بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سچی بات … تقوی اختیار کرو

سچی بات … تقوی اختیار کرو

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا، یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا﴾․ (سورہ الأحزاب:71-70) صدق الله مولٰنا العظیم․

میرے محترم بھائیو بزرگو اور دوستو! الله تعالیٰ کا ارشاد ہے، ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ﴾ اے ایمان والو الله کا تقوی اختیار کرو،﴿وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا﴾ اور سچی سیدھی کھری بات کہو،ا﴿یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ﴾لله تعالیٰ تمہاری کارکرگی اچھی کر دیں گے، تمہارے کام اچھے بنا دیں گے، اور تمہاری بخشش فرما دیں گے، اگر تم الله کا تقوی اختیار کروگے اور سچی بات کہو گے، الله تعالیٰ تمہارے کام اچھے کر دیں گے اور الله تعالیٰ تمہاری مغفرت اور بخشش کر دیں گے اور فرمایا:﴿وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہ﴾ جو کوئی بھی الله تعالیٰ کی اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی فرماں برداری کرے گا﴿فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا﴾ وہ بہت بہت بڑی کام یابی حاصل کر لے گا۔

میرے دوستو! یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں ہے ، یہ خالق کا کلام ہے، یہ الله کا کلام ہے اور جیسے الله تعالیٰ حق اور سچ ہیں ،الله کی الوہیت، اس کی ربوبیت، اس کی وحدانیت سچّی ہے، ایسے ہی الله کا کلام بھی سچا اور بالکل صحیح ہے۔

پہلی بات تو الله تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ الله کا تقوی اختیار کرو، یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ایک ہوتا ہے مخلوق کا خوف اور ایک اصولی بات یاد رکھیں کہ جو مخلوق سے ڈرتا ہے، یعنی خالق سے نہیں ڈرتا، تو الله تعالیٰ اس پر خوف کا عذاب مسلط فرما دیتے ہیں، پھر وہ اپنے سائے سے بھی ڈرتا ہے، آپ نے دیکھا ہو گا کہ اتنا بڑا پانچ فٹ کا آدمی ہے، اتنے بڑے بڑے پیر ہیں، جوتے پہنے ہوئے ہیں، ایک چھوٹے سے لال بیگ سے ڈر کر بھاگتا ہے، ارے بھائی! اس سے ڈرنے کی کیا بات ہے ؟! پاؤں رکھ کے ماردو، ختم کر دو، اس میں ڈر کی کون سی بات ہے؟ عورتوں کو دیکھو، مردوں کو دیکھو، چھپکلی سے بھاگتے ہیں۔

تو جب آدمی الله سے نہیں ڈرتا تو مخلوق سے ڈرتا ہے اور الله تعالیٰ اس پر خوف کا عذاب مسلط کر دیتے ہیں، پھر وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے، معمول معمولی باتوں سے ڈرتا ہے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ اس خوف میں بھی بہت سی قسمیں ہیں، ایک خوف کی قسم یہ ہے کہ شیر آرہا ہے، آدمی ڈر گیا۔ اس سے ادنی درجے کا کتا آرہا ہے، اس سے ڈر گیا، بلی آرہی ہے، اس سے ڈر رہا ہے، چوہا آرہا ہے، اس سے ڈر رہا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اتناسا لال بیگ ، کاکروچ، اس سے بھی آدمی ڈر رہا ہے، یہ خوف ہے، پھر اس خوف میں ترقی ہوتی ہے، یہ عذاب بڑھتا ہے، کچھ بھی نہیں ہے ،نہ شیر ہے، نہ کتا ہے، نہ بلی ہے، نہ چوہا ہے، نہ لال بیگ ہے کچھ بھی نہیں ہے، لیکن خوف، ڈر اور وہ خوف اتنا بڑھتا ہے کہ آج کل کی زبان میں پھر کہتے ہیں کہ اس کو ڈپریشن ہو گیا ، فلاں ہو گیا ،فلاں ہو گیا، خوب یاد رکھیں کہ جب آدمی الله سے اپنا ناطہ جوڑ لیتا ہے اور وہ اس پوری کائنات کا خالق او رمالک الله کو سمجھتا ہے اور الله کا خوف اس کے دل میں ہوتا ہے، تو پھر وہ مخلوق سے نہیں ڈرتا، حالاں کہ بظاہر ہمیں الله نظر نہیں آرہے، لیکن ہمارا ایمان ہے کہ الله ہیں۔

