ،یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَن یَشَاء ُ وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ﴾․(سورہ آل عمران:74-72)
اور کہا بعض اہل کتاب نے مان لوجو کچھ اترا مسلمانوں پر دن چڑھے اور منکر ہو جاؤ آخر دن میں شاید، وہ پھر جاویں اور نہ مانیو مگر اسی کی جو چلے تمہارے دین پر۔کہہ دے بے شک ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اور کسی کو بھی کیوں مل گیا جیسا کچھ تم کو ملا تھایا وہ غالب کیوں آگئے تم پر تمہارے رب کے آگے؟ تو کہہ بڑائی اللہ کے ہاتھ میں ہے، دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ بہت گنجائش والا ہے، خبردار خاص کرتا ہے جس پر چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔

ربط:اہل کتاب مسلمانوں کو گم راہ کرنے کی فکر میں پڑے رہتے تھے،اسی سلسلے کی ایک گم راہانہ تدبیر بیان کی جا رہی ہے۔

تفسیر: اہل ایمان کے خلاف یہود کی سازش
بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ سازش بنائی کہ صبح ہم میں سے کچھ افراد مسلمان بن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھل مل جائیں اور شام کو یہ کہہ کر اپنے مذہب پر لوٹ آئیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب سے دیکھ لیا ہے،یہ وہ نبی نہیں ہیں جن کی صفات و بشارتوں کا تذکرہ تورات میں ہوا ہے،ان کے خیال میں یہ نفسیاتی حربہ نو مسلموں کو برگشتہ کرنے اور اسلام کی پھیلی ہوئی دعوت کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے،کیوں کہ جب لوگ اہل علم کو اسلام کے قریب آکر بدلتا ہوا دیکھیں گے تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ شاید واقعتاً اسلام میں کوئی خرابی ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ پیش آرہا ہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے قبل ازوقت اس کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر ان کی پوری اسکیم ناکام بنا دی۔

یہود ایک مکار قوم ہے، اپنے ہی افراد کو دشمنوں کی صفوں میں داخل کر کے انہیں ناکامی کے گڑھے میں دھکیلنا ان کا قومی طرز عمل رہا ہے، ان کی پوری تاریخ اس طرز عمل کی گواہ ہے،حضرت مسیح علیہ السلام کے نام لیواؤں میں مسیحی روپ دھار کر انہیں گم راہ کرنے والا شخص پولوس (سینٹ پال) یہودی ہی تھا، اسی طرح امت مسلمہ میں افتراق و انتشار کی بنیاد رکھنے والا پہلا شخص عبداللہ بن سبا بھی یہودی تھا، تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسے سازشی یہودیوں کی پوری فہرست مل جاتی ہے۔ (جاری)