بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ وخیرات کی اہمیت

صدقہ وخیرات کی اہمیت

مولانا عماد الدین عندلیب

ہم لوگ تجارت وزراعت وغیرہ مختلف ذرائع سے روپیہ پیسہ کمانے میں جتنی محنت اور کوشش کرکے اس کو جمع کرتے ہیں وہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ آنے والے وقت کے لیے کچھ ذخیرہ اپنے پاس محفوظ رہے، تاکہ ضرورت کے وقت کام میں لایا جاسکے کہ نہ معلوم کس وقت کیا ضرورت پیش آجائے… لیکن جو اصل ضرورت کا وقت ہے اور اس کا پیش آنا بھی ضروری ہے اور اس میں اپنی سخت احتیاج بھی ضروری ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ اس وقت صرف وہی کام آئے گا جو اپنی زندگی میں خدائی بینک میں جمع کر دیا گیا ہو کہ وہاں تو جمع شدہ ذخیرہ بھی پورا پورا ملے گا اور اس میں الله جل شانہ کی طرف سے اضافہ بھی ہوتا رہے گا، اُس کی طرف ہم لوگ بہت ہی کم التفات کرتے ہیں حالاں کہ دُنیا کی یہ زندگی چاہے کتنی ہی زیادہ ہو جائے، بہرحال ایک نہ ایک دن ختم ہو جانے والی ہے اور آخرت کی زندگی کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ دنیا کی زندگی میں اگر اپنے پاس سرمایہ نہ رہے تو اس وقت محنت مزدوری بھی کی جاسکتی ہے ، بھیک مانگ کر بھی زندگی کے دن پورے کیے جاسکتے ہیں، لیکن آخرت کی زندگی میں کوئی صورت کمائی کی نہیں ہے، وہاں صرف وہی کام آئے گا جو ذخیرہ کے طور پر آگے بھیج دیا گیا۔
حضوراقدس صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” قیامت کے دن آدمی ایسا ( ذلیل وضعیف) لایا جائے گا جیسا کہ بھیڑ کا بچہ ہوتا ہے او رالله جل شانہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، ارشاد ہوگا:” میں نے تجھے مال عطا کیا، حشم وخدام دیے، تجھ پر اپنی نعمتیں نوازیں تونے ان سب انعامات میں کیسے شکر گزار ی کی؟“ وہ عرض کرے گا کہ :”میں نے خوب مال جمع کیا، اُس کو ( اپنی کوشش سے) بہت بڑھایا اور جتنا شروع میں میرے پاس تھا اس سے بہت زیادہ کرکے چھوڑ آیا، آپ مجھے دنیا میں واپس کر دیں، میں وہ سب آپ کی خدمت میں حاضر کردوں۔“ ارشاد ہو گا:”مجھے تو وہ بتا جو تو نے زندگی میں (ذخیرہ کے طور پر آخرت کے لیے ) آگے بھیجا۔“ وہ پھر اپنا پہلا کلام دہرائے گا کہ :” میرے پروردگار! میں نے خوب مال جمع کیا، اس کو ( اپنی کوشش سے) بہت بڑھایا اور جتنا شروع میں میرے پاس تھا اُس سے بہت زیادہ کرکے چھوڑ آیا، آپ مجھے دُنیا میں واپس کر دیں، میں وہ سب لے کر حاضر ہوں ۔“ (یعنی خوب صدقہ کروں، تاکہ وہ سب یہاں میرے پاس آجائے) چوں کہ اس کے پاس کوئی ذخیرہ ایسا نہ نکلے گا جو اُس نے اپنے لیے آگے بھیج دیا ہو، اس لیے اُس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“ (ترمذی ومشکوٰة)
ایک او رحدیث میں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اُس کی دونوں جانب تین سطریں سونے کے پانی سے لکھی ہوئی دیکھیں، پہلی سطر میں ” لا الہٰ الا الله محمد رسول الله“ لکھا تھا ، دوسری سطر میں ”ماقدمنا وجدنا وما أکلنا ربحنا وما خلفنا خسرنا“ لکھا تھا(یعنی جو ہم نے آگے بھیج دیا وہ پالیا اور جو دُنیا میں کھایا وہ نفع میں رہا او رجو کچھ چھوڑ آئے وہ نقصان میں رہا ) اور تیسری سطر میں لکھا تھا:”أمة مذنبة ورب غفور“ (یعنی امت گناہ گار اور رب بخشنے والا ہے)۔ (برکات ِ ذکر) ایک اور حدیث میں آتا ہے:”جب آدمی مر جاتا ہے تو فرشتے پوچھتے ہیں کہ : ”کیا ذخیرہ اپنے حساب میں جمع کرایا؟ کیا چیز کل کے لیے بھیجی؟ اور آدمی یہ پوچھتے ہیں کہ : ”کیا مال چھوڑا؟“ (مشکوٰة) ایک اور حدیث میں ہے حضور صلی الله علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ : ”تم میں کون شخص ایسا ہے جس کو اپنے وارث کا مال اپنے سے زیادہ محبوب ہو؟ “ صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کیا: ”یا رسول الله! ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو اپنا مال اپنے وارث سے زیادہ محبوب نہ ہو۔“ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور جو چھوڑ گیا وہ اس کا مال نہیں ،بلکہ یہ اس کے وارث کا مال ہے۔“ (مشکوٰة عن البخاری)
ایک دوسری حدیث میں حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”آدمی کہتا ہے : ” میرا مال، میرا مال۔“ اس کے مال میں سے اُس کے لیے صرف تین چیزیں ہیں ۔
جو کھا کر ختم کر دیا۔ یا پہن کر پرانا کردیا۔ یا الله کے یہاں اپنے حساب میں جمع کرا دیا۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کا مال نہیں (بلکہ وہ سب کچھ دوسرے) لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔“ (مشکوٰة) ہمارے مشاہدہ میں یہ ایک عجیب بات بھی آتی رہتی ہے کہ آدمی کبھی ایسے لوگوں کے لیے جمع کرتا ہے، محنت اٹھاتا ہے، مصیبتیں جھیلتا ہے، تنگی برداشت کرتا ہے، جن کو وہ اپنی خواہش سے ایک پیسہ دینے کا بھی روادار نہیں ہوتا، لیکن جمع کرکے آخر کار انہی کے لیے چھوڑ جاتا ہے اور مقدرات انہیں کو سارے کا وارث بنا دیتے ہیں جن کو وہ ذرا سا بھی دینا نہ چاہتا تھا۔
حضرت ارباط بن سہیہ رحمہ ا لله کا جب انتقال ہونے لگا تو انہوں نے چند اشعار پڑھے ،جن کا مطلب یہ تھا: ”آدمی کہتا ہے کہ میں نے مال بہت جمع کیا ،لیکن اکثر کمانے والا دوسروں ( یعنی وارثوں) کے لیے جمع کرتا ہے، وہ خود تو اپنی زندگی میں اپنا بھی حساب لیتا رہتا ہے کہ کتنا مال کہاں خرچ ہوا؟ کتنا کہاں خرچ ہوا؟ لیکن بعد میں ایسے لوگوں کی لوٹ کے لیے چھوڑ جاتا ہے جن سے حساب بھی نہیں لے سکتاکہ سارے کا سارا کہاں اُڑا دیا؟ پس آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کھالے اور دوسروں کو کھلادے اوراپنے بخیل وارث سے چھین لے۔ آدمی خود تو مرنے کے بعد نامراد رہتا ہے ( یعنی کوئی اس کو اُس مال میں یاد نہیں رکھتا)، لیکن دوسرے لوگ اُس کے مال کو کھاتے اُڑاتے پھرتے ہیں۔ آدمی خود تو اُس مال سے محروم ہو جاتا ہے او ردوسرے لوگ اس سے اپنی خواہشات پوری کر لیتے ہیں ۔“ (اتحاف سادة المتقین)
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ:”میں سب سے پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرتا ہوں، اس کے بعد اپنے دوستوں کوکہ ساتھ جانے والا مال صرف وہی ہے جس کو الله کے بینک میں جمع کرادیا او رجس کو جمع کرکے اورخوب بڑھا کر چھوڑ دیا وہ اپنے کام نہیں آتا، بعد میں نہ کوئی ماں باپ یاد رکھتا ہے اور نہ ہی بیوی بچے پوچھتے ہیں۔ الا ماشاء الله۔ بلکہ اپنا ہی کیا کام آتا ہے۔ ان سب کی محبتوں کا خلاصہ وہ چار دن ”ہائے ہائے “ کرنے اورپانچ سات مفت کے آنسو بہانے کے علاوہ او رکوئی نہیں ہے۔ بلکہ اگر ان آنسوؤں میں بھی پیسے خرچ کرنا پڑیں تو یہ آنسو بھی نہ رہیں“۔
یہ خیال کہ اولاد کی خیر خواہی کی وجہ سے مال کو جمع کرکے چھوڑنا ہے، نفس کا محض دھوکا ہے، صرف مال جمع کرکے ان کے لیے چھوڑ جانا ان کے ساتھ خیر خواہی نہیں ہے، بلکہ شاید بدخواہی بن جائے۔اگر واقعی اولاد کی خیر خواہی مقصد ہے، اگر واقعی یہ دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے مرنے کے بعد پریشان حال، ذلیل وخوار نہ پھریں تو ان کو مال دار چھوڑنے سے زیادہ ضروری اُن کو دین دار چھوڑنا ہے کہ بے دینی کے ساتھ مال بھی اولا ان کے پاس باقی نہ رہے گا، بلکہ چند یوم کی شہوات ولذات میں اُڑجائے گا اور اگر رہا بھی تو اپنے کسی کام کا نہیں ہے۔ اور دین داری کے ساتھ اگر مال نہ بھی ہو تو ان کی دین داری ان کے لیے بھی کام آنے والی چیز ہے او راپنے لیے بھی کام آنے والی چیز ہے اورمال میں سے تو اپنے کام آنے والا صرف وہی ہے جو ساتھ لے گیا اور بس!