بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صبر و شکر … کامیاب زندگی کے لیے شاہ کلید

صبر و شکر … کامیاب زندگی کے لیے شاہ کلید

عبدالرشیدطلحہ نعمانی

اس کائنات ہست و بود میں ہرانسان کو خوشی ومسرت،سکون وراحت اور تن درستی و صحت کے ساتھ ساتھ تکلیف و مصیبت،پریشانی و آفت اور بیماری و نقمت سے بھی واسطہ پڑتاہے اور یہ سب حالات اللہ تعالی کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں؛ جس پربندہٴ مومن کو کامل یقین اور مکمل اعتماد ہونا چاہیے،اللہ تعالی فرماتاہے:کہہ دیجیے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کے کوئی چیزپہنچ ہی نہیں سکتی۔ (توبة:51)

حالات موافق وسازگار ہوں یا مخالف و ناساز گار دونوں صورتوں میں ایک ایمان والے کا کیا طرز عمل ہونا چاہیے…،قرآن و حدیث میں اس حوالے سے بھرپور راہ نمائی موجود ہے۔

مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے!
حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے آسودہ حالی ملتی ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہے اور اگر اسے کوئی تنگی لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے“۔(صحیح مسلم)

اس روایت میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پسندیدگی کے انداز میں مومن کے حال پر تعجب کا اظہار فرمایاہے؛ کیوں کہ وہ اپنے تمام احوال اور دنیاوی اتار چڑھاؤ میں خیر و فلاح اور کام یابی ہی میں رہتا ہے اور یہ خیر صرف اور صرف مومن ہی کو حاصل ہے۔ پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے مومن کے ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی مقدر رکھا ہے۔ اگر اسے کوئی تنگی ومصیبت پہنچتی ہے اور وہ اللہ کی تقدیر پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی طرف سے کشادگی کا منتظر اور اس سے اجر و ثواب کا امیدوار رہتا ہے، تو یہ بات اس کے لیے باعثِ خیر ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی خوش کن بات پیش آئے، مثلا کوئی دینی نعمت کا حصول ہو، جیسے علم یا عمل صالح یا پھر کوئی دنیوی نعمت ملے، جیسے مال، اولاد اور جائیدادوغیرہ تو اس پر شکر گزار ہوتا ہے، بایں طور کہ اللہ عز و جل کی اطاعت پر کاربند رہتا ہے، چناں چہ اللہ اس کی قدر کرتا ہے، تو یہ بات اس کے لیے باعث ِخیر ہوتی ہے۔

صبر وشکر‘ایمان کامل کی علامت!
آٹھویں صدی ہجری کے معروف عالم،درجنوں معرکہ آراء کتابوں کے مولف حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن ابی بکر المعروف ابن قیم الجوزیہ(691ھ-751 ھ) نے اپنی کتاب”عدة الصابرین وذخیرة الشاکرین”میں صبر وشکر کوبہ طور خاص موضوع سخن بنایاہے اور شرح و بسط کے ساتھ چھبیس ابواب میں صبروشکر سے متعلق ضروری تفصیلات کو جمع کردیا ہے،چوں کہ آپ ایک محدث ہی نہیں؛ بلکہ بلند پایہ فقیہ ومفسر بھی تھے؛ اس لیے آپ نے کتابِ مذکور میں صرف الفاظ حدیث کو جمع کرنے پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ آیات و احادیث کی تشریح، الفاظ ومعانی کی توضیح ، فقہی احکام، تربیتی نکات اور قیمتی لطائف سے بھی کتاب کو آراستہ وپیراستہ فرمایا ہے،آپ جہاں ظاہری علوم و فنون میں درک و کمال رکھتے تھے،وہیں علوم باطنیہ ،یعنی تصوف و احسان میں بھی مقامات عالیہ سے سرفراز تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کتاب قارئین کے لیے بہت ہی سود مند،موثر اور عمل پرابھارنے والی ہے۔خودصاحب کتاب مقصدتالیف کواجاگرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صبروشکر کی اہمیت وضرورت بتانے کے لیے اوریہ سمجھانے کے لیے کہ دنیا وآخرت کی سعادت انہی دونوں پر موقوف ہے،یہ کتاب معرض وجود میں آئی۔یہ ایک ایسی کتاب ہے جو جامع، محیط اور نافع ہے، اس میں وہ فوائد ہیں جواس بات کے حق دار ہیں کہ انہیں مضبوطی سے تھام لیاجائے اوران پر اعتماد کیا جائے، اس میں پڑھنے والے کے لیے لطف اندوزی کاسامان ہے، غمگین و دل گیر افراد کے لیے تسلی واطمینان ہے اور مقید و محبوس لوگوں کے لیے رہائی و نجات ہے۔

علامہ کتاب کے آغاز میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایمان کے دوحصے ہیں: نصف صبر اور نصف شکر۔لہٰذا ہر وہ شخص جو اپنے نفس کا خیرخواہ،اس کی نجات کاطالب اوراس کی نیک بختی کاشائق ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِن دونوں(صبر و شکر) اصل عظیم سے لاپرواہی نہ برتے اورنہ ان دو سیدھی راہوں سے کنارہ کشی اختیا ر کرے اوریہ کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے اپنا سفر انہی دوراہوں پر طے کرے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی ملاقات کے دن خیرالفریقین (شاکرین وصابرین) میں سے کسی کے ساتھ شامل فرمادے۔

صبر وشکر کی دوخصلتیں
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دو خصلتیں ایسی ہیں جس میں وہ ہوں گی، اللہ تعالیٰ اسے شاکر و صابر لکھ دیتا ہے اور جس میں وہ نہیں ہوں گی، اسے اللہ شاکر و صابر نہیں لکھتا۔ جوشخص اپنے دین کے معاملے میں ایسے شخص پر نظر رکھتا ہے جو اس سے بڑھ کر ہے، پھر اس کی اقتدا کرتا ہے۔ اور دنیا کے معاملے میں اس شخص کو دیکھتا ہے جو اس سے کمتر حیثیت کا حامل ہے، پھر اس بات پر اللہ کی حمد کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے۔ (ان دو خصلتوں کے حامل شخص کو) اللہ تعالیٰ شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کمتر (دین دار) کو دیکھتا ہے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر (مال دار) کو دیکھتا ہے اور پھر جو اسے (دنیا کے مال و اسباب سے) میسر نہیں ہے اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نہ شاکر لکھتا ہے اور نہ صابر۔“(جامع ترمذی)

اس حدیث میں مذکورہ دو خصلتوں کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نتیجہ بتلایا گیا ہے، جس میں پہلی دو خصلتیں ہوں گی، وہ یقینا ایک تو دین وشریعت کی پابندی کا بھی زیادہ اہتمام کرے گا؛ کیوں کہ اس کی نظر اپنے سے زیادہ متقی و پارسا شخص پر ہوگی اور وہ اسی کو نمونے کے طور پر اپنے سامنے رکھ کر اس کی اقتدا کرے گا۔ دوسرے، وہ شخص اللہ کا شکر بھی خوب ادا کرے گا، کیوں کہ وہ ہر وقت ان کو دیکھے گا جو اس سے بھی زیادہ محروم قسم کے لوگ ہیں، تو قدرتی طور پر ہر وقت اس کی زبان کلمات حمد سے تر اور اس کا دل اعتراف نعمت سے معمور رہے گا۔ اس کے برعکس جس شخص کے اندر یہ دو خصلتیں نہیں ہوں گی، وہ ایک تو دین و شریعت کی پابندی کا بھی زیادہ اہتمام نہیں کرے گا، کیوں کہ اس کے سامنے وہ نمونے ہوں گے جو دین کے زیادہ پابند نہیں ہوں گے۔ دوسرے، یہ شخص ہر وقت اپنی محرومی ہی کا گلہ اور اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہی کرے گا؛ کیوں کہ اس کے آئیڈیل وہ لوگ ہوں گے جو محض دنیا دار اور ہر طرح کے وسائل سے بہرہ ور ہوں گے۔

قوم سبا کا عبرت ناک واقعہ
”سبا”عرب کا ایک قبیلہ ہے ،جو اپنے مورث اعلیٰ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان کے نام سے مشہور ہے۔ اس قوم کی بستی یمن میں شہر ”صنعاء”سے چھ میل کی دوری پر واقع تھی۔ اس آبادی کی آب و ہوا اور زمین اتنی صاف اور اس قدر لطیف و پاکیزہ تھی کہ اس میں مچھر ،مکھی ،پسو ،کھٹمل وغیرہ کا نام ونشان تک نہ تھا۔ موسم نہایت معتدل تھا،نہ گرمی نہ سردی۔ یہاں کے باغات میں کثیر پھل آتے تھے کہ جب کوئی شخص سرپر ٹوکرا لیے گزرتا تو بغیر ہاتھ لگائے قسم قسم کے پھلوں سے اس کا ٹوکرا بھر جاتاتھا۔غرض یہ قوم بڑی فارغ البالی اور خوش حالی میں امن و سکون اور آرام و چین سے زندگی بسر کرتی تھی؛ مگر نعمتوں کی کثرت اور خوش حالی نے اس قوم کو سرکش بنا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لیے یکے بعد دیگرے کئی انبیاء کو بھیجا، جو اس قوم کو خدا کی نعمتیں یاد دلا دلا کر عذابِ الٰہی سے ڈراتے رہے؛ مگر ان سرکشوں نے خدا کے مقدس نبیوں کو جھٹلا دیا اور اس قوم کا سردار اتنا متکبر اور سرکش آدمی تھا کہ جب اُس کا لڑکا مر گیا تو اس نے آسمان کی طرف تھوکا اور اپنے کفر کا اعلان کردیا اور اعلانیہ لوگوں کو کفر کی دعوت دینے لگا اور جو کفر کرنے سے انکار کرتا، اُس کو قتل کردیتا تھا اور خدا عزوجل کے نبیوں سے نہایت ہی بے ادبی اور گستاخی کے ساتھ کہتا تھا کہ آپ لوگ اللہ عزوجل سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نعمتوں کو ہم سے چھین لے۔ جب سردار اور اس کی قوم کا طغیان و عصیان بہت زیادہ بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر سیلاب کا عذاب بھیجا۔ جس سے ان لوگوں کے باغات اور اموال و مکانات سب غرق ہو کر فنا ہو گئے اور پوری بستی ریت کے تودوں میں دفن ہو گئی اور اس طرح یہ قوم تباہ و برباد ہو گئی کہ ان کی بربادی ملک عرب میں ضرب المثل بن گئی۔ عمدہ اور لذیذ پھلوں کے باغات کی جگہ جھاؤ اور جنگلی بیروں کے خار دار اور خوف ناک جنگل اُگ گئے اور یہ قوم عمدہ اور لذیذ پھلوں کے لیے ترس گئی۔قران مجید میں صبر وشکر کرنے والوں کے لیے نصیحت و عبرت کے طور پر اس واقعے کو ذکرکیاگیا اور فرمایا گیا:

قوم سبا کے لیے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ تھے۔ (ہم نے انھیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤاور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ اور ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار۔مگر ان لوگوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بدمزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے، کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔ہم نے یہ سزا انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ہم نے ان کی بستی اور اس بستی کے درمیان جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، کھلے راستہ پر کئی بستیاں آباد کردی تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں کہ ان میں رات دن بلاخوف و خطر امن سے سفر کرو۔ مگر وہ کہنے لگے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور کردے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چناں چہ ہم نے انھیں افسانے بنا دیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقینا ہر صابر و شاکر کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔(سبا:15-19)

خلاصہٴ کلام
موجودہ زمانے میں اجتماعی و انفرادی دونوں حیثیتوں سے جو سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آرہی ہیں اور ہر کوئی حالات کا شکوہ کرتا نظر آرہاہے،ہم ان سے عبرت حاصل کریں۔اگر ہم خدانہ خواستہ کسی بیماری یا پریشانی میں مبتلا ہیں تو صبر و شکیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اگر عافیت و صحت کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں تومنعم حقیقی کی شکر گزاری سے ہرگز دریغ نہ کریں۔حق تعالی ہمیں اس دور ابتلا سے نجات عطافرمائے اور عافیت کی زندگی مقدر فرمائے۔آمین !