ایک بزرگ تھے دہلی میں، مرزا مظہر جان جاناں رحمة الله علیہ، بہت الله والے، بازار سے گزر رہے تھے، سادہ زندگی تھی، سبزی والے سے انہوں نے کچھ سبزی لینے کا ارادہ کیا، اس کے ٹھیلے پر گئے، چوں کہ سب کو معلوم تھا کہ الله والے ہیں، بزرگ ہیں، وہ جو ٹھیلے والا تھا، وہ مسلمان نہیں تھا، اس نے کہا کہ مرزا جی! آپ الله الله کرتے ہیں، الله نظر تو آتے نہیں، آپ کہتے ہیں الله ہیں، الله نے آسمان بنایا، الله ہیں کہاں؟ تو الله والے تھے، انہوں نے سوچا کہ آج اس کو سمجھا دیں ، انہوں نے اس کے ترازو کے جو باٹ ہوتے ہیں، ان میں سے سب سے چھوٹا باٹ ، اٹھایا اور اٹھا کے اس کے سر پر مارا، وہ ایک دم چیخنے لگا ، حضرت نے فرمایا کہ کیا ہوا؟ کہا :درد ہوا، فرمایا: کہاں ہے درد ؟ مجھے تونظر نہیں آرہا۔ درد کہاں ہے؟ حضرت نے پوچھا درد ہو رہا ہے؟ کہا: ہاں! ہو رہا ہے۔ پوچھا، نظر آرہا ہے؟ کہا: نہیں ۔

فرمایا:الله ہیں، نظر نہیں آرہے، اسی وقت اس نے کلمہ پڑھا اورمسلمان ہو گیا، یہ کیا ہے؟ الله تو ہر وقت ہر جگہ ہیں، حاضر ہیں، ناظر ہیں، خالق ہیں، ہر طرف ہر جگہ الله ہی الله ہیں، اب یہ چیز جب آدمی کے اندر آئے گی کہ ہر طرف، ہر جگہ الله ہیں تو الله تعالیٰ کے قرب میں اضافہ ہو گا۔

آج2019ء میںCC کیمرے لگے ہوئے ہیں، اب لوگ کام کر رہے ہیں، کیوں؟ باس دیکھ رہا ہے، مالک دیکھ رہا ہے، ایسا ہے یا نہیں ہے؟ کیوں لگائے جارہے ہیں؟ کہیں کہیں لکھا ہوتا ہے کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے، تو آدمی باقاعدہ ہو جاتا ہے، بیٹھتا بھی صحیح ہے، کام بھی صحیح کرتا ہے، میرے دوستو! یہ تو CC کیمرہ ہے، الله رب العزت تو دن ، رات ، جہاں کہیں بھی آپ ہیں، الله آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

میں عرض کر رہا ہوں کہ تقوی کیا ہے؟ تقوی، شیر، بلی، کتے کاکروچ کا خوف نہیں ہے، تقوی تو یہ ہے کہ الله کی الوہیت کا، ربوبیت کا، واحدنیت کا، ہر طرح کے اقتدار کا مالک الله کو سمجھ کر اپنے آپ کو بندہ سمجھے ، عبد سمجھے، الله ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے اور یہ ادب کے ساتھ ، احترام کے ساتھ، ویسے تو آپ نے دیکھا ہو گا آپ لوگ شارع فیصل سے مسلسل آتے جاتے ہیں، سارا دن بے چارے پولیس والے کھڑے ہوئے ڈیوٹی دیتے ہیں، وردی بھی پہنی ہوئی ہے، بندوق بھی ہاتھ میں ہے او رکھڑے ہوئے بھی ہیں اور اپنے افسران کا خوف بھی ہے، لیکن سچ بتاؤ کہ وہ صبح سے لے کر شام تک افسران کو دعائے خیر دیتے ہیں یا کوس رہے ہوتے ہیں؟ دل دل میں، خوف ہے، کھڑے ہیں، بندوق بھی ہے، لیکن کیا مصیبت ہے؟ کہاں ہمیں کھڑا کر دیا؟ نہ ہمارے کھانے کا خیال ہے، نہ پینے کا خیال ہے، نہ دھوپ کا خیال ہے، نہ بارش کا خیال ہے، یہ بھی خوف ہے، لیکن یہ تقوی نہیں ہے۔

تقوی کیا ہے؟ تقوی یہ ہے کہ آدمی الله تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرے، اس نیت سے کہ الله مجھے دیکھ رہے ہیں اور الله تعالیٰ کی منع کی ہوئی باتوں سے اپنے آپ کو بچائے، الله مجھے دیکھ رہے ہیں اور اس کرنے پر اور نہ کرنے پر الله خوش ہوتے ہیں، کہ میرا بندہ میری بندگی کر رہا ہے، میرا بندہ میری حرام کی ہوئی چیزوں سے بچا ہوا ہے، میں نہیں کھاؤں گا، میں نہیں پیوں گا، کیوں؟ میرے الله نے منع کیا ہے، چاہے مجھے کوئی دیکھے نہ دیکھے، میرا الله مجھے دیکھ رہا ہے، میں نے عرض کیا تھا، رمضان میں آدمی روزہ رکھتا ہے ، کمرے میں ہے، شدید گرمی ہے، کوئی نہیں ہے، گھر میں، نہ بیوی ہے، نہ بچے ہیں، نہ بہو ہے ،نہ بیٹی، بیٹا ہے، کوئی نہیں، اکیلا ہے، حلق میں کانٹے پیاس کی شدت سے پڑ رہے ہیں، سامنے فریج رکھا ہے اور اس میں ٹھنڈا پانی ہے ،مشروبات ہیں، اگر وہ ٹھنڈا پانی پی لے اور وہ مشروبات پی لے، اس کو کون دیکھ رہا ہے؟ اور جب گھر سے نکلنے لگے تو اچھی طرح سے خوب ہونٹ خشک کرکے باہر آئے اور ہمارے آپ کے درمیان بیٹھے، تو کسی کو کیا پتہ چلے گا کہ اس کا روزہ ہے یا نہیں؟ لیکن جب یہ خواہش، یہ طلب، یہ ضرورت اندر پیدا ہوتی ہے تو اندر سے ایک آواز آتی ہے اور وہ آواز یہ آتی ہے کہ الله دیکھ رہے ہیں، میں نہیں پیوں گا، میں مرجاؤں گا، میں نہیں پیوں گا، کیوں نہیں پیوں گا؟ کہ الله دیکھ رہے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ تقوی ہے، الله دیکھ رہے ہیں، چاہے ہم دکان میں ہوں، مکان میں ہوں، کارخانے میں ہوں، دفتر میں ہوں، گھر میں ہوں ، کہیں پر ہوں، آج لوگ رشوت لیتے ہیں کہ جی میز کے نیچے سے دے دو، انڈر ٹیبل، تو بھائی! کیا الله نہیں دیکھ رہے، الله تو دیکھ رہے ہیں۔

میرے پالنے والے الله ہیں، مجھے رزق دینے والے الله ہیں، مجھے عزت دینے والے الله ہیں، مجھے ذلت دینے والے الله ہیں، میں الله کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا، مر جاؤں گا، الله کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

الله تعالیٰ نے کیا فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا﴾، سچی بات کرو، بعض دفعہ سچی بات بظاہر لگتا ہے کہ کڑوی ہے، لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے، اس میں مٹھاس ہوتی ہے، جھوٹ مت بولو، نہ بھائی سے جھوٹ بولیں، نہ باپ سے جھوٹ بولیں، نہ بیوی سے جھوٹ بولیں، کسی سے نہیں۔ شیطان آئے گا کہے گا کہ اگر اس وقت جھوٹ بول لو، تو ایسا ہو جائے گا۔

ہندوستان میں ایک بزرگ گزرے ہیں، مفتی الہی بخش کاندھلوی رحمة الله علیہ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة الله علیہ کے شاگرد تھے، ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ایک قصبے کاندھلہ کے رہنے والے تھے، تبلیغی نصاب، فضائل اعمال کے مصنف ، حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمة الله علیہ اور مولانا الیاس صاحب کاندھلوی رحمة الله علیہ کاندھلہ کے تھے۔

مفتی الہی بخش صاحب کاندھلوی ان حضرات سے بہت پہلے گزرے ہیں، وہاں قصبے میں ایک تنازعہ ہو گیا، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان، تنازعہ یہ ہوا کہ ایک زمین کا رقبہ تھا، مسلمانوں کا دعوی تھاکہ یہ ہمارا ہے اور ہندؤوں کا دعویٰ تھا کہ ہمارا ہے۔

معاملہ عدالت میں چلا گیا، انگریزوں کی حکومت تھی، جب معاملہ عدالت میں گیا، تو چوں کہ اس کے دعوے دار مسلمان بھی تھے، ہندو بھی تھے، مسلمان کہتے تھے کہ ہمارا ہے، ہندو کہتے تھے کہ ہمارا ہے۔ معاملہ جب عدالت میں چلا، تو مسلمانوں نے یہ اعلان کیا کہ اگر یہ رقبہ ہمیں مل گیا، تو ہم اس پر مسجد بنائیں گے، اب معاملہ بہت حساس ہو گیا، سارے مسلمان ان کے ساتھ ہو گئے، اگر ہمارے حق میں فیصلہ ہوا تو مسجد بنے گی، ہندؤوں نے کہا کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ ہوا تو ہم اس پر مندر بنائیں گے، اب یہ ہندومسلم مسئلہ بن گیا، پیشیاں عدالت میں ہوتیں تو ہندو بھی بڑی تعداد میں جمع ہوتے، مسلمان بھی بڑی تعداد میں جمع ہوتے ۔ہوتے ہوتے وہ معاملہ فیصلے کے قریب پہنچ گیا، جب فیصلے کے قریب پہنچا، تو جج جو انگریز تھا، اس نے کہا کہ بھائی! یہ معاملہ تو بہت خوف ناک شکل اختیار کر رہا ہے، اگر میں مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں، تو ہندومشتعل ہو جائیں گے، کیا کیا جائے؟ سمجھ میں نہیں آرہا، تو ہندؤوں نے جج سے کہا کہ جی یہاں قصبے میں ایک بزرگ ہیں مسلمانوں کے، ان کا نام ہے مفتی الہی بخش کاندھلوی، سب ان کو اپنا بزرگ سمجھتے ہیں، ہم بھی ان کی عزت کرتے ہیں، آپ ان کو بلالیں، وہ صورت حال سے واقف ہیں، وہ جیسے فیصلہ کردیں گے ہمیں منظور ہے۔ اب مفتی الہی بخش صاحب سے رابطہ کیا گیا، فیصلے کی تاریخپر ان کو بلا گیا، مسلمان سب خوش، مفتی صاحب ہیں، مسلمانوں کے بزرگ ہیں، مسلمانوں نے یہ کہا ہوا ہے کہ اگر یہ جگہ مل گئی تو ہم یہاں مسجد بنائیں گے، ظاہر ہے کہ مفتی صاحب تو مسلمانوں ہی کے حق میں فیصلہ اور رائے دیں گے، مفتی صاحب تشریف لائے، وہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة الله علیہ کے شاگرد تھے، الله والے تھے، تشریف لائے ، دونوں فریق موجود ہیں، جج نے مفتی صاحب سے کہا کہ مفتی صاحب !یہ مسئلہ ہے، اِدھر ہندو ہیں، اُدھر مسلمان ہیں، یہ کہتے ہیں، ہماری جگہ ہے، وہ کہتے ہیں ہماری جگہ ہے ، آپ فرمائیں کہ یہ جگہ کس کی ہے؟ مفتی صاحب رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ میں اس جگہ کی بنیاد سے واقف ہوں، پوری تفصیل میرے سامنے ہے، یہ جگہ مسلمانوں کی نہیں ہے، یہ جگہ ہندؤوں کی ہے۔ یہ کیا ہے؟ صدق ، سچ۔ سچ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی جگہ نہیں ہے،ہندؤوں کی جگہ ہے۔ چناں چہ جج نے ہندؤوں کے حق میں فیصلہ کر دیا، اعلان ہو گیا، ہندؤوں نے شور مچا دیا، اپنی کام یابی اور فتح پر او رمسلمان شرمندہ ہوئے، لیکن الله تعالیٰ کیا فرمارہے ہیں؟ الله تعالیٰ فرمارہے ہیں ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا﴾ سچی کھری بات کرو ﴿یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ ﴾ الله تمہار ے تمام کام اچھے کر دیں گے، ﴿وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ﴾ تمہارے گناہ بخش دیں گے﴿ وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ﴾ جو الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، ﴿ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا﴾ وہ بہت بڑی کام یابی حاصل کرے گا۔

