بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علم غیب اور اخبار غیب میں فرق

علم غیب اور اخبار غیب میں فرق

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

شہداء کی حیات حقیقی پر شبہات
پہلا شبہ :اگر شہدا ء کے جسم عنصری کو حیات ِحقیقی حاصل ہے تو اس کا مشاہدہ کیوں نہیں ہوتا کہ ہمیں شہداء جسم عنصری کے ساتھ کھاتے پیتے نظر آئیں۔ نیز کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ شہید کا جسم عنصری ہی گل سڑ جاتا ہے، ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، اس صورت میں ان پر حیات ِحقیقی بمع جسم عنصری کا تحقق کیسے ہوگا؟

جواب: شہدا کو عالم برزخ میں جو حیات ِحقیقی حاصل ہوتی ہے، وہ غیرمدرک اور غیر مشاہد ہے، یعنی عالم برزخ کے احوال کو عالم دنیا کی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورہٴ بقرہ میں شہدا کی حیات کے متعلق فرمایا: ﴿لکن لا تشعرون﴾کہ تم اس کا شعور واحساس نہیں رکھتے، یہ نہیں فرمایا کہ ﴿ولکن لا تعلمون﴾کہ تم اس کا علم نہیں رکھتے، کیوں کہ ان کی حیات کا علم تو ہے، لیکن شعور نہیں، اس لیے شہدا کے اجسام سالم رہیں یا متغیر ہو جائیں، اس سے ان کی حیات حقیقیہ بجسد عنصریہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (دیکھیے شرح الصدور، ص: 85)

دوسرا شبہ: روح تو جنت میں ہوتی ہے، پھر جسد عنصری میں حیات کیسے؟

حضرت مسروق فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ﴿ولا تحسبن الذین قتلوا في سبیل اللہ أمواتا بل أحیاء عند ربہم یرزقون﴾ کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ہم نے بھی اس آیت کے متعلق دریافت کیا تھا، ہمیں بتایا گیا کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں میں ہوتی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہیں اور عرش کے نیچے جو قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں، ان میں بسیرا کرتی ہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہدا کی روحیں جنت میں ہیں، پھر ان کا شہداء کی قبروں میں پڑے ہوئے ان کے جسموں سے کیا تعلق ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ روح کے جنت میں ہونے سے اس کا تعلق بدن سے ختم نہیں ہوتا، شہدا کے جسد عنصری کی حیات اسی تعلق روح سے ہوتی ہے، نہ کلی طور پر جسم میں داخل ہونے سے، جیسے سورج لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود اپنی شعاؤں سے زمین پر تجلی ڈالتا ہے، اسی طرح روح بھی جنت میں رہ کر اپنا تعلق جسم کے ساتھ رکھتی ہے، لیکن اس کا ادراک بوجہ دوسرے عالم میں ہونے کے ہم کو عموما نہیں ہوتا۔

تیسرا شبہ:حیات برزخیہ تو تمام مردوں کو حاصل ہوتی ہے، شہداء کی تخصیص کیوں؟

عالم برزخ میں ہر مردے کے ساتھ روح کا تعلق قائم ہوجاتا ہے، اسی تعلق روح کی بنا پر قبر میں عذاب وفرحت کے آثار مرتب ہوتے ہیں، پھر اس میں شہدا کی تخصیص کیوں فرمائی گئی کہ وہ ”أحیاء“ ہیں؟

جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر روح کا اپنے جسم سے تعلق ہوتا ہے اور اس بنا پر ایک نوع کی حیات حاصل ہوجاتی ہے۔

مگر روح کا تعلق اپنے جسم سے ایک جیسا نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ان کے اجسام میں حیات کے بھی مدارج ہیں۔

پہلا درجہ:
ایک وہ اجسام مبارکہ ہیں جن کے ساتھ روح کا تعلق انتہائی اقوی ہوتا ہے، وہ انبیاء علیہم السلام کے اجساد ہیں، اسی اقوی تعلق کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ قبر میں عبادت و طاعات میں مصروف رہتے ہیں۔

دوسرادرجہ:
وہ خوش قسمت اجسام ہیں، جن کا تعلق قوی ہوتا ہے، اسی قوی تعلق کی بنا پر انہیں رزق سے نوازا جاتا ہے۔

تیسرا درجہ:
عام لوگوں کا ہے، ان میں سے جس جسم کا روح کے ساتھ جس قدر مضبوط تعلق ہو گا،وہ اتنی لذت و فرحت میں ہو گا اور اس کی قبر جنت کے باغیچوں میں ایک باغیچہ بن جائے گی، وہ ان نعمتوں کو دیکھ کر فرحت وانبساط کے ساتھ دلہن کی طرح سو یا رہے گا اور جس جسم کا روح کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے برابر ہوگا وہ اسی قدر عذاب قبر میں مبتلاہو گا۔

شہدا کی حیات اقوی ہے اور اس کے اثرات عام مردوں سے مختلف ہیں، اس لیے شہدا کی حیات کو خاص طور پر بیان کیا گیا۔

قصہ غزوہ حمراء الاسد
﴿الذین استجابوا للہ والرسول…﴾اس آیت سے غزوہ حمراء الاسد کی طرف اشارہ ہے، یہ کوئی مستقل غزوہ نہیں،بلکہ غزوہ احد کا تتمہ ہے، غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا تھا، اس نے مشرکین کے دلوں میں مزید ہمت و جرأت پیدا کر دی تھی،مسلمانوں نے معرکہ احد سے مدینہ واپس لوٹنے کے بعد 8شوال 3ہجری ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات ہنگامی صورت حال میں گزاری، زخموں سے چور اور غم سے نڈھال ہونے کے باوجود شہر کی حفاظت کا فریضہ تندہی سے انجام دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم کو اس صورت حال میں مشرکین کے ناجائز فائدہ اٹھانے کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ پلٹ کر مدینہ پر حملہ نہ کر دیں، اس لیے آپ مشرکین کے لشکر کا تعاقب کر کے اپنی ہمت وعزم کی دھاک بٹھانا چاہتے تھے، اس حکمت عملی کا ایک فائدہ نفسیاتی غلبے کا تھا، دوسرا مدینہ منورہ کے محفوظ رہنے کا، دوسری طرف ابو سفیان بھی واقعی اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے مدینہ منورہ پر حملہ کی تیاری میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقدامی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے صرف ان جانبازوں کو لے کر، جو غزوہ احد میں شریک تھے، تعاقب کے لیے نکلے، مدینہ منورہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد میں پہنچ کر خیمہ زن ہو گئے، تین دن پیر، منگل، بدھ وہا ں قیام فرمایا،مشرکین تعاقب کی خبر پا کر گھبرا گئے، اپنے جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں کو مرعوب کرنا چاہا، لیکن مسلمانوں کے بلند اور پختہ عزائم کے سامنے مشرکین کی بہادری اور شجاعت کے سارے جذبے اڑن چھو ہو گئے، مسلمانوں کے رعب نے انہیں جلد از جلد مکہ پہنچنے پر مجبور کر دیا، مسلمانوں نے وہاں گزرنے والے تجارتی قافلے سے خرید وفروخت کی، نفع کمایااور رضائے الہی کا پروانہ لے کر واپس لوٹ آئے۔(دیکھیے، سیرت ابن ہشام 2/60، زاد المعاد:2/91)

﴿فانقلبوا…﴾سے معلوم ہوااللہ تعالی نے اہل ایمان کو چار انعامات سے نوازا، نعمت اخروی، فضل: نعمت دنیاوی تجارتی نفع، ناگواری سے حفاظت، رضائے الہی کی پیروی۔

﴿وَلاَ یَحْزُنکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُونَ فِیْ الْکُفْرِ إِنَّہُمْ لَن یَضُرُّواْ اللّہَ شَیْْئاً یُرِیْدُ اللّہُ أَلاَّ یَجْعَلَ لَہُمْ حَظّاً فِیْ الآخِرَةِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، إِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاْ الْکُفْرَ بِالإِیْمَانِ لَن یَضُرُّوْا اللّہَ شَیْْئاً وَلہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ،وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْْرٌ لِّأَنفُسِہِمْ إِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْا إِثْماً وَلَہْمُ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ، مَّا کَانَ اللّہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی مَا أَنتُمْ عَلَیْْہِ حَتَّیَ یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْْبِ وَلَکِنَّ اللّہَ یَجْتَبِیْ مِن رُّسُلِہِ مَن یَشَاء ُ فَآمِنُوْا بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَإِن تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ أَجْرٌ عَظِیْمٌ﴾ (سورہ آل عمران، آیت:179-176)
ترجمہ… اور غم میں نہ ڈالیں تجھ کو وہ لوگ جو دوڑتے ہیں کفر کی طرف ،وہ نہ بگاڑیں گے الله کا کچھ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو فائدہ نہ دے آخرت میں اور ان کے لیے عذاب ہے بڑا، جنہوں نے مول لیا کفر کو، ایمان کے بدلے وہ نہ بگاڑیں گے اللہ کا کچھ اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک اور یہ نہ سمجھیں کافر کہ ہم جو مہلت دیتے ہیں، ان کو کچھ بھلا ہے ان کے حق میں ،ہم تو مہلت دیتے ہیں ان کو، تاکہ ترقی کریں وہ گناہ میں اور ان کے لیے عذاب ہے خوار کرنے والا۔ اللہ وہ نہیں کہ چھوڑ دے مسلمانوں کو اس حالت پر جس پر تم ہو، جب تک کہجدا نہ کر دے نہ پاک کو پاک سے اور اللہ نہیں ہے کہ تم کو خبردے غیب کی، لیکن اللہ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہے، سو تم یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، اور اگر تم یقین پر رہو اور پرہیزگاری پر تو تم کو بڑا ثواب ہے۔

منافقین کے رویے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی
غزوہ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ تکلیف منافقین سے پہنچی تھی، عین قتال کے وقت رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت مسلمانوں سے الگ ہو گیا، اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو منافقین کا یہ عمل نفسیاتی طور پر مخلص مسلمانوں کو زیروزبر کردیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والے رنج کو زائل کرنے اور تسلی دینے کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں بتایا گیا۔

منافقین اپنے کافرانہ طرز عمل کی وجہ سے دین الہٰی کوذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈھیل اس لیے دی ہے کہ آخرت میں نیکی اور بھلائی کا کوئی حصہ ان کے لیے باقی نہ رہے، یہ اسلام دشمنی میں آگے بڑھ کر اپنے گناہوں کابوجھ بڑھاتے رہیں تاکہ اسی کے موافق انہیں دردناک عذاب سے دوچار کیا جا سکے۔

میدان جہاد کھرے کھوٹے کی پہچان کا ذریعہ ہے
﴿ما کان اللہ لیذرالمؤمنین…﴾اس آیت میں جہاد، آزمائش اور پریشان حالی کی حکمت سے پردہ اٹھا گیا ہے، اگر مسلمانوں کے مقدر میں ہمیشہ فتح و نصرت کا علم لہراتا رہتا، خوش حالی اور اطمینان کا دور دورہ رہتا تو پھر ہر مفاد پرست، پیٹ کا پجاری، مادیت کا ڈسا ہوا، اسلام کی چھتری میں پناہ لے لیتا اور اگر ہمیشہ مسلمانوں پر آزمائش کا پاٹ پڑارہتا تو ناامیدی پھیل جاتی، طبائع کی کمزوری اس کا تحمل نہ کر سکتی، اس لیے اللہ تعالی کھرے کھوٹے،مخلص، منافق کی پہچان کرانے کے لیے انسانوں کو مختلف آزمائشوں سے گزارتا ہے، مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ بھی کھرے کھوٹے کی تمیز کا معیار ہے،اللہ تعالی اپنے علم ازلی کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کو کھرے کھوٹے کی خبر دے سکتا ہے، بلا کسی آزمائش کے ان میں تفریق ہو سکتی ہے، مگر جہاد اور پریشانی کے ذریعے ان دو گروہوں کو سب کی آنکھوں کے سامنے عیاں کر دیتاہے، البتہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے غیب کی خبر دے کر منافقوں اور ان کے ارادوں، سازشوں سے پردہ اٹھادیتاہے اور اگر اللہ تعالیٰ خبر نہ دے تو نبی بھی ان منافقین سے اور ان کی سازشوں سے آگاہ نہیں ہوتا، سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وممن حولکم من الاعراب منافقون، ومن اھل المدینة مردوا علی النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم﴾․

انبیاء علیہم السلام کا امور غیب پر مطلع ہونا
﴿ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء…﴾منافقین اپنے ایمان و نفاق کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرتے تھے، بتایئے ہم مسلمان ہیں یا منافق؟ ان کے اس سوال پر انہیں متنبہ کیا گیاہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالی کے پاس ہے، نبی کے پاس نہیں ہے، البتہ اللہ تعالی اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے غیبی امور کا علم عطا فرما دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ منافقین سے باخبر ہو جاتا ہے۔

علم غیب اور اخبار غیب میں فرق
انبیاء علیہم السلام کو امور غیب کا علم ہو تا ہے، اسے غیب کی خبریں یعنی (انباء الغیب)کہتے ہیں، غیب کا علم، یعنی علم الغیب نہیں کہتے، کیوں کہ علم غیب اصطلاح میں بلاواسطہ اور بلا سبب کے حاصل ہونے والے علم کو کہتے ہیں، سبب و واسطے کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو ”انباء الغیب“ غیب کی خبریں کہتے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کو امورِ غیبیہ کا علم وحی کے واسطے سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے اسے انباء الغیب یا اخبار الغیب یا اطلاع علی الغیب کہہ سکتے ہیں،مگر علم الغیب نہیں کہہ سکتے، جن اصحاب علم، کی تحریروں میں اسے ”علم الغیب“ کا عنوان دیا گیا ہے اسے تعبیر کا یا عبارت کا تسامح سمجھیں۔

مفردات القرآن میں لفظ”غیب“ کی تشریح میں ہے: ”واستعمل فی کل غائب عن الحاسة وعمّا یغیب عن علم الانسان بمعنی الغائب… (یومنون بالغیب) مالا یقع تحت الحواس ولا تقتضیہ بدائة العقول، وإنّما یعلم بخبر الانبیاء علیہم السلام․“(مفردات القرآن للراغب، غیب، ص: 26)

متکلم اسلام قاری طیب صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
”بہر حال علم کے حسی وسائل ہوں یا معنوی، کھلے ہوئے ذرائع ہوں یا چھپے ہوئے، ان سے حاصل شدہ علم کو علم الغیب نہیں کہا جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ جب اصطلاحاًعلم غیب وہی ہو گا، جو مادی وسائل سے بالاتر ہو کر، بلا واسطہ اسباب، ازخود ہوتو حاصل یہ نکل آیا کہ علم غیب بجز ذات بابرکاتِ خداوندی اور کسی کے لیے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ غیر خدا کو جب بھی علم ہو گا اور جیسا بھی ہو گا وہ عطائے الہی ہو گا اور مذکورہ وسائل میں سے کسی نہ کسی وسیلہ کے واسطے سے ہو گا، خواہ وحی سے ہو یا کشف والہام سے، تجربے سے ہو یا حواس سے یا عقل و خرد سے، یعنی ظاہری وسائل کے راستے سے یا باطنی اور معنوی اسباب کے طریق سے ہو۔

اس لیے علم غیب خاصہ خداوندی نکل آتا ہے اور یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کسی بھی بشر کو علم الغیب حاصل نہیں، جب کہ کوئی بھی غیر اللہ بلا توسط اسباب، خود بذاتہ عالم نہیں ہو سکتا، خواہ انبیاء ہوں یا اولیاء، ملائکہ ہوں یا ارواح قدسیہ، یہ الگ بات ہے کہ انبیاء بالخصوص سردار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا علم تمام مخلوقات کے علم سے بدرجہا زائد اور فائق ہے، اس لیے کسی پیغمبر کے علم پر بھی علم الغیب کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا، چناں چہ قرآن کریم نے علم الغیب کو حصر کے ساتھ جگہ جگہ صرف اللہ کی ذات ہی کی طرف منسوب اور اسی کے ساتھ مخصوص بتلایا ہے۔(علم غیب، ص:14،15)

نبراس میں ہے:
”والتحقیق أن الغیب ما غاب عن الحواس والعلم الضروری والعلم الاستدلالی وقد نطق القرآن بنفی علمہ عمن سواہ تعالیٰ.

غیب وہ ہے جو حواس ظاہری سمع و بصر سے غائب ہو اورعلم ضروری وحی و الہام اور علم استدلالی پر اس کی بنیاد نہ ہو، قرآن کریم نے ایسے علم سے سوائے اللہ تعالیٰ کے سب سے اس کی نفی کی ہے۔ (النبراس: ص:574)

انبیاء علیہم السلام کے اخبار غیب کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ
انبیاء علیہم السلام کے اخبار غیب کے متعلق اہل سنت کے عقیدے کو ترتیب وار بیان کیا جاتا ہے۔

تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے اخبارغیب، اطلاع علی الغیب سے نوازا ہے۔

امورِ غیبیہ کے متعلق تمام انبیاء علیہم السلام کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور محدود ہے۔

حضورصلی الله علیہ وسلم مخلوق میں سب سے زیادہ امورِ غیبیہ کا علم رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسے علم الہی سے اتنی نسبت بھی نہیں، جتنا قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، نیز آپ صلی الله علیہ وسلم کا سارا علم عطائی بھی ہے اور محدود بھی۔

عالم غیب، اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے، اسے مخلوق کے حق میں استعمال کرنا درست نہیں۔ قاری طیب صاحب رقم طرازہیں: ”صرف خدا ہی کو عالم الغیب کہنے کا حکم ہو گا“۔(علم غیب: ص؛18)

علمائے بریلی کی عمومی تصریحات
علمائے بریلی کے پیشوا ومقتدا مولوی احمد رضاخان صاحب لکھتے ہیں:
مگر ہماری تحقیق میں لفظ ”عالم الغیب“ کا اطلاق حضرت عزت عزجلالہ کے ساتھ خاص ہے۔(فتاویٰ رضویہ،9/81،مکتبہ رضویہ کراچی)

مولوی غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
ہمارے نزدیک عالم الغیب صرف اللہ تعالی ہے۔(تبیان القرآن، الجن: ذیل آیت: 26)

پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب لکھتے ہیں:
وہ علم جو حواس کی رسائی سے بالاتر ہو اور جو قوت عقل سے بھی حاصل نہ کیا جا سکے، اسے غیب کہتے ہیں، آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہو گا کہ زمین وآسمان میں جو بھی موجود ہیں، فرشتے، جنات، انسان، جن میں علماء، اولیاء، انبیاء، اولوالعزم رسل بھی داخل ہیں اور دیگر لوگ ،کوئی بھی غیب کو نہیں جان سکتے، صرف اور صرف اللہ تعالی کی یہ شان ہے کہ وہ عالم الغیب ہے۔ (ضیاء القرآن؛ النمل:ذیل آیت:14)

