بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سیرت نبوی کا مطالعہ ۔۔۔ وقت کی اہم ترین ضرورت

سیرت نبوی کا مطالعہ
وقت کی اہم ترین ضرورت

مفتی احمد عبیدالله یاسر قاسمی

 

رسول رحمت، سید الاوّلین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی ذات گرامی ایک ایسی کامل واکمل اور عظیم ترین شخصیت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی جامعیت و کاملیت اورعالم گیریت نے کائنات کے ہر ذرّے، ہر گوشے اور ہر شعبہٴ حیات کو متاثر کیا، عبادات ہوں یا معاملات، اخلاقیات ہوں یا معاشرت، عدالت ہو یا سیاست، ریاستی احکامات ہوں یا سفارتی تعلقات، جنگی تدابیر ہوں یا گھریلو مسائل، تمام میں رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی ذات والا صفات کامل واکمل نمونہ کے طور پر سامنے آتی ہے، رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ حیات ِ انسانی کے تمام گوشوں پر محیط دکھائی دیتی ہے، عہد رسالت سے قبل حیات طیبہ میں ایک امانت دار تاجر، بہترین شوہر، اچھا دوست، یتیموں کا دریتیم، بیواؤں او رمساکین کا غم خوار او رامانت وصداقت کے علم بردار نظر آتے ہیں تو وہیں بعثت نبوت کے بعد ایک عظیم الشان داعی، غزوات اور سرایا میں ایک زبردست کمانڈر وسپہ سالار، ریاست مدینہ کا مایہ ناز سربراہ، ایک کام یاب جج، ایک کام یاب معلم، ایک کام یاب رہبر، ایک کام یاب سیاسی قائد کی ذات گرامی دکھائی دیتی ہے۔

سیرت نبوی اسلام کا دائمی معجزہ
یہ اس لیے کہ سیرت نبوی اسلام کا دائمی معجزہ او رالله تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر نوع اور ہر آن تبدیل ہوتی ہوئی دنیا کے ہم رکاب رہتی ہے، ہر دور اور ہر زمانے اور ہر علاقے میں ہر ہر طریقہ سے رشدوہدایت کا منارہ نور بن کر بھٹکی ہوئی انسانیت کو نشان ِ منزل ہی نہیں، بلکہ منزلِ دوام عطا کرتی ہے۔

کیا یہ سیرت نبوی کا معجزہ نہیں ہے کہ آج تک دنیا نے آپ کی ذات بابرکات کو جس قدر قابل اعتناء ولائق اہتمام سمجھا اور جس خوبی اورحوصلہ ونیاز مندی کے ساتھ سیرت طیبہ کے ہر زاویہ کو سنوارا، اس اعزاز کا عشرِ عشیر بھی کسی کے حصے میں نہیں آیا؟!، کیا یہ سیرت نبوی کا اعجاز نہیں ہے کہ آپ کی زبان کا ایک ایک حرف، حرکات وسکنات کی ایک ایک ادا اور آپ کی جلوت وخلوت کے ایک ایک خدوخال کا عکس آج بھی موجود ہے اورآپ کی حیات طیبہ کی ایک ایک کیفیت کتب سیرت کے اوراق میں بالتفصیل محفوظ ومامون ہے؟!

سیرت نبوی قرآن کریم کی علمی توضیح
یہ اس لیے بھی کہ رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ قرآن کریم کی عملی تفسیر وتوضیح ہے۔ قرآن اگر متن ہے تو سیرت اس کی تشریح، قرآن علم ہے تو سیرت اس کی عملی تطبیق، قرآن صحف مابین الدفتین اوراہل علم کے سینوں میں محفوظ ہے تو سیرت اس زندہ وجاوید پیکر جمیل کا نام ہے جس نے مکے کی گلیوں او ربازاروں میں چلتے پھرتے توحید کے نغمے سنائے اور مدینہ میں سلطنت مدینہ کی بنیاد رکھی، جس نے اہل دنیا کو ایک منفرد طرز حکم رانی سے روشناس کروایا، یہی وہ حقیقت ہے جس کااظہار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا نے اس طرح بیان کیا تھا کہ : ”کان خلقہ القرآن“ کہ آپ چلتے پھرتے قرآن ہیں۔انہیں وجوہات کے سبب خالق کائنات نے رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کو تا قیامت آئیڈیل او ربہترین اسوہ بنا کر امت کے سامنے پیش کیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:” درحقیقت تم لوگوں کے لیے الله کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو الله اور یوم ِ آخرت کا امید وار ہو اورکثرت سے الله کو یاد کرے۔“ (سورة الاحزاب:21)

اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کو دراصل اپنی خوش نودی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ قرار دیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:” آپ (صلی الله علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا۔“ (سورة آل عمران:31)

ترجمہ:” اور جو شخص رسول کی اطاعت کرے گا بے شک اس نے خدا کی اطاعت کی۔“ (سورة النساء:81)

