بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عزم وہمت کی منفرد مثال

عزم وہمت کی منفرد مثال

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید

مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

 

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید  بڑی نسبت ، بڑے کردار گونا گوں صفات کے حامل انسان تھے۔ آپ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ ماحول مجاہدہ وریاضت، عزم وہمت، زہد وورع، علم وعمل اور تدریس وتحریک کا ماحول تھا۔ انسانی فطرت پر ماحولیاتی اثرات کی اثر پذیری فطری امر ہے، ہر انسان اپنی فطری لیاقت اور قلبی رُجحان کے سہارے ماحولیاتی اثرات میں سے کسی گہرے اثر کی چھاپ کا محور بن جاتا ہے۔ ہمارے حضرت ڈاکٹر محمدعادل خان رحمة الله علیہ فطری استعداد ولیاقت میں اپنے عظیم والد حضرت شیخ المشائخ قدس سرہ کا پر توتھے، اس لیے آپ کی شخصیت میں آپ کے والد کی فکری وعملی زندگی کے قریباً سب ہی آثار جھلکتے تھے۔ حضرت شیخ المشائخ کی نشوونما ایک آسودہ متمول گھرانے میں ہوئی تھی، ان کی تعلیمی زندگی او رجوانی کا دور ہر قسم کی فراوانی سے عبارت تھا۔

مگر تدریسی زندگی او راہتمام کا دور بڑے مجاہدوں اور ریاضتوں کا عنوان تھا، اس دور میں حضرت ڈاکٹر صاحب شہید بھی پلے بڑھے، اورانہوں نے ادارتی زندگی او رمجاہدہ وریاضت کو لازم وملزوم پایا او رہمیشہ اسی تصور کی تصویر بنے رہے۔

قانونِ فطرت ہے کہ تنگیاں اپنے پیچھے قسما قسم کی آسانیاں اور وسعتیں لے کر آیا کرتی ہیں، اسی قانون ِ فطرت کے تحت حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید  نے اپنے والدگرامی کے اہتمام اور وفاق کی نظامت وصدارت کے مناصب کے ادوار میں صاحب زادگی کے مواقع ومراحل بھی پائے، دنیا کے مختلف ممالک کے اسفار اور عملی زندگی کے گونا گوں نشیب وفراز بھی دیکھے، آسائشیں بھی دیکھیں اور راحتیں بھی پائیں، مگر مجاہدہ وریاضت کی اوّلین چھاپ کے گہرے اثرات آپ کی طبیعت اور رویوں سے غائب نہیں ہوئے۔ وہ اندرون ِ ملک اور بیرون ِ ملک کی بڑی بڑی آسائشوں کوبڑی ہی بے اعتنائی کے ساتھ ترک کرکے مسجد ومدرسہ کی روایتی اور فقید الوسائل زندگی جینے کے لیے اپنے وطن او راپنے مدرسہ کو ترجیح دیتے رہے۔

امریکا او رملائیشیا جیسے ممالک میں اپنی ترجیحات کے مطابق تعلیمی وتدریسی مشاغل ملنا کس کی آرزو نہیں ہوسکتی؟ پھر ایسے مواقع کو خیر آباد کہہ کر وسائل کی تنگی، ماحول کی جکڑن اور فکری وفروعی انتشار کی کوفت میں دین ِ اسلام کی تعلیم وتبلیغ کے لیے فیصلہ کرنا غیر معمولی عزم اور ہمت کی علامت ہے۔ بلاشبہ یہ عزم وہمت آپ کے خون میں شامل سہی، مگر آپ نے اندرونی وبیرونی زندگی میں جن مشکلات کا مقابلہ کیا، اس میں کسبی کمال کا حصہ بھی بے مثال ہی ہے۔ ایسے حالات اگر کسی او رمضبوط سے مضبوط انسان پر آجاتے تو شاید اس کے اعصاب ساتھ چھوڑ جاتے، لیکن اس صاحب ِ عزم واستقلال انسان کی ثابت قدمی کا اندازہ لگائیے کہ مشکل سے مشکل حالات میں جو سفر ادھورا رہا، اُسے نئے جذبہ کے ساتھ دوبارہ آغاز سے انجام تک گام زن کرنے کے لیے پابہ رکاب نظر آئے۔ کبھی شکستہ دلی، پست ہمتی اور مایوسی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

غالباً2005ء کا زمانہ تھا، جب آپ امریکا سے واپس پاکستان آئے تو آپ اپنے اکابر کی طرح قید وبند کی صعوبتوں سے نیا جذبہ سیکھ کر آئے او راس جذبے کی عملی تصویر اور تنفیذ کے لیے بڑی تازگی اور چستی کے ساتھ مصروف ِ کار دکھائی دیے۔ اس جذبے کے ایک مظہر کا مشاہدہ راقم اثیم کو بھی نصیب رہا۔ آپ نے مدارس کے امتحانی نظام، عملی وحدت ، داخلے کے طریقہ کار اور اوقات کار میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے یہ فکری خاکہ سامنے رکھا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحقہ اکثر مدارس ہمارے تین بڑے مدارس، جامعہ فاروقیہ کراچی،جامعہ دارالعلوم کراچی اورجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے تدریسی وانتظامی سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں، اگر یہ تینوں ادارے اپنے داخلے کے نظم، طریقہٴ تدریس او رنظام امتحان میں وحدت ویکسانیت پیدا کر لیں تو وفاق سے ملحقہ تمام مدارس ایک مالا میں پروئے جاسکتے ہیں۔ اس فکر کی عملی شکل کے لیے طویل عرصہ تک مشاورتی سلسلہ قائم رہا، جس میں ان تینوں اداروں کے نظامت ِ تعلیم کے مسئولین باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے۔ جامعہ سے حضرت الاستاذ مولانا عطاء الرحمن شہید  تشریف لے جایا کرتے تھے اور آپ کے فائل بردار کے طور پر راقم کو بھی معیت سے نوازا جاتا رہا۔ یہ مجلس اپنے مقررہ نصب العین تک اگرچہ نہ پہنچ سکی، مگر اس مجلس کے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ ہمارے تینوں اداروں کے امتحانی اور تدریسی نظم میں ایک دوسرے سے بڑی مفید باتیں سیکھنے کو ملیں۔ دوسرایہ کہ آپ کی اس مخلصانہ فکرہی کا شاید نتیجہ ہے کہ ہمارے امتحانی بورڈ وفاق المدارس نے آگے چل کر نظام ِ امتحان کی طرح مکمل ادارتی وتدریسی نظم کے لیے گراں قدر کوششیں کیں، جن میں مذکورہ اداروں کے علاوہ مختلف اداروں نے اپنا اپنا حصہ بھی ملایا، اب وہ کاوش وفاق کے ملحقہ مدارس کے لیے انتظامی دستور العمل کے طور پر امید ہے کہ سامنے آجائے گی۔ مدارس کے اس دستور العمل کی فکری تخم ریزی کا سہرہ بلاشبہ حضرت ڈاکٹرمولانا محمدعادل خانشہید کی تربت ِ ناز ہی کے سرسجنا چاہیے۔

اسی طرح حضرت شیخ المشائخ  جب سفر ِ آخرت کے لیے رخت ِ باندھ بیٹھے تو حضرت مولاناڈاکٹرمحمد عادل خان صاحب  کے برادرِ گرامی حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہم نے پدرانہ شفقت، سرپرستی، سائبانی اور راہ نمائی کے منصب کے لیے بڑے خلوص، درد وکرب کے ساتھ اپنے برادر کبیر حضرت مولاناڈاکٹر محمدعادل خان شہید کے پاؤں میں محبت کی وہ بیڑیاں ڈالیں کہ وہ جامعہ فاروقیہ کے اسیر بن کر رہ گئے او راپنی فطری وموروثی صلاحیتوں سے جامعہ فاروقیہ کی تعلیمی وتعمیری ترقی میں اپنے عظیم والد کے مقتدر جانشین اوراپنے برادر گرامی کے دست وباز وہی نہیں، بلکہ دل ودماغ بھی بن گئے اورحضرت شیخ کے بعد جامعہ فاروقیہ کے تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کی آزمائش میں پورے اُترے، بلکہ جامعہ فاروقیہ فیزII کراچی کی تعلیمی وادارتی زبان کے لیے عربی زبان کو ایسا فروغ بخشا جو صرف جامعہ فاروقیہ ہی نہیں، ہمارے تمام مدارس کے لیے ایک مثالی کردار ثابت ہوا۔

جامعہ فاروقیہ فیزII کراچی میں تعلیمی وادارتی زبان کے طور پر عربی زبان کے فروغ سے جہاں جامعہ کے تعلیمی نظم میں کمال، انفرادیت اورامتیاز کا ایک باب بندھا، وہاں یہ سلسلہ جامعہ فاروقیہ فیزII اور دیگر جامعات میں تعلیمی واستفادی روابط کا بہترین باعث بھی بنا۔ حضرت ڈاکٹر شہید اسی تعلیمی انفرادیت میں کمال کے رنگ بھرنے کے لیے دیگر اداروں کے باذوق عربی داں او رعربی خواں اساتذہ کو بھی اپنے ہاں بلا کر اپنے اساتذہ کے ساتھ مختلف محاضرات اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے،جس سے شرکاء کو ترغیب وتحریک کا فائدہ بھی ہوا اور سیکھنے اور سکھانے کے جذبات ومواقع بھی بیدار ہوئے،جسے اس دور میں عربی زبان کے احیاء کا کارنامہ ہی نہیں، بلکہ ایک تحریک کا نام دینا چاہیے،جسے منزل یاب کرنے کی ذمہ داری جامعہ فاروقیہ کے مفتی عبداللطیف، مفتی محمد انس عادل، مفتی محمد عمیر عادل،جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا حسین قاسم،جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا فخر الاسلام مدنی اور مولانا لطف الرحمن اور عربی زبان کے دیگر باذوق احباب کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ الله تعالیٰ انہیں حضرت ڈاکٹر شہید کے نیک مقصد کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کا اعزاز بخشے،آمین۔

جامعہ فاروقیہ فیزII کراچی کو دورِ جدید کی مستعار تعبیر میں ”عربک میڈیم“ بنانے میں جہاں عربی زبان کے رواج واحیاء کی مہم ہے، وہاں علم وعمل کے حسین امتزاج کا بہترین سبق بھی ہے۔ ہمارا نصاب عربی زبان میں ہے، مذہبی زبان عربی ہے، مگر ہمارے عمومی طلبہ واساتذہ عربی حوار او رانشاء پر استعداد کے باوصف قادر نہیں ہوتے۔ اس حجاب کو ختم کرنے میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید کی فکری وعملی کاوشیں قابل تقلید اور لائقِ تحسین ہیں۔ یہ کاوشیں در حقیقت عزم وعمل میں رشتے، فکروجہد میں رابطے اور قول وعمل میں تعلق کی عکاس ہیں۔ حضرت ڈاکٹر شہید جس کام کی فکر ولگن کا دماغی بوجھ اُٹھاتے، اُسے عملی شکل میں اُتارنے او رسدھارنے کے لیے شبانہ روز محنت فرماتے تھے اور جس کام میں ہاتھ ڈالتے، اسے اس کے مثبت انجام تک پہنچانے میں کسی مشکل اور دشواری کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، جسے اس دور میں اکابر کی اُولو العزمی کی نادر مثال کہنا بجا ہے۔

عموماً یہدیکھا گیا ہے کہ میدان عمل سے وابستہ حضرات یا انتظامی ذمہ د اریوں کے مسئولین اپنے تدریسی کمال کا سکہ کماحقہ نہیں جما سکتے، مگر حضرت ڈاکٹر شہید  کیعلمی زندگی کا تنوع،آپ کا تدریسی کمال متاثر یامتزلزل نہیں کرسکا۔ میں نے بالواسطہ حضرت شیخ شامزی شہید سے سنا کہ حضرت شیخ المشائخ (مولانا سلیم الله خان) اپنے معاصراکابر میں جس تدریسی کمال سے ہم کنار تھے، اس کمال کا وافر حصہ الله تعالیٰ نے مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید کو عطا فرما رکھا تھا۔ امریکا، ملائیشیا کی تدریسی زندگی میں اونچے درجے کی تدریسی ذمہ داریاں او رجامعہ فاروقیہ میں بخاری شریف اور مشکوٰة شریف کے دروس اپنے والد گرامی کی باکمال تدریس کی وراثت کا مظہر اور بین ثبوت ہے۔

ہمارے خیال میں باکمال تدریس کے تین ارکان ہیں درس کی اچھی تیاری۔ اچھی تعبیر وتفہیم۔ درس کی مداومت ومواظبت۔ اس کمال کے ساتھ تدریس والے علمائے کرام کی ہمارے اداروں میں کوئی کمی نہیں ہے، مگر یہ کمال ان مدرسین کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے، جو تدریس کے ساتھ ساتھ تحریکی ذہن کے حامل او رمیدان ِ عمل کی کسی سر گرمی سے وابستہ ہوں۔ اس چیلنج کے سامنے عزم واستقلال کی چٹان او ربرکت وروحانیت کے بلا خیز طوفان کے طور پر صرف اور صرف شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدمدنی نوّرالله مرقدہ کا نام نامی اسم گرامی لیا جاسکتا ہے یا پھر ان کے فکری پیروکاروں میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود اور حضرت مولانا عبدالحق(اکوڑہ خٹک) جیسی ہستیاں بمشکل گنوائی جاسکتی ہیں۔

مگر حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کا جتنا مختصر مشاہدہ میں نے کیا وہ میدان ِ عمل کے مردِ میدان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ان اکابر کی برکت وروحانیت جیسے اس کمال سے بھی محظوظ تھے۔

حضرت ڈاکٹر محمدعادل خان شہید  کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ آپ روایت وتصلُّب کے کوہِ گراں تھے۔ آپ کو وطن عزیز کے ہر شعبے اورطبقے تک رسائی اور شناسائی میسر رہی، دنیا کے سینکڑوں ممالک میں مختلف مجالس کی رونق اور رعنائی بنتے رہے، آسودہ ممالک کی سکونت وشہریت بھی حاصل رہی، لیکن آپ کی طبیعت، مزاج، وضع قطع اور فکر وتصلُّب پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ یہ آپ کے والد گرامی کے حسنِ تربیت کا ثمرہ ہے اور آپ کی فکری صلابت وسلامتی کی دلیل بھی ہے۔

حالاں کہ انگریزی دورِ غلامی میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے لوگ احساس ِ کم تری اور مرعوبیت کے ہاتھوں مجبو رہو کر ایسے مواقع پر فکر وعمل کی موروثی استقامت سے محروم ہو جایا کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی مناسبت سے ٹی وی ایکٹرز، نو خیز علماء اور سیلفی ملاؤں کا تدکرہ چل نکلا، تو حضرت ڈاکٹر صاحب  فرمانے لگے: میں نے دنیا کے کئی نشیب وفراز دیکھے ہیں، آسائش وآرائش کے بہتیر ے مواقع قریب سے دیکھے ہیں، مگر طبیعت وفطرت کی اس تذکیر نے ہمیشہ مجھے بیدار رکھا کہ جو عافیت وراحت اپنے اکابر کے فکری تصلُّب اور عملی استقامت میں الله نے رکھی ہے، اس سے بڑی نعمت اور غنیمت کوئی اور چیز نہیں ہے۔ ہمیں ٹی وی ، سیلفی اور تصویر کے دلدادہ مولویوں پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ حضرات کس ندیدہ پن کا شکار ہیں اور ہم الحمدلله حتی الوسع اجتناب کی کوشش کرتے ہیں،ہاں اجتناب نہ ہوسکے تو ناگواری اور نکیر کی ایمانی رمق کو زندہ رکھنے کی کوشش بہرحال کرتے ہیں۔

حضرت کے اس موروثی فکری تصلُّب اور علمی استقامت کا مشاہدہ مختلف مجالس میں نصیب ہوا اور آپ کے ادارے (جامعہ فاروقیہ) کے علماء وطلباء کو اس تصلُّب واستقامت کا بہترین نمونہ پایا۔ حضرت شیخ  کی طرح آپ کے جنازے او رتعزیت کے اجتماعات میں بھی اس تصلب واستقامت کے عملی مظاہر مشاہد ہوئے۔

ایک مرتبہ وفاق المدارس کی مجلس ِ عاملہ کے ایک اجلاس میں ایک صاحب نے مجلس کے اعلامیہ کے اظہار کے لیے ویڈیو پیغام کا مشورہ دیا تو حضرت ڈاکٹر صاحب نے ان صاحب کواپنے والدگرامی کے لب ولہجے میں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : ویڈیو او رمیڈیائی عمل وفاق کے اجلاسوں میں نہیں ہوا کرتا، آپ یہ غلط طرح نہ ڈالیں۔

حضرت ڈاکٹر صاحب  میں تصلُّب وروایت کی موروثی شناخت پر مستزاد، آپ کی شخصیت میں دینی حمیت، اخلاقی جرأت اور عالمانہ بے باکی کا وصف بھی کمال درجہ کا تھا، دینی اجتماعات ہوں یامشاورتی مجالس یا انتظامی اجلاسات، وہ اپنا موقف بڑی جرأت وحمیت، دلیری، مگر عمدہ سلیقے اور شائستہ انداز میں پیش کرنے کا منفرد ملکہ رکھتے تھے، جس کی بدولت ایسی تمام مجالس میں آپ اپنے والدگرامی والی مرکزیت واہمیت کا رتبہ پالیا کرتے تھے۔ حق گوئی وبے باکی میں قبائلی پختون جگرے کے مالک تھے، جب کہ سلیقہ مندی اور شائستہ گفتاری میں دہلوی ولکھنوی آداب سے آراستہ تھے۔ ہر طبقے کی ہر مجلس میں طبقاتی لحاظ او رمجلس کے آداب کی جو شناوری آپ کو نصیب تھی، اس میں آپ کے معاصرین میں سے شاید ہی کوئی آپ کا ساجھی یا ثانی ہو۔ مگر یہ امت بانجھ نہیں ہے، الله تعالیٰ یہ کمالات یا ان کا کچھ حصہ کسی بھی اپنے بندے میں پیدا فرماسکتے ہیں اور ان کا میدانِ عمل او رمجال ِ فکر خالی نہیں رہے گا، ان شاء الله۔

حضرت مولاناڈاکٹر محمد عادل خان شہید  میدان ِ عمل کے کرّار وفرّار بھی تھے، مگر اس کرّوفرّ کے باوجود علم وتحقیق جیسے یکسوئی طلب کاموں میں بھی اپنے علمی وتحقیقی مزاج کے اسلاف کے پیروکار او راپنے معاصر ومحقق علماء کے ہم سفر بھی تھے، آپ کی کئی علمی وتحقیقی کاوشیں مختلف زبانوں میں منصہٴ شہود پر آچکی ہیں، بعض بڑے علمی وتحقیقی منصوبے آپ کے زیر تحقیق تھے، جن میں فتاویٰ عالمگیری جیسے فقہی ذخیرے کی ترتیب نو اورترتیب مفید کے درپے تھے۔ آپ کے بعض تلامذہ اور رفقاء اس کارِ خیر کو آپ کا ذخیرہٴ آخرت اور صدقہٴ جاریہ بنانے میں دل وجان سے کوشش کر رہے ہیں۔ ا لله تعالیٰ آپ کے جملہ علمی وتحقیقی کاموں کو تکمیل آشنا کرنے میں آپ کے رفقاء کوخاص توفیق نصیب فرمائے۔

گزشتہ دنوں توہین ِ صحابہ رضی الله عنہم اجمعین کے جرائم کے ازالے او رانسداد کے لیے آپ کا کردار حضرت مدنی، حضرت لکھنوی، حضرت مفتی احمد الرحمن اورحضرت شیخ سلیم الله خان رحمة الله علیہم کی خلافت، نیابت او رمسلکی حمیت کا مظہر تھا۔ اندھے فتنوں کے اس دور میں آپ مسلک ِ دیوبند کے حمیت آمیز اعتدالی مؤقف کے مؤثر ومعتدل ترجمان کے طور پر سامنے آئے اور آپ نے عزیمت وحمیت اور توسط واعتدال میں مسلک دیوبند کی خوب خوب ترجمانی فرمائی، آپ کی شخصیت کی اس مرکزیت کی اپنے حلقے میں قدر دانی سے قبل ہمارے دشمنوں کو اس کی اہمیت کا شاید اندازہ ہو چکا تھا، اس لیے مورخہ10/ اکتوبر2020ء کو آپ کے معصوم اورنازک چہرے کو آہنی وآتشی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا،جسے ایک مقامی اخبار نے خلاف ِ معمول بہت ہی مناسب عنوان دیا:” ظالم نے عادل کو شہید کر دیا“، لیکن ظالموں کو یہ ادراک کبھی ہواہی نہ ہو گا کہ ظلم سے عادل مرتا ہے، مگر عدل ہمیشہ کے لیے زندگی آشنا ہو جایا کرتا ہے۔تاریخ عالم گواہ ہے کہ جس مشن میں شہیدوں کا خون شامل ہو جائے وہ مشن نہ مرتا ہے، نہ دبتا ہے، نہ رکتا ہے، پس ہماری تکلیف عارضی ہے او رتمہاری تسکین وقتی ہے۔

اللہم اغفرلہ وارحمہ وألحقہ بآبائہ الصالحین