بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عورتوں کی حق تلفی اور اس کا سدباب

عورتوں کی حق تلفی اور اس کا سدباب

متعلم الیاس احمد نصیر آبادی

اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے، جس نے تاریکیوں اور ظلمتوں کو دورکیا، ضلالت وبدعت کا خاتمہ کیا اور انسانیت کو عدل وانصاف فراہم کیا ہے۔ دین اسلام میں الله تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مکمل اور واضح ہدایات نازل فرمائی ہیں، ان ہدایات میں الله تبارک وتعالیٰ کے حقوق او رحقوق العباد کی مکمل تشریح ہے۔ حقوق العباد دین کا ایک اہم شعبہ ہے اور یہ اتنا اہم شعبہ ہے کہ حقوق الله تو تو بہ سے معاف ہو جاتے ہیں، یعنی اگر خدانخواستہ حقوق الله سے متعلق کوئی کوتاہی سر زد ہو جائے، اس کا علاج بہت آسان ہے کہ انسان کو کبھی اس پر ندامت ہو تو، توبہ استغفار کر لینے سے معاف ہو جاتی ہے، لیکن بندوں کے حقوق ایسے ہیں کہ ان میں اگر کوتاہی ہو جائے تو صرف ندامت اور توبہ استغفار سے گناہ معاف نہیں ہوتے، جب تک کہ حق دار کو اس کا حق نہ پہنچایا جائے یا جب تک کہ صاحب حق اسے معاف نہ کر دے، اس لیے حقوق العباد کامعاملہ بڑا سنگین ہے۔

حقوق العباد کا معاملہ جتنا سنگین ہے ہمارے معاشرے میں اس سے غفلت اتنی ہی عام ہے، ہم لوگوں نے چند عبادات کا نام دین رکھ لیا ہے یعنی نماز، روزہ ،حج، ذکر وتلاوت اور تسبیح وغیرہ، ان چیزوں کو تو ہم دین سمجھتے ہیں، لیکن حقوق العباد کو ہم نے دین سے خارج کیا ہوا ہے او راسی طرح معاشرتی حقوق کو بھی دین سے خارج کر رکھا ہے، اس میں اگر کوئی شخص کوتاہی یا غلطی کرتا ہے، تو اسے اس کی سنگینی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ حقوق العباد جس میں ہم سب غفلت برت رہے ہیں اس کی ایک کڑی صنف نازک کے حقوق کی ہے، انسانی تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام ہی واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صحیح مقام دیا اور اس کی کھوئی ہوئی عزت اس کو دوبارہ لوٹا دی ، ورنہ دوسرے مذاہب وتہذیبوں میں تو عورت کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی، اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہو گا جب ہم دنیا کے تمام مذاہب او رتہذیبوں کا تقابلی جائزہ لیں گے۔

قدیم تہذیبی مراکز او رتاریخ عالم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ تمام تہذیبیں عورت کو کسی قسم کے حقوق ومراعات دینے کی روا دارنہ تھیں، اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو میراث سے کچھ بھی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، بیٹیوں کی پیدائش کو باعث شرم وعار سمجھ کر ان کی پرورش کرنے کے بجائے انہیں زندہ درگور کیا جاتا تھا، بیٹی کی پیدائش پر طعن وتشنیع سے اس کے والدین کا جینا دوبھر ہوجاتا تھا۔ سمرین مذہب کا نظریہ یہ تھا کہ نسل مرد سے چلتی ہے، لہٰذا وراثت کا حق صرف مرد کو حاصل ہے، بابلی تہذیب میں بھی مرد کو عورت پر ترجیح اوراہمیت دی جاتی تھی۔ یہی کچھ دیگر مذاہب کا رسم اور دستور تھا، لیکن دین اسلام نے عورت کو ایک طرف ماں بنا کر اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی، تو دوسری طرف عقد نکاح کے ذریعہ بیوی قرار دے کر شوہر کو اس کی عزت وعفت کا محافظ بنایا، پھر اس کو بہن اور بیٹی قرار دے کر اس کے محرم رشتہ داروں کو اس کی عفت وپاک دامنی کا فریضہ سونپا، لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مسلمان جس طرح دیگر امور میں مغربی کلچر اور سوشلزم سے متاثر ہو کر اپنی تہذیب وثقافت اور اسلامی تشخص کو کھو چکے ہیں، اسی طرح حقوق العباد میں خصوصاً عورتوں کے حقوق کی کوتاہی میں بھی مغربی کلچر اور سوشل ازم جیسی بے راہ روی کی شکار تہذیبوں کے دل دادہ بن کر عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں، حالاں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغربی کلچر اور سوشل ازم او ران کے ہم نوا کبھی آزادی نسواں کا ڈھنڈوراپیٹ کر عورت کی نمائش کرتے ہیں، کبھی عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلانے کے بہانے اس کی عفت وپاک دامنی کو داغ دار کرتے ہیں، تو کبھی اسے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے نام پر اس کی عزت وثقافت کا سودا کرتے ہیں۔

