بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سوشل میڈیا کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمہ داری

سوشل میڈیا کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمہ داری

الیاس احمد نصیر آبادی
متعلم تخصص فی الفقہ الاسلامی

مغربی دنیا فخر کرتی ہے اور اسے ناز ہے کہ وہ اپنے علوم وفنون اور ایجادات سے تمام انسانوں کو فائدہ پہنچارہی ہے، لیکن اہل مغرب نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ ان کے علوم وفنون سے دنیا کونقصانات کس قدر پہنچ رہے ہیں؟!

یورپ کے علوم وفنون اور اس کی ایجادات واختراعات کی منفعت بخشی کے ہم معترف اور قائل ہیں، اس نے بری وبحری دشوار گزار راستوں کو آسان سے آسان تر کردیا، انسان آسمان پر اڑنے لگا، زمین کی طویل مسافتیں چند دنوں اور گھنٹوں میں طے کی جانے لگیں، پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے گاوٴں میں تبدیل کردیا، مشرق بعید میں بیٹھا شخص مغرب بعید کے لوگوں سے اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ گویا وہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، چند منٹوں، بلکہ لمحوں میں دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کی معلومات اور خبریں دیکھی اور سنی جاسکتی ہیں، یہ سب کچھ صحیح اور بجا مگر ان علوم وفنون کی ایجاد واختراع کی روز افزوں ترقی ہی نے یورپ کی ہوس ملک گیری کو اس قدر تیز کر دیا ہے کہ اسے کسی قدر قناعت نہیں ہوتی، اہل یورپ نے تقریبا تمام مشرقی قوموں کو اپنا غلام اور محکوم بنالیا ہے اور اگر کوئی قوم خوش نصیبی سے اب تک ان کی گرفت سے محفوظ ہے، تو نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی آزادی کب تک برقرار رہے گی۔

بہادر افغانوں، برمیوں اور فلسطینیوں کا درد ناک اور جگر پاش منظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ان قوموں کو مغرب کی تباہ کن ایجادات واختراعات نے غارت کیا ، جنگیں پہلے بھی ہوا کرتی تھیں، لیکن پہلے نہ اس درجہ ہوس ملک گیری تھی ، نہ ایسے تباہ کن آلات کہ آناً وفاناً ساری دنیا میں امن وامان درہم برہم ہوجائے، یہ سب یورپ کے علوم وفنون اور اس کی ایجاد واختراع کی وجہ سے ہو رہا اور صرف امن وامان ہی کو نقصان نہیں پہنچ رہا ہے، بلکہ مذہب واخلاق اور تہذیب وشرافت کی وہ تباہی ہو رہی ہے کہ الامان والحفیظ․

موبائل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، فیس بک، ٹیوٹر، اسکائپ اور واٹس ایپ وغیرہ میڈیا کی آڑ میں یورپ کی چندپر فریب اور مخرب الا خلاق ایجادات ہیں، یہ ایجادات بھی اپنے اندر بہت سے تباہیوں اور بربادیوں کا سامان رکھتی ہیں، ہارے معاشرہ میں یہ شعور ہی نہیں ہے کہ میڈیا کیا غضب ڈھارہا ہے، جو آپریشن میڈیا ہمارے ساتھ کررہا ہے، کبھی ہم نے تیسرا فریق بن کے نہیں دیکھا، نہ ہماری سمت رہی ہے، نہ ہمارا کوئی مقصد رہا ہے، آپ ایک گھنٹہ فیس بک،واٹس ایپ، یوٹیوب یا کوئی بھی ویڈیو دیکھتے ہیں، تو چوبیس گھنٹے اس کا اثر رہتا ہے یا اس طرح ہے جیسے آپ ایک گلاس پیپسی پیتے ہیں تو پھر اس کے کیمیکلز نکالنے کے لیے آپ کو دودن پانی پینا پڑتا ہے، میڈیا آپ کو چوبیس گھنٹے کے لیے لا شعوری طور پر سوچنے کے لیے کوئی چیز دے دیتا ہے، خواہ وہ کوئی خبر ہی کیوں نہ ہو، پھر اگلے کئی گھنٹے آ پ اسی مخمصے میں کھوئے رہتے ہیں۔

یورپ وامریکہ سے جہاں بہت سی وبائیں آئیں، انٹرنیٹ بھی آیا، یورپ وامریکہ کی خوش حالی، دولت مندی کی کوئی انتہا نہیں ہے، وہاں مال ودولت کی بارش ہوتی ہے، اس کے برعکس ہمارے ممالک مفلس وقلاش ہیں ، ایک بڑی تعدادکو دونوں وقت پیٹ بھر کے روٹی ہی نہیں ملتی، لیکن موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل آئٹمز کی دل چسپیوں کا یہ حال ہے کہ دن بھر مزدوری کر کے دو ڈھائی سو کمانے والا ہمارا مزدور بھی سوشل میڈیا کے بغیر نہیں رہ سکتا، خواہ اس کے اہل وعیال رات کو بھوکے سو جایا کرتے ہوں۔

میڈیا اور انٹرنیٹ نے جہاں لوگوں کو مالی تباہی وبربادی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے، وہاں مشرقی شرافت وتہذیب کا بھی جنازہ نکال دیا ہے، بد اخلاقی وبے حیائی عام کردی ہے، کسی زمانے میں مسلمان ایسے بلند مرتبہ ہوتے تھے کہ اُنہیں زیرِ دام لانے کے لیے یورپ کو اپنی شہزادیاں بھیجنی پڑتی تھی،اب دشمن کا کام اتنا مشکل نہیں، بازاری عورتوں کی تصویریں ہی نوجوانوں کو ورغلانے اور بہکانے کے لیے کافی ہیں، یورپ کی برآمد کردہ فحاشی، بے حیائی اور باہمی عداوت وچپقلش نے کیسی بلندی سے اٹھا کر کس پستی میں ہمیں دے مارا، مگر ہم اب بھی اسی عطّار سے دوا لینے پر مصر ہیں، جس کی کرم فرمائیوں کے سبب اس حال کوپہنچے۔

انٹرنیٹ کی تباہ کاریاں متعدی مرض کی طرح پھیلتی ہوئی مردوں سے گذر کر اب عورتوں تک پہنچ چکی ہیں، ہزاروں شریف گھرانوں کی بہو بیٹیاں دن رات سوشل میڈیا پہ مصروف رہتی ہیں،نہایت دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے انٹرنیٹ پہ حیا سوز اور مخرب اخلاق مناظر دیکھتی رہتی ہیں اور صدافسوس ہے ان کے والدین اور شوہروں پر کہ وہ انہیں روکتے تو کیا، بلکہ خود مذکورہ چیزیں دلا کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی ترویج سے پہلے عصمت فروش اور آبرو باختہ عورتوں کی کوئی وقعت وحیثیت نہ تھی، لیکن انٹرنیٹ کی نحوستوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے ان آبرو باختہ عورتوں کو ایک خاص پوزیشن دے دی ہے، اب علانیہ لوگ ان کی شان میں قصیدے لکھ رہے ہیں۔ مدیرانِ اخبار ان کی تصویروں اور انٹرویوز کو اپنے پرچوں میں شائع کررہے ہیں،ان تصویروں کے نیچے معزز اسلامی نام درج ہوتے ہیں، جن گھروں میں ایسی عورتوں کا نام لینا بھی گناہ اور موجب شرم وعارشمار ہوتا تھا، اب ان گھروں میں ان کی تصویریں آویزاں ہیں۔ جن مجلسوں میں ان کا تذکرہ مکروہ خیال کیا جاتا تھا، ان ہی مجلسوں میں اب فخریہ ان کے تذکرے کیے جاتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انٹرنیٹ نے ہماری اخلاقی حالت کو کس طرح تباہ وبرباد کیا ہے کہ انٹرنیٹ سے نوجوان جس طرح بربادہورہے ہیں وہ ایک ناقابل برداشت مصیبت ہے، وہ فلمی ایکٹروں کو دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو انہی کی زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے بے اختیار ہوجاتے ہیں، پھر ان کو اس کامطلق خیال نہیں رہتا کہ ان کا گھر برباد ہوگا، تجارت ملیا میٹ ہوگی ، تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور وہ سب سے بے پروا ہو کر امریکہ اور یورپ کا سفر کرتے ہیں، ان تمام والہانہ ایثار وقربانی سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں خوب رو، نوجوان اور خوش ادا لڑکیوں کے ساتھ کام کرنے اور رہنے سہنے کا موقعہ مل جائے۔

یہ تو نوجوانوں کا حال ہے، لیکن اب عورتوں میں بھی یہ جذبہ تیزی سے پیدا ہورہا ہے، چناں چہ وہ اسٹیج پہ آنے اور اپنے حسن وشباب اور ناز وادا کی نمود ونمائش کے لیے بے تاب وبے قرار ہورہی ہیں، جس کے نتیجہ میں آئے روز بچیوں کے گھروں سے بھاگنے اورنا پاک اور مکروہ عزائم کے حامل افراد کے ہتھے چڑھ کر اپنی عزت داوٴ پر لگانے کی وارداتیں عام ہورہی ہیں۔

اخلاق وکردار اور عزت وشرافت کی بربادی کے ساتھ ساتھ غریب مشرقی ممالک کی محنت ومزدوری کے پیسے بھی بے دردی سے ضائع ہورہے ہیں، اس کے لیے فلم ایکٹروں کی تنخواہوں پر نظر ڈالیے، کسی کی دس لاکھ ، کسی کی بیس لاکھ اور کسی کی پچاس لاکھ ماہوار تنخواہ ہے۔ فلموں کی تیاری کے دیگر گراں قدرمصارف اس کے علاوہ ہیں، اس سے اندازہ کیجیے کہ فلموں پہ ماہانہ کتنا خرچ ہوتا ہوگا، پھر جو سرمایہ دار فلم سازی پر اتنا سرمایہ خرچ کرتے ہیں، وہ اس سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہوں گے، اس سے اندازہ لگائیے کہ مفلس وقلاش مشرقی ممالک کے لیے، انٹرنیٹ، کیبل وغیرہ کس قدر غارت گر اور تباہ کن ہیں۔

لہٰذا ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کر کے ان سے روکنے کی کوشش کرے۔