اب آپ دیکھیے!فیصلہ ہندؤوں کے حق میں ہوگیا، اب جو ہندؤوں کے بڑے لوگ تھے اور مقدمے کو لڑ رہے تھے، مفتی صاحب رحمة الله علیہ کے اعلان کے بعد انہوں نے کہا کہ جی سب لوگ ٹھہر جائیں، انہوں نے کہا کہ ہم یہ تو جانتے تھے کہ مفتی صاحب بزرگ ہیں، لیکن ہمیں ایک فیصد بھی یہ یقین نہیں تھا کہ مفتی صاحب مسلمانوں کے خلاف او رہمارے حق میں فیصلہ کریں گے اور سچی بات کہیں گے انہوں نے سچ کہا ہے، باوجود اس کے کہ پوری مسلم برادری ان سے امید وابستہ کیے ہوئے تھی لیکن انہوں نے کسی کی رعایت نہیں کی، یہ اسلام کی سچائی ہے، ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں، ان سب نے وہاں اسلام قبول کیا، تو جج نے اس فیصلے میں لکھا کہ ”مسلمان ہار گئے، اسلام جیت گیا“۔

وہ فیصلہ آج بھی لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے، لکھا ہوا ہے، مسلمان ہار گئے، اسلام جیت گیا۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کیا اور الله تعالیٰ کا فرمان سچا ہوا کہ ﴿یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا﴾، بڑی کا م یابی ہم دیں گے، الله تعالیٰ نے کا م یابی عطا کر دی۔ آج میرے دوستو! ہم لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، جھوٹ میں مبتلا ہیں اور ہم جھوٹ کو ایک ہنر اور فن سمجھتے ہیں اور یہ جھوٹ اوپر سے لے کر نیچے تک حکم ران بھی جھوٹ بول رہے ہیں، حکومتیں بھی جھوٹ بول رہی ہیں، بڑے لوگ بھی جھوٹ بول رہے ہیں، چھوٹے لوگ بھی جھوٹ بول رہے ہیں، سب جھوٹ بول رہے ہیں۔

بھائی! الله تعالیٰ ہمیں تقوی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے الله تعالیٰ ہمیں صدق اور سچائی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے:”الصدق ینجی، والکذب یھلک“․

قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: إن الصدق برّ وإن البر یھدی إلی الجنة، وإن العبد لیتحری الصدق حتی یکتب عندالله صدیقا، وإن الکذب فجور، وإن الفجور یھدی إلی النار، وإن العبد لیتحری الکذب حتی یکتب کذابا․“ (الجامع الصحیح لمسلم، ابواب البر والصلة، باب قبح الکذب وحسن الصدق، رقم:6804)

سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک اور تباہ کرتا ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں سچائی اختیار کرنے او رجھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾ ․