بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صاحب بصیرت وصاحب حمیت وعزیمت سلطان

صاحب بصیرت وصاحب حمیت وعزیمت سلطان

مولانا سیّد محمد واضح رشید حسنی ندوی

تاریخ ساز انسان ٹیپو شہید کی زندگی میں دو صفتیں ہمارے لیے درس حکمت رکھتی ہیں، ایک ان کی اولو العزمی اور دوسرے ان کی بصیرت او ران کی زندگی میں ان دونوں صفتوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ تھا۔ ان کی بصیرت جو کہتی تھی ان کی اولو العزمی اس کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتی تھی، ہندوستان کے اس پُر زوال عہد میں جب کہ سات سمندر پارکی ایک اجنبی اور عیار طاقت اپنی ذہانت او تدبیر سے کام لے کر اس گلستان ہند کے ایک ایک قطعہ کو سلاسل غلامی میں باندھتی چلی جارہی تھی اور ہمارے اس دیس کے رکھوالے بے بصیرتی کا شکار ہو کر اس کے پابجولاں ہوتے جارہے تھے، یہ وہ وقت تھا جب کہ یورپین دنیا میں علمی شغف کے بڑھتے ہوئے اثر سے وہاں کی طاقتیں اپنے ملک سے نکل کر، اپنی تحقیق وایجاد کے ذریعہ حاصل کردہ ذرائع ووسائل سے، دوسرے ملکوں کو اپنا زیر اثر بنا رہی تھیں، انہی میں سے برطانوی حکومت کے سیلابی اثر رکھنے والے حملوں کو روکنے کے لیے سلطان شہید نے بند باندھنے کی کوششیں کیں، وہ کوششیں ایسی تھیں کہ اگر کام یاب ہو جاتیں تو اس غیر ملکی طاقت کو یہ کہہ کر کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ مکمل ڈیڑھ سو سال تک اس ملک کے اطراف واکناف کو اپنے پیروں تلے روندنے کا موقع نہ ملتا اور ہزاروں ہزار ذی علم وذی وقار بے گناہ شخصیتوں کا خون نہ بہایا گیا ہوتا، لیکن اس مرد مجاہد کو اپنی کمال بصیرت وعظیم اولو العزمی کے لائق معاونین نہ ملے او رجو معاونین تھے انہوں نے اپنی عظمت کی راہ میں اخلاص ودرد مندی اختیار کرنے میں کوتاہی کی اور ملک کا درخشاں بننے والا مستقبل تاریک بنا دیا۔

سلطان ٹیپو شہید کی یہ بصیرت تھی کہ انہوں نے برطانوی سام راج کی وہ چیرہ دستیاں اور مشرقی ملکوں کی دولت وحکومت پر قابض ہونے کی کوششیں جو ان ملکوں پر اس کا اقتدار قائم ہونے سے پیش آنے والی تھیں اس کے اقتدار کے قائم ہونے سے قبل ہی ان کا اندازہ کر لیا تھا اور اپنی ہم وطن اور ہم مذہب طاقتوں کو اس خطرہ سے آگاہ کر دیا تھا اور دنیا کے کسی بھی عظیم مدبر کی یہی کام یاب صفت ہوتی ہے کہ وہ صرف زمانہٴ حال تک اپنی فہم وبصیرت کو محدود نہ رکھے، بلکہ اپنی نظر کو مستقبل کے عہد تک پہنچائے اور پھر اپنی اس بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے لیے ضروری تیاری کرے اور جو ممکنہ ذرائع واسباب اس کے بس میں ہوں ان کو اختیار کرے۔ اس مرحلہ تک پہنچنے پر اولوالعزمی کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے بطل مجاہد میں یہ صفت بھی بدرجہٴ اتم پائی جاتی تھی، ہم کو اس بطل عظیم کی تدابیر نظم ودفاع میں ایسی تدابیر ووسائل ملتے ہیں جن کا وجود مغربی طاقتوں کے جدید تمدنی برتری کے عہد میں ہوا، راکٹ جیسے ذرائع حرب ودفاع کی موجودگی کو دنیا نے پہلی بار سلطان کے حربی آلات میں شامل پایا، جس کو ایک تصویر میں اقوام متحدہ کے مرکز میں آویزاں دیکھا گیا ہے۔

امن او رجنگ دونوں حالات کے لیے ان کے موزوں انتظام جو سلطان کے عہد کے لحاظ سے قبل از وقت معلوم ہوتے ہیں، سلطان کی زیر عمل کوششوں او رتیاریوں میں پائے جاتے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد قریبی معاونین کے دھوکہ دے دینے سے اگر سلطان کو سابقہ نہ پڑ جاتا تو ان کے دشمن کو اس خطہ میں قدم جمانے کا موقع نہ ملتا او راس کے نتیجہ میں اس وسیع ملک ہندوستان کو برطانوی سام راج کی چیرہ دستیوں کا باقاعدہ شکار ہونا نہ پڑتا۔

برطانوی دماغ اپنی عددی اور وسائیل کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے ہندوستان کے اقتدار کی پراگندہ اکائیوں کے درمیان اختلاف بڑھانے اورایک دوسرے کو لڑانے کو جنگ کی بہترین حکمت عملی سمجھتا تھا، اس کے لیے خوف ولالچ کے دوذریعوں سے اس نے اس ملک کو تھوڑا تھوڑا کرکے پورا اپنے اقتدار میں لے لیا، یہی دو ذریعے تھے کہ ملک کی مرکزی حکومت کی حدود کو اپنے اردگرد کے علاقوں کے تعلق سے محروم کرکے دلّی تا پالم محدود کر دیا اور پھر اپنی آخری ضرب میں اس کو بھی ختم کر دیا۔

سلطان ٹیپو شہید نے دشمن کی اس حکمت عملی کو پہلے ہی محسوس کرتے ہوئے اپنی پوری طاقت اس بڑھتے ہوئے حملہ کو روکنے، بلکہ توڑنے کے لیے صرف کر دی او راپنے اردگرد کے حکم رانوں اور مسلم حکومتوں کو اس دشمن کی طرف متوجہ کیا، افغانستان سے ترکی تک کے حکم رانوں سے رابطہ قائم کیا او رسب کو مل کر خطرہ کا مقابلہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور خود اپنی پوری طاقت دشمن کے مقابلہ پر لگادی او رجب اپنوں کے بے وفائی کے اثر سے شکست کا انجام سامنے دیکھا اور اس صورت حال میں اپنے سامنے خوف ولالچ کا ذریعہ بطور ذریعہٴ نجات دیکھا تو اس سے فائدہ اٹھانے کو انہوں نے ناجائز سمجھا اور اولوالعزمی کا وہ تاریخی شان دار جملہ کہا کہ ”شیر کی زندگی کا ایک دن گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے“ او راپنی جان جان آفریں کو پیش کر دی۔ اور بیرونی سام راج کے سامنے سر جھکانے سے اپنے کو محفوظ رکھا اور رہتی دنیا تک ایک مثال قائم کر دی، بصورت دیگر سلطان کو ناز ونعمت کی زندگی گزارنے کا موقع تو حاصل ہو جاتا، لیکن عزیمت اور حق کے لیے قربانی کی یہ مثال سامنے نہ آتی۔

سلطان ٹیپو شہید کی عزیمت کی پیکر شخصیت او ران کے نظم وانتظام جنگ اور ان کی حکومت واقتدار کی اہمیت کا پورا جائزہ ان کے سلسلہ میں نقل کیے جانے والے دو جملوں سے پوری طرح سامنے آجاتا ہے، ایک تو جنگ میں ان کے بالآخر شہید ہو جانے کا علم ہونے پر انگریز جنرل کا یہ جملہ کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ یہ جملہ بڑا معنی خیز ہے اور حالات اور توقعات کی پوری تصویر کشی کرتا ہے کہ اس واقعہ سے قبل برطانوی سام راج نے اگرچہ مشرقی ہندوستان اور دیگر متعدد علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا تھا اور اس کے قدم برابر آگے بڑھ رہے تھے، لیکن وہ ہندوستان پر اپنا قابل اعتماد اقتدار حاصل ہونے میں بہت بڑی رکاوٹ سلطان ٹیپو شہید کو محسوس کر رہا تھا اور اس کو اپنی صحیح کام یابی کی امید نہیں تھی، جو سلطان کے شہید ہو جانے پر ہوئی۔ سلطان کے علاوہ کوئی دوسرا مجاہد بطل برطانوی اقتدار کے سامنے ایسا نہ تھا کہ وہ برطانوی اقتدار کے آگے بڑھنے اور پورے ملک کو سرنگوں کرنے میں مانع بن سکتا تھا، ورنہ وہ صرف سلطان کی شہادت پر یہ جملہ نہ کہتا، بلکہ یہ کہتا کہ ہم نے فتح کی ایک کٹھن منزل طے کر لی ہے، فتح کی بقیہ منزلیں بھی ہم طے کریں گے۔ اس نے سلطان کی شہادت پر اعتماد سے یہ کہا کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ ، حالاں کہ ابھی ملک کے متعدد علاقے اس کے اقتدار سے باہر تھے، لیکن برطانوی طاقت کو سلطان کے علاوہ کسی میں یہ دم محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس کی فتح کے آگے بڑھنے میں صحیح رکاوٹ بن سکتا ہے۔

برطانوی جنرل کے اس جملہ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان نے برطانوی طاقت سے نبردآزما ہونے کے لیے ضرورت کے مطابق اور پورے تدبر وحکمت کے ساتھ مناسب تیاری کر رکھی تھی، جو دوسری ملکی طاقتوں کے پاس نہیں تھی، کیوں کہ فتح وشکست محض ایک شخص یا چند اشخاص کے زور بازو کے اثر سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے تدبر وحکمت اور جنگ کے بہتر سے بہتر وسائل کے ذریعہ ہوتی ہے، جس کا اس برطانوی جنرل کو علم تھا کہ مدبر واولوالعزم قائد کے باقی نہ رہنے پر وہ تیاریاں اور وسائل جو خود اس کی تدبیر سے ہوتے ہیں اس کے بعد کوئی خاص کردار انجام نہیں دے سکتے۔ اس طرح صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ سلطان نے حرب ودفاع کے لیے کیا کیا انتظامات اختیار کیے ہوں گے اور کیا کیا وسائل تیار کیے ہوں گے اور اس کی مثال راکٹ کا ایجاد کر لینا ہے، جو اس عہد کے لحاظ سے غیر معمولی تدبر وذریعہ تھا۔

دوسرا جملہ جو سلطان کی عزیمت اور ناقابل شکست ہمت کی علامت بنا اور جو کسی بھی قائد کے اعلیٰ ترین سطح پر ہونے کی دلیل ہے وہ ہے: ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے “ او رپھر اس قول کو عمل میں لا کر دکھا دینا ہے کہ بلند عزیمت وہمت کے قائد کا یہ مقام ہوتا ہے اور اگر غور کیا جائے تو اس جملہ کی روح اس مجاہد بطل کی قائدانہ زندگی کے تمام معاملات میں جاری وساری رہی اور ایک طرف اس کی طاقت وحکومت کو مضبوط سے مضبوط تر بناتی رہی اور دوسری طرف اپنے ملک کے باشندوں کی نظر میں اس کو بلند سے بلند مقام عطا کرتی رہی، چناں چہ آج تک اس کے علاقہ کے باشندے اس کی عظمت کے گُن گاتے ہیں۔

اس جملہ کے اندر عزم وحوصلہ کے جو معانی پنہاں ہیں وہ سلطان کی زندگی میں اس کے تمام پُر عزیمت کاموں میں اس کے راہ نما رہے، کسی بھی ذمہ دار حکم راں کی عزیمت وحکمت سے آراستہ حکم رانی جس میں تمام رعایا کا بفرق مراتب کا خیال اور ان کے امن وراحت کی فکر، ان کے ساتھ عدل وانصاف کا برتاؤ اور ملکی حالات اور ضروریات کو بہتر بنانے کی طرف توجہ اور ذاتی معاملات پر ملک وقوم کے مفادات کو ترجیح دینا اور اخلاق وکردار کے اعلیٰ معیار کو اختیار کرنا او ران تمام امور میں ایک جرأت مند اور شجاع قائد کی خصوصیات اختیار کرنا، ملک کی متوقع ضرورتوں کے لیے ان کے لائق نظم وانتظام کرنا، علم کی ترقی علما پروری اور سیاسی وحربی معاملات کے ساتھ سماجی اور اخلاقی معاملات پر بھی پوری نظر او راس کے لیے ضروری نظم۔ یہ وہ مختلف گوشے ہیں جو پُرعزیمت اور حوصلہ مند شخصیت میں خود بخود جمع ہو جاتے ہیں اور صاحب عزیمت او رصاحب حوصلہ شخص ان کو پورا کرتا ہے۔

سلطان ٹیپو نے برطانوی سام راج کے متعلق چیرہ دستی او رملک گیری کا جو اندازہ کیا تھا اس کو ان کے بعد کی تاریخ نے صحیح ثابت کر دیا، ہندوستان پر قبضہ کرنے کے ساتھ برطانوی سام راج نے اپنی ملک گیری کو پھیلاتے ہوئے ایشیا کے مشرقی حصہ سے شمالی افریقہ کے علاقے تک مختلف خطوں پر اپنا اقتدارجما لیا، یہ سب عموماً مسلم ممالک تھے، شمالی افریقہ میں مصر وسوڈان پر بھی اپنا قبضہ قائم کرتے ہوئے، ترکی کو جو اس کا ہم درد رہا تھا، اس کے ماتحت مختلف علاقوں کو بغاوت پر اُکسا کر ترکی کو چھوٹا اور محدو دملک بننے تک پہنچا دیا، فلسطین میں اسرائیل کے قدم جمانے کی تدبیر کی اور ترکی کی قوم کو اسلام سے دور کرنے پر اس کے قائد کو مائل کیا ،جس کے نتیجہ میں ترکی جو اسلامی وحدت وطاقت کا مرکز تھا اور اس کے اقتدار کا امین اسلامی اقدار سے بھی منحرف بن گیا تھا اور اس طرح ٹیپو شہید نے جو خطرہ محسوس کیا تھا وہ صحیح ثابت ہوا۔

ٹیپو سلطان کی عظیم شخصیت اپنے عہد میں چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان ایک اونچے پہاڑ کی حیثیت رکھتی تھی، اس کے حالات اور کردار کے مطالعہ سے کسی بھی صاحب عزیمت حاکم کو اعلیٰ راہ نمائی ملتی ہے او راس جیسی شخصیت کے لیے احترام وقدر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ الله تعالیٰ ان کے کارناموں کو قبول فرمائے اور اپنے قرب میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے۔