بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علماء کا دنیا سے پے درپے اٹھنا

علماء کا دنیا سے پے درپے اٹھنا

عبید اللہ خالد

یہ دنیا زوال پذیر ہے اور اس میں بسنے والی ہر چیز فانی ہے، اگر بقا ہے تو وہ صرف اور صرف الله رب العزت کی ذات عالی کو ہے، جو ذوالجلال والاکرام ہے۔ انبیاء کرام اس دنیا میں آئے اور الله تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ذمہ داری او رپیغام کو انسانوں تک پہنچا کر اس فانی عالم سے عالم بقا کی طرف کوچ کر گئے، صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین بھی اپنی زندگی کے فرائض ادا کرکے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ علمائے کرام اس دنیا میں انبیاء کے وارث او ران کے علوم وافکار کے امین ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:” میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں “ جو کام بنی اسرائیل میں انبیاء سر انجام دیا کرتے تھے وہ کام میری اُمت کے علماء انجام دیں گے۔

امت مسلمہ کی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس امت کے علماء نے ہر دور میں وراثت نبوّت کی اُن ذمہ داریوں کو نبھایا جو انبیاء کرام علیہم السلام کے منصب نبوت میں داخل ہوتی ہیں اور ان ذمہ داریوں اور امور کو لے کر وہ اس دنیا میں الله تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں۔ دور حاضر فتنوں کا دور ہے اور آنے والا ہر دن نئے فتنوں کی نوید لے کر آتا ہے، ایسے میں علماء کرام کا وجود الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جو فتنوں کے دور میں امت کی صحیح راہ نمائی کرتے ہیں اور اسے صراط مستقیم دکھلاتے ہیں کہ انبیاء، صدیقین، اولیاء، شہداء اورصلحا کا یہی طریق ہے اور اسی طریق میں دنیا وآخرت کی کام یابی وکام رانی کا راز مضمر ہے۔ اس دور میں الله تعالیٰ نے برصغیر پاک وہند کو علماء کرام کے بابرکت وجود سے مالا مال فرمایا ہے او را س کے اثرات واضح طور پر یہاں رہنے والے مسلمانوں کے عقائدواعمال میں نظر آتے ہیں، بلکہ پوراعالم اسلام یہاں کے علماء وصلحاء کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہا ہے او راس وقت مغربی تہذیب وتمدن کے سامنے اگر کوئی سد سکندری کی حیثیت رکھتا ہے تو وہ یہاں کے علماء کرام ہی ہیں اور آج مغرب بلکہ پورا عالم کفر اگر پریشان ہے تو وہ اس خطے کے ان بوریہ نشین اہل علم کی خدمات ومساعی سے ہے۔ ماضی قریب میں یکے بعد دیگرے اہل علم کی ایک بڑی تعداد نے آخرت کے لیے رخصت سفر باندھا اور اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے، اہل علم کا وجود مسعود اہل دنیا کے لیے الله تعالیٰ کی بڑی نعمت اور بہت بڑی غنیمت ہے اور ان کا دنیا سے اس طرح پے درپے اٹھنا لمحہ فکریہ ہے ۔

ایک حدیث میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”نیک لوگ یکے بعد دیگر ے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے او رجو کے بھوسے کی طرح ناکارہ لوگ رہ جائیں گے، الله تعالیٰ ان کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔“(صحیح بخاری) ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ”الله تعالیٰ یوں ہی بندوں کے سینوں سے علم کو نہیں چھین لیں گے، البتہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لیں گے۔ (صحیح بخاری)

ایسی صورت حال میں اُمت کو زیادہ سے زیادہ الله تعالیٰ کی طرف رجوع کا اہتمام کرنا چاہیے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے نیک اعمال کواختیار کرنا چاہیے اور بُرے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے،توبہ و استغفار کا اہتمام کرکے معاصی ومنکرات سے معاشرے کو حتی الوسع پاک کرنا چاہیے کہ یہ ُامور الله تعالیٰ کی ناراضگی اورغضب کا باعث بنتے ہیں۔ الله تعالیٰ اُمت کے علماء وصالحین کے اعمال او ران کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے او رامت کو ان کے وجو مسعود اور فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔

وما توفیقي إلا بالله علیہ توکلت وإلیہ أنیب․