اس وجہ سے آج امریکا اور یورپ جیسے معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں بھی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کے درمیان کوئی فرق نہیں، بچے جوان ہو کر والدین کو اولڈہاؤسز میں اپنی بقیہ زندگی کے ایام کاٹنے کے لیے پھینک دیتے ہیں، بے حیائی، فحاشی اور عریانی عام ہے، لیکن ان تمام آزادیوں کے باوجود آج سب سے زیادہ سکون اور نیند کی دوائیوں کے اہم کاروباری مراکز میں ان کا شمار ہوتا ہے، خود کشیاں سب سے زیادہ ان ہی میں ہوتی ہیں، دیگر جرائم وغیرہ کے گڑھ بن چکے ہیں۔ ان سب حقائق سے باخبر ہو کر بھی آج مسلمانوں کا ایک طبقہ مغربی کلچر اور سوشل ازم سے متاثر ہو کر، ان کی جانوروں کی سی زندگی کو موجودہ وقت کی ضرورت او رترقی گردان رہا ہے، آئے دن پاکستان میں فحاشی اور عریانی کو پھیلانے کے لیے مغربی طاقتوں کے اشارے پر نت نئے طریقے اور حربے استعمال کر رہا ہے، یہ بات جانتے ہوئے کہ عورت کی عفت وپاک دامنی اور اس کے حقوق کا محافظ تمام مذاہب میں فقط دین اسلام ہے۔

لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینا گناہ ہے
اولاد الله تعالیٰ کی بیش بہا نعمت اور تحفہ ہے، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے بچوں پر رحم وشفقت کے معاملہ میں مذکر ومؤنث میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو والدین بیٹے کی نسبت بیٹی سے امتیازی سلوک کرتے ہیں، وہ جاہلیت کی پرانی برائی میں مبتلا ہیں، اس طرح کی سوچ اورعمل کا دین اسلام سے کوئی تعلق اور رشتہ نہیں، بلکہ دینی اعتبار سے تو اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ بیٹی کو کم تر سمجھنے والا درحقیقت الله تعالیٰ کے اس فیصلے سے ناخوشی کا اظہارکرتا ہے، جو الله تعالیٰ نے اسے بیٹی دے کر کیا ہے، ایسے آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تو کیا پوری دنیا بھی مل کر الله تعالیٰ کے اس اٹل فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ یہ درحقیقت زمانہ جاہلیت کی فرسودہ اور قبیح سوچ ہے، جس کو ختم کرنے کے لیے رحمة للعالمین صلی الله علیہ وسلم نے والدین اور تربیت کرنے والوں کو لڑکیوں کے ساتھ اچھے برتاؤ او ران کی ضروریات کا خیال رکھنے کی نصیحت کی ہے۔

عورتوں کامیراث میں سے اپنا حصہ معاف کرنا معتبر نہیں ہے
دین اسلام میں میت کے ترکہ میں جس طرح مردوں کا حق مقرر ہے، اسی طرح عورتوں کا بھی حق مقرر ہے، ثبوت حق کے اعتبار سے بیٹے وبیٹی، شوہر وبیوی، والد، والدہ او ربھائی وبہن میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ مقدار میں کمی بیشی کا فرق ہے، مورث کے انتقال کے بعد مردوں کی طرح میراث میں سے عورتوں کا حق بھی پورا پورا دا کرنا واجب اور ضروری ہے اوران کو اپنے حصہ سے محروم رکھنا حرام اور جرم عظیم ہے، عورتیں عام طور پر اپنا حصہ معاف کر دیتی ہیں یا ان سے معاف کروالیا جاتا ہے یا وہ اپنے حصہ کا مطالبہ نہیں کرتیں، درآنحالیکہ شرعی اعتبار سے عورتوں کا اپنا حصہ معاف کرنا معتبر نہیں، کیوں کہ عورتیں اپنا حصہ لوگوں کی طعن وتشنیع سے بچنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں یا قریبی رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سے نہیں لیتی ہیں اور بادل ناخواستہ معاف کر دیتی ہیں، عورتوں کا ترکہ سے اپنے حصہ کا مطالبہ نہ کرنا یا رسمی طور پر ان سے ان کا حصہ معاف کروانے سے دیگر وارث ہرگز بری الذمہ نہیں ہوسکتے،اس لیے کہ عورتیں زمانہ جاہلیت کے رسم ورواج کے مطابق اپنا حصہ ترکہ میں سے طلب کرنے کو معیوب اور باعث عار سمجھتی ہیں، قریبی رشتہ داروں کی ناچاقی او رمعاشرے کی دیگر افراد کی طعن وتشنیع سے ڈرتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کا فرانہ او رجاہلانہ نظام نے ان مظلوم عورتوں کی زبان بند کر رکھی ہے، لہٰذاوارثوں پر واجب ہے کہ وہ ہر عورت کو اس کا حصہ پورا پورا ادا کریں، اگرچہ، عورتیں زیادہ ہوں اور جائیداد کم۔ لیکن اگر وارث مرد، عورتوں کا حق ادا نہیں کرتے تو ان کے انتقال کے بعد دیگر ورثاء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر وہ عورتیں حیات ہیں تو ان کو، ورنہ ان کے ورثاء کو ان کا پورا پورا حق ادا کرکے اس جرم عظیم سے بچیں۔