بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عزیمت واستقامت

عزیمت واستقامت

مولانامحمد ابوبکرشیخوپوری

استقامت فی الدین ان عالی اوصاف اورستودہ صفات میں سے ہے جو انسان کے وقارکوبلند کرتی ،اس کی عزت کوچارچاندلگاتی اوراس کو شہرت اور نام وری کے بام عروج تک پہنچاتی ہے۔تاریخ اپنے دامن قرطاس میں انہیں نصیبہ وروں کوسنہری حروف کے ساتھ جگہ دیتی ہے جو وقت کے جبراور زمانے کے استبداد کے سامنے سیسہ پلائی دیواراورعزم واستقلال کے پہاڑثابت ہوتے ہیں اورکسی قیمت پراپنے صدق ودیانت پرمبنی افکار ونظریات اورحق وسچ موقف سے دست بردارنہیں ہوتے۔اس کے برعکس جو کم ہمت حالات کی سختیوں اورصعوبتوں سے دل برداشتہ ہوکرمصلحت کی رومیں بہ جاتے ہیں اورغیرت دینیہ اورحمیت اسلامیہ کاسوداکردیتے ہیں وہ ماضی کی دھول میں اڑ کرنسیامنسیا ہو جاتے اورعہدرفتہ کی بھولی بسری داستان بن جاتے ہیں۔

استقامت کی اہمیت
شریعت اسلامیہ میں استقامت اورثابت قدمی کی بڑی تاکید بیان کی گئی ہے ۔صحیح مسلم میں حضرت سفیان بن عبداللہ  سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی الله علیہ وسلم)!مجھے اسلام کے متعلق(بطورنصیحت)ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ پھرآپ کے علاوہ کسی اورسے (کچھ)نہ پوچھناپڑے۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”قل آمنت باللہ، ثم استقم“ ”یوں کہ کہہ میں اللہ پرایمان لایا ،پھر اس پر ڈٹ جا“۔

استقامت کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ بارباراس کی طلب اوردعاکاانسان سے تقاضاکیاگیاہے۔یومیہ پانچ نمازوں کے فرائض،واجبات،سنن اور نوافل کوشامل کرکے کل اڑتالیس رکعات بنتی ہیں ۔تومسلمان روزانہ اڑتالیس مرتبہ نماز میں:﴿اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ ﴾ پڑھ کرہدایت پر ثابت قدمی کی اللہ سے درخواست کرتاہے۔ اصحاب علم وشریعت اوراہل معرفت وطریقت کامتفقہ ضابطہ ہے: ”الاستقامة فوق الکرامة ․“

استقامت پر انعام
قرآن وسنت میں استقامت اختیارکرنے والوں کوبہت سی دنیوی اور اخروی بشارتوں سے نوازاگیاہے ۔چناں چہ سورہ حم السجدہ (آیت:31-30) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنتُمْ تُوعَدُونَ، نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ ، نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیمٍ﴾․ ”بلاشبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارارب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے ان پر (رحمت کے) فرشتے اترتے ہیں (اور حکم ہوتاہے کہ)خوف رکھو نہ غم کرواوراس جنت کی خوش خبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ہم دنیااورآخرت میں تمہارے سرپرست ہیں اور تمہیں آخرت میں وہ ملے گا جس کی تم خواہش کروگے اور وہ بھی ملے گاجو تم مانگو گے۔ (یہ)بخشنے والی اوررحم کرنے والی ذات کی طرف سے تمہاری مہمان نوازی ہے“۔مفسرین کے مطابق:﴿نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں عزت ورفعت نصیب ہو گی اورآخرت میں جب تمام انسانیت قیامت کی سختیوں سے پریشان ہوگی تووہ ہرغم سے بے فکر اورآزاد ہو کرمشک کے ٹیلوں پرٹہل رہے ہوں گے۔

اسلام کی اولوالعزم شخصیات
استقامت کامظاہرہ کر کے تاریخ کے ماتھے کا جھومربننے والی اولوالعزم اورباہمت شخصیات میں سرفہرست حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی ہستیاں ہیں، جن کے متعلق جامع ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم)!لوگوں میں سب سے زیادہ(دین کے لیے)کس کوتکلیفیں پہنچائی گئیں؟نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”الأنبیإثم الامثل فالأمثل“”سب سے زیادہ انبیاء کوستایا گیا،پھردرجہ بدرجہ“۔بے ادب اوربے رحم امتیوں کی طرف سے زبان سے طعن کے نشترچلائے گئے اورہاتھوں سے پتھربرسائے گئے، لیکن ان کے پائے استقلال میں لغزش آئی، نہ وہ فریضہ رسالت کی ادائیگی سے باز آئے۔پھر صف انبیاء میں ہمارے پیغمبرصلی الله علیہ وسلم کا اظہار استقامت سب سے باکمال ہے۔جب زعمائے قریش کاپچیس افراد پر مشتمل ایک وفدابوجہل کی قیادت میں خواجہ ابو طالب کے سامنے یہ مطالبہ لے کرحاضرہوا کہ اپنے بھتیجے کودین اسلام کی دعوت اور ہمارے معبودوں کی ہتک سے منع کروتونبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے کسی لگی لپٹی کے بغیر صاف صاف یہ جواب دیا گیا”اے میرے چچاجان!میں انہیں ایسے کلمہ کی طرف بلاتاہوں جس کوپڑھ کرانہیں تمام عرب کی سرداری نصیب ہو جائے گی“۔ابوجہل نے حیران ہوکرپوچھا کہ وہ کلمہ کیاہے؟نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ کلمہ لاالہ الااللہ ہے،یہ بات سنتے ہی وہ سب بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ایک موقع پر جب آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کو قریش کی طرف سے یہپیش کش کی گئی کہ اگر آپ ہمارامطالبہ مان لیں تو تمام قبائل عرب کی سرداری،عرب کی سب سے حسین لڑکی سے شادی اورمنھ مانگی دولت آپ کے قدموں میں ڈھیر کردی جائے گی توپیغمبراسلام صلی الله علیہ وسلم نے اس پیش کش کو یکسرردکرتے ہوئے ارشاد فرمایا”اگریہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اوربائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں توبھی میں دعوت دین سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“

جن پرزمانے کونازتھا
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی صحبت بابرکات کے نتیجے میں حضرات صحابہ کرام کو بھی اللہ رب العزت نے عزیمت واستقامت کے جوہر سے مالامال کیاتھا۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے مختلف بادشاہوں کے دربار میں قاصد بن کرجاتے توشاہی درگاہوں کے سجدہ کرکے داخل ہونے والے روایتی قانون کی دھجیاں اڑادیتے اوراپنے تخت پربراجمان متکبر حاکموں کے سامنے ببانگ دہل کلمہ توحیدکوبلندکرتے ہوئے کہتے”ہمارادین ہمیں وحدہ لاشریک ذات کے سواکسی کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں دیتا“۔اصحاب پیغمبرصلی الله علیہ وسلم کے نوکروں اورغلاموں کی تاریخ بھی ان کے جرأت مندانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے۔امام ابوحنیفہکوعہدہ قضا قبول کرنے پرمجبورکیاگیا،انکارکرنے پرآپ کوجیل میں ڈال دیا گیا اور بالآخر آپ کاجنازہ جیل سے نکلا۔امام احمدبن حنبلکوخلق قرآن کے مسئلے پرروزانہ جیل سے نکال کوڑے مارے جاتے، لیکن آپ اپنے اس موقف پرقائم رہے کہ قرآن اللہ کی فنا ہونے والی مخلوق نہیں، بلکہ اللہ کاازلی وابدی کلام ہے۔امام مالکاس بات کے قائل تھے کہ طلاق اجبارواقع نہیں ہوتی،خلیفہ وقت کی طرف سے اس فتوی کودلائل سے مطمئن کیے بغیرجبری طورپرواپس لینے کامطالبہ کیاگیا،آپ نہ مانے توآپ کو سزا دی گئی اور کوڑے لگوائے گئے ،اس کے باوجود بھی آپ فتوی وہی دیتے رہے کہ مجبور کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔“یہ چندشخصیات کاتذکرہ تھا،ورنہ تاریخ کے سینے پرایسی لاکھوں عبقری شخصیات کے حالات نقش ہیں اورتاریخ اسلامی کوان پربجاطورپرفخرہے۔
        خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را