بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سیکولر پاکستان کی تشکیل کی کاوشیں

سیکولر پاکستان کی تشکیل کی کاوشیں

مولانا محمد طفیل

معاشروں کی تہذیبی ساخت کو متاثر کرنے کے لیے تہذیب دشمن عناصر کے پاس ایک اہم ہتھیار تہذیب کی بنیاد پر بننے والے ” تمدنی رویوں“ کو ہدف تنقید بنانا ہوتا ہے۔ جب تمدنی رویے تنقید وتوہین اور استخفاف واستہزا کی تاب نہ لاسکیں تو اس کے نتیجے میں اہل تمدن کے اندر ایسا احساس کم تری جنم لیتا ہے جو تہذیب وروایت میں تبدیلی کی داغ بیل ڈالتا ہے اور رفتہ رفتہ تہذیب وروایت اپنی حقیقی ساخت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس تدریجی دورانیے میں پہلے پہل تہذیب دشمن عناصر کے مقابلہ میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، پھر ان کے خلاف حساسیت کم زور پڑتی ہے، تیسرے مرحلے پر ان کے حوالے سے مقاومتی رویوں میں تساہل آتا ہے، چوتھے مرحلے میں ان عناصر کو قابل قبول مقام یا گنجائش دینے کا رحجان پنپتا ہے اور بالآخران کے حوالے سے اپنے تہذیبی نظریات اور افکار واقدار میں ”تبدیلی“ کا ظہور ہونے لگتا ہے۔

رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم سے ایک بندہٴ مومن کا تعلق خاص تہذیبی اقدار پر قائم ہے، یہ اقدار غیر مشروط اطاعت، بے لوث محبت، بے پناہ عقیدت اور ایثار، قربانی وجاں نثاری سے ترکیب پاتے ہیں اور ان اقدار کی بنیاد پر تشکیل پانے والا تعلق صرف اسی ذات کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے، اس میں معمولی شراکت کا شائبہ” شرک فی النبوة“ کا دروازہ کھولتا ہے، جس کا تصور بندہٴ مؤمن سے ناممکن ومحال ہے۔ منصب نبوت کے عالی مقام کے حامل صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اس خاص تعلق کا مظہر کچھ لازمی عقائد ہوتے ہیں، جن کے بغیر تعلق محض دعوی شمار ہوتا ہے، ان میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت، آپ صلی الله علیہ وسلم کی عصمت ونزاہت پر ایمان، آپ صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تصدیق وتعمیل، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی حجیت کا ایقان اور آپ صلی الله علیہ وسلم پر خاتمیت رسالت کا اعتقاد شامل ہیں۔ ان عقائد کے تقاضوں کو برتنے سے کچھ ”تمدنی رویوں“ کو وجود ملتا ہے، ان میں سے ایک اہم رویہ”منصب رسالت“ کے ان مذکورہ لوازم کو تسلیم نہ کرنے، ان کے بارے میں استخفافی رویہ رکھنے، ان کی معنویت وافادیت نظر اندازکرنے والوں سے براء ت او ران کی مقاومت ہے۔ بندہٴ مؤمن میں اس حوالے سے ایک خاص ”حساسیت“ پائی جاتی ہے اور وہ منصب رسالت کے لوازم کا انکار واستخفاف یا انہیں نظر انداز کرنے والوں کو اپنا فطری دشمن ومقابل تصور کرتا ہے، بندہٴ مؤمن کا یہ احساس اور رویہ اسلامی تہذیب وتمدن کی اساس ہے، اس کے لیے ایسے عناصر سے مقاطعہ، ٹکراؤ، مقاومت اور اختلاف ناگزیر ہوتا ہے، اس کی تہذیبی بقا اسی کے رہین منت ہوتی ہے، اگر اس رویے کی جگہ خدا نخواستہ ان عناصر کے ساتھ دوستی، موالات، موافقت اور ساز گاری کا رویہ پیدا ہونے لگے، تو اس سے ایک طرف تہذیب وشمن عناصر کر لیے معاشرہ میں قبول وگنجائش کا مقام پیدا ہونے لگتا ہے تودوسری طرف یہ ”تبدیلی“ تہذیب کی شکست وریخت کا آغاز بن جاتی ہے۔

عقیدہٴ رسالت کی بنیاد پر بندہٴ مؤمن کے تشکیل پانے والے رویے ایسے تمدن کی بنیاد رکھتے ہیں، جس میں منکرین ختم نبوت، منکرین حجیت حدیث، مستخفین حدیث او رشاتمین رسول کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں سے تہذیبی مقاومت ناگزیر ہوتی ہے، ایسے تمدنی رویے جن کی پشت پر رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ وابستگی ہو، عہد جدید میں مغربی این جی اوز کا بنیادی ہدف ہیں۔

این جی اوز بندہٴ مؤمن کے ان والہانہ تمدنی رویوں کو نیوٹرل کرنے یا مکمل تبدیل کرنے کے لیے اپنا ایک منظم پلان رکھتی ہیں، اس کے تطبیقی وعملی اظہار کے لیے این جی اوز ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں کہ ایک ایسا ماحول تشکیل پائے، جہاں عریاں رنگینیاں میسر ہوں، نمود ونمائش کا طرز زندگی ہو، اس کے ساتھ آزادانہ بحث ومباحثہ کے نام پر فکری آوارگی کا سامان موجود ہو، جب طالب علم ایسے ماحول میں داخل ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے اجنبی ہوتا ہے، یہ اجنبیت اس کے سابقہ فکر، عقیدہ ونظریہ، روزہ مرہ مشاغل ومعمولات اور طرز زندگی پر ایک خاموش وار ہوتا ہے، اسے میسر جدید ماحول اس کے لباس، بودوباش، رہن سہن اور ترجیحات کو مسترد کرتا ہے ، اس کے فکر کو شدت پسندی کا طعنہ دیتا ہے، اس کے نظریے پر رجعت کی پھبتی کستا ہے، اسے بتاتا ہے کہ جو کچھ اس نے سیکھا ہے، اس کی کوئی مارکیٹ ویلیو نہیں، اس میں تشکیک کا زہر بھرتا ہے، اسے مادیت کی اہمیت جتلاتا ہے اور اس کے توکل واخلاص کے فلسفہ کو اس کی خود فریبی باور کرواتا ہے۔ یہ ماحول اس میں ایک طرح کا چڑ چڑا پن پیدا کر دیتا ہے او راسے اندرونی تنہائی کا احساس ہونے لگتاہے، کیوں کہ انسان فطرتا گروہ پسند ہے، ایسا کبھی طویل دورانیے کے لیے ممکن نہیں کہ اس کے باطن میں ایک الگ جہاں برپا ہو اور یہ جلوت میں کچھ اور کراور برت رہاہو، لہٰذا کچھ عرصہ بعد اس کے ارد گرد کی غالب نفسیات تبدیل ہونے کے باعث وہ اس کے ساتھ توافق کی راہ نکالنے کی کوشش شروع کرتا ہے، یہ کوشش دراصل اندرونی تنہائی کامداواکرنے اوراجنبیت دور کرنے کے لیے ہوتی ہے، اس توافق کی تلاش میں اولاً وہ اپنے تمدنی رویوں کے خلاف بیانیوں کے بارے میں حساسیت کھو دیتا ہے، پھر رفتہ رفتہ انہیں قابل قبول مقام بخشتا ہے، یہاں تک کہ اس کی آخری منزل انہیں کلی قبولیت دینے او راپنے رویوں سے مکمل دست برداری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ وہ اپنی ماضی کو کوستا ہے، اپنے دینی تعلیمی اداروں، سابقہ ماحول، حتی کہ روایتی حلیہ پر بھی نادم اور پشیمان ہوتا ہے، اس ندامت کی خفت مٹانے کے لیے وہ اپنی سابقہ اقدار وروایات بلکہ شعائر دینیہ پر بھی تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، اس طرح اس میں خالص تنقیدی نفسیات پروان چڑھتی ہے، منفی ذہنیت پنپتی ہے اور وہ خوبیوں کو بھی خامیاں بنا کر پیش کرنے کی مشق شرو ع کر دیتا ہے، نفسیاتی ماہرین کے مطابق یہ ایک دماغی عارضہ ہے، یعنی اضمحلال ذہنی (Depression) کی ایک خطرناک صورت ہے، جسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے لوگ وہم تقدس کے مریض بن جاتے ہیں، یہ قابل رحم ہوتے ہیں، ان سے بحث ومباحثہ چنداں مفید نہیں ہوتا، بلکہ انہیں کسی اچھے دماغی ڈاکٹر کو دکھانا ان کے ساتھ خیر خواہی ہوتی ہے۔

طلبہٴ علم میں رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عشق وعقیدت سے جو مزاج تشکیل پاتا ہے، اس کے لازمی تقاضے مغربی فکر وفلسفہ کے لیے سم قاتل ہیں۔اس لیے این جی اوز کی بھاری رقوم محض اس پر صرف ہو رہی ہیں کہ طلبہ میں یہ حساسیت کم زور کی جائے، ان میں تشکیک وتردد کا زہر بھرا جائے اور بالآخر انہیں اپنی روایات سے برگشتہ کرکے دماغی مریض بنا دیا جائے، اس حوالے سے یونی ورسٹیوں میں کئی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ہمارے حضرت ڈاکٹر فدا محمد مدظلہم نے فرمایا کہ میں لاہور ایک دعوتی سفر کے سلسلہ میں گیا تھا، وہاںLUMS یونی ورسٹی کا ایک لیکچرار ملنے کے لیے آیا، اس نے بتایا کہ یہ یونی ورسٹی امریکن فنڈڈ ہے، اسے کافی گرانٹ دی جاتی ہے، اس میں پرائیویٹ طالب علم کے پڑھنے کا خرچہ تیس لاکھ روپے ہے، جب کہ فل پروفیسر کی تنخواہ پانچ چھ لاکھ تک بنتی ہے، یونی ورسٹی مخصوص اور قابل طلبہ لیتی ہے، اکثر طلبہ کو پچاس فی صد تک رعایت دی جاتی ہے، باقی اخراجات غیر ملکی عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جس وقت آسیہ مسیح کو توہین رسالت کے سزا یافتہ مقدمہ سے غیر ملکی آشیر باد پر چھوڑ کر بحفاظت باہر بھیجا گیا او راس کے خلاف عوامی احتجاج شروع ہوا تو ہر روز یونی ورسٹی کی کلاسز میں اس حوالے سے ذہن سازی ہوتی رہی کہ عوام جو کچھ کر رہی ہے، یہ بے وقوفانہ حرکات ہیں، نیز توہین رسالت کا قانون بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔

اس لیکچرار نے بتایا کہ ایک بار اسی یونی ورسٹی میں اعلان ہوا کہ فلاں قادیانی آکر لیکچر دے گا، ہم نے بڑی کوشش کی کہ اس کو روک سکیں، لیکن کام یاب نہ ہوئے، اس نے کہا کہ میں سننے چلا گیا، یونی ورسٹی کے ڈین نے تعارفی کلمات میں قادیانیت کے بارے میں آئینی فیصلہ کو غلط فہمیوں کا شاہ کار قرار دیا، پھر قادیانی نے پورے لیکچر میں اپنی ”مظلومیت“ کارونا رویا۔ اس کی کوشش تھی کہ مجمع اس کی ”مظلومیت“ سن کر روئے، لیکن یہ نہ ہوسکا۔ سوال جواب کی نشست میں سب سے پہلے کھڑے ہو کر میں نے سوال شروع کیا کہ ”قادیانیوں نے“ اتنا ہی کہا تھا کہ اس نے ٹوک دیا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ احمدی کہیں۔ بہرحال میں نے ڈین کی ناراضگی اور یونی ورسٹی کے لیکچرار شپ ہاتھ سے جانے کی پروا کیے بغیر جو بولنا تھا بول دیا، مجھے اندازہ ہوا کہ میری گفت گو کے بعد مجمع کا رخ بدل گیا ہے اور اس نے جو تشکیک پھیلا دی تھی اس کا اثر بڑی حد تک زائل ہوگیا ہے۔

سرکاری وغیر سرکاری یونی ورسٹیوں میں اس نوع کی کوششیں یکساں جاری ہیں، تاہم سرکاری یونی ورسٹیوں میں پڑھنے والا طبقہ عموماً دیہاتی اور غریب ہوتا ہے، انہیں بچپن میں مسجد وحجرے کا ماحول میسر ہوتا ہے او ران کی اعتقادی بنیاد کسی قدر مضبوط ہوتی ہے، جسے با آسانی زائل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس کی نسبت غیر سرکاری یونی ورسٹیوں میں مال دار طبقہ زیر تعلیم ہوتا ہے، جسے رام کرنا آسان ہوتا ہے۔ خود راقم الحروف کو یونی ورسٹی میں پڑھنے کے دوران این جی اوز کے سیمینا رز میں شرکت کا موقع ملا، وہاں یہ بات واضح طور پر مشاہدہ میں آئی کہ اہل علم اور طلبہ میں مادیت کی رنگینیوں، اعلی کھانوں اور پُرتکلف ہوٹلوں کی چمک دمک سے ایک خاص احساس کم تری پیدا کیا جاتا ہے۔ انہیں ایسا لائف سٹائل سکھایا جاتا ہے، جسے بھرپور مالی ومادی وسائل کے بغیر برتنانا ناممکن ہوتا ہے۔

دوسری طرف این جی اوز مقالے پیش کرنے، کانفرنسوں میں شرکت کرنے، کورس پڑھنے کے باقاعدہ وظائف دیتی ہیں، لیپ ٹاپ اور نیٹ کی سہولیات فراہم کرتی ہیں اور وہاں جو کچھ سناتی اور سکھاتی ہیں وہ ملکی آئین، روایات، ثقافت اور دین سے کلی طور پر متصادم ہوتا ہے۔ لہٰذا مخصوص لائف اسٹائل بنا کر قناعت چھین لی جاتی ہے،جب وسائل کے حصول کے لیے این جی اوز کا شکار بنتے ہیں تو وہ سارے مرحلے تیز رفتاری سے طے کرتے جاتے ہیں، جن کے آخری سرے پر روایت بے زاری، حتی کہ دین بے زاری ان کا مقدر ہوتی ہے۔بندہ نے اپنی آنکھوں کے سامنے درجنوں طلبہ کا یہ حشر ہوتے دیکھا ہے، جو داڑھی پگڑی، حیاو پردہ اور نماز وتلاوت لے کر اس ماحول میں آئے تھے، آج ان کے سروں سے پگڑی توکیا ٹوپی بھی اتر گئی، چہرے داڑھی سے صاف ہو گئے، حیاوپردہ کی بجائے ہم جماعت خواتین کے ساتھ سیلفیاں لینا اورہاتھ ملانا کوئی معیوب عمل ہی نہ رہا، قرآن مجید بھول گئے اورنماز بطور رسم رہ گئی۔ عمل اور ظاہر کی اس پامالی سے زیادہ خطرناک فکر او رباطن کی زبوں حالی ہے، جس کا بحران ظاہر سے بڑھ کر ہے، ان کی فکر کریدیں تو قادیانی ان کے ہاں دنیا کے مظلوم ترین لوگ ہیں ، ان کا بائیکاٹ کرنے والے وحشی درندے ہیں، میرا جسم میری مرضی والا گروہ ان کے ہاں آئندہ نسلوں کا محسن ہے، مغربی فکر وفلسفہ اورمغربی نظام ہائے زندگی انسانیت کے نجات دہندہ ہیں، اس کے مقابلے میں اسلام کی بطور دین سیاسی برتری کی جملہ کوششیں شدت پسندی اور دہشت گردی ہیں، اسلام کی وہی تعبیر معتبر ہے جسے مغربی سند دست یاب ہو اور مغربیت کی مقاومت نہیں، موافقت پر مشتمل ہو، روایت کی بالادستی کا ہر تہذیبی ادارہ ان کے ہاں قابل استیصال ہے، لہٰذا دنیا میں ہر فساد کی جڑ مدرسہ ہے اوراس کی آنکھ کا تنکا بھی شہتیر ہے۔ اس ساری جدوجہدکا مقصد ایک سیکولر پاکستان کی تشکیل کے لیے افرادی قوت کی تیاری ہے او راس کی بنیاد قادیانیت کے حوالے سے تمدنی رویوں کے خاتمہ اور آئینی شقوں کی تبدیلی کی صورت میں ڈالی جارہی ہے۔

ہمارے پڑھے لکھے طبقہ کی ایک معتدبہ تعداد مادی مزوں کی خاطر ان کی سہولت کار ہے او رنئی نسل کو ملک وقوم کی روایات، متفقہ آئین اور دین سے برگزشتہ کر رہی ہے، ان معصوموں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ جن مغربی این جی اوز کے اشاروں پر وہ قادیانیوں کی سہولت کاری کرکے نسل نو کو باغی بنارہے ہیں، وہ اس پر بس نہیں کریں گے کہ آئین میں اس کے خلاف موجود شقیں ختم ہوں، وہ ہمارا ملک لینے کی منصوبہ بندی رکھتے ہیں، ان کی کتابوں میں واضح لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والے کافر اور کنجریوں کی اولاد ہیں۔ لہٰذا خداوند ان مکتب ہوش کے ناخن لیں او رملک وملت کی روایات، اقدار اور آئین کے باغی تیار کرنے کے منصوبوں پر کام ترک کر دیں، ورنہ جو آتش فشاں وہ چندٹکوں کی خاطر تیار کر رہے ہیں، جب یہ لاوا پھوٹے گا تو اس کی زد میں ملکی امن وآئین ہی نہیں آئیں گے، بلکہ یہ ملک جوہزارہاقربانیوں کے بدلے ایک خاص مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا، خاکم بدہن ہاتھ سے چلاجائے گا، قادیانیت کا یہ منصوبہ ڈھکا چھپا نہیں، بلکہ ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں اس نوع کی کوششیں اسی مقصد کی راہ ہم وار کرنے کی تمہید ہیں۔ اہل اقتدار کو بھی اپنا فریضہ ادا کرنا چاہیے، انہیں قوم نے اقتدار کی کرسی تک محض آئین وقانون کی پاس داری کے لیے پہنچایا ہے، وہ نونہالان قوم کو ان ہاتھوں میں کھیلنے کے لیے کیسے چھوڑ سکتے ہیں جہاں آئین، اقدار یہاں تک کہ ریاستی اداروں کے خلاف ذہن سازی ہوتی ہو؟! الله تعالیٰ مملکت خداداد کو ہمہ شروروفتن سے محفوظ رکھے او رہمیں حقیقی معنوں میں اس کے آئین وقانون کی پاس داری اور حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!