علمائے اہل سنت اور علمائےء بریلوی کے درمیان نکتہ اختلاف:
اس اختلاف کو جاننے اور سمجھنے کے لیے مولانا مفتی محمد امین پالن پوری صاحب کا نقشہ اور تحریر پیش کرتے ہیں، انہوں نے بہت عام فہم انداز میں اسے بیان کیا ہے۔

مغیبات کے جاننے کی بنیادی قسمیں دو ہیں: ذاتی عطائی، پھر عطائی کی دو قسمیں ہیں: محیط، غیر محیط، پھر محیط کی دو قسمیں ہیں: عام اور خاص، پس مغیبات کے جاننے کی کل چار قسمیں ہوئی، ذاتی عطائی محیط عام، عطائی محیط خاص، اور عطائی غیر محیط،نقشہ درج ذیل ہے۔

مغیبات کا علم
تمام قسموں کی مختصر وضاحت
علم ذاتی: خانہ زاد علم کو کہتے ہیں، یعنی ایسا علم جو کسی کا عطا کیا ہوا نہ ہو۔

علم عطائی: وہ علم ہے جو کسی ہستی کا عطا کیاہوا ہو۔

علم محیط عام: ازل سے ابد تک تمام چیزوں کے علم کلی کو کہتے ہیں۔

علم محیط خاص: ابتدائے آفرینش سے جنت و جہنم میں داخل ہونے تک کی تمام چیزوں کے علم کلی کو کہتے ہیں، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیاہے، اس وقت سے لے کر جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک تمام چیزوں کا ایسا تفصیلی علم کہ کائناتِ حاضرہ غائبہ کی کوئی چیزمخفی اور پوشیدہ نہ رہے۔

اور علم غیر محیط سے مراد صرف بعض مغیبات کا علم ہے، یعنی غیب کی صرف ان باتوں کا علم جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص بندوں کو وحی اور الہام کے ذریعے مطلع فرمایا ہے، اس مختصر وضاحت کے بعد چاروں قسموں کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔(محاضرات علمیہ، مفتی محمد امین پالن پوری، ص:93،94 دیوبند)

علم ذاتی:اس پر علمائے اہل سنت کا اور علمائے بریلوی کا اتفاق ہے، ذاتی علم صرف اور صرف خالق حقیقی اللہ تعالی کو حاصل ہے، کسی مخلوق میں ذرے کا علم بھی ذاتی نہیں ہے، چناں چہ مولوی احمد رضا خان بریلوی صاحب لکھتے ہیں:

”علم ذاتی“اللہ تعالی کے ساتھ خاص اور اس کے غیر کے لیے محال ہے، جو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایک ذرہ سے کم تر سے کم تر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقیناً کافر و مشرک ہے۔(خالص الاعتقاد، ص:22)

علم عطائی محیط عام:
اس پر بھی اہل سنت اور علمائے بریلی کا اتفاق ہے، تمام مغیبات کا علم محیط ،یعنی تمام مغیبات کا احاطہ کرنے والا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے،اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا علم کسی نبی، فرشتے اور ولی کو نہیں دیا، اگر کوئی شخص تمام مغیبات علم محیط کا کسی مخلوق کے لیے صرف عطائی کا فرق کر کے روا رکھے تب بھی وہ،مشرک و کافر ٹھہرے گا۔

ملا علی قاری رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:
من اعتقد تسویة علم اللہ ورسولہ یکفر إجماعاً کما لا یخفی․(موضوعات کُبریٰ،ص: 119) جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے علم میں برابری کا عقیدہ رکھے وہ بالاتفاق کافر قرار دیا جائے گا، جیسا کہ مخفی نہیں۔

مولوی احمد رضاخان صاحب لکھتے ہیں:
”ہم نہ علم الہٰی سے مساوات مانیں، نہ غیر کے لیے علم بالذات جانیں اورعطائے الہٰی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں، نہ کہ جمیع کا“ (خالص الاعتقاد،ص:23)

مفتی احمد یارخان صاحب لکھتے ہیں:
ہم بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علوم الہیہ کے مقابلے میں بعض علم ہی کے قائل ہیں ۔(جاء الحق:ص:96)

علم عطائی محیط خاص:
یعنی ابتدائے آفرینش عالم سے جنت و جہنم میں داخل ہونے تک کے ذرے ذرے کا علم، اہل سنت کے نزدیک ایسا علم بھی کسی نبی کو نہیں دیا گیا، مگر اہل بدعت اس قسم کے محدود علم کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے ثابت کرتے ہیں، یہی نکتہ اختلاف اور وجہ نزاع ہے، چناں چہ احمد رضا خان صاحب نے اس قسم کے علم کے لیے خالصاًروافض کی اصطلاح”علم ما کان وما یکون“ استعمال کی ہے،(اس اصطلاح کا سب سے پہلے استعمال اصول کافی میں ملتا ہے،کسی معتبر محدث،مفسر، فقیہ نے یہ الفاظ استعمال نہیں کیے،”إن الأئمة علیہم السلام یعلمون علم ماکان وما یکون) چناں چہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو تمام”ما کان وما یکون إلی یوم القیامة“ کا علم تھا اور ابتدائے آفرینش عالم سے لے کر جنت و نار کے داخلے تک کا کوئی ذرہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے باہر نہ تھا۔ (ملحض از انباء المصطفیٰ.ص:4)

دوسرے مقام میں لکھتے ہیں :
”بے شک حضرت عزت عظمت نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا، شرق سے غرب، عرش سے فرش سب انہیں دکھایا، ملکوت السموات والارض کا شاہد بنایا، روز اول سے روز آخر تک ماکان وما یکون انہیں بتایا، اشیائے مذکورہ میں سے کوئی ذرہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے باہر نہ رہا، علم عظیم حبیب کریم علیہ افضل الصلوة والتسلیم ان سب کو محیط ہوا، نہ صرف اجمالاً ،بلکہ ہر صغیر و کبیر، ہر رطب و یابس، جو پتہ گرتا ہے، زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہیں پڑا ہے، سب کو جدا جدا تفصیلاً جان لیا، بلکہ جو کچھ بیان ہوا ہر گز ہر گز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پوراعلم نہیں“۔(مجموعہ رسائل،احمد رضا خان، حصہ اول، ص:126، 127)

خالص الاعتقاد میں لکھتے ہیں:
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو تعین وقت قیامت کا بھی علم ملا، حضور کو بلا استثنا جمیع جزئیات خمس کا علم ہے۔(یعنی قرآن کریم میں جن پانچ چیزوں کے علم کی تخصیص ا لله تعالیٰ نے اپنے لیے کی ہے،اس کا علم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔) جملہ مکنونات قلم، مکتوبات لوح محفوظ، از روزِ اول سے روز آخر تک تمام ما کان وما یکون مندرجہ لوح محفوظ اور اس سے بھی زیادہ کا علم ہے۔ (خالص الاعتقاد،ص:7)

اس طرح کے دعوے ان کی مختلف کتابوں میں انتہائی مبالغے کے ساتھ بکھرے پڑے ہیں، صاحب ذوق ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں، مقیاس حنفیت، ص:333:محمد عمر اچھروی،الدولة المکیہ،ص:247،جاء الحق،ص:85 وغیرہ۔

علم عطائی غیر محیط:
اس قسم کا علم انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے ثابت ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو بہت سی غیب کی خبروں سے آگاہ فرمایا، مگر کائنات کے ذرے ذرے، لوح محفوظ کے تمام مندرجات سے آگاہ نہیں فرمایا، اس میں بھی کوئی شک نہیں، تمام انبیاء کا علم پوری مخلوق میں اعلیٰ وارفع درجے کا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم سب سے زیادہ اعلیٰ وارفع ہے، لیکن یہ تمام انبیاء صرف وہی جانتے ہیں جس کا علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، کائنات کے ذرے ذرے کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو حاصل نہیں، یہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور یہی تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ (جاری)