بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدہ اور عمل

عقیدہ اور عمل

محترم محمد حنیف ملی

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا دین آفاقی اور قیامت تک رہنے کے لیے آیا ہے،ا س کی ضمانت آنحضرت صلی الله علیہ سلم نے یہ فرما کر دے دی ہے کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان ایسا نہ ہو گا جو میری تعلیمات اورمیری شریعت سے متاثر نہ ہو۔ آپ کی ذات ِ گرامی اسلامی شریعت کے لیینقطہٴ آغاز تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے سورہٴ فتح میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع وعریض دائرہ بن گیا، جس میں کالے گورے، عجمی عربی، آقا وخادم، بادشاہ وغلام، تاجر وکاشت کار، عالم وجاہل سب نظر آرہے ہیں۔

آپ نے آدم کے گھرانے کو ان کا اصلی رشتہ یاد دلایا اور یہ اعلان فرما دیا کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کا خمیر مٹی سے تیار ہواہے، اس لیے ظاہری امتیاز ونسب کوئی چیز نہیں ۔ آپ نے وہ تمام دیواریں گرا دیں اور خلیجیں پاٹ دیں جو اس زمانے کے سورماؤں نے علاقائی،نسلی، لسانی، خاندانی اور تہذیبی بنیادوں پر قائم کی تھیں اور اس موہوم فاصلے کو کم کرکے بتا دیا کہ بنی آدم ایک دوسرے کے لیے انسانی جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ اگر ایک عضودرد، کبیدگی، سوز، حرارت اور بے چینی محسوس کرتا ہے تو سارا جسم انسانی متاثر ہوتا ہے اور شعوب وقبائل کی اگر اسلام نے کسی درجے میں رعایت کی ہے تو وہ تعارف کی وجہ سے ہے۔

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے عصبیت کی وجہ سے بڑھتے ہوئے فاصلوں کو بھی ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ عصبیت او رجاہلیت کا نعرہ لگانے والے کی مثال ایسی ہے کہ اونٹ منھ کے بل کنویں میں گر جائے اور اسے دم پکڑ کر نکالا جائے، یعنی جس طرح یہ عمل ناگوار وناشائستہ ہے، اسی طرح اپنے قبیلے،خاندان،جماعت کی، غلط راہ پر ہونے کے باوجود، حمایت کرنا بھی ناپسندیدہ ہے۔

دین کی اس آفاقیت اور بقا کاراز الله تعالیٰ کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے دو بنیادوں او راساسی حقیقت پر رکھا ہے، جسے اسلامی شریعت میں ”عقیدہ او رعمل“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس میں بھی اول الذکر کی حیثیت سنگ ِ بنیاد کی ہے، جس کے بغیر اس دنیا میں بندے کا بڑے سے بڑا ،اچھا عمل اس کی نجات کے لیے کافی نہ ہو گا، دنیا میں ایمان کی دولت سے محروم رہنے کے باوجود ایسے انسانوں کی کمی نہیں جو اچھائیوں اور انسانی خوبیوں کے خوگر ہوتے ہیں، لیکن ان کی یہ اچھائیاں دنیاوی درجات کی بلندی اور راحت وآرام کا سبب تو ہو سکتی ہیں، آخرت میں اس پر کچھ ملنے والا نہیں ہے، ایسے اچھے انسانوں کی نظیرعہد رسالت میں بھی مل جائے گی۔

یہ حضرت حکیم ابن حزام ہیں، جو قبول ِ اسلام سے پہلے بھی نماز، روزہ، صدقہ،خیرات میں لگے رہتے تھے۔ غلاموں کو آزاد بھی کیا کرتے تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے عہد جاہلیت کی اچھائیوں پر اجر ملے گا؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: جو نیکیاں تم نے عہد جاہلیت میں کی ہیں، اسلام اسی کا صلہ ہے۔ اب آخرت کے لیے جو نیکیاں کرو گے اس پر تمہیں پروانہ نجات ملے گا۔ معلوم ہوا کہ کوئی اچھا کام عقیدے سے محروم رہ کر طاعت، قربت اور عبادت کا درجہ نہیں حاصل سکتا۔

