بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہ کرام رضی الله عنہم… روشن ستارے عہد ووفا کے پیکر!

صحابہ کرام رضی الله عنہم… روشن ستارے عہد ووفا کے پیکر!

مولانا محمد زکریا نعمانی

الله رب العزت نے کائنات میں بسنے والے انسانوں کو راہ راست پہ لانے کے لیے تقریباً سوالاکھ پیغمبر بھیجے، ہر پیغمبر نے اپنے اپنے وقت میں فلاح انسانیت کے لیے سر توڑ کوششیں کیں، ہر پیغمبرکو دستور حیات اور شریعت دے کر مضبوط بنایا گیا، آخری پیغمبر، سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کو بھی الله تعالیٰ نے شریعت اور قرآن جیسی عظیم کتاب کے ساتھ سرفراز فرمایا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کو جہاں شریعت او رکتاب عطا کی گئی وہیں ہزاروں کی تعداد میں جاں نثار صحابہ بھی عطا کیے گئے۔ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین آپ صلی الله علیہ وسلم سے ایسے محبت کرتے تھے جیسے شمع سے پروانے کرتے ہیں، صحابہ ہر وقت آپ صلی الله علیہ وسلم پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، مکہ کی مشکل زندگی ہو یا مدینہ کی ہجرت کے بعد کی زندگی، صحابہ قدم قدم پر آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے او رکسی بھی مرحلے پر آپ صلی الله علیہ وسلم کو اکیلے نہیں چھوڑا۔ جہاد کا میدان ہو یا اصحاب صفہ کا چبوترہ،صحابہ کرام آپ صلی الله علیہ وسلم سے براہ راست استفادہ کیا کرتے تھے۔

اسلام اور دین کی سربلندی کے لیے کافروں او رمسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی احد کی جنگ میں صحابہ کرام نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی خاطر لازوال قربانیاں دیں، تاریخ انسانی اپنے آقا کے لیے ایسی قربانیاں دینے سے قاصر ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو گھیر لیا تھا، کافروں کا ہجوم آپ صلی الله علیہ وسلم پر تیروں اور تلواروں کی برسات کر رہا تھا، صحابہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو بچانے کے لیے دیوانہ وار خود کو نیزوں اور تلواروں کے سامنے پیش کر رہے تھے، حضرت ابودجانہ رضی الله عنہ نے جب آپ صلی الله علیہ وسلم کو زخمی حالت میں دیکھا تو جان ہتھیلی پہ رکھ کر، آپ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے جھک کر، آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیے ڈھال بن گئے اور دشمنوں کے نیزے اور تلواریں اپنی پشت پر لیتے رہے۔ حضرت طلحہ رضی الله عنہ کی جان نثاری کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمنوں کی تلوار کے وار کو اپنے ہاتھوں سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ ان کا ایک ہاتھ کٹ کر شل ہو گیا، اسی حالت میں بھی وہ کافروں سے لڑتے رہے، ان کے جسم میں انتالیس زخم آئے، مگر آپ صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ حضرت ابوطلحہ رضی الله عنہ نشانہ بازی میں مشہور تھے، انہوں نے اس موقع پر اس قدر تیر برسائے کہ کمانیں ٹوٹ گئیں، پھر انہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بٹھا لیا، تاکہ دشمنوں کے تیر یا تلوار کا کوئی وار آپ پر نہ لگ سکے، جب آپ صلی الله علیہ وسلم کبھی دشمنوں کو دیکھنے کے لیے اپنا سر اٹھاتے تو وہ آپ سے فرماتے: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ اپنا سرنیچے رکھیں، تاکہ دشمنوں کا کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ یا رسول الله! آپ میری پیٹھ کے پیچھے ہی رہیں، میرا سینہ آپ کے لیے ڈھال بنا ہوا ہے“۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی الله عنہ تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم ان کو تیراٹھا اٹھا کر دیتے تھے اور فرماتے تھے:”اے سعد! تیر برساتے جاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان۔“ غرض زندگی کے ہر شعبے میں صحابہ کرام حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔

اسی طرح صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی برکت اور محنت سے ہم تک قرآن، حدیث ، فقہ اور تفسیر کا ذخیرہ پہنچا ہے ،اصحاب صفہ بھوک پیاس کی پرواہ کیے بغیر رات دن حصول ِ علم میں لگے رہتے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی روایات کو جمع کرکے انہیں یاد کرتے، ان کے مطابق مسائل کو مستنبط کرتے۔ صحابہٴ کرام رضوان الله علیہم اجمعین احادیث کو بھی یاد کیا کرتے تھے اور جو قرآن کریم نازل ہوتا تھا اسے بھی یاد کر لیا کرتے تھے۔ انہی ذخیروں کی وجہ سے ہر زمانے میں نئے مسائل کے مطابق احکامات نکالنے میں مدد ملتی ہے۔

بدقسمتی سے ہر زمانے میں لوگوں کا ایک طبقہ ایسا رہا ہے جو صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین پر سب وشتم کا بازار گرم رکھتا ہے، کبھی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں او رکبھی حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، حالاں کہ یہ دونوں حضرات تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے خاص یار اور راز دار تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ تو سراپا آپ پر فدا تھے، ان کے ایمان لانے کا واقعہ ہو، مسلمانوں کی مدد کا وقت ہو یا ہجرت کے وقت آپ صلی الله علیہ وسلم کی رفاقت کا وقت ہو، ہر حال میں وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی توقعات پر پورے اترتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے اسلام میں داخل ہوئے اور دین اسلام کی مضبوطی کا سبب بنے، پھر ان دونوں حضرات نے اپنی چہیتی بیٹیوں کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے نکاح میں دے کر آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کو مزید مضبوط کیا۔

اسی طرح حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے بارے میں بھی انتہائی نازیبا جملے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا تو آپ کی شریک حیات تھیں، آپ صلی الله علیہ وسلم ان سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو شادی سے پہلے اماں عائشہ رضی الله عنہا کی تصویر دکھائی گئی تھی، آپ کے حق میں بطور برأت کے قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی تھی، جس کی قیامت تک تلاوت کی جائے گی، وحی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے گھر میں آیا کرتی تھی، آخری عمر میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی چبائی ہوئی مسواک استعمال فرمائی تھی، آپ صلی الله علیہ وسلم کا وصال بھی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے گھر میں ہوا تھا۔ اتنی ساری خوبیوں کی پیکر حضرت عائشہ رضی الله عنہا پر یہ طبقہ بڑی بڑی تہمت لگاتا ہے، جب کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا ان تہمتوں سے پاک اور بہت دور تھیں۔

یہ لوگ حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں بھی توہین آمیز باتیں کرتے ہیں، حالاں کہ حضرت معاویہ رضی الله عنہ وہ پیارے صحابی تھے جو آپ صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کو لکھا کرتے تھے، اسی طرح بخاری شریف کی ایک حدیث ہے : ”اول جیش من امتي یغزون البحر قد اوجبوا“ یعنی میر ی اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان کے لیے جنت واجب ہے۔ حضرت معاویہ رضی الله عنہ اس جہاد میں شریک تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیر رضی الله عنہ سے سنن ترمذی اورمسند احمد میں روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی الله عنہ کو یہ دعا دی:” اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ“ یعنی : اے الله! اسے ہادی، مہدی بنا دے او راس کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے۔

قرآن مجید میں صحابہ کرام کو الله پاک نے اپنی رضا مندی کی سند عطا کی ہے۔ ارشاد خدا وندی ہے :” رضی الله عنہم ورضوا عنہ“ الله ان سے راضی ہے اور وہ الله سے راضی ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” اصحابي کالنجوم، فبایھم اقتدیتم اھتدیتم“ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے کسی کی بھی اتباع کروگے ہدایت پالو گے۔

لہٰذا صحابہ کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے، کیوں کہ انہیں الله کی طرف سے رضا مندی کی سند مل گئی ہے، اب اگر کوئی شخص صحابہ کرام کے بارے میں گستاخی کرتا ہے تو وہ سخت عذاب کا مستحق ہو گا اور الله کی جانب سے اس پر پھٹکار ہو گی اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی ناراضگی کا بھی سبب ہے، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم صحابہ سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے تو جو صحابہ کرام کے خلاف بد زبانی کرے گا وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب بنے گا اور بعید نہیں کہ حشر کے دن اسے حوض کوثر سے دھتکار دیا جائے، وہ جس طرح دنیا میں ذلیل ورسوا ہوا آخرت میں بھی تمام مخلوقات کے سامنے رسوا اور ذلیل ہو گا۔