بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طلب ِ حدیث کی خاطر سفر کی اہمیت وفضیلت

طلب ِ حدیث کی خاطر سفر کی اہمیت وفضیلت

ضبط و تحریر: مولانا حبیب الله زکریا
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ (کتاب الرحلة للخطیب البغدادی:76 ،نیز دیکھیے، سنن ابن ماجہ، رقم:224)

حضرت کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں ابودرداء کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور حضرت ابودرداء رضی الله عنہ کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ میں مدینہ سے حاضر ہوا ہوں او رمیں نے سنا ہے کہ آپ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں، چناں چہ میں اسی کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت ابودرداء رضی الله عنہ نے اس سے پوچھا کہ کسی اور غرض سے تو نہیں آئے؟ کہنے لگا کہ نہیں، آپ نے پھر پوچھا کہ تجارت کی غرض سے بھی نہیں آئے؟ تو اس نے پھر کہا کہ نہیں! میں صرف اس حدیث کے لیے آیا ہوں۔ تو حضرت ابودرداء رضی الله عنہ نے فرمایا کہ میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ:

”جو کوئی طلب ِ علم کے راستے پر چل پڑا تو گویا وہ جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چل پڑا اور فرشتے طلب ِ علم کے لیے نکلنے والے شخص کے پاؤں کے نیچے خوشی میں اپنے پربچھاتے ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے کہ چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر اورعالم کے لیے زمین وآسمان کی تمام مخلوقات، حتی کہ پانی میں مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں اور علماء انبیاء کے وارث ہیں او رانبیاء اپنی میراث میں دینار ودرہم نہیں، بلکہ علم چھوڑتے ہیں، پس اس علم کو لینے والے یقیناایک بڑے حصے کو لینے والے ہیں“۔ (کتاب الرحلة، ص:78 و79)نیز دیکھیے ترمذی، رقم (2683 و2684)، ابوداؤد، رقم(3641 و3642)

حضرت زِر بن حُبیش کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا علم حاصل کرنے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ”جو شخص علم کی تلاش میں اپنے گھر سے نکلتا ہے فرشتے اس کے لیے خوشی میں اپنے پَروں کو بچھالیتے ہیں۔“

فرشتوں کا پَروں کو بچھانا حقیقتاً بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کمال ِ تواضع ومحبت سے کنایہ ہو۔ (کتاب الرحلة، بالا،ص:83)

حضرت ابو یحییٰ ساجی کہتے ہیں کہ ہم بصرہ میں طلب ِ حدیث کے لیے کسی محدّث کے گھر کے قَصد سے ایک گلی سے تیزی سے گذر رہے تھے۔ اس وقت ہمارے ساتھ ایک بے حیاء اور بددین قسم کا آدمی بھی تھا، اس نے (طلب علم کی فضیلت سے متعلق حدیث کا) مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنے پاؤں فرشتوں کے پَروں سے ہٹاؤ، اسے مت توڑو، وہ یہ کہہ کر ابھی اسی جگہ کھڑا تھا کہ اس کے پاؤں اچانک سوکھ گئے اور وہ وہیں گر ِ پڑا ۔(حوالہ بالا،ص:(86-85

حضرت معاویہ بن یحییٰ مرسلاروایت کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بذریعہ وحی یہ حکم دیا تھا کہ اپنے جوتے او راپنا عَصا لوہے کے بنوالو اور علم کی تلاش میں اس قدر پھرو کہ عصا ٹوٹ جائے اور جوتے پھٹ جائیں۔ (حوالہ بالا، ص:86)

حضرت محمد بن وزیرواسطی کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون نے ایک دن حماد بن یزید سے پوچھا کہ کیا الله تعالیٰ نے قرآن میں کہیں اصحاب ِ حدیث کا تذکرہ فرمایا ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہاں! کیا تونے الله تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا :﴿فلولانفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا في الدین ولینذروا قومھم إذا رجعوا إلیھم﴾․(سورة التوبة، آیت:122)

پھر کہنے لگے کہ الله تعالیٰ کا یہ ارشاد ہر اس شخص کے لیے ہے جو طلب علم اور فقہ کے لیے سفر کرے او رپھر آکر دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔ (کتاب الرحلة،ص:87)

حضرت عکرمہ سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما آیت:﴿التائبون العابدون الحامدون السائحون…﴾ میں مذکور الله تعالیٰ کے ارشاد:”السائحون“ کا مصداق طلبہٴ حدیث کو قرار یتے تھے (کیوں کہ طلب علم میں عموماً سیاحت ہوتی ہے اور اسی کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے)۔ ( حوالہ بالا، ص:87 و88)

امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبدالله کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (احمد بن حنبل) سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ آدمی کسی صاحب ِ علم کو لازم پکڑے او راسی سے علم حاصل کرے یا مختلف بلاد ِ علم کا سفر کرکے وہاں کے مختلف شیوخ سے علم حاصل کرے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سفر کرے اور کوفی، بصری، مدنی ومکی ہر قسم کے شیوخ کے پاس جائے او ران سے علم حاصل کرے۔ (حوالہ بالا،ص:88)

عبدالله ہی کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد (احمد بن حنبل) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”علوِّ سند“ کے لیے سفر وجستجو بھی دین کا ایک شعبہ اور ضروری عمل ہے۔ (حوالہ بالا،ص:89)

حضرت جعفر طیالسی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے کبھی رُشد وبھلائی کی امید مت رکھو، چوکیدار سے، قاضی کے لیے خصوصی مقرر کردہ مُنادی سے، محدث کے بیٹے سے اور ایک اس شخص سے جو اپنے شہر میں ہی، صرف بیٹھ کر، کتابت حدیث کرتا ہو اور طلب ِ حدیث کے لیے سفر نہ کرے۔ (حوالہ بالا)

حضرت عبدالرحمن بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم بن ادہم کے متعلق سنا ہے ،وہ کہا کرتے تھے کہ محدثین کرام کے اسفار کی برکت سے الله تعالیٰ اس امت سے بلاؤں اور مصیبتوں کو دور کرتے ہیں۔ ( حوالہ بالا،ص:90)

حضرت زکریا بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالله بن مبارک کو (ان کی وفات کے بعد) خواب میں دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ الله تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ:”الله تعالیٰ نے میرے طلب ِ حدیث کے اَسفار کی بدولت میری مغفرت فرمادی“۔ (حوالہ بالا)