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے سب سے پہلے دل کے نہاں خانوں کو خدائے وحدہ لاشریک کے یقین کامل سے آباد وشاداب رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ ارشاد ہے:” جو لا الہ الا الله پر سچا یقین رکھتے ہوئے دنیا سے جائے، جنت کا حق دار ہو گا۔“ کہیں فرمایا: ”ایسے خوش نصیب پر جہنم حرام ہو گی۔“ ایک یہودی لڑکا جو الله کے نبی کی خدمت کیا کرتا تھا، جب وہ مرنے لگا تو الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے کلمہ طیبہ کی تلقین کی، وہ لڑکا اپنے باپ کو دیکھنے لگا، باپ نے کہا: ابو القاسم کی بات مان لو،چناں چہ اس نے مرتے وقت کلمہ پڑھا اور الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے حسن خاتمہ اور توفیق پر خدا وند عالم کا شکریہ ادا فرمایا۔

حضرت سفیان بن عروہ ثقفی نے جب عرض کیا کہ الله کے نبی ! مجھے کوئی ایسی بات تلقین فرما دیں تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی سے دریافت کرنے کی ضرورت باقی نہ رہ جائے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی عقیدہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:”یہ کہہ لو کہ میں خدا پر ایمان لے آیا اور اس پر قوت سے جم جاؤ۔“

عقیدہٴ توحید ورسالت ، آپ کی سیرت کی وہ اہم تعلیم ہے کہ جسے سب کھو کر بھی بچا لیا جائے تو بڑی سعادت اور کام یابی ہوگی۔ ایک صحابی سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”خدا کے ساتھ ہر گز شریک نہ کرنا، چاہے تمہیں جلا دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔“

اس روایت نے بتایا کہ سیرت کا اہم عنصر عقیدہ توحید ورسالت ہے، اس راہ میں اگر جان بھی چلی جائے تو یہ سستا سودا ہے۔ صحابہ کرام نے سیرت کے اس اہم عنصر کو اپنایا تو کلمہ حق بلند کرنے کے لیے سربکف نکلنا، خاک وخون میں تڑپنا، اذیتوں سے گزرنا، تختہ دار پرلٹکنا او رمیدان جنگ میں طبل کی آواز سننا، ان کے لیے آسان ہو گیا۔ ان اذیتوں سے گزر کر جب وہ منزل جاناں میں قدم رکھتے تھے تو زخموں سے چور اور لہو میں غرق ہوتے تھے، لیکن لب پر”فزت ورب الکعبة“ کا نعرہٴ مستانہ ہوتا تھا۔

سیرت کا یہ اہم گوشہ، جسے عقیدہٴ توحید کہتے ہیں، کے مختلف اجزا ہیں اور جسے ایمان مفصل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا ایک ہے، محمد صلی الله علیہ وسلم اور دیگر انبیاء الله کے سچے رسول ہیں اور فرشتوں کا وجود برحق ہے، خدا نے انہیں نور سے پیدا کیا ہے، وہ سرچشمہ ٴ خیر ہیں، وہ نہ مذکر ہیں، نہ مؤنث، وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہیں۔ خدا کی تحمید وتسبیح ہی ان کی غذا ہے، ان میں سے کچھ بارگاہ سے متعلق ہیں او رکچھ کارگاہ سے ، وہ اپنا مستقل وجود رکھتے ہیں، آسمانی کتابیں برحق اور سچ ہیں۔ وہ خدا کا کلام ہیں، خدا کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، اسی طرح اس کا کلام بھی ازلی ہے، آخرت برحق ہے، تقدیر کے فیصلے سچے ہیں، جنت اورجہنم بھی مخلوق اور برحق ہیں، صراط، جہنم اور میزان عمل بھی حق ہیں، ان اجزا میں سے کسی ایک کے متعلق بھی رتی برابر شک ہو تو پھر ایمان کی خیر نہیں۔ اس لیے سیرت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ دل کوٹٹول کر دیکھیں کہ یہ اجزا دامن دل سے وابستہ ہیں یا نہیں…۔