ہماری بے حسی ومردہ دلی
لیکن مقام افسوس کہ آج ہم جس طرح مطالعہ سیرت سے غفلت برت رہے ہیں اوراس کے پیغام کو فراموش کر رہے ہیں وہ شاید اس دور کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، ہمیں پتہ ہی نہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق وعادات کیا تھے؟ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اپنے دوستوں کے مابین رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کیا معاملہ تھا؟ کفار او رمنافقین سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کیا رویہ تھا؟ ریاست مدینہ میں رسول ِ رحمت صلی الله علیہ وسلم نے کیسی حکم رانی کی تھی؟ رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی رحمت ورافت، محنت وشفقت، خشیت وانابت، شجاعت وامانت ، صداقت وعدالت، جود وسخا، فراست ومتانت، ایثار وقربانی، احساس ذمہ داری، حلم وتواضع ، صبر وتوکل ، نیز گھریلو زندگی میں بہترین ساتھی، شفیق سردار، مساکین کے سرپرست ، اسی طرح قومی وملی زندگی میں عدل وانصاف ، فوجوں کی کمانڈری، انتظامات حکومت، رعایا پروری، سیاسی سوجھ بوجھ، دوستوں کی دل داری، دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک وہ عظیم اخلاق وکمالات ہیں کہ جس کی بنا پر رب العالمین نے رسولِ رحمت صلی الله علیہ وسلم کو خلق عظیم کے مرتبہ پر فائز کیا، ان سے ہم نابلد، نا آشنا، ناواقف ہیں۔

ایک طرف قوم مسلم کی تباہ کن، گھمبیر اور نازک ترین صورت حال ہے تو وہیں دوسری طرف امتمسلمہ کو لاتعداد چلینجز کا سامنا ہے۔ کفار چوری، سفاکی، چلاکی وبے باکی کے ساتھ اسلام کو مٹانے میں مصروف ہیں، ان کی سب سے بڑی حسرت یہ ہے کہ وہ ہماری نوجوان نسل کو دنیا کی زیب وزینت، مادی زندگی کا عیش وتنعم، بلا مواخذہ جسمانی لذتوں کے مواقع فراہم کرکے روحانی لذتوں سے بے بہرہ کر دیں اور رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات وتعلیمات کی اصل روح کو مسخ کرکے مسلمانوں کے دلوں سے رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کی محبت کا نقش مٹا دیں۔ چناں چہ اسلام دشمن محققین او رمتعصب مستشرقین نے رسول رحمت کی ذات مبارکہ سے متعلق شکوک وشبہات کو عام کیا، مادی سطح پر آپ کی شخصیت کو لوگوں کے سامنے پیش کیا، فضل وکمالات کا انکار کیا اور مقام نبوت، حقیقت ِ نبوت اور وحی پر شکوک وشبہات پیدا کیے، پھر کیا تھا کہ توہین رسالت کے مجرمین اورگستاخان رسول بین الاقوامی سطح پر رسول رحمت کی ذات گرامی پر اعتراضات کرنے لگے۔

دراصل اس کی وجہ ہم خود ہیں کہ مطالعہ سیرت نبوی اور اس کی حقیقی ضرورت وہ اہمیت کا احساس ہمارے دلوں سے محو ہو گیا ہے۔ ہماری زندگیوں کی نہج کچھ ایسی بن گئی ہے کہ ہمیں اس اہم خلا کا احساس بھی نہیں ہوتا جو ہماری زندگیوں میں مطالعہٴ سیرت کے فقدان یا کمی کی بنا پر پیدا ہو گیا ہے اور یہ وہ محرومی ہے جس کا ذمہ دار خود ہمارے اپنے سوا کوئی نہیں ہے۔
        وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
        کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

عصر حاضر میں سیرت طیبہ کی سخت ترین ضرورت ومعنویت
یہ بات حقیقت ہے کہ سیرت طیبہ کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے، لیکن موجود وقت میں اس کی اہمیت ومعنویت اور ضرورت دگنی ہو جاتی ہے، کیوں کہ موجودہ دور گلوبلائزلیشن(Globalization) اور عالم گیریت کا دور ہے اور پوری دنیا کسی گلوبل سسٹم(Global System) اورعالم گیر نظام کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی آسمان چھور ہی ہے۔ ہر روز نئے نئے انکشافات ،نت نئے ایجادات سامنے آرہے ہیں، مادیت کا سیلاب بلاخیز ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، جدھر دیکھو سامان عیش ونشاط کی فراوانی ہے، شہر تو شہر، اب دیہات بھی رفتہ رفتہ جدید سہولیات سے آراستہ ہو رہے ہیں، لیکن ایک حیات انسانی کہ جسے اجڑے ہوئے طویل عرصہ بیت چکا ہے، روا داری او ربھائی چارگی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے، اخوت ومحبت، امن اور خوش حالی کا جنازہ نکل چکا ہے، بلکہ وہ دور جاہلیت عود کر آیاچاہتا ہے جس کی بیخ کنی کے لیے رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا، جاہلیت، تو ہم پرستی، غارت گری، دختر کشی، حق تلفی… الغرض موجود ہ دور جاہلیت کی منھ بولتی تصویر بن گیا ہے، ایسے پُر آشوب دور اور لادینیت زدہ ماحول میں پوری انسانیت مسیحائی وراہبری کی منتظر ہے، ان حالات میں ہمیں بس ایک شمع ایسی نظر آتی ہے جو اپنی کرنوں سے اس راہ ِ محبت میں چلنے والوں کی انگلی پکڑ کرا نہیں منزل مقصود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے او رجس کی روشنی میں ہر انسان کے لیے دنیا ہی کا نہیں،بلکہ آخرت کا بھی سامان نجات ہے، ایک ایسی چیز جس پر عمل کرنا آسان او رایک ایسا سانچہ جس میں خود کو ڈھال لینا نہایت ممکن ہے اوروہ حسین شمع یا زندگیوں کو کام یابی وکام رانی سے ہم کنار کرنے والا سانچہ ”سیرت طیبہ“ ہے، کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ انسانیت کا سب سے بڑا بہی خواہ اگر کوئی ہے تو وہ ذات رسالت مآب، نبی آخر الزمان، حضرت محمدمصطفی صلی الله علیہ وسلم فداہ ابی وامی کی ہے۔

