بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عفوودرگزر

عفوودرگزر

مولانا سحبان محمود رحمة الله علیہ

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ․الحمدللّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی،أما بعد عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: ”وما زاد اللّٰہ رجلا بعفو إلا عزّا․“ (روہ الترمذی)
یعنی ترمذی شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی روایت کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”بندہ کو معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت اور زیادہ فرمادیتے ہیں“ اس مختصر سی حدیث شریف میں ان لوگوں کے خیال کی اصلاح کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انتقام نہ لیا گیا اور کسی کو اس کے قصور پر معاف کردیاگیا تو ہمارے رعب وداب اور عزت وقار میں کمی آجائے گی۔ لہٰذا ایک قدم اور آگے بڑھا کر سیر کا جواب سوا سیر سے اور گالی کا جواب پتھر سے دینا چاہیے، تاکہ آئندہ گالی دینے والوں کے حوصلے پست ہوجائیں،ہمارا رعب وداب ان پر قائم ہوجائے اور ہماری عزت ووقار کی بھی حفاظت ہوجائے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی خیال کی اصلاح فرمائی ہے ،جس کا حاصل یہ ہے کہ انتقام سے گوفوری طور پر دل کی بھڑاس نکل کر کچھ تسکین ہوجاتی ہے اور کمزوروں پر دھاک بھی بیٹھ جاتی ہے، لیکن اس سے کوئی پائیدار عزت جو لوگوں کے دلوں میں اُتر جائے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ پائیدار عزت،شریفانہ وقار اور دل کی گہرائیوں سے کسی کی عظمت پیدا ہونے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ انتقام لینے پر قادر ہونے کے باوجود انتقام نہ لیا جائے، بلکہ عفوو درگذر سے کام لے کر کھلے دل سے معاف کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے شخص کو عزت وعظمت عطا فرمائے گا۔
عفوودرگذر اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی صفت ہے، جو اس کو پسند بھی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر شب قدر مجھ پر منکشف ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا کرنا: ”اللّٰہم انک عفو تحب العفو فاعف عنا“،یعنی اے اللہ! تو بڑا معاف فرمانے والا ہے اور معاف کردینے کو پسند بھی فرماتا ہے، تو مجھے بھی معاف فرمادے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ خود معاف فرماتا رہتا ہے، اپنے بندں سے بھی معاف کردینے کو پسند فرماتا ہے کہ اگر کسی سے قصور ہوجائے تو اس کو معاف کردینا اللہ کو پسند ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں اپنے غلام کا قصور دن میں کتنی مرتبہ معاف کردیا کروں؟ آپ خاموش ہوگئے، انہوں نے دوبارہ پھر یہی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزانہ ستر مرتبہ قصور معاف کیا کرو۔ اور قرآن وحدیث کی اصطلاح میں ستر سے یہ عدد خاص مراد نہیں ہوتا،بلکہ کثرت مراد ہوتی ہے۔ اب مطلب یہ ہوجائے گا کہ روزانہ بے شمار مرتبہ خادم کو اس کے قصوروں پر معاف کردیا کرو۔
اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے معاملہ میں عفوو درگذر سے کام نہ لے تو آن کی آن میں یہ بھری پُری دنیا مخلوق کے گناہوں کی وجہ سے زیر وزبر اور تہہ وبالا ہوجائے، جیسا کہ سورئہ فاطر میں ارشاد خداوندی ہے کہ:”اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہوں پر گرفت فرمانے لگے تو روئے زمین پر ایک متنفس بھی زندہ نہ رہے“ یہ اس کے عفوو درگذر کا صدقہ ہے کہ مخلوق نہ صرف زندہ ہے، بلکہ اس کی بے شمار نعمتوں سے بہرہ ور ہورہی ہے۔ اسی طرح اگر بندے آپس میں عفوو درگذر کا معاملہ بالکل ختم کر کے انتقام لینے پر اتر آئیں تو یہ دنیا جہنم زار بن جائے۔ جس قدر عفوو درگذر کا معاملہ زیادہ ہوگا اتنا ہی باہمی محبتوں اور رشتوں میں استحکام پیدا ہوگا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں عفوودرگذر کی صفت تمام مخلوق میں سب سے زیادہ تھی، کافروں نے کیسا کیسا ستایا، منافقوں نے کتنی کتنی ایذائیں پہنچائیں اور دوسرے دشمنوں نے کیا کچھ نہ کہا، لیکن آپ نے کبھی انتقام نہ لیا، بلکہ عفوو درگذر سے کام لے کر ان کو نہ صرف معاف کردیا، بلکہ ان کو دعائیں دیں، بخاری شریف میں ہے کہ غزوئہ احد میں جب کافروں نے آپ پر حملہ کر کے آپ کو زخمی کردیا اور دندان مبارک بھی شہید ہوگئے،زخموں سے خون جاری تھا اور زبان پر یہ دعا تھی کے اے اللہ! ان کو معاف فرمادے، یہ مجھے جانتے نہیں…۔اسی طرح سفر طائف کے موقعہ پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اوباش لگ گئے اور پتھر مار مار کر ایسا لہولہان کردیا کہ خون آپ کے جوتوں میں جمنے لگا،پھر ایک فرشتہ نے آکر عرض کیا کہ آپ اشارہ فرمائیں تو دو پہاڑوں کے بیچ میں تمام طائف والوں کو پیس کر رکھ دوں تو اس موقعہ پر بھی آپ نے بددعا نہ کی، بلکہ معاف فرمادیا۔ اسی وجہ سے توراة وانجیل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق کی جو بہت سی علامتیں آئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے: ”ولا یجزی السیئة بالسیئة، ولکن یعفو ویصفح“ یعنی وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیں گے، بلکہ معاف فرماتے رہیں گے اور درگذر کرتے رہیں گے۔
ایک خاص موقعہ پر قرآن کریم میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگوں کے قصوروں کو معاف کردو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے قصوروں کو معاف فرمادے گا۔ چناں چہ سورئہ نور آیت نمبر22 میں ارشاد ہے:﴿وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ﴾یعنی ان کو معاف کردینا چاہیے اور درگذر سے کام لینا چاہیے، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصوروں کو معاف کردے؟ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ کون ہم میں سے قصور وار اور گناہ گار نہیں اور کون ہم میں سے اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواست گار نہیں؟ اس آیت نے اس کا آسان طریقہ بتلادیا کہ تم دوسروں کے قصور معاف کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے گا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ عفوو درگذر کی تعلیم اسلام نے ان قصوروں میں دی جن کے معاف کرنے کا بندہ کو حق ہے، کسی دوسرے کے حق کو یا اللہ تعالیٰ کے حقوق کو معاف کرنے کا اختیار نہیں۔ اسی طرح یہ بھی پیش نظر رہے کہ قانون کی گرفت میں آجانے والے کو معاف کرنا بھی ظلم ہے۔
قرآن کریم کی سورئہ شوریٰ میں عفوو درگذر کا ضابطہ بیان کیا گیا ہے ، ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:”وہ ایسے(غیرت مند) ہیں کہ جب ان پر کسی طرف سے بے جا زیادتی ہوتی ہے تو وہ (واجبی) بدلہ لے لیتے ہیں اور برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، اس پر بھی کوئی معاف کردے اور صلح کر لے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے“ یعنی برائی کا بدلہ برائی جس کوانتقام اور سزا کہتے ہیں، یہ جماعت کا قانون ہے اور عفوو درگذر افراد کا اخلاقی کمال، جماعتی قانون کی قوت ہوتے ہوئے افراد کا آپس میں عفوودرگذر سے کام لینا اعلیٰ درجہ کی بلند اخلاقی ہے، گویا قرآن کریم نے ہر شخص کو واجبی انتقام لینے کا حق دیا، لیکن عفوو درگذر کی خصلت کو عزم وہمت کا کام بتلا کر اس کی ترغیب بھی دی ہے۔ وآخر دعوانا إن الحمد للّٰہ رب العالمین!