بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طالبان ِ علوم ِ نبوت اور نسبتِ قرآنی

طالبان ِ علوم ِ نبوت اور نسبتِ قرآنی

مولانا سیّد بلال عبدالحئی حسنی ندوی

مدرسہ کی زندگی میں خاص طور سے یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم قرآن مجید سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے والے بن سکیں، یہ جبھی ممکن ہے جب اپنی زندگی کو بہتر بنایا جائے، ہمارے اندر یہ شوق پیدا ہو کہ یہ الله کی کتاب ہے، الله کا کلام ہے، الله نے ہمیں اس قابل کیا کہ ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں، اس کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے نتیجہ میں جس طالب علم کا ربط قرآن مجید سے جتنا مضبوط ہو گا وہ اس سے اسی قدر فائدہ اٹھائے گا، اگر کسی کا ربطہ بہت مضبوط ہوا تو اس سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، لیکن یہ جب ہو گا، جب طالب علم پڑھنے کے زمانہ ہی سے یہ نیت اور ارادہ کر لے کہ وہ اس سے خود فائدہ اٹھائے گا اور امت کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔

احادیث کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نیک نیتوں اور ارادوں پر نوازتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم ایک قدم بڑھ کر آؤ ہم دو قدم آئیں گے، تم چل کر آؤ گے ہم دوڑ کر آئیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سے ربط پیدا کرنے کی کوشش اور پختہ ارادہ کریں، اگر ہم نے یہ نیت کر لی تو اس کے بعد الله کی طرف سے مزید راستے کھلتے جائیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں ان مدارس کا مقصد ہی یہ ہے کہ قرآن مجید سے ہمارا حقیقی تعلق قائم ہو جائے، آج کالجوں میں، یونی ورسٹیوں میں، بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں، بڑی بڑی دانش گاہوں میں اور بعض قرآنی حلقوں میں بھی عربی زبان جاننے کی بنیاد پر قرآن مجید سے متعلق محنتیں ہوتی ہیں، وہ لوگ قرآن مجید کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، حالاں کہ اس طرح قرآن مجید نہیں سمجھا جاسکتا، کیوں کہ ایسے لوگوں کو قرآن مجید سے حقیقی تعلق نہیں ہوتا، قرآن مجید کی فہم کے لیے جن صفات کی ضرورت ہوتی ہے، وہ صفات ان لوگوں کے اندر نہیں ہوتیں، یہود ونصاریٰ بھی قرآن مجید عربی زبان سیکھنے کے لیے پڑھتے ہیں، اس لیے اصل فائدہ ان کو حاصل نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ ان صفات کو پیدا ہی کرنا نہیں چاہتے جو صفات فہم قرآن کے لیے ضروری ہیں، قرآن مجید کی طاقت اور اس کے کرنٹ کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں، اس لیے اس طرف خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے، دینی ادارہ سے وابستہ ہر طالب علم کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اس کے اندر وہ صفات پیدا ہو جائیں، جن کے نتیجہ میں قرآن مجید سے حقیقی تعلق قائم ہوتا ہے، الله تعالیٰ نے جن طلبا کو مدارس میں رہنے کا، یہاں کے ماحول سے فائدہ اٹھانے کا زریں موقع عطا فرمایا ہے، ان کے لیے یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ مدرسہ میں آنے کے مقصد کو سمجھیں، تعلیم کو تربیت کا جز سمجھیں، اساتذہ سے فائدہ اٹھائیں، مدارس کے نظام کے تحت اپنی روز مرہ کی زندگی گزارنے کی عادت ڈالیں، اگر کبھی اپنے دل کے خلاف بھی کرنا پڑے تو ذرا بھی تامل نہ ہو، دل کی یہ خواہش ہو کہ ہم بازار گھوم آئیں، میلوں میں چلے جائیں، مارکیٹ میں گھومیں پھریں، ملٹی میڈیا موبائل سے کچھ وقت گزاری کریں تو فوراً اپنے مقصد کو ذہن میں تازہ کریں کہ اگر ہم نے ان خواہشات کی تعمیل کی تو پھر مدرسہ کی زندگی میں قرآن مجید کی جو نسبت ہم حاصل کرسکتے ہیں، وہ نہیں ہو سکے گی۔

قرآن مجید میں نسبت قرآنی کو حاصل کرنے کا نسخہ بیان کرتے ہوئے بتایا گیاہے کہ تقویٰ کا مزاج بنانا ہے۔ الله کا ڈر پیدا کرنا ہے، تقویٰ کی زندگی بنانی ہے اور یہ کوشش کرنی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ایمانی صفات سے متصف ہو جائیں، ایمانی صفات میں سب سے اہم چیز نماز ہے، لہٰذا نماز کا اہتمام ہو، صرف نماز پڑھنا نہ ہو، بلکہ جیسی نماز مطلوب ہے، ویسی نماز کا اہتمام ہو، یہ نمازیں وہ ہیں کہ اگر واقعتا آدمی ان کا اہتمام کر لے تو زندگی سنور جاتی ہے، الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْہَیٰ عَنِ الْفَحْشَاء ِ وَالْمُنکَرِ ﴾․(العنکبوت:45)
ترجمہ:” بلاشبہ نماز بے حیائی اور بُرائی سے روکتی ہے۔“

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، لیکن آج ہم نماز پڑھتے ہیں، مگر ہماری نماز بے حیائی او ربرائی سے نہیں روکتی ہے…؟! اس کا سبب یہی ہے کہ ہماری نماز حقیقت میں وہ نماز نہیں ہے جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے، قرآن مجید نے ”الصلوٰة“ کا لفظ استعمال کیا ہے، اس کا مطلب ہے وہ نماز جو نماز الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی اور جس کے بارے میں آپ نے فرمایا:”صلوا کما رأیتمونی أصلي“ (جس طرح میں نماز پڑھتا ہوں، اسی طرح نماز پڑھنے کی کوشش کرو) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ظاہری وباطنی طور پر وہ کیفیت اختیار کرنے کی کوشش کرے، جو کیفیت الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے اندر تھی، ظاہر ہے آدمی جب آپ صلی الله علیہ وسلم کی نقل کرے گا تو ترقی کرے گا، مزید اس کا حصہ اس کو عطا ہو گا، اگرچہ یہ بہت مشکل بات ہے کہ آدمی پوری کیفیت حاصل کر لے، آپ صلی الله علیہ وسلم کا مقام ہی بہت بلند ہے، لیکن الله نے آپ کو دنیا میں اسی لیے بھیجا ہے کہ آپ کے ہر طرز عمل اور آپ کی ہر کیفیت کو امت کے افراد نقل کریں، اس کی اتباع کی کوشش کریں، ہمیں اسی کا مکلف بنایا گیا ہے، فرمایا: ﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾․(الاحزاب:21)
ترجمہ:”یقینا تمہارے لیے الله تعالیٰ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں ہر کام میں الله تعالیٰ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کینمونہ ہی کو اختیار کرنا ہے، کیوں کہ آپ ہی کی ذات میں ہمارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے، لہٰذا نمازوں میں خشوع وخضوع کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، وضو کا بھی اہتمام ہو، اس لیے کہ جب وضو کا اہتمام ہو گا تو نمازوں کے اندر بھی اہتمام پیدا ہو گا او راگر نل کھولا او رپانی بہتا رہا، باتیں کرتے رہے اور وضو بھی کرتے رہے تو یقینی بات ہے اس وضو کا ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس لیے استحضار کے ساتھ وضو کیا جائے، اس کے بعد استحضار کے ساتھ نماز پڑھی جائے، تب وہ نماز حقیقت میں ہمیں برائیوں اور بے حیائیوں سے روکنے والی ہو گی اور اسی کے نتیجہ میں ہمیں قرآن سے نسبت حاصل ہوگی۔

مدرسہ کی زندگی میں قرآنی نسبت کے حصول کا یہ بھی مؤثر ذریعہ ہے کہ طالب علم اہل الله کی صحبت اختیار کرے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی فرماتے تھے کہ : ” الله کی کتاب کا فہم پیدا کرنا ہے تو ایسے لوگوں سے استفادہ کرنا ضروری ہے جن کو الله سے نسبت حاصل ہو۔“ اس میں بڑا سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہمیں عربی آگئی تو قرآن مجید بھی آجائے گا، ایسا نہیں ہے کہ عربی آجائے تو قرآن بھی آجائے، یقینا یہ ایک ذریعہ ہے، آپ جتنی عربی زبان میں مہارت پیدا کریں گے اتنا ہی زیادہ قرآن مجید کی گہرائی میں جاسکتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ اس کے لیے اپنے کو اس قابل بنانا پڑے گا کہ جاننے کے بعد آپ کچھ لے سکیں، آپ کے اند رلینے کی بھی صلاحیت پیدا ہو، صرف جاننا کافی نہیں ہے، آپ چلے تو گئے، لیکن آپ کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ آپ وہ موتی چن سکیں ، وہاں کی حقیقتوں کو اپنے دل ودماغ میں منتقل کرسکیں، ان موتیوں سے اپنے دامن کو بھر سکیں، اگر یہ صلاحیت نہیں ہے تو آپ اندر گھستے چلے جائیے، حاصل کچھ نہیں ہوگا، لہٰذا عربی زبان اس لیے سیکھیں تاکہ آپ کے اندر صلاحیت پیدا ہو اور قرآنی کرنٹ بھی آجائے،قرآن مجید کی نسبت حاصل ہوجائے، تاکہ قرآن مجید سے استفادہ کرنے کا او راس سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کا آپ کے اندر جذبہ پیدا ہو اور اس کی صلاحیت بھی پیدا ہو، یہ قرآنی نسبت ہے، اگر ہم نے اس کو حاصل کیا تو بلاشبہ الله تبارک وتعالیٰ کے یہاں اس کا بہت اجر ہے اور اس سے ہماری زندگی سنور جائے گی، ہمیں اس کی روشنی حاصل ہو جائے گی، ہمیں اس کا کرنٹ مل جائے گا، ہماری ساری صلاحیتیں جو الله تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہیں وہ ہمارے بھی کام آئیں گے او راس امت کے بھی کام آئیں گی اور یہ ہمارے مدرسہ میں آنے کا مقصد ہے۔

اس لیے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر اپنے مقصد کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مدرسہ میں آنے کا مقصد نسبت قرآنی کا حاصل کرنا ہے اور نسبت قرآنی ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے سے ہوگی، جن صفات کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا ہے، الله تعالیٰ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے جن صفات کو اپنی مبارک زندگی میں اختیار فرمایا ہے، ان کے بغیر ہمیں یہ عظیم نسبت حاصلنہیں ہو سکتی۔