اسباب وتدارک
اُمّت مسلمہ کی بالعموم او رعلماء دین کی بالخصوص یہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ اقوام عالم کی رہبری وامامت کا فریضہ انجام دیں، جو کار ِ نبوت کی تکمیل کے بعد ان کے سپرد ہے لہٰذا امت کو درپیش عصری چیلنجز چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، معاشی ہوں یا معاشرتی ہر ایک کے اسباب وعلل کا جائزہ لے کر سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا حل وتدارک اور لائحہ مرتب کرنا ہو گا۔

رسول رحمت صلی الله علیہ وسلم کے فضائل، شمائل او رخصائل کے علاوہ سیرت نبوی کا جدید پہلوؤں سے مطالعہ کرنا۔ علمی ، عملی، تحقیقی، تنقیدی، نقلی اور عقلی دلائل کی روشنی میں سیرت پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینا ہو گا، ساتھ ہی ساتھ اس پہلو کو اجاگر کرنا ہو گا کہ دین ِ اسلام قرونِ اولیٰ ہی نہیں بلکہ ہر دور کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور مسائل کے حل اور پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے سیرت ِ طیبہ کی طرف رجوع ہر دور کی ضرورت ہے۔

غیرمسلموں تک سیرت طیبہ کے اخلاقی وروحانی اور آفاقی پہلوؤں کو پہنچانے کے لیے سیرت رسول کو صحیح اسلوب ومنہج اور حالات زمانہ کے مطابق ہر ہر زبان میں پیش کرنا ہو گا۔

عبادات اور شرعی احکام سے آگے بڑھ کر اجتماعی زندگی، یاسیاسی حکمت عملی اور دوسری اقوام کے ساتھ سلوک وتعلق کے معاملے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے طرز عمل کو سامنے رکھنا ہو گا۔

کتب سیرت بالخصوص قاضی محمد سلیمان صاحب منصور پوری رحمہ الله کی ”رحمة للعالمین“، علامہ شبلی نعمانی کی کتاب”سیرة النبی“، مولانا عبدالرؤف دانا پوری کی کتاب ”اصح السیر“، مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ الله کی ”خطبات ِ مدراس“ ، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ الله کی ”نبیٴ رحمت“، ڈاکٹر حمید الله حیدر آبادی کا سیرت پر لکھا گیا تمام لٹریچر، مولانا نظام الدین اسیر ادروی کی ”عہد رسالت غار حرا سے گنبد خضرا تک “، مولانا عبدالقوی مدظلہ کی ”ذکر حبیب “ اوران کے ماخذ ومراجع بالخصوص سیرت ابن ہشام ، طبقات ابن سعد، دلائل النبوة، زاد المعاد، وغیرہ کو عام کرنا ہو گا۔

یقین رکھیں! اگر آج دنیا مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی وروحانی ترقی چاہتی ہے اور وہ پُرامن او رخوش حال زندگی کی خواہاں ہے تو اسے آج سے ساڑھے چودہ سال پیچھے مڑ کر دیکھنا ہو گا۔ بقول علامہ اقبال رحمة الله علیہ #
        ہاں دکھادے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو
        دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

ان سب کے علاوہ ہمیں پوری اہمیت کے ساتھ سیرت طیبہ کی روح کو سمجھنا ہو گا، اسے اپنے اخلاق واعمال میں شامل کرنا ہو گا اور عملی طور پر اسوہٴ حسنہ کو فروغ دینا ہو گا کہ جب تک ہماری زندگیاں سیرت طیبہ کے مطابق نہیں ہوں گی تب تک مادی ترقی کے تمام تر اسباب جمع ہونے کے باوجود ہم تنزلی کا شکار ہی رہیں گے۔