بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عظمت قرآن

عظمت قرآن

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿وَالْعَصْرِ ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ ، إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾․( سورة العصر، آیت:3-1)صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بھائیو بزرگو اور دوستو! الله تعالیٰ کا ارشاد ہے، قسم ہے زمانے کی ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ﴾ بے شک تمام انسان خسارے میں ہیں، ﴿إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ اور سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے نیک اعمال کیے﴿وَتَوَاصَوْا بِالْحَقّ﴾ اور سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے نیکی کا حکم دیا﴿ِوَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر﴾ اور سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے برائی سے روکا۔

یہ الله تعالیٰ کلام ہے، یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ الله تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی اس کائنات میں ہے، مثلاً انبیائے کرام علیہم السلام ، انبیائے کرام علیہم السلام کے امام اور سردار محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، تمام فرشتے،جنت ہے، جہنم ، جو کچھ بھی الله کے علاوہ ہے سب مخلوق ہے، خالق صرف الله ہے، محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خالق بھی الله ہیں، تمام انبیاء مخلوق ہیں، تمام فرشتے مخلوق ہیں، لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ قرآن مخلوق نہیں ہے:”عن علی بن سہل الرملی أنہ قال سألت الشافعي عن القرآن فقال لي کلام الله غیر مخلوق قلت فمن قال بالمخلوق فما ھو عندک؟ قال کافر․“ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب الشھادات، رقم الحدیث:21421) قرآن کا ادب الله کا ادب ہے، قرآن الله کا کلام ہے، قرآن مخلوق نہیں ہے، اس کا ادب بہت ضرور ی ہے۔

(صحابی رسول حضرت عکرمہ رضی الله عنہ کے بارے میں آیا ہے کہ جب آپ تلاوت کا ارادہ فرماتے:”یاخذالمصحف فیضعہ علی وجہہ ویبکی ویقول:کلام ربي، کتاب ربي“ یعنی قرآن کریم کو اٹھاتے او راسے چہرے سے لگاتے، (چومتے) اور رونے لگتے اور فرماتے: یہ میرے رب کا کلام ہے، یہ میرے رب کی کتاب ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفة الصحابة، ذکر مناقب عکرمة بن أبي جھل ، رقم الحدیث:5062)

قرآن کے ادب پر انعام کا ”انوارالباری شرح صحیح البخاری“ میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے :
”شاہان اسلام کے حالات میں ایک واقعہ نظر سے گزرا تھا کہ ایک بادشاہ سیروشکار میں تنہا رہ کر کسی گاؤں میں ایک دیہاتی مسلمان کا مہمان ہوا، رات کو جس دالان میں وہ مقیم ہوا تو دیکھا کہ اس کے ایک طاق میں قرآن مجید رکھا ہوا ہے، یہ دیکھ کر اس کی عظمت وجلالت اس کے دل ودماغ پر چھا گئی اور ساری رات ایک گوشے میں بیٹھ کر جاگتے ہوئے صبح کر دی، لیٹایا سویا صرف اس لیے نہیں کہ قرآن مجید کا ادب اسے مانع رہا اور یہ بھی گوارا نہ ہوا کہ اپنے آرام کی و جہ سے اس عظیم مرتبت وحی الہٰی کو کسی دوسرے کمرے میں منتقل کرا دے، یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ اس بادشاہ کو مرنے کے بعد سلطان الاولیاء حضرت خواجہ نظام الدین رحمہ الله نے خواب میں دیکھا ، پوچھا خدا نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ بادشاہ نے جواب دیا بخش دیا، کیوں کہ الله تعالیٰ کو اس رات کا میرا جاگنا اور قرآن مجید کا اس قدر احترام کرنا پسند آگیا تھا۔ (انوار الباری:3/39-38)

ہمیں تو یہ سکھایا گیا ہے کہ ایک کاغذ جس پر لکھا جاتا ہے اس کا بھی ادب کرو، چاہے اس پر حدیث لکھی ہوئی ہو، فقہ لکھی ہوئی ہو، خیر کی کوئی بات لکھی ہوئی ہو۔”الکتب التی لا ینتفع بہا یمحی عنہا اسم الله وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی، ولابأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن، وھو أحسن کما فی الأنبیاء․

وفی الرد: والدفن أحسن کما فی الأنبیاء، والأولیاء إذا ماتوا، وکذا جمیع الکتب إذا بلیت وخرجت عن الانتفاع بہا… وفی الذخیرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراء ة منہ لا یحرق بالنار، إلیہ أشار محمد وبہ نأخذ، ولا یکرہ دفنہ، وینبغی أن یلف بخرقة طاھرة ویلحد لہ․ (الدر مع الرد، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع:9/696)

بلکہ اگر سادہ کاغذ ہے جس پر کچھ لکھا ہوا نہیں ہے تو ایسے سادے کاغذ کا بھی ادب اور احترا م ہے۔

چناں چہ حاشیہ ابن عابدین وغیرہ میں ہے:” وکذا ورق الکتابة لصقالتہ وتقومہ، ولہ احترام أیضاً لکونہ آلة لکتابة العلم، ولذا عللہ فی التاتارخانیة: بأن تعظیمہ من آداب الدین، ومفادہ الحرمة بالمکتوب مطلقا․ (ردالمحتار، کتاب الطہارة، فصل في الاستنجاء:1/340، والفتاوی العالمکیریة، کتاب الطہارة، الفصل الثالث فی الاستنجاء:1/50،و الفتاوی التاتارخانیة، باب الوضوء:1/103)

میرے دوستو! ہم با ادب بنیں، با ادب بانصیب، بے ادب بدنصیب، جو با ادب ہوتے ہیں وہ خوش قسمت ہوتے ہیں ، ان کے نصیب کھلے ہوئے ہوتے ہیں او رجوبے ادب ہوتے ہیں وہ بد نصیب ہوتے ہیں۔

”مجالس حکیم الامت میں ہے:
حضرت مجدد الف ثانی رحمہ الله ایک روز بیت الخلا میں تشریف لے گئے ،اند رجاکر نظر پڑی کہ انگوٹھے کے ناخن پر ایک نقطہ روشنائی کا لگا ہوا ہے، جو عموماً لکھتے وقت قلم کی روانی دیکھنے کے لیے لگا لیا جاتا تھا، فوراً گھبرا کر باہر آگئے اور دھونے کے بعد تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اس نقطہ کو علم کے ساتھ ایک تلبس ونسبت ہے، اس لیے بے ادبی معلوم ہوئی کہ اس کو بیت الخلاء میں پہنچاؤں۔

یہ تھا ان حضرات کا ادب! جس کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان کو درجات عالیہ عطا فرمائے تھے۔ آج کل تو اخبار ورسائل کی فراوانی ہے، ان میں قرآنی آیات، احادیث اور اسمائے الہیہ ہونے کے باوجود گلی کوچوں، غلاظتوں کی جگہوں میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، العیاذ بالله العظیم معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی دنیا جن عالم گیر پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے اس میں اس بے ادبی کا بھی بڑا دخل ہے۔ (مجالس حکیم الامت)“

قرآن میں الله تعالیٰ فرمارہے ہیں:” وَالْعَصْرِ“، قسم ہے زمانے کی! زمانہ چوں کہ تمام چیزوں کا جامع ہے، ہر چیز زمانے کے اندر ہے، زمانہ یا تو ماضی ہے یا حال ہے اور یا استقبال ہے۔

ہم نے فجر پڑھی تھی ماضی ہے، اس وقت ہم جس حالت اورکیفیت میں ہیں یہ حال ہے او رعصر ہم پڑھیں گے ان شاء الله وہ مستقبل ہے، تو جو کچھ بھی اس کائنات کے اندر ہے وہ سب کا سب چوں کہ زمانے میں ہے، جو کچھ ہوا ماضی میں ہوا، جو ہو رہا ہے حال میں ہو رہا ہے جو آئندہ ہو گا وہ مستقبل میں ہو گا۔ اس میں دنیا بھی ہے ،دین بھی ہے۔

تو چوں کہ زمانہ ہر خیر اور شر کا جامع ہے ، چناں چہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، ہم دنیا میں بھی قسم کھاتے ہیں تو کوشش اس کی کرتے ہیں، حالاں کہ قسم کی بھی شرائط اور آداب ہیں ،یونہی قسمیں کھانے کی اجازت نہیں ہے۔

” آج کل معاشرے میں قسم کھانے کے حوالے سے غفلت اور لاپرواہی پائی جاتی ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قسم کے حوالے سے تھوڑی سی تفصیل ذکرکردی جائے ،جب انسان قسم کھاتا ہے تو اس کی تین صورتیں بنتی ہیں:

پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی آئندہ کی کسی ممکن بات پر پختہ ارادے سے قسم کھاتا ہے، جیسے الله کی قسم میں یہ کام کروں گا یا یہ کام نہیں کروں گا، اس قسم کو یمین منعقدہ کہتے ہیں، اس قسم کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے (اگر وہ کام جائز ہو) اور اگر قسم توڑے گا تو کفارہ واجب گا۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الأیمان، الباب الاول:2/57) اور قسم توڑنے کا کفارہ دس غریبوں کو دو وقت پیٹ بھر کرکھانا کھلانا ہے یا ان کو کپڑے پہنانا ہے او راگر اتنی وسعت نہ ہو تو پھر تین دن مسلسل روزے رکھنا ہے۔ (رد المحتار،کتاب الایمان:3/727،والبحرالرائق، کتاب الأیمان: 4/486،و فتاوی عالمگیری، کتاب الأیمان:2/61)

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی گزشتہ کسی واقعے پر قسم کھاتا ہے اور وہ اپنی دانست میں سچا ہے ، لیکن حقیقت میں ایسا نہ ہو، اس کو یمین لغو کہتے ہیں، اس صورت میں نہ گنا ہ ہے اور نہ کفارہ۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الأیمان:2/57، والفتاوی التاتارخانیہ، کتاب الأیمان: 4/416) تبین الحقائق، کتاب الأیمان:3/420)

اور تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی جان بوجھ کر گزشتہ کسی واقعے پر جھوٹی قسم کھاتا ہے، اس کو یمین غموس کہتے ہیں او راس طرح جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” الکبائر: الإشراک بالله وعقوق الوالدین وقتل النفس والیمین الغموس“ ․(الجامع الصحیح للبخاري، کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین المغموس، رقم:6675) یمین غموس میں توبہ او راستغفار کرے، کفارہ اس صورت میں نہیں۔ (الفتاوی العالمکیریة، کتاب الأیمان:2/57)

قسم صرف الله تعالیٰ کی یا الله تعالیٰ کے کسی اسم وصفت سے کھائی جاتی ہے، الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں:” القسم بالله تعالیٰ أو باسم من أسمائہ کالرحمن والرحیم والحق، أو بصفة من صفاتہ تعالیٰ کعزة الله وجلالہ وکبریائہ وعظمتہ وقدرتہ، ولا یقسم بغیر الله تعالیٰ کالنبی والقرآن والکعبة․ قال الکمال: ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الاٰن متعارف․“(رد المحتار:3/712، والبحرالرائق: 4/480،و مجمع الأنہر:2/69) اور جب آدمی سچا ہو اور ضرورت ہو تو قسم کھانا جائز ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ولا تحلفوا بالله إلا وأنتم صادقون․“ (سنن ابی داود، کتاب الأیمان، باب فی کراہیة الحلف بالآباء، رقم الحدیث:3250)

لیکن ضرورت کے باوجود کم قسمیں کھانا اولیٰ ہے۔ الیمین بالله تعالیٰ لا تکرہ، ولکن تقلیلہ أولیٰ من تکثیرہ․ (فتاوی عالمگیری، کتاب الأیمان، الباب الأول:2/58)

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سامنے والے کے سامنے ایسی قسم کھائیں جس کو سن کر اسے یقین آجائے کہ ہاں! یہ سچ کہہ رہا ہے۔

مثلاً ہم کہتے ہیں الله کی قسم میں جو بات کہہ رہا ہوں بالکل صحیح کہہ رہا ہوں، چوں کہ الله تعالیٰ بہت بڑے ہیں، تو سامنے والا سمجھتا ہے کہ ہاں! اس نے الله کی قسم کھائی ہے، جو سب سے بڑے ہیں، لہٰذا یہ جھوٹ نہیں بول رہا، یہ سچ بول رہا ہے۔

الله تعالیٰ کو قسم کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے، میری اور آپ کی ضرورتوں کے پیش نظر الله تعالیٰ نے کہیں”والفجر“ کہیں”وَالْعَصْرِ“ کہیں کچھ ،کہیں کچھ الله تعالیٰ نے پورے قرآن میں مختلف مقامات پرقسمیں کھائی ہیں۔

لیکن جس چیز کی بھی قسم کھائی گئی ہے وہ بہت اہم ہے، اس کی اہمیت ہے،معار ف القرآن میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں: ”قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے ایمان وعقائد کے بہت سے اصولی مسائل کی تاکید کے لیے مختلف طرح کی قسم کھائی ہے، کبھی اپنی ذات کی ،کبھی اپنی مخلوقات میں سے خاص خاص اشیاء کی، اس کے متعلق بہت سے سوالات ہوتے ہیں …

پہلا سوال: الله تعالیٰ کی قسم کھانے میں فطری طو رپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اغنی الاغنیاء ہیں، ان کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائیں؟

جواب: جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو تو کوئی ضرورت قسم کھانے کی نہ تھی، مگر اس کو جو شفقت ورحمت اپنی مخلوق پر ہے وہ اس کی داعیہوئی کہ کسی طرح یہ لوگ حق کو قبول کریں اور عذاب سے بچ جائیں ۔ایک اعرابی نے جب آیت:﴿وَفِی السَّمَاء ِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوعَدُونَ فورب السماء والأرض إنہ لحق﴾سنی تو کہنے لگا کہ الله جیسی عظیم الشان ہستی کو کس نے ناراض کیا ہے کہ اس کو قسم کھانے پر مجبو رکر دیا؟!

خلاصہ یہ ہے کہ شفقت علی الخلق اس کی داعی ہے کہ جس طرح دنیا کے جھگڑے چکانے اور اختلافات مٹانے کا معروف طریقہ یہ ہے کہ دعوے پر شہادت پیش کی جائے، شہادت نہ ہو تو قسم کھائی جائے، اسی طرح حق تعالیٰ نے انسان کے اس مانوس طریقہ کو اختیار فرمایا ہے، کہیں تو شہادت کے الفاظ سے مضمون کی تاکید فرمائی، جیسے:” شہد الله أنہ لا إلہ إلا ھو“ اورکہیں قسم کے الفاظ سے، جیسے یہی ”وربّی انہ لحق “وغیرہ۔

دوسرا سوال: قسم اپنے سے بہت بڑے کی کھائی جاتی ہے، حق تعالی ٰ نے اپنی مخلوقات کی قسم کھائی جو ہر حیثیت سے کمتر ہیں؟

جواب: یہ ہے کہ جب الله تعالیٰ سے بڑی کوئی ذات نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے تو یہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی قسم عام مخلوق کی قسم کی طرح نہیں ہو سکتی، اس لیے حق سبحانہ وتعالی نے کہیں اپنی ذات پاک کی قسم کھائی ہے، جیسے ” إی وربي“ او راس طرح ذات حق کی قسمیں قرآن میں سات جگہ آئی ہیں او رکہیں اپنے افعال وصفات کی او رقرآن کی قسم کھائی ہے، جیسے: ﴿وَالسَّمَاء وَمَا بَنَاہَا، وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاہَا، وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا﴾ وغیرہ اور بیشتر قسمیں اپنیمفعول ومخلوق کی استعمال ہوئی ہیں، جو معرفت کا ذریعہ ہونے کی حیثیت سے اسی کی ذات کی طرف راجع ہو جاتی ہیں۔

مخلوقات میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے کہیں تو اس سے اس چیز کی عظمت وفضیلت کا بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عمر کی قسم آئی ہے،﴿لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون﴾ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما کا یہ قول نقل کیا ہے کہ الله تعالیٰ نے کوئی مخلوق او رکوئی چیز دنیا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ذات گرامی سے زیادہ معزز او رمکرم نہیں پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں کسی نبی ورسول کی ذات کی قسم نہیں آئی ،صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عمر کی قسم آیت مذکورہ میں آئی ہے …

اور بعض اوقات کسی مخلوق کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ وہ کثیرالمنافع ہے، جیسے ﴿والتین والزیتون﴾ اور بعض جگہ کسی مخلوق کی قسم اس لیے کھائی ہے کہ اس کی تخلیق الله تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر او رمعرفت صانع عالم کا اہم ذریعہ ہے او رعموماً جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، اس کو اس مضمون کے ثبوت میں کچھ دخل ضرور ہوتا ہے جس مضمون کے لیے قسم کھائی ہے، جو ہر جگہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ شریعت کا مشہور حکم عام انسانوں کے لیے یہ ہے کہ الله تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا جائز نہیں، حق تعالیٰ کی طرف سے خود مخلوقات کی قسم کھانا کیا اس کی دلیل نہیں کہ دوسروں کے لیے بھی غیر الله کی قسم جائز ہے؟

جواب: اس کے جواب میں حضرات مفسرین فرماتے ہیں:إن الله تعالیٰ یقسم بماشاء من خلقہ، ولیس لأحد أن یقسم إلا بالله․“ (المصنف لابن أبي شیبہ، کتاب الأیمان، باب الرجل یحلف بغیر الله، رقم الحدیث:12421)

الله تعالیٰ کو اختیار ہے، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے قسم کھا لے، مگر کسی دوسرے کے لیے الله کے سوا کسی کی قسم کھانا جائز نہیں، مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو الله جل شانہ پر قیاس کرنا غلط اور باطل ہے، جب شریعت الہیہ میں عام انسانوں کے لیے غیر الله کی قسم ممنوع کر دی گئی تو الله تعالیٰ کے اپنے ذاتی فعل سے اس کے خلاف استدلال کرنا باطل ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:”التبیان في أقسام القرآن“ للحافظ ابن القیم رحمہ الله اور ”الإتقان في علوم القرآن“ للحافظ جلال الدین السیوطی رحمہ الله

الله تعالیٰ قسم کھاکر فرمارہے ہیں کہ بے شک تمام انسان البتہ خسارے میں ہیں، انسان میں کسی کا استثنا نہیں، سب انسان، وہ سب کے سب ضرو رخسارے میں ہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خسارے کا اور نفع کا اپنا معیار بنایا ہے، ہم کسے خسارے میں کہتے ہیں؟ جس نے دکان کھولی، بند ہوگئی، بہت خسارے میں ہے، جس نے انٹرویو دیا، ملازمت مل گئی، چھ مہینے بعد نکال دیا گیا، ہم کہتے ہیں بڑے خسارے میں ہے ، ایک طالب علم امتحان میں فیل ہو گیا ہم نے کہا بڑے خسارے میں ہے، ہمارا جو معیار ہے وہ یہ ہے کہ جس کے پاس پیسہ نہیں ہے ،دولت نہیں ہے، اولا دنہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، زمین جائیداد نہیں ہے، معاشرے میں لوگوں میں عزت نہیں ہے، یہ آدمی خسارے میں ہے او رہم کام یاب کسے سمجھتے ہیں ؟جواس کا الٹ ہو کہ جس کے پاس دولت بڑی ہے، جس کے پاس جائیداد بہت ہے، جس کے پاس دنیا او راس کے اسباب بہت ہیں ،ہم کہتے ہیں کہ جی بڑا کام یاب ہے۔

الله تعالیٰ کا معیار یہ نہیں ہے او رالله تعالیٰ کا معیار یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم خود بھی صبح شام یہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ناپائیدار ہیں، ان کو دوام اور بقا نہیں ہے، صبح شام کا واقعہ ہے۔

ایک آدمی ہے، جو کل تک کروڑ پتی تھا ،ارب پتی تھا، صبح جب اٹھا تو کچھ بھی نہیں تھا، کل تک ایک آدمی بڑے منصب پر تھا او راگلے دن ہتھکڑی اس کو لگی ہوئی تھی، جیل میں تھا، صبح شام کے واقعات ہیں۔

چناں چہ الله تعالیٰ کا معیار یہ چیزیں نہیں ہیں، اس لیے کہ یہ چیزیں تو نہایت ہی ناپائیدار ہیں، نہایت ہی کم عمر ہیں، ان کو کوئی بقا اور دوام نہیں ہے، الله کا معیار بالکل الگ ہے اور وہی سب سے صحیح اور حقیقی معیار ہے، اس لیے کہ الله تعالیٰ خالق ہیں، الله تعالیٰ ہی نے اس انسان کو پیدا کیا ہے، انسان اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوسکتا، الله تعالیٰ کی مرضی ہو گی تو انسان پیدا ہو گا، یہ بھی ہمارے سامنے ہے آدمی اولاد کے لیے جب تک شادی نہ کرے، میاں بیوی نہ ہوں تواولاد نہیں ہو سکتی، سنت اور طریقہ یہی ہے، کتنے لوگ آپ دیکھیں گے کہ مرد بھی صحت مند ہے، عورت بھی صحت مند ہے، بہ ظاہر کسی قسم کا کوئی نقص نہیں، لیکن بیس سال ہو گئے، تیس سال ہو گئے، اولا دنہیں ہے، الله تعالیٰ اس پر بھی قادر ہیں، صبح شام کے واقعات ہیں، لوگ آکر سناتے ہیں کہ جی ایک بچہ ہوا مر گیا، دوسرا ہوا مر گیا، تیسرا ہوا مر گیا، چوتھا ہوا مر گیا اور یہ بھی ہے کہ الله تعالیٰ چاہتے ہیں تو اولا دہوتی ہے، لڑکا بھی ہوتا ہے لڑکی بھی ہوتی ہے تو خالق صرف الله ہے، آدمی کے اختیار کی چیز نہیں ہے، آدمی یہ سمجھے کہ میں پیداکر رہا ہوں ایسا نہیں ہے:﴿للَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُ یَہَبُ لِمَن یَشَاء ُ إِنَاثًا وَیَہَبُ لِمَن یَشَاء ُ الذُّکُورَ، أَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَإِنَاثًا وَیَجْعَلُ مَن یَشَاء ُ عَقِیمًا إِنَّہُ عَلِیمٌ قَدِیرٌ ﴾(سورہ الشوری، آیات:50-49)

چناں چہ جو خالق ہوتاہے کسی بھی چیز کا، وہ اس چیز کو جتنا سمجھتا ہے کوئی او رنہیں سمجھ سکتا، ہم دیکھتے ہیں دنیامیں ایک آدمی ایک چھوٹی سے مشین بناتا ہے ، اس کے ساتھ ہدایات کا ایک پرچہ ہوتا ہے، آپ اس مشین کو اس طریقے کے مطابق استعمال کریں، اگر آپ نے اس کے خلاف اسے استعمال کیا یہ مشین خراب ہو جائے گی، اس مشین سے نفع کے بجائے نقصان ہو گا، تو ہم بڑی احتیاط سے اس کو دیکھتے بھی ہیں، اس کو اپنے سامنے بھی رکھتے ہیں، اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اگر ہم اس کے خلاف کریں گے تو مشین خراب ہو جائے گی، ایسے ہی الله تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اوراس کے لیے راہ نما قرآن اتارا، انبیاء علیہم السلام کی جماعت بھیجی، ہمارے لیے امام الانبیاء سید الرسل محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھیجے گئے، چناں چہ قرآن ہمیں بتا رہا ہے، الله ہمیں بتارہے ہیں کہ بے شک تمام کے تمام انسان خسارے میں ہیں، اب خسارے سے نکلنے والا کون ہے؟

الله تعالیٰ نے چار شرطیں بیان فرمائیں:﴿ إلا الذین آمنوا﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے۔

ہمارا معیار الگ ہے ،ہم کہتے ہیں کہ امریکا کام یاب ہے، یورپ بہت کام یاب ہے، پیٹرول والے ممالک بڑے کام یاب ہیں، ایسا نہیں ہے”إلا الذین اٰمنوا“ کام یاب کون ہے؟ وہ ہے جو ایمان والا ہے، جو الله تعالیٰ کی تمام صفات پر کامل ایمان رکھتے ہیں، وہ کام یاب ہیں، چناں چہ انبیائے کرام علیہم السلام کی پوری جماعت کام یاب ہے، کیوں کہ وہ کامل الایمان تھے۔

صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی پوری جماعت کام یاب ہے، کیوں کہ سب کے سب صحابہ کامل الایمان تھے، الله تعالیٰ نے ان کو اپنی رضا ،اپنی خو ش نودی کا پروانہ اسی دنیا میں دے دیا، رضي الله عنہم ورضوا عنہ۔(سورة البینہ، آیت:8) الله ان سے راضی ہو گیا، ورضوا عنہ اور وہ الله تعالیٰ سے راضی ہو گئے، لہٰذا وہ کام یاب ہیں۔

الله تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو دنیا میں بھی غلبہ عطا فرمایا، فتح عطا فرمائی، حالاں کہ دنیاوی اسباب ان کے پاس نہیں تھے، تو پیں ان کے پاس نہیں تھیں، ٹینک ان کے پاس نہیں تھے، میزائل سسٹم ان کے پاس نہیں تھا، ایٹمی توانائی ان کے پاس نہیں تھی، کچھ بھی نہیں تھا۔

جنگ بدرمیں جو تھے ان کا حال آپ کو معلوم ہے کہ چند تلواریں ہیں ،چند نیزے ہیں، چند گھوڑے ہیں، کل تعداد تین سو تیرہ ہے۔( غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے اور ستر اونٹ، دو ، دو تین تین صحابہ کے حصے میں ایک ایک اونٹ آیا اور یہ حضرات باری بار ی اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ (الکامل لابن اثیر:2/83) سامنے ایک ہزار ہیں (سیرة ابن ہشام:1/617) پوری طاقت اور قوت ہے اور ایسا غرور ہے کہ ساتھ میں ناچنے گانے والی عورتیں بھی ہیں ، غرور ہے، کبر ہے اکڑ ہے، (فقال أبوجہل والله لا نرجع حتی نرد بدراً: فنقیم علیہ ثلاثا، فننحر الجزور، ونطعم الطعام، ونسقی الخمر، وتعزف علینا القیان، وتسمع بنا العرب بمسیرنا وجمعنا، فلا یزالون یھا بوننا أبداً بعدھا فامضوا․ (السیرة النبویہ:1/618،و البدایة النھایة:3/266) لیکن مقابلہ جوتھا وہ ان لوگوں سے تھا جو ایمان والے تھے۔

چناں چہ الله تعالیٰ نے نہ صرف کفر او راہل کفرکو شکست دی، بلکہ بدترین شکست دی، ان کی ساری قیادت، ان کے تمام بڑے بڑے سردار سب کے سب مردار ہو گئے۔ (اس جنگ میں قریش کے تقریباً ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید کیے گئے۔ (طبقات ابن سعد:2/18) اور ان ستر آدمیوں میں 24 سردار تھے۔ (الکامل لابن أثیر:2/90،و البدایة النھایة:3/293)

تو” الذین آمنوا“ وہ لوگ جو ایمان لائے، اب میرے دوستو! ایمان سیکھنے کی چیز ہے۔ ہم مؤمن ہیں الحمدلله، ہم ایمان والوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں۔ ہمیں اگر کوئی کافر کہے تو ہم لڑنے کے لیے بھی کھڑے ہو جائیں گے، لیکن ایمان ہے کیا؟ ہم نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، کبھی اس کو سیکھنے کی کوشش نہیں کی ہے، جب کہ اس کائنات کی سب سے قیمتی ترین اگر کوئی چیز ہے تو وہ ایمان ہے، اس پر ہم نے کوئی توجہ نہیں دی، چناں چہ اس کو مسلسل سیکھنا او راس کے لیے کوشش کرنا یہ ایک صاحب ایمان کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔

سب سے پہلے تو طلب پیدا ہو کہ ایمان سیکھنے کی چیز ہے، میں قبر میں جاؤں گا، میری آنکھیں بند ہو جائیں گی، وہاں تو سوالات سارے یہی۔ وہاں تو آپ سے یہ کوئی نہیں پوچھے گا کہ آپ کا بینک کے اندر بیلنس کتنا تھا؟ آپ کے پاس کتنے کتنے گز کے مکانات تھے؟ آپ کے پاس کتنا سونا، چاندی تھا؟ وہاں یہ سوال جواب نہیں اور یہ بات بالکل طے ہے اور دنیا کے تمام ادیان اس پر متفق ہیں کہ ہمیں بہرحال مرنا ہے، ہو سکتا ہے، آج موت آجائے ، ہوسکتا ہے کل آجائے ، ہو سکتا ہے اس ہفتے میں آجائے، اس مہینے آجائے، اس سال آجائے، آنا ہے، طے ہے۔

اور بہ ظاہر ہم بڑی تیزی کے ساتھ، ہماری جود وڑ لگی ہوئی ہے، موت کی طرف ہے۔ قبر کی طرف ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ وقت کی رفتار بڑی تیز ہو گئی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی قیامت کی علامات میں سے ہے کہ سال مہینے کے برابر ہو جائے گا، مہینہ ہفتے کے برابر ہوجائے گا، ہفتہ دن کے برابر ہو جائے گا، دن ایک گھنٹے کے برابر ہو جائے گا او رایک گھنٹہ وہ اس گھاس، تنکے کی طرح ہو جائے گا ،کہ جو جلے او رجل کر فوراً بجھ جائے:”عن أنس بن مالک رضي الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا تقوم الساعة حتی یتقارب الزمان وتکون السنة کالشھر والشھر کالجمعة وتکون الجمعة کالیوم ویکون الیوم کالساعة، وتکون الساعة کالضرمة بالنار․(سنن الترمذی، أبواب الزھد، باب ماجاء في تقارب الزمن، رقم الحدیث:2332، ومسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحدیث:10943)

گزشتہ جمعہ تھا، اس سے پہلے جمعہ تھا، گزشتہ سال تھا، تیزی کے ساتھ وقت گزر رہا ہے، وقت دوڑ رہا ہے ،موت کی طرف، قبر کی طرف، آخرت کی طرف، اس کی جو تیار ی ہے، وہ یہ نہیں ہے،وہاں کوئی نہیں پوچھے گا کہ آپ کے پاس دکانیں کتنی تھیں؟ دولت کتنی تھی؟ یہ سوالات وہاں نہیں ہوں گے، وہاں تو سوال ہو گا، من ربک ، تمہارا رب کون ہے؟ اب رب سییہاں تعارف ہو گا، تعلق ہو گا، معرفت ہو گی اس کے احکامات پر چلے ہوں گے، اس کی الوہیت کو، ربوبیت کو ،وحدانیت کو سیکھا ہو گا تو وہاں جواب بن پائے گا۔ وہاں تو جھوٹ نہیں چلے گا، دنیا میں تو جھوٹ چلا لیتے ہیں، وہاں تو جو اصل بات ہوگی وہی نکلے گی، وہاں جھوٹ کا قصہ نہیں ہے۔

وہاں تو یہ بھی ہو گا کہ آپ کا ہاتھ بولے گاکہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ،یہ پیر گواہی دیں گے، یہ جسم کے اعضاء گواہی دیں گے، وہاں کوئی جھوٹ کا قصہ نہیں ہے۔

چناں چہ ایمان کو سیکھنے کی ضرورت ہے اور اسے اپنی پہلی ترجیح بنانے کی ضرورت ہے اور میں نے عرض کیا کہ اس کے لیے سب سے پہلی بات فکر مند ہونا ہے، ہمیں تو فکر ہی نہیں ہے۔

ہم تو صبح سے شام تک، شام سے لے کر صبح تک ، دنیا، دنیا… کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں، پہن رہے ہیں، وغیرہ، وغیرہ، ان چیزوں کے حوالے سے ہم میں او رجانوروں میں کوئی فرق نہیں، وہ بھی کھارہے ہیں پی رہے ہیں، ہم بھی وہی کام کر رہے ہیں۔

ہم الله کی معرفت حاصل کریں، الله پر ایمان کو سیکھیں ،محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دین کے طریقے سیکھیں، اس پر عمل کریں، یہ ہے اصل۔

میرے دوستو! ایمان سیکھنے کے لیے ضرور ی ہے کہ آدمی وہاں آئے جہاں ایمان کے تذکرے ہوں، مسجد میں آدمی آئے گا، عبادت اوربندگی کرے گا، سجدے کرے گا، دعا مانگے گا ، قرآن کریم کی تلاوت کرے گا، تعلیم کے حلقوں میں بیٹھے گا، تو ایمان کی طرف رغبت بڑھے گی اوراگر ایسا نہیں تو اب تک جو ہماری لمبی زندگی گزر گئی او ر ہم اس مغالطے میں رہے کہ کام یابی اسباب ، سامان اور چیزوں میں ہے، ایسا نہیں ہے۔

ہماری آنکھ کب بند ہو جائے، ہم کب الله کی طرف چلے جائیں، اس کی تیاری ضروری ہے۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾․