بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین..الله تعالیٰ کا انتخاب لا جواب

صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین
الله تعالیٰ کا انتخاب لا جواب

حافظ محمد اقبال سحر

الله تعالیٰ نے جس طرح حضرات انبیائے کرام علیہم السلام میں سے فخر ِ دو جہاں ، رحمت عالم، خاتم النبیین، سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی الله عنہم کا انتخاب بھی الله تعالیٰ نے خود فرمایا۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پر صحابہ کرام رضی ا لله عنہم کے مقام اور ان کی حیثیت کو نہایت خوب صورت انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، بلاشبہ صحابہ کرام انتخاب ِ خدا وندی ہے ۔ اس حوالے سے قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ کیجیے:
﴿ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا﴾(سورہ فاطر:32)
ترجمہ:” پھر وارث بنایا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو، جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا۔“

لفظ”الکتاب“ یعنی قرآن مجید کے اولین وارث صحابہ کرام رضی الله عنہم ہیں۔ تفسیر مظہری میں ہے۔ ”عباد سے مراد صحابہ کرام ہیں او ران کے بعد قیامت تک آنے والے علمائے اُمت“۔

ا لله تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ایمان کو معیاری قرار دیتے ہوئے اسے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا۔ یعنی ایمان وہی قابل قبول ہو گا جو صحابہ کرام رضی الله عنہم جیسا ہو گا۔ چناں چہ سورة البقرة کی آیت نمبر137 ملاحظہ فرمائیں۔ ترجمہ:” سو اگر وہ بھی ایمان لاویں جس طرح پر تم ایمان لائے، ہدایت پائی انہوں نے بھی اور اگر پھر جاویں تو پھر وہی ہیں ضد پر، سواب کافی ہے تیری طرف سے ان کو الله اور وہی ہے سننے والا، جاننے والا“۔

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں یہود ونصاریٰ مدعی تھے کہ ہدایت کا مدار یہودیت ونصرانیت ہے۔ اس کے جواب میں الله تعالیٰ نے ہدایت کا اصل معیار بیان فرمایا کہ اصل ہدایت تو انبیائے کرام او ران کی تعلیمات کی پیروی کا نام ہے۔ اس آیت میں الله تعالیٰ نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنہم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ یہود ونصاری او رمشرکین اگر ایسا ہی ایمان لائیں جیسا کہ تمہارا ہے۔ یعنی تمام انبیاء پر ایمان تو پھر وہ بھی یقینا ہدایت یافتہ ہو جائیں گے او راگر وہ تم جیسا ایمان لانے سے پہلوتہی کریں اور اس سے انکار کریں تو سمجھ لو کہ یہ لوگ بغض وحسد اور ضد وعناد میں گرفتار ہیں۔ طلب ہدایت ان کا مقصد ہی نہیں ہے۔

”اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا ایمان معیاری اورعندالله مقبول تھا اور وہ ہدایت یافتہ تھے۔ کیوں کہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین کا ہدایت یافتہ ہونا ان جیسا ایمان لانے پر موقوف کیا گیا ہے۔“ (جواہر القرآن)

اسی آیت کے ضمن میں معارف القرآن میں موجود ہے۔

”شروع سورہٴ بقرة سے یہاں تک ایمان کی حقیقت کہیں مجمل کہیں مفصل بیان کی گئی ہے۔ اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے کہ جو تمام تفاصیل اور تشریحات پر حاوی ہے۔ کیوں کہ ”انتم“ کے مخاطب رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنہم ہیں۔ اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ الله تعالیٰ کے نزدیک مقبول ومعتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام ر ضی الله عنہم نے اختیار فرمایا۔ جواعتقاد اس سے سر مومختلف ہو، الله کے نزدیک مقبول نہیں“۔

الله تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے انتخاب ،یعنی صحابہ کرام رضی الله عنہم کے لیے بارہا سلام بھیجا۔

چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسَلَامٌ عَلَی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفَی آللَّہُ خَیْْرٌ أَمَّا یُشْرِکُونَ﴾ ترجمہ:” کہہ دیجیے( اے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم) تمام تعریفیں الله کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے۔ بتاؤ کیا الله بہترہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے الله کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ؟“

حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اس سے مراد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں۔ سفیان ثوری نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ (تفسیر مظہری، اخرجہ عبد بن حمید والبزارو جریر وغیرہم) سورة الفتح آیت نمبر:28 میں الله تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کی شان وشوکت اور رفعت ومنزلت کو ان الفاظ میں بیان کیا۔

” محمد الله کے رسول ہیں او رجو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں۔ آپس میں مہربان ہیں۔ تو ان کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجود میں ہیں، وہ الله کے فضل او ررضا مندی کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی شان یہ ہے کہ ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان ہیں۔ ان کی یہ مثال توریت میں ہے۔ اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی ہو، اس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس نے اسے قوی کیا، پھر وہ کھیتی موٹی ہو گئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، جو کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی، تاکہ الله ان کے ذریعے کافروں کے دلوں کو جلائے۔ الله نے ان لوگوں سے، جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، مغفرت او راجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔“

آپ درج بالا آیت کا باریک بینی سے جائزہ لیجیے کہ الله تعالیٰ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجنے سے بہت پہلے تو رات اور انجیل میں صحابہ کرام کی صفات وخصوصیات بیان فرمادیں۔ گویا آپ علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی الله عنہم کی رفعت وعظمت ، شان وشوکت اور فضیلت ومنقبت کے چرچے زبان زد عام تھے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے سابقہ انبیاء او ران کے پیروکاروں پر واضح فرما دیا تھا کہ سب سے آخر میں آنے والے نبی حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ساتھیوں کا انتخاب ہو چکا ہے او ران میں یہ خصوصیات موجود ہوں گی۔

چناں چہ اس آیت مبارکہ میں الله تعالیٰ نے صحابہ کرام کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ جو لوگ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔ الله تعالیٰ نے صحابہ کرام کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ تو ان کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ کبھی رکوع کر رہے ہیں، تو کبھی سجدہ کر رہے ہیں۔ تیسری صفت الله تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ وہ الله کا فضل او راس کی رضا مندی تلاش کرتے ہیں۔ اسی آیت میں الله تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی۔

”سیماھم في وجوھھم من اثر السجود“

اس کامطلب بتاتے ہوئے صاحب معالم التنزیل نے بہت سے اقوال بیان کیے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے جو ظاہر لفظوں سے سمجھ میں آرہا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنے کی وجہ سے ان کے ماتھوں پر کچھ مٹی لگ جاتی ہے۔ بعض حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ ”قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے روشن ہوں گے۔ ان کے ذریعے پہچانے جائیں گے۔ یہ لوگ نماز پڑھنے میں زیادہ مشغول رہتے تھے“۔ (انوار البیان)

پھر فرمایا کہ ان کی مذکورہ صفت تورات میں بھی بیان کی گئی ہے ۔ پھر انجیل میں صحابہ کرام کی جو صفت بیان کی گئی اس کو بیان فرمایا۔ یعنی مثلہمفی الانجیل، اس مثال میں واضح کیا گیا کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ اولاً تھوڑے سے ہوں گے۔ پھر بڑھتے رہیں گے۔ مجموعی طور پر وہ ایک بڑی قوت بن جائیں گے۔ چناں چہ چشم فلک نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین پہلے تھوڑے سے تھے۔ پھر بڑھتے گئے، یہاں تک کہ زمانہ نبوت ہی میں صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو گئی تھی۔ انوار البیان میں ہے کہ” انہوں نے دین اسلام کو خوب پھیلایا۔ قیصرو کسریٰ کے تخت اُلٹ دیے۔ ان کے مقابلہ میں کوئی جماعت جم نہیں سکی تھی۔“

اسی آیت کے ضمن میں تفسیر مظہری میں ہے:”دانہ کے اندر سے جو سب سے پہلی سوئی پھوٹتی ہے، اس کو ”شطا“ کہتے ہیں۔” فاستغلظ“ وہ موٹی ہو گئی۔ یعنی پتلے پن سے موٹاپے کی طرف مائل ہوگئی۔ ” یعجب الزراع“ یعنی موٹی او رقوی اور خوب صورت ہو جانے کی وجہ سے وہ کاشت کاروں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ الله نے دونوں بیانوں میں صحابہ کرام کی حالت بیان کی ہے ۔ پہلی تمثیل میں صلحائے امت اور تمام اولیائے امت بھی شامل ہیں،لیکن دوسری تمثیل صرف صحابہ کرام کے اوصافِ خصوصی کے ساتھ مختص ہے۔“

الله تعالیٰ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تنہا معبوث فرمایا۔ جیسے کاشت کار بیج زمین میں بوتا ہے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر، حضرت علی، حضرت بلال ایمان لائے۔ ان حضرات کے بعد حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت سعید، حضرت حمزہ ،حضرت جعفر اور دوسرے حضرات مسلمان ہوئے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر چالیسیویں نمبر پر ایمان لائے۔ شروع میں اسلام بے وطن( بے مدد گار) تھا۔ اسلام کومٹانے کے لیے ہر طرف سے ٹھٹ کے ٹھٹ چڑھ آئے۔ اگر الله کی حمایت نہ ہوتی تو ابتدائی پودے کی بالیدگی نہ ہوتی ، لیکن مہاجرین وانصار کی کوششوں سے الله نے اس پودے کو قوی کر دیا۔ صحابہ نے اس نونہال کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اپنے خون سے سینچا اور سینچائی حضور علیہ السلام کے بعد بھی جاری رہی۔ (تفسیر مظہری)

لیغیظ بھم الکفار… بھا کی ضمیر الذین معہ کی طرف راجع ہے۔ یا معنوی طور پر شطا کی طرف راجع ہے۔ کیوں کہ پہلی سوئی جودانے سے برآمد ہوتی ہے، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو (آغاز اسلام کے زمانہ میں ہی ) مسلمان ہو گئے۔ یعنی کافروں کو جلانے کے لیے الله نے اہل ایمان کو کافروں کے لیے سخت اور آپس میں مہربان اور نرم دل بنا دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ نے فرمایا:
”صحابہ کے خلاف جس کے دل میں کوئی جلن اور غیظ ہو، وہ اس آیت کا مصداق ہے ۔“

بلاشبہ صحابہ کرام الله تعالی کا بے مثال اور لازوال انتخاب ہیں۔ اس بات کی گواہی نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان مبارک سے بھی واضح ہوتی ہے۔ حضرت عویمر بن ساعدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”الله تعالیٰ نے ( سب مخلوق میں سے) مجھے چن لیا او رمیری صحبت کے لیے میرے صحابہ کو چن لیا۔ ان میں سے بعض کو میرا وزیر، بعضوں کو میرا مدد گار اور بعضوں کو میرے قرابت دار بنایا۔ پس جو کوئی ان کو گالی دے (یا ان کے بارے میں بدگوئی کرے) اس پر الله کی لعنت ہو او رتمام فرشتوں کی لعنت ہو او رتمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض قبول نہ ہو گا نہ ہی نفل قبول ہو گا ( یعنی اس کے اعمال قیامت کے دن اس کے کسی کام نہیں آئیں گے)۔“ (طبرانی وحاکم)

درج بالا فرمان نبوی سے بھی بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں، یعنی صحابہ کرام رضی الله عنہم کا انتخاب، انتخاب خداوندی ہے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی تربیت فرمائی او ربعد میں آنے والوں کے لیے انہیں ایمان کی کسوٹی قرار دیتے ہوئے فرمایا:”اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدتیم اھتدیتم“․

میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔

صحابہ کرام روئے زمین پر ایک ایسی مقدس ومطہر جماعت کا نام ہے جس سے الله تعالیٰ راضی ہیں اور وہ الله تعالیٰ سے راضی۔ الله تعالیٰ نے اپنے انتخاب یعنی صحابہ کرام سے اپنی رضا مندی کا اعلان بھی قرآنِ مجید میں کر دیا۔ چناں چہ، سورة التوبة کی آیت نمبر100 ملاحظہ کیجیے۔

﴿ والسبقون الاولون من المھٰجرین والانصار والذین اتبعوھم بإحسان رضی الله عنہم ورضوا عنہ واعد لھم جنت تجری تحتھا الانھٰر خلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم﴾․
ترجمہ:”مہاجرین او رانصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، الله ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی بڑی کام یابی ہے“۔

قارئین محترم! جس گروہ سے الله تعالیٰ ہمیشہ کے لیے راضی ہو جائے او ران کے لیے ایسے باغات تیار کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں تو اس سے بڑی کام یابی او رکیا ہو سکتی ہے؟! دعا ہے کہ الله تعالیٰ ہمیں نبی کریم علیہ السلام اور آپ کی مقدس جماعت صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین !