بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

شرم وحیا اور ہمارا معاشرہ

شرم وحیا اور ہمارا معاشرہ

مولانا عبدالقادر فرید قاسمی

اسلام نے شخصیت سازی پر بھر پوری توجہ دی ہے، اخلاقیات کے عنوان سے انسانیت کے ہر گوشہ میں مکمل راہ نمائی فرمائی ہے، ہر طریق سے بد اخلاقی کا سدباب کیا ہے، غرض یہ ہے کہ مذہب اسلام نے انسان میں انسانیت لانے اور آدمی کو آدمیت سے مزین کرنے کے لیے بے مثال ہدایتیں جاری کی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”إن لکل دین خلقا وخلق الإسلام الحیاء“ ہر مذہب کا کچھ نا کچھ خاص امتیازی وصف ہوتا ہے، چناں چہ مذہب اسلام کا وصف خاص حیا ہے، دیگر مذاہب کے مقابلے میں حیا کو اسلام کا وصف خاص قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ اسلام کی نظر میں اخلاقیات کی کیا اہمیت ووقعت ہے، کیوں کہ حیا ایک ایسالفظ ہے جس کے عناصر واقسام حسن معاشرت وحسن عبادت کو جامع ہیں، اس لیے کہ حیا ہی تمام فضائل کی بنیاد، اخلاقیات کا منبع ، سلوک واحسان کے تمام مراتب ومنازل کے لیے اصل الاصول ہے۔

حیا کی تعریف
حیا کے لغوی معنی سنجیدگی ، متانت، وقار اور اصطلاحی تعریف نفس کا ہر ناپسندیدہ، قبیح چیز سے رکنا، ابن حجر نے حیا کی تعریف یوں فرمائی:”حیا ایک ایسی صفت ہے جو صاحب حیا کو ہر نا پسندیدہ چیز سے پرہیز کرنے اور دوسروں کی حق تلفی سے باز رہنے پر ابھارتی ہے۔“حیا کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ: ”آدمی کی وہ عادت جو آدمی کو ہر قبیح ومکروہ چیز سے محفوظ ومامون رکھے۔“

حیا اور قرآنی تعلیم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حیا کے متعلق کہیں صراحتاً اور کہیں اشارتاً تعلیم دی ہے اور کہیں بڑے اہتمام سے اس وصف خاص کو ذکر فرمایا ہے جو باری تعالیٰ کی پسندیدگی کا مظہر ہے، قرآن مجید میں تقویٰ کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿ولباس التقوی ذالک خیر﴾اس جگہ امام حسن اور معبد جہنی نے لباس التقوی کی تفسیر ”الحیاء“ سے فرمائی ہے، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو حیا کی صفت اور حیا کا لباس بے حد پسند ہے، اسی وجہ سے اس لباس کو سراسر خیر سے تعبیر فرمایا، قرآن پاک میں ایک جگہ شہر مدین کا تذکرہ آیا ہے کہ ایک کنویں کے قریب ایک لڑکی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لیے پہنچی، اس کے چل کر آنے میں شرم وحیا کا جو غلبہ تھا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ قدوقامت، رنگ وروپ کے تذکرہ کی بجائے خصوصیت کے ساتھ اس کی صفت حیا کا تذکرہ فرمایا،تاکہ امت کی صنف نازک کو یہ پتہ چلے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک عورت کے لیے محبوب ترین چیز حیا، عفت وعصمت ہے اور ایک عورت کی یہی اصل خوب صورتی ہے، ایک جگہ قرآن نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:”ان ذالکم کان یؤذی النبی فیستحیی منکم“جب تم اپنے نبی کے گھر کھانے سے فارغ ہوجاؤتو وہاں سے رخصت ہوجاؤ، کیوں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے اس طرح بیٹھے رہنے سے تکلیف ہوتی ہے، اگر چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم کو غلبہ حیا کی وجہ سے گھر سے اٹھنے اور باہر جانے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔ اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ”نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا یہ نبی کے لیے ایذا رسانی کا سبب ہوگا ، لیکن نبی علیہ السلام شدت حیا کی وجہ سے منع نہیں کریں گے۔ اسی جگہ پر امام شوکانی رقم طراز ہیں کہ:”نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے بڑی حیاء آتی ہے:اب کھانا کھاچکے ہو تو کھڑے ہوجاؤ اور باہر نکلو۔“

حیاء اور حدیث کی تعلیم
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کے متعلق مردوزن دونوں کو یکساں تاکیدی احکامات وراہ نمائی دی ہے۔ ایک موقع پر ارشاد فرمایا:”علموا رجالکم المائدة وعلموا نساء کم النور“اپنے مردوں کو سورہ مائدہ اور عورتوں کو سورہ نور سکھلاؤ، کیوں کہ ان سورتوں میں پاکیزہ زندگی کے طوور طریق بیان کیے گئے ہیں، ایک جگہ ارشادفرمایا:

الحیا خیر کلہ․ حیا سراسر بھلائی ہی ہے، والحیاء لا یأتی إلا بخیر․ حیا سے خیر ہی صادر ہوتی ہے، ایک حدیث میں تو حیا کو ایمان کا حصہ ہی قرار دیے دیا گیا، الحیاء شعبة من الایمان۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام سے گزررہے تھے، دیکھا کہ ایک شخص اپنے بھائی کو ڈانٹتے ہوئے کہہ رہا تھا: شرم مت کرو ”نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا:”دعہ، فإن الحیاء من الإیمان“ اس کو یوں ہی رہنے دو، شرم وحیا ایمان کا حصہ ہے۔ ایک موقع پر ارشاد فرمایا:”الحیاء من الإیمان، والإیمان فی الجنة، والبذاء من الجفاء، والجفاء فی النار“کہ حیا موجب دخول جنت ہے اور بے حیائی کا انجام جہنم ہے۔ قدرے طویل حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا:”استحیوا من الله حق الحیاء…“ لوگو! اللہ سے حیا کرو جیسے حیا کرنے کا حق ہے…صحابہ کرام نے کہا:”إنا نستحیی والحمدلله“ ہم اللہ کی توفیق سے حیا کرتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیا وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ حیا یہ ہے کہ ”أن تحفظ الروس وما وعی“اپنے سروں کی (آنکھ، کان، زبان بشمول) حفاظت کرو اور دماغ کو خبیث افکار وخیالات سے محفوظ رکھو، ”والبطن وما حوی“اپنے پیٹ کی بشمول شرم گاہ حفاظت کرو ،یعنی حرام، مشتبہ غذا سے کلی اجتناب کرو وتذکر الموت والبلی موت اور اس کے بعد کے انجام کو کثرت سے یاد کرو” ومن أراد الآخرة ترک زینة الدنیا وآثر علی الاولی“ جو آخرت کا طلب گار ہوگا وہ دنیا کی زیب وزینت اور اس کی بو قلمونیوں سے ترک تعلق کرے گا اور دنیا پر آخرت کی دائمی زندگی کو ترجیح دے گا۔ پھر آگے ارشاد فرمایا:”ومن فعل ذالک فقد استحیامن الله حق الحیاء“جو شخص یہ چار کام کر لے گا وہ حقیقی معنی میں اللہ تعالی ٰسے حیا کرنے والا ہوگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا سے متعلق ایک ایسی بات ارشاد فرمائی، اگر کسی مومن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان کی اہمیت اور خوفِ خدا رہے گا اس کا دل لرز اٹھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”إن الحیاء والایمان قرنا جمیعا، فاذا رفع أحدھما رفع الآخر“حیا اور ایمان دونوں ساتھ رہتے ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک اٹھالیا جائے گاتو دوسرا بھی اٹھا لیا جائے گا۔ ان تمام مبارک فرمودات کا خلاصہ یہ نکلا کہ حیا ہی سے ایمان کو جلا ملتی ہے اور حیا ہی سے انسان کے قول وفعل میں حسن وجمال پیدا ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بے حیا انسان کسی ضابطہ اخلاق کا پابند نہیں ہوتا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اذا لم تستحی فاصنع ماشئت“…بے حیاباش وہر چہ خواہی کن…(جب تمہارے اندر حیا ہی نہیں رہی تو اب جو چاہو وہ کرو)۔

حیا اور اکابرین امت
حیا ایک انسانی فطرت ہے، قدرت نے انسان کو حیا کے ساتھ پیدا کیا ہے، کسی انسان کا یہ کمال ہوتا ہے کہ وہ صفت حیا سے فائدہ اٹھالیتا ہے۔ ایسے لوگوں سے اس صفت کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے، کسی انسان کے اندر حیا کی چنگاری جوماحول کے گرداب میں مخفی رہ جاتی ہے، چناں چہ بے حیائی وبے شرمی جو کہ حیا کی ضد ہے، اس کا ظہور ہونے لگتا ہے، اکابرین امت اس فطری صفت کو جوماحول کی پراگندگیوں کی وجہ سے قابل استفادہ نہیں رہی قابل استفادہ بنانے کی ادھیڑ بن میں رہتے ہیں ،تاکہ لوگوں کے قول وفعل میں حسن وجمال پیدا ہوجائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:”من قل حیاؤہ قل ورعہ، ومن قل ورعہ مات قلبہ“جس میں حیا کی کمی ہے اس میں ورع وتقوی کی کمی ہے اور جس میں ورع وتقویٰ کی کمی ہے، جیتے جی اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے(ورع نام ہے مشتبہات سے بچنے کا)۔ اہل ایمان کے لیے دل کا مردہ ہو جانا یہ مقام خوف ہے، اسی کو قساوت قلبی کہا جاتا ہے، جو اس دنیا میں ایک عذاب سے کم نہیں۔ اللھم انا نعوذ بک من قسوة قلبہ ومماتہ فی حین حیاتنا۔ ابن قیم نے حیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اہلِ خواص اور سالکین راہ طریقت کے مدارج ومنازل میں سب سے پہلی منزل حیاء ہے، جو اس صفت سے متصف ہوگیا وہ حق جل مجدہ کی معیت محسوس کرے گا۔ “یعنی حق تعالیٰ کے تجلیات وانوارات کا ادراک کرتا رہے گا، یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ خدا تعالیٰ کی معیت کا احساس ہونے لگے۔ اللھم ارزقنا منہ․

حضرت جنید  نے حیا کی حقیقت یوں بیان فرمائی: حیا ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو مکروہ چیزوں کے ترک کرنے اور دوسروں کی حق تلفی سے باز رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض نے شقاوت قلبی کی نشانیوں میں سے قلت حیا کو شمار فرمایا ہے۔ حضرت ابن عطا کا کہنا ہے کہ جس شخص میں رعب او رحیا ختم ہو جائے اب اس میں کچھ خیر باقی نہیں رہا۔ ابن ابی الدنیا  نے کسی حکیم کا حیا کے متعلق قول نقل کیا ہے، ان تستحیي أن تسأل ما تحب وتأتی مایکرہ․ حیا یہ ہے کہ آدمی اپنی پسندیدہ چیز کا سوال کرنے سے اور مکروہ عمل کے کرنے سے حیا کرے۔

قرآن وحدیث کی اس تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حیاء کی کس قد راہمیت اوروقعت ہے، کیوں نہ ہو؟ حیا ایمان کا حصہ ، ترک معصیت کا ذریعہ، طاعات کی طرف رغبت کا سبب ہے، حیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صاحب حیا دنیا وآخرت کی رسوائی سے محفوظ رہتا ہے۔

موجودہ معاشرہ کی صورت حال
جس نبی نے اپنی امت کو حیا کا درس دیا او رحیا کو اسلام کا طرہ امتیاز بتلایا اور خود حیا کا لباس زیب تن کیا او رحیا بھی آپ کے اندر اس قدر کہ کسی کو آنکھ بھر کر دیکھ نہیں پاتے،حیا کے مزاج کو اپنے اعزہ واقربا اوراپنے اصحاب میں ایسے کوٹ کوٹ کر بسایا کہ آپ کے داماد کو کامل الحیا والا یمان کا لقب ملا اورصاحب زادی نے وصیت فرمائی ”میرا جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھانا، تاکہ کسی کو بنت محمد کے جسم کے ساخت وپرداخت کا پتہ بھی نہ چل سکے۔“ یہ شرم وحیا تھی اس نبی کی او ران کے اصحاب واعزہ کی اور آپ اسی بات کی تعلیم اپنی امت کو بھی دیتے رہے، لیکن کیا آج اس نبی کی محبت کا دم بھرنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شرم وحیا اس جیسی تو بعید از خیال ہے اس کی کچھ رمق بھی باقی ہے؟ اسلام کی پاکیزہ تہذیب اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا صاف ستھرا بے داغ اسوہٴ حسنہ موجودرہنے کے باوجود ہم کو مغربی تہذیب کی چمک دمک میں ترقی اور اسلامی تہذیب وثقافت فرسودہ پن نظر آرہا ہے، ایک دور تھا جس میں مسلم گھرانوں کی لڑکیوں کو دیکھنے آسمان ترسا کرتے تھے، ایک پڑوس کو بھی پڑوسی لڑکیوں کے نشوونما کا ادراک نہیں ہوتا تھا، گھر کی لڑکیاں اپنے گھر کے صحن میں بھی باحجاب نکلا کرتی تھیں، آ ج ایک ایسا دور آچکا ہے کہ معاشرہ سے حیا عنقاء ہوتی نظر آرہی ہے، حجاب کو قدامت پسندی تصور کیا جارہا ہے، عریانیت،برہنگی کو فیشن کا نام دیا جارہا ہے، مرد وزن کے بے محابا اختلاط کو جدید کلچر سے تعبیرکیا جارہا ہے، گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی تہذیب نے تو شرم وحیاء کا ستیاناس کر دیا ہے، دوستی اور آپسی مزاج شناسی کا شریفانہ عنوان دے کر برضا ورغبت عفت وعصمت کے جنازے نکالے جارہے ہیں، اسی پراگندہ ماحول کی وجہ سے لڑکے لڑکیاں قبل از وقت بالغ او رجوان اپنی جوانی کی مٹی پلید کررہے ہیں، جدید تہذیب، بے لگام تمدن، بے غیرت ترقی نے نت نئے مسائل امت کے روبرو کر دیے ہیں، نباض وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بڑا قیمتی جملہ ارشاد فرمایا:”کلما زادت الفجور کثرت المسائل․“ امت میں جس قدر فسق وفجور بڑھتا جائے گا اسی قدر مسائل کی بہتات ہو گی۔ ہم کو غور کرنا ہو گا کہ ہمارا معاشرہ جس تہذیب کی پیروی کرکے ترقی کے بام عروج پر پہنچنے کے خواب دیکھ رہا ہے، اسی تہذیب کے موجدین اپنی تہذیب پر ماتم کناں ہیں، کسی قوم کا اپنی تہذیب کو چھوڑ کر دوسری اقوام کی تہذیب کو پسند کرنا اور اس کو اپنانا قولی نہ سہی، حالی وعملی اقرار ضرور ہوتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی اسلامی تہذیب کو ناقص سمجھ رہے ہیں بلکہ دنیوی ترقی میں رکاوٹ مان رہے ہیں۔فیا للعجب․
        تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
        جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

معاشرہ فرد سے بنتا ہے، فرد کی تبدیلی سے معاشرہ کی تبدیلی ہے، یہ معاشرہ کا ناسور ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے کی اصلاح کا متمنی ہے کہ دوسرا حیا واخلاق سے آراستہ ہو جائے۔

ایں خیال است ومحال است وجنون، صبح قیامت تک معاشرہ میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ دوسری طرف معاشرہ کی اخلاقی تباہی وحیا سوزی کے پیچھے دونوں صنف باہم متصادم نظر آتے ہیں، اگر خواتین کے نزدیک مرد معاشرہ کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی کوکھ سے جنم لینے والے لڑکوں کی اسلامی نہج پر تربیت کریں، انہیں باحیا وباشرم انسان بنائیں اوراگر مرد خواتین کو معاشرہ کی زبوں حالی کا دشنام دیتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں کی اسلامی خطوط پر تربیت کریں، انشاء الله، الله تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ معاشرہ شرم سار ہونے اور رسوا ہونے سے محفوظ رہے گا۔

والدین کا فرض ہے کہ اولاد کی صورت میں جو نعمت انہیں ملی ہے وہ صرف کلیجہ ٹھنڈا کرنے اور بڑھاپے کا سہارا بننے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی پرورش میں سب سے زیادہ حصہ تربیت کا ہونا چاہیے ۔پھر یہی اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور بنے گی، ورنہ تربیت کے فقدان کی وجہ سے جو صورت حال چل رہی ہے، وہ مشاہدہے، محتاج بیان نہیں۔

شریعت نے والدین اور تمام مسئول حضرات کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ معاشرہ کو ہر مخرب اخلاق چیز سے محفوظ رکھیں اوراس پرکڑی نظر بھی رکھیں، حتی المقدور صالح معاشرہ کے لیے سعی خالص کریں۔