یہی دل کی پختگی اور عقیدے کا استحکام تھا،جس نے خطرناک وادیوں اور دشمن کی مجموعی یلغار کے باوجود الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے پائے ثبات میں جنبش نہیں آنے دی اور آپ خطروں میں گھر کر فرماتے تھے : ﴿لاتحزن إن الله معنا﴾ اور میدان جنگ میں دشمن کی بپھری ہوئی جمعیت میں تن تنہا فرمایا کرتے:
        أنا النبي لا کذب
        أنا ابن عبدالمطلب
ترجمہ: ” میں عبدالمطلب جیسے بہادر انسان کا سپوت ہوں، جو پشت دکھانا نہیں جانتااور میں سچا نبی ہوں، جس میں کوئی غِل وغَش نہیں۔“

سیرت کا یہ اہم گوشہ ہم سے چھوٹ چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر طرح کی نکبت اور ذلت کے بادل ہم پر منڈلارہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ہم اب اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگے ہیں۔ معرکہٴ خیبر میں یقین اوروثوق کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا: عنقریب لشکر شکست خوردہ دم دبا کر بھاگ جائے گا، یہ اسی سیرت طیبہ کا اہم عنصر ہے،جسے آج ملت اسلامیہ میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

سیرت رسول صلی الله علیہ و سلم کا دوسرا بنیادی وصف عمل ہے، جس کی حیثیت قوموں، ملکوں اور گردش ایام میں حاکم او رفاتح کی ہے، دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ کردار اور عمل کے سامنے ظاہری آب وتاب اور گل افشانی گفتار کی کوئی حیثیت نہیں، بے سروسامانی کی زندگی میں عمل سے جو انقلاب برپا ہوتا ہے، وہ گفتار اور شوخیوں کے طوفانوں کو بھی پسپا کر دیتا ہے، اس ترقی یافتہ متمدن دنیا میں لکچر، لٹریچر، پمفلٹ، سیپوزیم اور مذاکروں کی کمی نہیں۔ یہ ایسے آلات اور وسائل ہیں جن کی چمک اگرچہ نگاہوں کو خیرہ کیے ہوئے ہے، لیکن اس کی کاٹ دلوں تک تو کیا پہنچے ظاہری چمڑی کو بھی متاثرنہیں کر پاتی، اس لیے یہ کہتے ہوئے جھجک معلوم نہیں ہوتی کہ عمل ہی وہ شمشیربراں ہے، جس کا لوگوں کے دلوں پر براہ راست غلبہ ہوتا ہے۔ علامہ اقبال  فرماتے ہیں:
        آدمی نہیں سنتا آدمی کی باتوں کو
        پیکر عمل بن کر غیب کی صدا ہو جا

اثر انداز ہونے کے لیے عمل براہ راست کار گزار ہے۔ عمل باطل نظام کو زیروزبر کرنے کے لیے صاعقہ ربانی ہے۔

عمل ایک باطنی قوت ہے، جس کا قالب سے زیادہ قلب پر اثر ہوتا ہے، عمل ایک حقیقت ہے، جس کے اشارے کی زباں صرف دل ودماغ سمجھتے ہیں، عمل سیاہ رات میں منزل کے لیے جگنو کا کام کرتا ہے، عمل سے ہی زندگیوں میں انقلاب آتا ہے۔ اس دھرتی پر ختم الرسل کے اخلاص سے معمور اعمال کی کرشمہ سازی تھی جس نے غبار راہ کو فروغ وادی سینا عطا کیا۔

عمل حق کی تلوار ہے ،جس سے باطل پسپا ہوتا ہے، عمل صدائے غیب ہے، جس کی حکم رانی کے وسیع ترین قلم رو کو بصیرت والے ہی دیکھتے ہیں، عمل بے سروسامانی میں بھی پہاڑوں کو دو نیم اور دریاؤں کو دورخ کر دیتا ہے، یہ وہ جوہر ہے جس کا سچا نمونہ جب الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے پیش کیا تو وادی یثرب سے لے کر ترک ودیلم اور قیصر وکسریٰ کے ایوان شاہی بھی لرز اٹھے۔ عمل ہی وہ اہم عنصر ہے جس سے سراپائے رسول صلی الله علیہ وسلم تشکیل پاتا ہے۔ عمل خس خانوں، ویرانوں او ردامان کوہ میں رہ کر بھی کام یاب ترین حکومت کرتا ہے، عمل ناقابل شکست قوت ہے ، عمل پر ہی جنت وجہنم کا فیصلہ ہے۔ عمل ہی انسان کو ولی، شیطان، برگزیدہ اور راندہٴ در گاہ بناتا ہے۔ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اس عمل صالح کا نمونہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے :﴿ لقد کان لکم في رسول الله اسوة حسنة﴾ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات گرامی سراپا عمل تھی، بلکہ وہ پاور ہاؤس ہے جہاں سے حسب استعداد، عمل کی قوت بہم پہنچتی ہے، اسی لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے عبادات، معاملات، اخلاقیات، آداب وغیرہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں دنیا کو اپنے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی اور احکام سیکھنے کا حکم بھی دیا۔

نماز کے بارے میں صحابہ کرام کے ذریعے ساری امت کو: ”صلوا کما رأیتمونی أصلي“ کہہ کر عمل کی ترغیب دی۔ حج کی اداؤں کو اپنانے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ”مجھ سے اپنے حج کے ارکان اور احکام سیکھو۔“ آداب زندگی کی تلقین کرتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” إنما أنا لکم مثل الوالد أعلمکم کل شيء“ (میں تمہارا روحانی باپ ہوں، تمہیں ہر ادب سکھاتا ہوں، دیکھو! قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو قبلے کیطرف اپنی رخ اور اپنے پشت نہ کرو۔)

آپ صلی الله علیہ وسلم نے جہاں زندگی کے لیے مفید اعمال کی ترغیب دی، وہیں عمل سے خالی زندگی پر سخت نکیر بھی فرمائی اور مال وزر کی آسودہ زندگی پر بھروسا کرنے والے نادانوں کو تنبیہ بھی فرمائی اور آیات قرآن کی روشنی میں بتا بھی دیا کہ سیم وزر اور آل واولاد دنیا کی عارضی اور موہوم چمک دمک ہیں، جو ختم ہو جائیں گی او رباقی رہنے والی وہ نیکیاں ہیں جسے بندہ عمل کی صورت میں اختیار کرتا ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے نسبت اور قومی مفاخرت پر اترانے والوں کو فریب سے نکالتے ہوئے عمل کی ترغیب دی، یہی نہیں اپنے عزیزوں، خاندان والوں اور عم محترم حضرت عباس وحضرت فاطمہ تک کو فرمایا کہ اس خوش فہمی میں نہ رہنا کہ نبی کا چچا یا صاحب زادی ہو، حضرت فاطمہ سے فرمایا: ”اعملي لا أغني عنک من الله شیئا فاطمة․“ (عمل کرتی رہو، میں قیامت میں تمہارے کام نہ آسکوں گا۔)

ایک اور مقام پر پوری امت کو عمل کی ترغیب دیتے ہوئے بے عملی اور چیزوں پر تکیہ کرکے بیٹھنے کے بُرے انجام سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں:”جو اپنے عمل سے سست ہو گا، اس کا نسب اس کے کام نہیں آسکے گا۔“ ان روایات سے سیرت کے اس اہم گوشے پر روشنی پڑتی ہے۔ عارف مشرقی فرماتے ہیں:
        یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
        جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

سیرت کا یہی وہ پہلو ہے جس نے یکساں دوست ودشمن، اپنے پرائے، حاکم ومحکوم، ظالم ورحم دل کو متاثر کیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی عملی قوت نے مُردوں کو مسیحائی، کم زوروں کو توانائی اور بصیرت سے محروم دنیا کو بینائی عطا کی۔ یہ صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کی عملی سیرت کا فیضان ہے کہ شرق وغرب ، عرب وعجم سب کو نوازا، اس قطعی حقیقت کو دل ودماغ سے قریب تر کرنے کے لیے عملی سیرت کے چند گوہر پارے ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عبدالله بن ابی العمار  فرماتے ہیں کہ نبوت سے پہلے میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا، ابھی وہ معاملہ پورے طور پر طے نہیں ہوا تھا کہ میں کسی ضرورت سے وعدہ کرکے چلا گیا کہ ابھی آتا ہوں۔ اتفاقاً تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یاد نہ آیا۔ تیسرے دن جب یاد آیا تو میں اس جگہ پہنچا، جہاں میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو چھوڑا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم میرا انتظار فرمارہے ہیں۔ میری اس پیمان شکنی پر بغیر کسی ناراضی کے ارشاد فرمایا:”تم نے مجھے زحمت دی، میں اس مقام پر تین دن سے تمہارا منتظر ہوں۔“

نبی صلی الله علیہ وسلم کی سیرت میں حسن معاملہ اور وفا کیشی کا یہ ایسا انمول نمونہ ہے جو تاجروں او راہل معاملہ کو روشنی اور ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔

ایک سفر میں صحابہ کرام نے کھانا پکانے کا انتظام کیا او رسب ہی نے اپنے ذمہ ایک ایک کام لیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں جنگل سے لکڑیاں لاؤں گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: آپ صلی الله علیہ وسلم پر ہمارے ماں باپ قربان، آپ صلی الله علیہ وسلم کو زحمت فرمانے کی ضرورت نہیں، ارشاد فرمایا: یہ صحیح ہے، لیکن خدا اس بندے کو پسند نہیں کرتا جو اپنے کو دوسرے سے نمایاں اور بالاتر سمجھتا ہو۔

غور کیجیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے سیرت کے اس عملی پہلو میں دوستی او رمحبت کی سچی بنیاد پیش کرکے بتایا کہ دلوں کو فتح کرنے کے لیے دوستوں کے شانہ بشانہ ہر کام میں بڑے کو بھی شریک ہونا چاہیے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد، دنیا والوں نے دولت کے ارتکاز اور زر پرستی پر رکھی ہے۔ اس ناکارہ اور خود غرضانہ نظام نے دنیا کی معیشت کو اس طرح تباہ کر رکھا ہے کہ دولت پر صرف چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہو کر رہ گیا ہے۔ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے سب سے پہلے انسانیت کو بتایا کہ دولت جمع کرنے سے نہیں، بلکہ اچھے کاموں میں خرچ کرنے سے بڑھتی ہے۔ ارشاد گرامی ہے :”لا ینفد مال من صدقة“ آپ نے سود کو حرام ، غلط کاروبار کو ناجائز قرار دیا، رشوت، فراڈ، ذخیرہ اندوزی اور چوری سے سخت نفرت کا اظہار فرمایا اور اعلان فرمایا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دی جائے۔ سیرت کے اس عملی پہلو پر دنیا عمل کرے تو انسانیت کا قابل رشک معاشرہ وجود میں آجائے۔

تفوق اور بالادستی کے جس ناسور میں دنیا مبتلا تھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسے مٹا کر احترام آدمیت اور مساوات ِ انسانی کا عملی درس دیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی مجلس درس او رکھانے کے دسترخوان پر غلام اور آقا، شاہ وگدا، ادنیٰ اورا علیٰ سب دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر فیروز دیلمی جیسے بادشاہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے حلقے میں ہیں تو بلال حبشی بھی وہیں موجود ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے تمام طبقات ِ انسانی کو بار بار یاد دلایا کہ الله کے بندو! تم بھائی بھائی ہو جاؤ۔

درحقیقت عقیدے کی پختگی او راصلاح کے بعد سیرت کا یہی عملی گوشہ ہے جس میں آدمیت کی رفعت اور طبقہ انسانی کی معراج پوشیدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا یہ گوشہ اس قدر دراز ہے کہ زبان وقلم بھی اس کی دست رس سے عاجز ہیں۔