بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عبدیت کا تقاضا کیا ہے؟

عبدیت کا تقاضا کیا ہے؟

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ﴾․ (سورہ طلاق:3-2) صدق الله مولٰنا العظیم․

میرے محترم بزرگو، بھائیو اور دوستو! ا لله تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو آدمی الله کا تقوی اختیار کرتا ہے الله تعالیٰ اس کے لیے عافیت اور خیریت کی راہیں پیدا فرماتے ہیں او راسے ایسے انداز میں رزق عطا فرماتے ہیں کہ اسے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ آج آدمی مشکلات کا شکار ہے اور چوں کہ ہمارا معاملہ اور گفت گو اہل اسلام سے ہے، تو مسلمان بھی عموماً پورے عالم میں انہیں الله تعالیٰ کا جو تعارف ہوناچاہیے اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا جو تعارف ہونا چاہییوہ تعارف نہیں ہے۔ دنیا میں بھی ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی سے تعلقات بالکل بھی نہیں ہیں تو کسی مشکل میں آدمی اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے، تعلقات ہی نہیں ہیں، کچھ لوگوں سے تعلقات رسمی قسم کے ہوتے ہیں، وہاں پر بھی یہی بات ہوتی ہے کہ ہماری اس مشکل میں یہ کیسے کام آئے گا؟ کچھ تعلقات رسمی سے کچھ تھوڑے سے زیادہ ہوتے ہیں تو وہاں بھی آدمی بات کرتے ہوئے او راپنا سوال اور اپنی طلب رکھتے ہوے دس دفعہ سوچتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مجھے انکار کر دے، لیکن تعلقات کی ایک اور قسم ہے، میں انسانوں کی بات کر رہا ہوں کہ انسان اور ان کے جو باہمی اور آپسی تعلقات ہیں، ان میں یہ نوعیتیں ہوتی ہیں اور یہ صبح شام ہمارے مشاہدے میں ہے اور صبح شام ہمیں ان سے گزرنا ہوتا ہے، چناں چہ تعلقات کی ایک قسم وہ ہے جو بہت ہی گہری ہوتی ہے اور وہاں اس کا کوئی امکان نہیں ہوتا کہ انکار ہو گا، چناں چہ ہم بھی اپنی ضرورتوں میں اپنے ایسے ہی دوستوں اور تعلق والوں سے رابطہ کرتے ہیں، چناں چہ وہاں رابطہ کرنے سے ہمیں بڑا سکون ملتا ہے، ہماری ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارا وہ دوست اور ہمارا وہ جاننے والا یہ کہتا ہے آپ فکر نہ کریں، آپ پریشان نہ ہوں، جب بھی کوئی ضرورت ہو، جب بھی کوئی معاملہ ہو، دن ہو، رات ہو، آپ مجھ سے رابطہ کریں۔

میرے دوستو! یہ دنیا کی کیفیت ہے، دنیا میں صبح شام انسانوں کے ساتھ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے اندر یہ معاملات پیش آتے ہیں، آپ کبھی بحیثیت مسلمان غور کریں کہ ہمارا الله تعالیٰ سے کیا تعلق ہے؟! ہمارا الله تعالیٰ سے کیا تعارف ہے؟

ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ بہت بڑی تعدادمیں ایسے لوگ بھی ہیں جو عیدین کی نماز نہیں پڑھتے، مسلمان ہیں عید کی نماز نہیں پڑھتے! بہت بڑی تعداد ان سے زیادہ ان لوگوں کی ہے جو جمعے کی نماز بھی نہیں پڑھتے اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں،جماعت کے ساتھ پانچ وقت مسجد میں آ کر نماز پڑھنے والے کتنے ہیں؟ تو ہمارے الله تعالیٰ سے تعلقات کی نوعیت یہ ہے۔

نماز اہل ایمان کی معراج ہے۔ (تفسیر روح المعانی، سورة الفاتحہ:1/89) اس میں بندہ اپنے رب سے، اپنے الله سے ملاقات کرتاہے، لیکن ملاقات کی جو نوعیتیں ہیں، وہ ہم سب کے سامنے ہیں، ہم مسجد میں آبھی جاتے ہیں، بیٹھ بھی جاتے ہیں، نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، نماز کے بعد چلے بھی جاتے ہیں، لیکن اس ملاقات کا کوئی اثر اس ملاقات کا کوئی استحضار؟!

بھائی! آپ دیکھیں نا ایک آدمی ہے، میں دنیاوی اعتبار سے بڑی چیز کا ذکر کر رہا ہوں، لیکن الله کے اعتبار سے تو وہ کچھ بھی نہیں، مکھی کا پَربھی نہیں، اگر کسی کو یہ بلاوا آجائے کہ جی صدر پاکستان سے آپ کی ملاقات ہے، وزیراعظم پاکستان سے آپ کی ملاقات ہے، دل میں لڈو پھوٹنے لگیں گے، ہر جگہ تذکرہ ہو گا، فون ہوں گے کہ جی مجھے صدر پاکستان نے بلایا ہے، میری ملاقات ہے، کتنے دنوں تیاریاں ہوں گی اور اس ملاقات سے پہلے بھی، اس ملاقات کے دوران بھی، اس ملاقات کے بعد بھی، بلکہ مرتے دم تک وہ اس آدمی کی زندگی کا ایک بہت بڑا واقعہ ہو گا کہ میری صدر پاکستان سے، وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ اس کی بعد والی نسلیں بھی لوگوں کو بتائیں گی کہ ہمارے ابا جان وہ تھے جو ایک دفعہ صدر صاحب سے ملے تھے۔

میرے دوستو! حالاں کہ اس صدر کی، اس وزیراعظم کی، بلکہ ساری دنیا کے بادشاہ مل جائیں، ساری حکومتیں او رحکم ران مل جائیں تو الله تعالیٰ کی نظر میں یہ مکھی کے ایک پَر کے بھی برابر نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں، ہم اس الله سے ملنے یہاں آتے ہیں، پانچ مرتبہ ہم الله سے ملاقات کرتے ہیں، لیکن ہمارے اوپر اس کا کیا اثر ہے؟ آتے وقت، بس جمعہ ہے ،مسجد جانا ہے، مولوی صاحب کی تھوڑی سی بات سننی ہے، نماز پڑھنی ہے ،واپس آجانا ہے قصہ ختم۔ عصر تک بھی اس کا کوئی اثر ہمارے اوپر ہو، مغرب تک بھی اس کا اثر ہمارے اوپر ہو؟ ایسا کچھ نہیں۔

اب آپ مجھے بتائیے وہی پہلی والی بات کہ تعلقات کی نوعیتیں ہیں، بعض نوعیتیں ایسی ہیں، دوستوں میں، رشتہ داروں میں کہ جہاں ایک فیصد کا ہزارواں حصہ بھی یہ امکان نہیں ہے کہ یہ میرے ساتھ کوئی تعاون کرے گا، آدمی ادھر دیکھتا بھی نہیں ہے۔

اور دوسری نوعیت ہے کہ رسمی سا تعلق ہے وہاں بھی کوئی امکان نہیں ہوتا اور تیسرا وہ جہاں درمیانے درجے کے کچھ تعلقات ہیں،آدمی وہاں بھی اپنی بات نہیں رکھتا، ہاں! جہاں بہت گہرا تعلق ہو، اس تعلق اور گہرے تعلق کی بنا پر آدمی اس کے سامنے بات رکھتا ہے اور بات پوری ہو جاتی ہے۔ آپ مجھے بتائیے پورا قرآن آپ پڑھیں، آپ حدیث کا سارا ذخیرہ پڑھیں، یہ بات تو بالکل طے او رمتعین ہے کہ اس پوری کائنات کے اکیلے، تنہا، بغیر کسی ادنی شریک اور وزیر کے خالق اور مالک الله ہیں، سب کچھ ان کا ہے۔

اور ایسے خالق اور مالک ہیں کہ ان کی کوئی نظیر نہیں ہے، ان کی کوئی مثال نہیں ہے، ان کا کوئی شریک نہیں ہے، ان کا کوئی وزیر نہیں ہے، کوئی نہیں ہے، اکیلے، تنہا، ہمیشہ سے ہیں، ہمیشہ رہیں گے ، وہ اپنے کسی بھی معاملے میں کسی کے محتاج نہیں ہیں، سب اس کے محتاج ہیں، ان کا وعدہ سچا، ان کے وعدے میں بھی کوئی کسر نہیں ہے، پکا وعدہ، سچا وعدہ، الله کا وعدہ ہے اور وہ بار بار کہتے ہیں کہ تم مجھ سے ڈرو گے، یعنی میرے احکامات پر عمل کروگے تو میں تمہاری تمام ضرورتیں پوری کردوں گااور الله تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو ہمیشہ، جس نے عمل کیا، اس کو سچ کرکے دکھایا۔

میرے دوستو! یہ باتیں، یہ مذاکرے، یہ اصل میں اس لیے ہوتی ہیں کہ ہم اس کی تمرین کریں، اس کی مشق کریں، ہر وقت، مسلسل، ہر موقع پر ہم اس کی مشق کریں کہ الله کریں گے، الله سے ہو گا، ورنہ آج ہمارا حال کیا ہے بھائی؟ راستے کے اندر کہیں اگر خدا نخواستہ، خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے یا اور گھر میں کوئی حادثہ پیش آجائے یا او رکہیں کوئی حادثہ پیش آجائے تو فوراً پہلے زمانوں میں تو لوگ جیبوں میں چھوٹی چھوٹی ڈائریاں رکھا کرتے تھے، جب سے یہ موبائل فون آئے ہیں تو ساری ڈائریاں اس موبائل فون کے اندر چلی گئیں، تو اب فوراً فون نکالتے ہیں کہ ایس پی صاحب کا نمبر ہے یا نہیں ہے، ڈی ایس پی صاحب کا نمبر ہے یا نہیں ہے، ایس ایچ او کا نمبر ہے یا نہیں ہے، کسی وزیر کا نمبر ہے یا نہیں ہے، کسی اور بڑے آدی کا نمبر ہے یا نہیں ہے؟ تاکہ اس مشکل میں وہ ہماری مشکل کشائی کرے، ہم نے مشکل کشا ایس ایچ او کو سمجھا ہوا ہے، ہم نے مشکل کشا وزیر کو سمجھا ہوا ہے، سب سے پہلے فوراً اس کا خیال آئے گا۔

جب کہ عبدیت کا تقاضا کیا ہے کہ فوراً الله تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں، میرے الله کریں گے، ہم نے تو کبھی تجربہ ہی نہیں کیا نا؟!

تو کوئی اگر کہے کہ جی ایسا تو ہوتا نہیں ہے، تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے کبھی کیا ہے ؟ ہم نے تو کبھی کیا ہی نہیں۔

مشکل سے مشکل وقت میں فوراً اندر سے آواز آئے الله کریں گے، دو رکعات نماز پڑھوں گا ، الله سے مانگوں گا، الله کریں گے، یہ مسئلہ بھی الله حل کریں گے، یہ مسئلہ بھی الله حل کریں گے، یہ کیا ہے؟ یہ ہے عبدیت، لیکن یہ کیسے آئے گی؟ اس کے لیے محنت کرنی ہو گی ، آپ مجھے بتائیے کہ بغیر محنت کے کوئی درزی بن سکتا ہے؟ کوئی کہے کہ میں گھر میں بیٹھے بیٹھے درزی بن جاؤں ، ایسا ہے؟ یا کوئی گھر میں بیٹھے بیٹھے ڈرائیور بن سکتا ہے؟ اس کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے؟ گھر سے باہر نکلنا پڑے گا یا نہیں ؟ محنت کرنی پڑے گی یا نہیں ؟ کچھ مشقت پیش آئے گی یا نہیں ؟ تو تھوڑے دنوں کے بعد جس کو کچھ بھی نہیں آتا تھا وہ درزی بن جائے گا، جس کو کچھ بھی نہیں آتا تھا وہ ڈرائیور بن جائے گا، صبح شام ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ یہ تو میں نے بہت چھوٹی چھوٹی مثالیں دیں ،ورنہ کوئی آدمی گھر میں بیٹھے بیٹھے ڈاکٹر بن سکتا ہے؟ انجینئر بن سکتا ہے؟ ریاضت ہے، محنت ہے، اس کے بغیر نہیں بن سکتا۔

تو میرے دوستو! کبھی غور کرو کہ پوری کائنات کی تسخیر کہ سورج آپ کا نوکر بن جائے، چاند آپ کا نوکر بن جائے، ہوائیں آپ کی نوکر بن جائیں، زمین آپ کی نوکر بن جائے او رمیں یہ کوئی فلسفہ نہیں بیان کر رہا، اس آسمان کے نیچے او راس زمین کے اوپر یہ سب کچھ عملی طور پر ہوا ہے کہ سورج بھی نوکر، چاند بھی نوکر، ستارے بھی نوکر، ہوائیں بھی نوکر، سب نوکر، کس کے نوکر؟ اس عبد کے نوکر، جس نے عبدیت اختیار کی، پھر بڑے بڑے حکم ران، بڑی بڑی حکومتیں… اس لیے کہ ان سارے حکم رانوں کا حکم ران صرف الله ہے، تعلق تو اس سے جڑا ہوا ہے، جب تعلق اس سے جڑ جائے، تو پھر ان پیشاب پاخانہ کرنے والے حکم رانوں کی کیا حیثیت ہے؟ مر جانے والے حکم رانوں کی کیا حیثیت ہے؟

الله تعالیٰ حی، قیوم، ہمیشہ سے ہیں، ہمیشہ رہیں گے، ساری طاقت اور قوت صرف اور صرف الله تعالیٰ کی ہے، جب آدمی کا تعلق اس سے جڑ جائے، جس کا تار اس سے مل جائے او راس تار کے جڑ جانے سے، مل جانے سے اس کا بلب اور بتی روشن ہو جائے، تو پھر اسے کچھ چاہیے؟

حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم امام الانبیاء، امام الرسل، آپ صلی الله علیہ وسلم تمام انبیاء کے امام ہیں، تمام رسولوں کے سردار ہیں اور ہمارے نبی ہیں، ہمارے رسول ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے جو کام کیا، آپ نے جو دعوت دی، وہ اسی کی دی کہ اپنے اپنے تار الله سے جوڑ لو، یہ تین سوساٹھ بت پتھر مٹی کے ہیں، چھوڑو انہیں۔ الله سے جڑو، چناں چہ حضرت صدیق اکبر کا تار جڑ گیا، حضرت فاروق اعظم کا تار جڑ گیا، حضرت عثمان ذوالنورین کا تار جڑ گیا، حضرت علی کرم الله وجہہ کا تار جڑ گیا، تمام صحابہ کا تار جڑ گیا، سب کے بلب روشن ہیں، الله سے سب کچھ ہوتا ہے، مخلوق سے کچھ نہیں ہوتا، الله ہی عزت دیتے ہیں، الله ہی ذلت دیتے ہیں، الله ہی کام یاب کرتے ہیں، الله ہی ناکام کرتے ہیں۔ اب بات وہی ہے کہ یہ باتیں سننے کے اعتبار سے تو بہت اچھی ہیں، لیکن اس کو ہم کریں کیسے؟ یہ حاصل کیسے ہوں گی؟

تو میں نے عرض کیا کہ اس کے لیے مشق ہے، اس کے لیے تمرین ہے۔ جب درزی بغیر محنت کے نہیں بن سکتا، تو اتنا بڑا مقام او رمرتبہ بغیر محنت کے مل سکتا ہے؟ #
        ایں خیال است ومحال است وجنون

یہ فضول بات ہے، اس کے لیے تو محنت کرنی پڑے گی، کوشش کرنی پڑے گی، چوں کہ دنیا کا ماحول بدل گیا ہے، آج صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک او رزندگی اگر ستر سال کی ہے تو ستر سال، اسی سال کی ہے تو اسی سال، نوے سال کی ہے تو نوے سال، دنیا، دنیا، دنیا، اس کا ذکر ہے، وہی دل ودماغ کے اندر بیٹھی ہوئی ہے، آج کام یابی کا معیار یہ باتیں نہیں ہیں جو میں آپ سے ذکر رہاہوں، یہ سب اجنبی باتیں ہیں، مولانا کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں؟!

تو بھائی! نعوذ بالله ،ثم نعوذ بالله، کیا اس زمانے کے الله الگ تھے اور آج کے الگ ہیں؟ کیا اس زمانے کے نبی الگ تھے اور ہمارے نبی کوئی اور ہیں؟

اس زمانے کا قرآن الگ تھا اورآج الگ ہے؟ یا اس زمانے کی حدیث الگ تھی، آج کوئی الگ ہے؟ نہیں ، سارے مراجع وہی ہیں، الله تعالیٰ وہی ہیں، الله تعالیٰ کے وعدے بھی وہی ہیں، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں، قیامت تک وہی نبی ہیں اور قرآن وہی ہے، ہر چیز وہی ہے، بدل کیا گیا ہے؟ ہم اور آپ بد ل گئے ہیں، باقی کچھ نہیں بدلا، میں اور آپ بدل گئے ہیں، ہماری آپ کی ترجیحات بدل گئی ہیں، آج بھی اگر ہم ان ترجیحات کو اختیار کر لیں، تو سو فیصد وہی وعدے ہیں۔

لیکن بات وہی ہے کہ اس کے لیے کچھ محنت ہے، اس کے لیے کچھ ریاضت ہے، اس کے لیے کچھ کوشش ہے، اس کے لیے کچھ ماحول کی تبدیلی ہے، یہ ساری کی ساری چیزیں جب ہم دنیا کے بہت چھوٹے چھوٹے پیشوں کے لیے اختیار کرتے ہیں، تو میرے دوستو! وہ پیشہ اور وہ منصب اور کام جو انبیاء والا ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے کیا کوئی محنت نہیں چاہیے؟ اس کے لیے محنت چاہیے او راس میں جو سب سے بنیادی بات ہے، وہ ہے اپنی صحبت کو اچھا کرنا، اپنی صحبت کو اچھا کریں۔

اگر کسی کو خراب کرنا ہو اس کی صحبت خراب کر دیں، کوئی دوا نہیں ہوتی خرابی کے لیے، صحبت… اس کی صحبت خراب کر دیں، خراب ہو جائے گا، شرابیوں کی صحبت ملے گی تو شرابی بن جائے گا، چرسیوں کی صحبت ملے گی تو چرسی بن جائے گا، یہ سب صبح شام ہمارے مشاہدے میں ہے یا نہیں ہے؟ بچہ بہت اچھا تھا، ماں بھی خوش تھی، باپ بھی خوش تھا، استاد بھی خوش، سب خوش، اچانک اس کے طور اطوار بدلنے لگے، ماں باپ پریشان، استاد پریشان، سب پریشان، اب جب سب نے کوشش کی، تجسس کیا، تو پتہ چلا کہ کوئی خراب دوست اس کا بن گیا۔خراب دوست کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو گیا، تو یہ اچھا بچہ بھی ؟خراب ہو گیا۔

میرے دوستو! آج ہم مجموعی طور پر خراب ہیں، ہمیں اس کے لیے اچھی صحبت چاہیے، ہمیں اس کے لیے اچھے لوگوں کے ساتھ، اچھے ماحول کے اندر آنا ہے، ہم اچھائی والا ماحول اختیار کریں گے، اچھے بن جائیں گے، یہ جو مسجد کا ماحول ہے، بہترین مبارک، آپ اندر آئے ہیں، کتنے ساتھی یہاں بیٹھے ہیں، کسی کو یہ بیماری ہے، کسی کو یہ بیماری ہے ،کسی کو ڈپریشن ہے، کسی کو سر کا مسئلہ ہے، کسی کوتفکرات ہیں، کسی کو سوچیں ہیں، کوئی کہتا ہے مجھے کسی نے کچھ کر دیا ہے، فلاں ہے، فلاں ہے،لیکن مسجد میں وضو کرکے آئے ہیں، بیٹھے ہیں، اطمینان، چین، سکون ہے یا نہیں ؟!

باہر نکلیں گے پھروہی باتیں، پتہ نہیں کیا بات ہے؟ سینہ گھٹ رہا ہے، سر میں چکر آرہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کسی نے مجھ پر کچھ کر دیا ہے، کسی نے کچھ نہیں کیا، یہ یاد رکھنا، ہم نے خود اپنے اوپر بہت کچھ کیا ہوا ہے۔

آپ باوضو رہیں، آپ اچھے ماحول میں رہیں، آپ اہل علم سے اہل دین سے ملے رہیں، آپ قرآن وسنت سے ملے رہیں، آپ دین دار بننے کی کوشش کریں، سب کیا دیا ختم ہو جائے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا، یہ گھروں کے جھگڑے ،یہ فساد، یہ مصیبت، یہ لڑائیاں، یہ میرا، یہ تیرا، آج کیا ہے، اس دنیا کے اندر؟ اس کے علاوہ اور کیا بات ہے؟ ہر طرف یہی تماشا ہے، آپ جب اپنی صحبت اچھی کریں گے، تو آپ میں خیر آنی شروع ہو جائے گی، اطمینان آنا شروع ہو جائے گا، سکون آنا شروع ہو جائے گا، بہت سے اہل علم کو میں نے دیکھا۔

میرے والد نوّر الله مرقدہ کو اسی برس سے زائد کی عمر میں کچھ بیماریاں شروع ہوئیں، کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا، چیک اپ ہو رہا ہے، ڈاکٹر کے پاس گئے ہیں، تو وہ بلڈ پریشر چیک کرتا، کہتا حضرت! آپ کا بلڈپریشر تو بیس سال کے جوان جیسا ہے۔ دل کی حرکت چیک کرتا، کہتا کہ بالکل جوانوں جیسی دل کی حرکت ہے۔

یہ سب کیا ہے؟ اس کاتعلق دنیا اور غذا سے نہیں ہے، نہیں! یہ خالص الله سے تار جڑا ہوا ہے، اطمینان ہے، چین ،سکون، کوئی پریشانی نہیں، اسی منبر پر ہمارے حضرت نوّر الله مرقدہ فرمایا کرتے تھے، میں کبھی پریشان نہیں ہوتا، پھر فرماتے تھے کہ تمہیں بھی نسخہ بتا دیتا ہوں۔

تم بھی کبھی پریشان مت ہوا کرو او رفرمایا کرتے تھے کہ وہ نسخہ ہے، تفویض، وہ نسخہ کیا ہے؟ تفویض، ہمارے طلبہ تو سمجھ گئے ہوں گے، میں اپنے باہر کے ساتھیوں کو سمجھا دیتا ہوں، فرماتے تھے کہ میں اپنی ہر مشکل الله تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہوں ”أفوض أمری إلی الله“ میں اپنا ہر معاملہ الله کے سپرد کرتا ہوں، مجھے کچھ نہیں کرنا، سب الله کریں گے، میں کچھ نہیں کرسکتا، میں تو بندہ ہوں، عبد ہوں، میری کیا حیثیت ہے؟ کرنے والے کون ہیں؟ الله، یہ مشکل بھی الله کے حوالے، یہ مشکل بھی الله کے حوالے، تو جب ساری مشکلیں الله کے حوالے ہو گئیں، تو بندہ پرسکون ہو جائے گایا نہیں ہو جائے گا؟ ساری مشکلیں ختم۔

تو میرے دوستو! ہم تفویض سیکھیں ،ساری چیزیں الله کے حوالے، الله کریں گے، آخر میں پھر عرض کروں گا کہ صرف سننے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لیے محنت کرنی پڑے گی، اس کے لیے ریاضت کرنی پڑے گی، اس کے لیے کوشش کرنی پڑے گی، الله تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