بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سیب … صحت بخش زندگی کا راز

سیب … صحت بخش زندگی کا راز

حکیم حارث نسیم سوہدروی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی عظمتوں نعمتوں سے نوازا ہے۔ انھی نعمتوں میں پھل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جو نہ صرف غذائی اجزا سے بھر پور ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں صحت وتندرستی کے لیے ایسی خصوصیات پیدا کی ہیں کہ ان کے سامنے دوائیں بھی ہیچ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں غذاؤں اور پھلوں سے علاج باقاعدہ طبّی سائنس کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

پھلوں میں سیب کو سب سے زیادہ صحت وتوانائی بخش اورلذیذ ترین پھل قرار دیا گیا ہے۔ اس کا ذکر قدیم ترین طبّی اور مذہبی کتابوں میں بھی کیا گیا ہے۔ سیب ایک خوش ذائقہ ، خوش رنگ اور خوش شکل پھل ہے۔ اس کی سیکڑوں اقسام ہیں، جن میں سے پندرہ سو باقاعدہ دریافت ہوچکی ہیں۔ صرف ایک چھوٹے سے خطّے، یعنی کشمیر میں تقریبا ً سو قسم کے سیب ہوتے ہیں، جو قدو قامت ، ذائقے اور رنگ وخوش بو کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سیب کا نصف حصہ ٹھوس ہوتا ہے اور اس میں زیادہ لحمیات (پروٹینز)اور شکریلے اجزا ہوتے ہیں، سیب اپنی غذائیت کے لحاظ سے دنیا کا معروف پھل ہے۔ بچے، بوڑھے ، نوجوان ، بیمار اور تن درست اسے رغبت سے کھاتے ہیں۔ تازہ سیب میں 84 فی صد پانی ہوتا ہے۔ سیب میں فاسفورس سارے پھلوں اور سبزیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے چھلکوں میں حیاتین ج (وٹامن سی) بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے سیب کا چھلکا ضائع نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ اسے مفید جزو سمجھ کر کھانا چاہیے۔ اسے کھانے سے خونِ صالح پیدا ہوتا ہے۔ چہرے کی جلد کے لیے اس سے بہتر کوئی ٹانک نہیں۔ سیب کھانے سے چہرے کا رنگ خوش نما ، جلد ملائم اور رخسار سرخ ہوجاتے ہیں۔ روزانہ نہار منھ ایک سیب کا کھانا صحت کو قابل رشک بنادیتا ہے۔ اس سے جسم میں کیلسیئم کی مقدار قابو میں رہتی ہے ۔ سیب کے گودے میں حرارے (کیلوریز)64،لحمیات 3ء0، روغنی اجزا 4ء0، پھوک29، نشاستہ9ء14، ریشہ0ء1، چونا0ء16 اور فاسفورس0ء10 ہوتے ہیں۔

سیب معدے میں پہنچ کر پیپسن((PEPSINنامی ایک ہاضم خامرے( ENZYME)کو فعال کرتا ہے، جس سے ہاضمے میں مدد ملتی ہے، بھوک بڑھتی ہے اور جگر کا فعل بھی بہتر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی پیدائش کا عمل زیادہ ہوجاتا ہے۔ سیب کھانے سے جسم میں چستی اور عملی صلاحیت بڑھتی ہے۔ سیب فاسفورس کا قدرتی خزانہ ہے، اس لیے خون کی کمی کے مریضوں کے لیے تو نعمت ہے اور ایسے افراد کے لیے اس عظیم نعمت ِخداوندی سے مستفید نہ ہونا کفرانِ نعمت کا مترادف ہے۔

سیب قلب کے لیے بہت مفید ہے، اسی لیے سیب کو قلب کے تمام امراض دور کرنے میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ طب میں عارضہء قلب کی مشہور دوا المسک میں سیب کے رس کو اہم ولازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ جو فر دروزانہ ایک سیب کھائے تو اس کی صحت افزا غذائی طاقت بخشی کی وجہ سے بیمار نہ ہوگا اور اس کی صحت بہت اچھی ہوگی، ایسے مؤثر غذائی اجزا کے حامل پھل کو تمام عمر کے لوگ کھا سکتے ہیں۔ گردوں کو صاف کرنے کے لیے بھی سیب کے فائدے مسلّم ہیں۔ دماغی کا م کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک مفید غذائی ٹانک ہے، کیوں کہ اس سے دماغ کو طاقت ملتی ہے ، قوتِ حافظہ بڑھتی ہے، اس لیے طلبہ اور دماغی کام کرنے والوں کے لیے اس کا کھانا مفید وضروری ہے۔

سیب کے چھلکے کو ہمارے ہاں عام طور پر ضائع کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ سیب کے چھلکے میں حیاتین ج بکثرت ہوتی ہے۔ چھلکوں سے نہایت خوش ذائقہ اور لذیذ چاے تیار ہوتی ہے، جو صحت وتوانائی بخشتی ہے۔ اگر اس میں لیموں کا رس اورشہد شامل کرلیا جائے تو اس کے فوائد بڑھ جاتے ہیں۔ یہ چاے پیچش اور تپ محرقہ کی کم زوری دور کرنے کے لیے مشہورِ عالم مقوی مشروب ”اولٹین“کا کام دیتی ہے۔

سیب خوش ذائقہ غذا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے شفا بخش اثرات کے باعث دوسرے پھلوں سے ممتاز ہے اور سالہا سال سے آزمودہ ہے۔ اس کے چند طبّی اوصاف ذیل میں درج کیے جارہے ہیں

سیب کا مربّا
چند بڑے سیب لے کر ان کے اندر سے بیج نکال دیں اور چاقو سے چھیل کر پانی میں ہلکا سا جوش دیں، نیم پختہ ہونے پر چینی کی چاشنی ڈال کر تھوڑی دیر آگ پر پکنے دیں۔ قوام پکنے پر اتار کر محفوظ کرلیں اور صبح بطورِ ناشتہ ورق نقرہ میں لپیٹ کر کھانا مقوِی قلب ودماغ ہے۔

بھوک میں اضافہ ، معدہ طاقت ور
تازہ سیب کے رس میں سیاہ مرچ ، زیرہ اور نمک ملا کر پییں۔ اس سے بھوک میں اضافہ ہوگا ، غذا جزوِ بدن بننے میں مدد ملے گی اور معدہ طاقت ور ہوجائے گا۔

بے خوابی کا علاج
ہر روز صبح کے وقت بہی دانہ 3 ماشے پوٹلی باندھ کر سیب کے رس میں جوش دیں اور ٹھنڈا کر کے بے خوابی میں مبتلا فرد کو پلائیں۔ چند دن پینے سے بے خوابی کا مرض ختم ہوجائے گا۔

سیب کا شربت
پانچ کلو سیب کا رس ایک دیگچی میں ڈال کر جوش دیں، جب آدھا رہ جائے تو اس میں ایک سیر مصری ملائیں اور قوام پکنے پر سرد کر کے محفوظ کر لیں۔ دو سے چار تو لے تک پییں۔ یہ دل ودماغ اور معدے کو طاقت بخشتا ہے، قے اور متلی کو روکتا ہے، صفراوی دستوں کو بند کرتا اور پیاس بجھاتا ہے۔